1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

ادیب رائے پوری تضمین بر اشعارِ خود ( وہ پتھر کاش میں ہوتا)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏اپریل 21, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    740

    تضمین بر اشعارِ خود

    خدایا مشک سے میرا دہن ہوجائے پہلے تر
    مُحمّد ﷺ مصطفٰے کا نام آیا ہے مرے لب پر
    فلک نے آج تک دیکھا نہ ہوگا یوں کوئی منظر
    زباں منہ میں نہ تھی جن کے کرم کیا کیا کیا ان پر
    دو عالَم کے خزانے ہاتھ میں اور پیٹ پر پتھر
    کرم کی انتہا کی قُرب اک پتھر کو یوں دیکر
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    شکم تھا صبر کا مخزن، قناعت کا خزانہ تھا
    یہ فاقہ تھا کہ رحمت کو لٹانے کا بہانہ تھا
    وہ پتھر جس کا صحرا میں ہمیشہ سے ٹھکانہ تھا
    شکم پر باندھ کر یوں اس کی قسمت کو جگانا تھا
    خوشی سے اپنی قسمت پروہ پتھر جھومتا ہوگا
    بدن کو نور کے وہ نور بن کر چومتا ہوگا
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    ہے کنجی نعمتوں کی جس ہتھیلی پر، ان ہاتھوں سے
    ہیں ناخن جو ہلالِ عید سے بہتر، ان ہاتھوں سے
    قمر، ٹکڑے جس انگلی کے اشارہ پر، ان ہاتھوں سے
    سخاوت میں سمندر سے جو ہیں بڑھ کر، ان ہاتھوں سے
    نبی جس کو اٹھاتے خود خدا کا گھر بنانے میں
    سکندر تھے وہ پتھر بخت کے اپنے زمانے میں
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    زمانہ چومتا ہے اور پیشانی جھکاتا ہے
    کوئی تنکا نظر آئے تو پلکوں سے اٹھاتا ہے
    اٹھا کر گرد اسکی، آنکھ کا سرمہ بناتا ہے
    جھکا کر اپنا سر اس سنگ پر، بگڑی بناتا ہے
    وہ سنگِ آستانِ مصطفٰی، افلاک کا سینہ
    وہ پتھر جو نصب ہوکر بنا ہے عرش کا زینہ
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    بیانِ سیّدِ عالم ہمیشہ ہی زباں پر ہے
    اسی سے روشنی دل میں اسی سے جاں معطر ہے
    یہی ہے حرفِ اوّل اور یہی حرفِ مکرّر ہے
    مگر میں کیا کروں کہ دل کو میرے رشک اس پر ہے
    حرا میں جس نے برسوں میزبانی کی مُحمد ﷺ کی
    وہ پتھر بے زباں، یوں نعت خوانی کی مُحمد ﷺ کی
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    سلام ان پر نچھاور ہوں مَحبت کا یہ شیوہ ہے
    یتیموں کا جو والی ہے غریبوں کا جو مولٰی ہے
    مرے شوقِ محبت کا مگر یہ بھی تقاضا ہے
    نہ بھولوں میں اسے میری طرح اک سنگ ایسا ہے
    وہ پہلے بعثت ِ نبوی سے صحرا میں تھا اک پتھر
    جو کرتا تھا سلام آقا کو ہو میرا سلام اس پر
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    نبی کا حکم کیا ہے یہ ہمیں پتھر سکھاتا ہے
    وہ پتھر جس کی قسمت ڈوبنا ہے، تیر جاتا ہے
    یہ کشتی اب نہ ڈوبے گی غلاموں کو بتاتا ہے
    زمانہ صدیوں پہلے کا مجھے پھر یاد آتا ہے
    وہ پتھر عکرمہ جس کے سبب ایمان لے آئے
    جو سطح آب پر حُکم ِ نبی سے تیر کے آئے
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    رہے جن و بشر روح الامیں ہر دم اطاعت میں
    جھکی رہتی فرشتوں کی جبیں ہر دم اطاعت میں
    درخشاں مہر و مہتابِ حسیں ہر دم اطاعت میں
    فلک ہر دم اطاعت میں زمیں ہر دم اطاعت میں
    اطاعت میں رسولِ پاک کے ایسے بھی تھے پتھر
    گواہی دی خُدا کی، ہاتھ میں بو جہل کی رہ کر
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    مُحَمّد ﷺ کی غلامی اور مَحبت اصلِ ایماں ہے
    جو اس نعمت سے ہے محروم وہ بدبخت انساں ہے
    جو سینہ اس سے خالی ہے وہ اک سنگِ بیاباں ہے
    ہُوا ہے موم اک پتھر کا سینہ، عقل حیراں ہے
    زمرد ، لعل و گوہر ، رشک اُس پتھر پہ کرتے ہیں
    کہ جس میں نقش ِ پائے مصطفیٰ آرام کرتے ہیں
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    مقام ایسا بھی اب آیا کہ اظہارِ بیاں مشکل
    نہیں ہے تابِ گویائی، اگر کھولوں زباں مشکل
    نہ لے اے عشق میری شاعری سے امتحاں مشکل
    وہ عظمت جو مرے دل میں ہے لفظوں سے بیاں مشکل
    قلم معذور ہے لکھے وہ کیا اُس سنگ کا رُتبہ
    کھڑے ہو کر دیا آقا نے جس پر آخری خُطبہ
    وہ پتھر کاش میں ہوتا

    مری حسرت، تمنا، آرزو، طیبہ ہی طیبہ ہے
    سرِ محفل ہر اک سے گفتگو طیبہ ہی طیبہ ہے
    کرم یہ بھی انہیں کا، جستجو طیبہ ہی طیبہ ہے
    نظر جس سمت جائے روبرو طیبہ ہی طیبہ ہے
    ادیؔب آقا میرے جن پر کرم فرماتے رہتے ہیں
    وہ اکثر دَر پہ جاتے ہیں، وہ اکثر جاتے رہتے ہیں
    وہ اکثر کاش میں ہوتا

    کلام : سید ادیؔب رائے پوری
    تضمین نگار : سید ادیّب رائے پوری
    • زبردست زبردست x 3
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 21, 2017
  2. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    653
    سبحان اللہ سبحان اللہ۔ کیا ہی عمدہ کلام ہے۔ واااااہ
    • دوستانہ دوستانہ x 1
  3. محمد شاہد الرحمٰن

    محمد شاہد الرحمٰن آبروئے ماز نامِ مصطفےٰ است رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    220
    وااہ ۔۔ نہایت ایمان افروز کلام ۔۔ تضمین نے مزید چار چاند لگا دیے کلام کو ۔۔۔ سبحان اللہ
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1