1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تینتیسواں وٹس ایپ گروپ "بزم نعت" طرحی مشاعرہ

'بزم نعت( وٹس ایپ گروپ) انڈیا' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہ بابا, ‏اگست 15, 2017۔

  1. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    669
    33
    [مشاعرہ رپورٹ]

    السلام علیکم
    حضرات گزشتہ مشاعروں کی طرح پچھلے دنوں بھی آپ سب کے محبوب عالمی وٹس ایپ گروپ "بزم نعت" کا تینتیسواں شاندار طرحی مشاعرہ منعقد ہوا.
    جسکا مصرع طرح تھا.

    "گنہگاروں کی بخشش رَحمَۃ لِّلعَالَمِیں پرہے"

    اس مصرع کے تحت دنیا بھر سے کافی شاعروں نے اپنے اپنے کلام پیش کئے.
    اور 36 لوگوں نے وقت مقررہ پر اپنا اپنا کلام مقابلے میں شرکت کے لئے بھیجا۔

    یہاں وہ سارے کلام مکمل پیش ہیں ملاحظہ ہوں........



    _*نعت رسول مقبول ﷺ*_




    یہ شانِ بندگی اُن کی کہ سرفرشِ,زمیں پر ہے
    مگر یہ پاؤں کاپایہ کہ وہ عرشِ بریں پرہے

    محض اقرارایماں سےکوئی مومن نہیں ہوتا
    مدار ایمان کا حب شہِ دنیا و دیں پر ہے

    کلیم اللہ کی صورت,کہیں جانےکی کیا حاجت؟
    نزولِ آیتِ قرآں جہاں , آقا, وہیں پر ہے

    یہ ذرہ ہے مدینہ کا , گلی ہے وہ مدینہ کی
    یہ بھاری چاندتاروں پرتووہ خلدِبریں پر ہے

    ثریا سے ثریٰ تک دہر میں موجود ہر ذرہ
    عیاں ختمِ رسالت کی نگاہِ دور بیں پر ہے

    یہ کہ کرتم گناہوں پر کبھی اصرار مت کرنا
    گنہ گاروں کی بخشش رحمۃ للعالمین پر ہے

    اجالاہےحسنؔ دن میں اُن ہی کےروئےتاباں سے
    سیاہی شب کی قائم ان کےزلفِ عنبریں پر ہے.

    محمد مجاہد حسین رضوی
    حسن الہ آبادی
    دارالعلوم غریب نواز، الہ آباد
    9415648360 - 7007046503

    ***********************************


    غلامِ مصطفے کوئی کہیں کوئی کہیں پر ہے
    عیاں سب کی خبر محبوبِ ربُ العالمیں پر ہے

    نبی کو اپنے جیسا کہنے والو! یہ تو بتلا ئو
    وہ مہماں کون ہے جس کا قدم عرشِ بریں پر ہے

    زمیں پر چاند کے سیاح نے دو روشنی دیکھی
    جو مکہ کے زمیں پر ہے، مدینے کی زمین پر ہے

    مری دنیا،مری حسرت،مری بخشش، مری جنت
    جہاں سرکار رہتے ہیں مرا سب کچھ وہیں پر ہے

    ہیں شرحِ والضحیٰ واللیل اُن کے عارض و گیسو
    نزولِ آیتِ مازاغ چشمِ سُرمگیں پر ہے

    سرِ محشر یقیناّّ میری رُسوائی نہیں ہوگی
    "گنہگاروں کی بخشش رحمۃ للعالمیں پر ہے"

    پئے مقبولیت حُسنِ عقیدہ شرط ہے زاہد
    نہیں تو جان لے! تیرا ہر اک سجدہ یہیں پر ہے

    *محمد ارشاد مصباحی*
    دوحہ، قطر

    ************************************


    سہارا بھی انہیں کا ہے بھروسہ بھی انہیں پر ہے
    گنہگاروں کی بخشش رحمةللعالمیں پر ہے ۔

    نہ بخشے کیوں خدائے پاک شیدائے محمد کو
    غمِ امّت میں آنسو جبکہ چشمِ نازنیں پر ہے

    مرا دل ڈھونڈنے والوں مرے دل کا پتہ لکھ لو
    جہاں ہے نقشِ پا ان کا مرا دل بھی وہیں پر ہے

    حسیں پر کے پرندے ہیں بہت سارے زمانے میں
    مدینے کے کبوتر کا مگر سب سے حسیں پر ہے

    بتا ! جائے گا کیسے جنّت الفردوس میں نجدی ؟
    تصرّف مصطفیٰ کا ہی تو فردوسِ بریں پر ہے ۔

    بلندی آسماں کی دیکھتی رہتی ہے حسرت سے
    قدم رکھاّ ہے جب سے مصطفیٰ نے اس زمیں پر ہے

    نبی کا شہرِ اطہر دیکھ کر رضوان کہتا ہے
    یہ کِس نے کہ دیا جنّت یہاں پر ہے وہیں پر ہے

    طفیل شمسی غازیپوری
    +918574508613
    +919450178696

    ***********************************

    نیابت کا یہ اتمام فضیلت شاہ دیں پر ہے
    قیامت تک رسالت ختم ختم المرسلیں پر ہے

    نوالے کے لئے بس لقمہء تر ڈھونڈنے والو
    گزر اوقات تو سرکار کا نان جویں پر ہے

    تعجب کیا اگر روح الامیں بھی داد دیں مجھکو
    مرا رنگ ثنا ہی آفریں صد آفریں پر ہے

    عمارت اس لئے مضبوط ہے عشقِ رسالت کی
    مرے ایمان کی بنیاد ہی حسن یقیں پر ہے

    صدائے اذھبو کا بس یہی مقصد ہے محشر میں
    گنہگاروں کی بخشش رحمت العالمیں پر ہے

    دریچے مدح کے مداحیت کے روز کھلتے ہیں
    کوئی ہر گز نہ سمجھے ختم یہ مدحت ہمیں پر ہے

    مرا چہرہ چمکتا جا رہا ہے چاند کے جیسا
    غبار راہ طیبہ کچھ مرے روئے حسیں پر ہے

    محمد حسن رضا اطہر شعبہ ادبیات دارالعلوم حنفیہ غریب نواز سیون ڈیہھ بوکارو سٹی ، جھارکھنڈ 9431322360

    ***********************************


    شریعت کا نظامِ اصل قرآنِ مبیں پر ہے
    مگر تکمیل ایماں آمنہ کے مہ جبیں پر ہے

    ولادت با سعادت جب ہوئ سرکار بطحا کی
    سلامی دینے کو آیا ملک فرشِ زمیں پر ہے

    عبادت اور ریاضت کا ذخیرہ لاکھ ہو لیکن
    "گنہ گاروں کی بخشش رحمت اللعالمیں پر ہے"

    کرو؛ سجدوں پہ سجدہ زاہدو! بیشک مساجد میں
    نگاہ شوق کا سجدہ مدینے کی زمیں پر ہے

    کسی کا کچھ نہیں چارہ چلے گا روز محشر میں
    سبھی کی لاج کو رکھنا شفیع المذنبیں پر ہے

    شبِ معراج میں روح الامیں سرکار بطحا کو
    جگایا رکھ کے پلکیں انکے پائے نازنیں پر ہے

    تذبذب میں پڑے ہیں جو انھیں ابرار! تم کہ دو
    ہماری زندگی کی ڈور ختم المرسلیں پر ہے

    ابرار احمد ، سمستی پور

    ***********************************


    وہ جن کے جسم کا سایہ نہیں فرش زمیں پر ہے
    نہیں ان کا کوئ ہمسر دو عالم میں کہیں پر ہے

    کرم سرکار کا روز قیامت مزنبیں پر ہے
    نظر ہر ایک مجرم کی شفیع المزنبیں پر ہے

    مدینے کی فضا ہے پاک اور زرات نورانی
    اگر جنت زمیں پر ہے کہیں تو وہ یہیں پر ہے

    انہیں رب نے شفاعت کا دیا ہے اذن ، یعنی اب
    گنہگاروں کی بخشش رحمت للعالمیں پر ہے

    وہ سائل کو منا کر دیں ، یہ ممکن ہی نہیں کاشف
    وہ جملہ ہی نہیں لب پر ، بنا جس کی " نہیں " پر ہے

    از--ڈاکٹر کاشف بریلوی

    ***********************************


    مکاں پر ہے مکیں پر ہے چناں پر ہے چنیں پر ہے
    حکومت مصطفے کی آسماں پر ہے زمیں پر ہے

    ہمارے دل کو کیوں کر ڈھونڈھتے ہو اے جہاں والو
    جہاں سرکار رہتے ہیں ‛‛‛‛‛‛‛‛‛‛‛‛‛ ہمارا دل وہیں پر ہے

    یہی کہتا ہے روضہ مصطفے کا دیکھنے والا
    غلاموں کیلیے جنت تو طیبہ کی زمیں پر ہے

    نبی کے ساتھ جائیں گے تو جل جائیں گے بال و پر
    رکیں گے یا چلیں گے ‛‛‛‛ فیصلہ روح الامیں پر ہے

    اندھیری قبر میں وہ روشنی کے کام آئے گا
    نشانٍ سجدہء خالق اگر تیری جبیں پر ہے

    سر محشر جہنم کا ہمیں کچھ غم نہیں *احمد*
    گنہگاروں کی بخشش رحمتہ للعالمیں پر ہے

    علی احمد رضوی بلرام پوری*

    ***********************************


    سبھی کہتے ہیں جنت خوش نما عرش بریں پر ہے
    مرا دل کہتا ہے جنت تو طیبہ کی زمیں پر ہے

    مدینہ دیکھنے والے خوشی سے جھوم کر بولے
    چلے آؤ چلے آؤ حسیں جنت یہیں پر ہے

    زمیں سے آسماں تک گھوم کر روح الامیں بولے
    نہیں طیبہ کے جیسا خوش نما منظر کہیں پر ہے

    رسول اللہ پر سب کچھ فدا جس نے کیا دل سے
    یقیں ہے نام اس کا بھی لکھا خلد بریں پر ہے

    بروز حشر سارے انبیاء امت سے بولیں گے
    ملے گی کس کو جنت آمنہ کے مہ جبیں پر ہے

    سر محشر پکاریں گے تمامی انبیاء لوگو
    گنہگاروں کی بخشش رحمت اللعالمیں پر ہے

    چلو قیصر مدینے میں سکوں مل جائیگا تم کو
    چھپا زخمی دلوں کے درد کا درماں وہیں پر ہے

    محمد قیصر رضا تیغی سمستی پور

    ***********************************

    فرشتوں کی نظر بھی جس مقامِ دلنشیں پر ہے
    وہ رشکِ باغِ جنت صرف طیبہ کی زمیں پر ہے

    جو دیکھا شہرِ طیبہ کو تو دل نے یہ گواہی دی
    اگر ہے فرش پر جنت تو بیشک وہ یہیں پر ہے

    نجوم و کہکشاں، مہرِ درخشاں، بدر کامل بھی
    برائے روشنی سب کی نظر ان کی جبیں پر ہے

    وقارِ رحمتِ عالم سرِ محشر کوئی دیکھے!
    گنہگاروں کی بخشش رحمۃ للعالمیں پر ہے

    ازل میں محفلِ میثاق سے یہ امر ہے ظاہر
    کہ لازم آپ کی عظمت جمیع المرسلیں پرہے

    وہی آئے جہاں میں ہیں شفیع المذنبیں بن کر
    شفاعت کا بندھا سہرا فقط ان کی جبیں پر ہے

    ثنا کرتا نہیں اہلِ دول کی میں کبھی سرور
    مری چشمِ ثنا ہر دم شہِ دنیا و دیں پر ہے

    ڈاکٹر محمد سرور قادری
    میڈیکل آفیسر
    اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج الہ آباد

    ***********************************


    زمین و آسـماں پر خـلد کے مسند نشیں پر ہے
    شہِ لولاک کی عظمت عیاں کل عـالمیں پر ہے

    نـہ گھـبـراؤ سـر مـحشــر،بفضـلِ خـالـقِ عـالـم
    گنہگاروں کی بخشش رحمت للعـالمیں پر ہے

    شب اسرٰی کھڑے ہیں انبیاء سب مقتدی بنکر
    امامت کا حسیں سہرا محمد کی جـبیں پر ہے

    جـہاں بھـر چھـان آۓ اور بـولے بلبلِ سـدرہ
    حسیں سرکارکےجیسا نہ کوئی بھی کہیں پرہے

    مرےگاکون کس جا،کون جائےگا سوئے جنت
    عیاں ساری حقیقت آمنہ کے مہ جبیں پر ہے

    جو مٹی مس ہوئی سرکار کے جسم منور سے
    اسے تو فوقیت حاصل سـدا عرشِ بریں پر ہے

    بلاخوف وخطر پل سےگزر جـاؤمیاں سـاحل
    صـدا بس رب سلم کی لب شــاہ امیں پـر ہے

    شمس الدین سـاحـل مظفـر پور
    919973977823

    ***********************************

    عروج آسماں پرہےنہ اس رو ۓزمیں پرہے
    مثال سرور عالم بتاؤ تو کہیں پر ہے

    مدینے والے آقا سرور دنیا و دیں پر ہے
    گنہگاروں کی بخشش رحمت اللعلمیں پرہے

    وہی ماوٰی وہی ملجا مسیحا ہے وہی میرا
    فرشتوں کی جبیں خم جس کےپاۓ نازنیں پرہے

    اگر عشق نبی دل میں نہیں تیرے تو اے نجدی
    نمائش ہے ریاکاری ہے جو دھبہ جبیں پر ہے

    نظر جب سبز گنبد پر پڑی تو برملا زائر
    پکار اٹھا یہیں پر ہے مری جنت یہیں پر ہے

    مری بخشش کرائنیگے سرمحشر مر ے آقا
    سکون دل مجھےحاصل اسی کامل یقیں پر ہے

    کسی حور و پری زہرہ جبیں لیلٰی نہ شیریں پر
    فدا قلب رفیق احمد امام المرسلیں پر ہے

    از ✍ رفیق احمد نوری مصباحی ھزاریباغ

    ***********************************


    یہیں ہیں ماہ واختر کہکشاں، سورج یہیں پر ہے
    بشکل طیبہ اپنا آسماں روئے زمیں پر ہے

    عبادت پر نہیں تکیہ بھروسا ہےشفاعت پر
    خدا کا فیصلہ سرکار کی ،،ہاں،، پر،، نہیں،، پرہے

    امانت کایہ بھاری بوجھ تھاان کےہی کاندھوں پر
    یہی بار گراں اب بھی شہ دنیاودیں پر ہے

    ہیں جتنی اعلٰی قدریں میرے آقا سبکےجامع ہیں
    جمال لفظ ومعنی ختم، ختم المرسلیں پر ہے

    زباں پر،،رب ھب لی امتی،،ہے روز اول سے
    نگاہ رحمت خیرالوری ہردم ہمیں پر ہے

    کہاں اندازہ کر سکتا ہے کوئی ان کی رفعت کا
    کہ جن کا نقش پا عرش معلیٰ کی جبیں پر ہے

    نہ گھبرانا کفیل بے عمل انجام محشر سے
    ،،گنہگاروں کی بخشش رحمت للعالمیں پر ہے

    کفیل فتحپوری
    مدرسہ۔شمس العلوم ۔
    سنگاؤں ۔فتحپور۔یو۔پی

    ***********************************

    دل غمگیں!شکن کیوں خوف محشر کی, جبیں پر ہے
    "گنہگاروں کی بخشش رحمۃ للعالمیں پر ہے"

    ملائک آرزو رکھتے ہیں جس روضہ پہ آنے کی
    مرے آقا کی تربت کے سوا ایسا کہیں پر ہے

    جہنم کی حقیقت کیا ,جلائے اس دیوانے کو
    عقیدت کی نظر جس کی شفیع المذنبیں پر ہے

    پلٹ آیا ہے سورج اور قمر شق ہو گیا پل میں
    بتاؤ!ایسی قدرت کس میں اس روئے زمیں پر ہے

    میں خوف حشر سے لرزا,تو اس دل نے تسلی دی
    ارے ناداں!تری بخشش شفیع المذنبیں پر ہے

    بنا لے اپنے سینہ کو مدینہ,بے خبر زاہد
    مدینہ کی فضیلت بالیقیں عرش بریں پر ہے

    خدا کا فضل ہے اے فضل!تو ہے امتی ان کا
    شفاعت کا حسیں سہرا سجا جن کی جبیں پر ہے

    ڈاکٹر سید فضل الرحمن کاظمی الہ آباد

    ***********************************

    غریق بحر عصیاں ہوں مرا اتنا یقیں ,پر ہے
    گنہ گاروں کی بخشش رحمت للعالمیں پرہے

    کوئی بتلاۓ ایسا حسن,عالم میں کہیں پر ہے
    سماں جنت کا طیبہ کی مقدس سرزمیں پر ہے

    کھنک ہے آبشاروں میں کلام ناز رحمت کی
    نمود صبح فطرت آپکی لوح جبیں پرہے

    ہے رفتار شہ کونین,,سبحان الذی اسری,,
    تبھی تو آپ کا,سکتے میں اےروح الامیں! پر ہے

    مرے سرکار کا بعد ولادت سر ہے سجدے میں
    صدا بس,, رب ھب لی,,کی زبان دلنشیں پر ہے

    کرم فرمائی ہوفاتح تودم میں دم چلا آۓ
    حیات نوبہاراں انکی چشم سرمگیں پر ہے

    از:--غلام غوث چشتی فاتح
    مظفرپور,بہار

    ***********************************


    خدا کے بعد شاہی آپ کی روۓ زمیں پر ہے
    فلک کی وسعتوں پربھی قلوبِ مومنیں پر ہے

    دلِ حیراں طوافِ آرزو کرتا رہے ان کی
    نظر انکے دل آرا، دلنشیں روۓ حسیں پر ہے

    ٹھکانےلامکاں کےسب ترے رب کی عطاسے ہیں
    مکیں ہو عرش کےمسند بچھی تیری وہیں پر ہے

    فصاحت،خوش بیانی جیسےدریاکی روانی ہو
    ترے حسنِ بیاں کی انتہا نورِ مبیں پر ہے

    مہ و انجم بھی محِو آرزوۓ دید ہیں شاہا
    چلے آئیں پۓ دیدار، غم قلبِ حزیں پر ہے

    بلایا جب کہا لبیک ختم المرسلیں ہم نے
    یقیں کامل تری حسنِ ادا، خُلقِ حسیں پرہے

    شفاعت حشرمیں زینب کرینگےاپنی امت کی
    "گنہگاروں کی بخشش رحمت اللمالمیں پر ہے"

    کلام ! سیدہ زینب سروری

    ***********************************

    یہ شان بندگی ہے کہ سر انور زمیں پر ہے
    وہ شان مصطفائی ہے قدم عرش بریں پر ہے

    بقیع پاک؛ جنت کی کیاری؛ گنبد خضرا
    مدینے کے سوا ایسا حسیں منظر کہیں پر ہے ؟

    یہ قرب و بعد منزل کیا ہیں وہ تو جاں سے اقرب ہیں
    غلام ان کا جہاں پر ہے کرم ان کا وہیں پر ہے

    اندھیری رات ہے بن ہے کوئی ساتھی نہیں آقا
    قیامت ٹوٹنے والی مری جان حزیں پر ہے

    فضیلت سب کو ہے تسلیم تیری قدر والی شب
    مگر سچ ہے تجھے بھی ناز صبح بارہویں پر ہے

    در اقدس پہ سجدے کو ترستی ہے یہ پیشانی
    کروں کیا شرع کا پہرہ لگا میری جبیں پر ہے

    یہ اپنی اپنی قسمت ہے نظر قرآن میں شاکر
    وہابی کی " بشر" پر ہے مری " نورمبیں" پر ہے

    از شاکر بانکوی



    ***********************************


    یہ کس کانورجلوہ گررخِ عرشِ بریں پرہے
    نبی کانورہی پھیلاہواکل عالمیں پرہے

    بھروسہ بس اسی حسنِ عمل حسنِ یقیں پرہے
    میں عاصی ہوں مری بخشش کاذمّہ شاہِ دیں پرہے

    نظر محوِتمنّائےلقائےیارہےمیری
    اسےآسودہ کرنافضلِ رب العالمیں پرہے

    بکھرکران تبسُّم ریزہونٹوں کی حسیں رنگت
    گلاب ونرگس وبیلا چمیلی یاسمیں پرہے

    خداکس شان سےفرمارہاہےاپنےبندوں سے
    گنہگاروں کی بخشش رحمتہ اللعالمیں پرہے

    صدائےربِّ سلِّم اُمَّتی سن کر سرِمحشر
    عجب خوشیوں کی تابانی رخِ کل مذنبیں پرہے

    مبارک عشق کی آنکھوں سےدیکھاتونظرآیا
    اجالا گنبدِخضریٰ کادل میں ہے جبیں پرہے

    مبارک رضوی پورنوی

    ***********************************

    گراں سدرہ سے آگے کا سفر روح الامیں پر ہے
    مگر آسان سے آسان تر امام المرسلیں پر ہے

    بہت مسرور ہے مجرم سنا ہے جب سے یہ مزدہ
    گنہگاروں کی بخشش رحمتہ للعٰلمیں پر ہے

    قمر کو مل گیا ہے ان کے پائے ناز کا صدقہ
    تبھی تو نور اتنا بر فلک اس کی جبیں پر ہے

    ارے او میرے دل کے ڈھونڈنے والو ادھر آؤ
    جہاں ہے گنبدِ خضرا میرا دل بھی وہی پر ہے

    دوعالم کے نظارے کس طرح اس کو لبھا ئنگے
    کہ جس کی آنکھ روئے سرورِ دنیا ودیں پر ہے

    چھپا لیں گے بروز حشر ہمکو اپنے دامن میں
    جہاں والو یقیں کامل شفیع المذنبیں پر ہے

    نبی کی نعل اقدس کا تصدق ہے یہ اے حامد
    فلک پر کہکشاں روشن ہے ہریالی زمیں پر ہے.

    حامد رضا نعمانی سمستی پوری
    9525656134

    ************************************


    نہ تَخت وتَاج کی حَاجَت نہ تَکیَہ شَہ نَشِیں پرہے
    وہ ہے کونین کا حَاکِم ، مگر بیٹھا زَمیں پر ہے

    قَنَاعَت یہ کہ رُوکھی سُوکھی کھاکرکاٹ لیتےہیں
    سَخَاوَت یہ کہ اُن کا فَضل ہر سُو عَالمِیں پر ہے

    ہے شَب کی آرزُو کب گیسُوئے سَرکار لہرَائے !
    نَظَر دِن کی اُنہیں کے اِبتِسَامِ دِل نَشِیں پر ہے

    زَمیں پہ آسمَاں گِر جَاتا کب کا ٹُوٹ کر لیکن !
    خُدَا کا شُکر ! کہ طَیبَہ اِسی رُوئے زَمیں پر ہے

    طَرِیقِ مُستَوِی کے ڈُھونڈنے والے چَلیں طَیبَہ !
    کہ رَستہ ، رَہنُمَا ، رَختِ سَفَر ، مَنزِل وَہِیں پر ہے

    دُعَاؤں میں ضَروری ہے نبی کا وَاسطہ کیونکہ !
    "گنہ گاروں کی بَخشِش رَحمَۃُ لّلعَالَمِیں پر ہے"

    مُبَارَک ہو اے تاباؔنى ! نَقَاہَت کام کی نِکلی !!!
    گِرَایا تجھ کو لا کر اُن کے پَائے نَازنِیں پر ہے !

    *سراج تاباؔنى۔ کلکتہ*
    9748870786 ۔ 9748812786

    ***********************************


    عقیدت مصطفےٰ سے جس کی بنیادِ یقیں پر ہے
    وہی ہے مومنِ کامل چمک اس کی جبیں پر ہے

    تڑپ کر عشق بولا کب بھلا عرشِ بریں پر ہے
    جو ہے کعبے کا کعبہ وہ مدینے کی زمیں پر ہے

    دعا ئیں دے رہے ہیں دشمنِ جاں کو مرے آقا
    نشاں سنگِ ستم کا گرچہ جسمِ نازنیں پر ہے

    براہِ راست آتی ہیں بہاریں باغِ جنت سے
    جہاں سرکار کا روضہ مدینے کی زمیں پر ہے

    درِ سرکار کو دیکھا تو دل بیساختہ بولا
    مری دنیا یہیں پر ہے مری جنت یہیں پر ہے

    نچھاور دو جہاں کے حسن کی رعنا ئیاں اس پر
    فدا ہر رنگ وبو سرکار کے روئے حسیں پر ہے

    ضمیرِ خاطی و عاصی نہ گھبرا چل سرِ محشر
    ,,گنہگاروں کی بخشش رحمتہ اللعٰلمیں پر ہے,,

    ضمیر یوسف ، کلکتہ

    ***********************************


    فلک سے نور کی بارش اسی خاطر زمیں پر ہے
    کہ جس کے نور سے عالم بنا ہے وہ یہیں پر ہے

    فقط اک آمنہ کے لال کی ہی ذات ہے ایسی
    فدا سارا جہاں جس کی ادائے دلنشیں پر ہے

    درودوں کا یہ نذرانہ ، ہے بھیجا کون دیوانہ
    عیاں اچھی طرح یہ سبز گنبد کے مکیں پر ہے

    فلک کے چاند نے تو دیکھتے ہی کہ دیا ہوگا
    غضب کا حسن آقا آپ کے روئے مبیں پر ہے

    ہوا ہے نعت اقدس لکھنے پڑھنے کا شرف حاصل
    خصوصی فضل یہ بھی مدح خوان شاہ دیں پر ہے

    سر محشر یہی آواز کوئی دے رہا ہوگا
    گنہگاروں کی بخشش رحمتہ اللعالمیں پر ہے

    سنہری جالیوں کو دیکھنے کے بعد اے گوہر
    مجھے محسوس ہوتا تھا،نظر خلدبریں پر ہے.

    محبوب گوہر اسلام پوری-مظفرپور (بہار)
    9934775291

    ***********************************


    شفا ہو خاک کے ذرّوں میں بھی ایسا کہیں پر یے
    یہ قدرت کا کرشمہ صرف طیبہ کی زمیں پر ہے

    نہ کیوں اللہ اس عاشق کو سو سو پیار سے دیکھے
    نظر جس کی نبی کی ہر ادائے دلنشیں پر ہے

    فرشتو تم بھی آجاؤ نبی کی نعت لکھتا ہوں
    مرےسرکارکی روحِ مبارک بھی یہیں پر ہے

    بشرہوتے ہوے بے خوف سوئے عرش جاتے ہیں
    ملائک دنگ ہیں اک سَنسنی روح الامیں پر ہے

    بتاؤ دوجہاں کی وسعتوں میں دھوم ہے کس کی؟
    وہ کس کا نام ہے جو عرشِ اعظم کی جبیں پر ہے؟

    تصوّر میں مدینہ ہے تصوّر ہے مدینے میں
    مری قسمت ثریّا پر نہیں عرشِ بریں پر ہے

    ہماری بے عمل ہستی سے نظریں پھیر نے والو
    ہمارا ناز فخرِ اوّلین و آخریں پر ہے

    *ثاقب القادری رضوی مصباحی*

    *بنارس*

    ***********************************


    تعجّب کیا جو یہ نعرہ لب عرش بریں پر ہے
    ہمارا عرش اعظم تو مدینے کی زمیں پر ہے

    مرے سرکار کی امّت گزرنے والی ہے پل سے
    بچھانے کیلئے کہنے لگے روح الامیں ، پر ، ہے

    مرا اعمال نامہ نعتیہ دیوان ہی ہوگا
    فرشتو ، ٹھہرو ، آنے دو ، مرا آقا یہیں پر ہے

    وہ ابروے دل آرا کا اشارہ جانے کب کر دیں
    فرشتوں کی نظر انکی نگاہ سر مگیں پر ہے

    یہ لہرائیں تو صدقہ مانگ لیں حسنین کا بڑھکر
    بہاروں کی نظر آقا کی زلف عنبریں پر ہے

    گنہگاروں کے چہرے کھل اٹھے آقا سے یہ سن کر
    کسے جنّت میں جانا ہے سر محشر ہمیں پر ہے

    کروڑوں شکر کے سجدے کروں پھر بھی یہ کم ہوگا
    کرم اتنا مرے سرکار ، جاوید ِ حزیں ، پر ہے.

    جاوید صدیقی گونڈوی (لکھنؤ)
    8303892786
    9838491399

    ***********************************


    شفاعت کا بھروسہ جب تجھے نور مبیں پر ہے
    اثر پھر وحشتوں کا کیوں عیاں تیری جبیں پر ہے

    کہاں ہے؟ کون ہے؟ کس حال میں ہے امتی میرا
    بحمداللہ، عیاں سب رحمت للعلمیں پر ہے

    اگر ہے دیکھنا تو دیکھ روئے سرور عالم
    بدایت حسن کی ان سے، نہایت بھی انہیں پر ہے

    جہاں میں دھوم ہے ہر سو نبی کی آمد آمد کی
    خوشی طاری زمین و آسماں عرش بریں پر ہے

    حیات انبیاء ثابت ہے فرمان رسالت سے
    مگر اصرار اب بھی ہر وہابی کا نہیں پر ہے

    زباں پر "رب ھب لی امتی" ہے میرے آقا کی
    نگاہیں اشک سے پُر اور پیشانی زمیں پر ہے

    گناہوں میں ہوں مستغرق مگر وہ بخشوائیں گے
    مجھے کامل یقیں " برکت" شہ دنیا و دیں پر ہے

    محمد برکت علی جامعی
    سمستی پوری

    ***********************************


    مقام بحث کی پھر اور گنجائش کہیں پر ہے ؟
    فضیلت کی فضیلت ختم ،ختم المرسلیں پر ہے

    کھجوروں کی قطاروں میں جہاں سرکار ہوتے تھے
    میں ہوں ہندوستاں میں دل مگر میرا وہیں پر ہے

    شب معراج سدرہ سے پرے سرکار جاتے ہیں
    تحیر ہی تحیر حضرت سدرہ نشیں پر ہے

    خیال ودل شعور و جان سب عرش بریں پر ہیں
    مرا احساس جس دن سے مدینےکی زمیں پر ہے

    شہادت ، فقر ، صبروشکر ، استغنا ، وفاداری
    نیابت مصطفی کی سج کے کربل کی زمیں پر ہے

    یہ سن کر پارسائ قرض لینے کو گنہ نکلی
    " گنہگاروں " کی بخشش رحمہ اللعالمیں پرہے

    جنہیں کہتے ہیں ہم خیبر شکن مشکل کشا فائق
    وہ ہیں مولی علی ان کا گذر نان جویں پر ہے

    محمد نعمان اختر فائق جمالی (نوادہ)9572469157

    ***********************************

    حبیبِ کبریا کا پائے اقدس جس زمیں پر ہے
    تفوق اس کو حاصل بالیقیں عرشِ بریں پر ہے

    ہمیں گر ناز ہے تو بس اسی حسنِ یقیں پر ہے
    گنہگاروں کی بخشش رحمة للعالمیں پر ہے

    رخِ والشمس میں خورشید ہیں نورِ الہٰی کے
    تقدس کے ستاروں کی سجی محفل جبیں پر ہے

    جہاں محبوب ِ رب آرام فرما ہیں مری جنت
    وہیں پر ہے ، وہیں پر ہے،وہیں پر ہے ،وہیں پر ہے

    کرم کی اک نظر کر دو مرے آقا قیامت ہے
    کہ اب تو فیصلہ میرا تمہارے ,, ہاں ،، ,,نہیں ،،پرہے

    نگاہیں ڈھونڈھتی ہیں ہر گھڑی سنگِ در جاناں
    خمارِ سجدۂ بیتاب یوں چھایا جبیں پر ہے

    چمکتے ہیں مہ و خورشید ، اخترؔ ان کے تلووں میں
    تصدق نوریوں کی جان پائے نازنیں پر ہے


    از : اخترؔ حشمتی دارالعلوم گلشنِ مدینہ ، پلٹن بازار
    پرتاپ گڑھ
    97 21 94 22 97

    ***********************************


    ارے ناداں ! نہ اترا داغ سجدہ جو جبیں پر ہے
    مدار مغفرت عشق شفیع المذنبیں پر ہے

    وہ جس نےقبرانورکی زیارت کی ہے آنکھوں سے
    شفاعت اس کی واجب رحمتہ للعٰلمیں پر ہے

    تقدس باغ جنت کا ہمیں معلوم ہے لیکن
    ہم اہل عشق کی جنت مدینے کی زمیں پر ہے


    تصدق ہےتمہیں پرچاندنی بدرالدجی آقا
    مرےشمس الضحی خورشیدبھی قرباں تمہیں پرہے

    نہیں انکار مجھ کو عظمت کعبہ سے اے زاہد
    مگر کعبے کا کعبہ تو مدینے کی زمیں پر ہے

    ریاضت پر قیادت پر تکلم پر تبسم پر
    فدا یہ دل نبی کی ہر ادائے دل نشیں پر ہے

    شفیق اپنا تو یہ ایقان کامل ہے اور ایماں بھی
    *گنہگاروں کی بخشش رحمتہ للعٰلمیں پر ہے*

    *شفیق رائے پوری*

    ***********************************


    میں مومن ہوں مرا ایمان قرآن مبیں پر ہے کہ اب باب نبوت بند ختم المرسلین پر ہے

    مدینہ دیکھنے والے یہی کہتے ہیں خوش ہوکر یقینامالک جنت یہیں ؛ جنت یہیں پر ہے

    رسول پاک کا تلوا مبارک واہ! کیا کہنا کبھی فرش زمیں پر ہے کبھی عرش بریں پر ہے

    مہ و خورشید و انجم؛کہکشاں خیرات لیتے ہیں عجب نورانیت روئے شہ دنیا و دیں پر ہے

    غلام مصطفی کو خوف کیسا روز محشر کا گنہگاروں کی بخشش رحمت للعالمیں پر ہے

    خدائے پاک نے کیا شان بخشی ہے مدینے کو بہار خلد بھی قربان طیبہ کی زمیں پر ہے

    یہاں دیکھا وہاں دیکھا شہا! سارا جہاں دیکھا کہا جبریل نے تم سا نہیں کوئی کہیں پر ہے

    محمد صفی اللہ شمیم القادری جامعہ اہلسنت مظفر العلوم سر سیا برگدوا کھکھری سدھارتھ نگر یوپی 9918254629

    ***********************************

    ملائک کی زباں پر حور و غلماں کی جبیں پر ہے
    منقش نام پاک مصطفے لوح مبیں پر ہے

    کسی کے پاس جانے کی اٹھاؤں کس لئے زحمت
    شفاعت منحصر جب انکی ہاں انکی نہیں پر ہے

    ہوئے مبعوث لاکھوں انبیا پیغام حق لیکر
    مگر مہر نبوت پشت ختم المرسلیں پر ہے

    رخ پرنور ہے والشمس کی تفسیر کا جلوہ
    نمایاں معنیء والیل زلف شاہ دیں پر ہے

    جہاں جاکر رکیگی اونٹنی آقا نے فرمایا
    وہیں آرام گہہ میری مرا مسکن وہیں پر ہے

    جو ان سے ہمسری کرتے ہیں انکو کیا نہیں معلوم
    فضیلت ختم ساری سبز گنبد کے مکیں پر ہے

    اے حافظ کر دیا ثابت یہ قول انبیا نے بھی
    گنہگاروں کی بخشش رحمۃ اللعالمیں پر ہے

    محمد شاھد اشرفی
    *حافظ* بنارسی

    ***********************************


    یہی جملہ زبانِ حضرتِ روح الامیں پر ہے
    مرے سرکار کے جیسا نہیں کوئی کہیں پر ہے

    مری تقدیر کو معراج حاصل ہو گئى کیونکہ
    خمیدہ سر مرا اب شہرِ طیبہ کی زمیں پر ہے

    اجل تو آ بھی جا اب دیر مت کر وقت ہے نازک
    جھکی میری جبیں اِس وقت پائے نازنیں پر ہے

    بوقتِ نزع عاشق کو دوا بیکار دیتے ہو !
    تسلّی جسم و جاں کی بس نگاہِ سرمگیں پر ہے

    نبی کو اپنے جیسا کہنے والے بے حیا نجدی !
    طلب جنّت کی ہے تجھکو بتا تو کس یقیں پر ہے؟

    نبی کی نعت گوئی کا ہوا انعام یہ حاصل
    تفکر بھی مدینے میں تخیل بھی وہیں پر ہے

    فَتَرضیٰ کی جو آیت ہے یہی اعلان ہے اس کا
    گنہگاروں کی بخشش رحمة للعالمیں پر ہے

    ندیم شمسی
    +918127798527

    ***********************************


    کسی نے پوچھا جب جنت زمانے میں کہیں پر ہے
    زباں سے برملا نکلا مدینے کی زمیں پر ہے

    خدا جانے ہے کیا رتبہ مرے سرکار کے سر کا
    قدم جب میرے سرور کا سرِ عرش بریں پر ہے

    کہا حق نے فرشتوں سے کرو آدم کو تم سجدہ
    کہ نور سید کونین آدم کی جبیں پر پے

    بہت ہی ناز ہے جن کو جہاں میں سر بلندی پر
    جبیں انکی بھی خم آقا کے پائے نازنیں پر ہے

    سلامی کو فرشتے اس لئے آتے ہیں روزانہ
    فضیلت روضئہ سرکار کو خلد بریں پر ہے

    شب معراج آقا عرش سے آگے گئے تنہا
    کہ اک حیرت سی طاری حضرت روح الامیں پر ہے

    *محب* یہ آیت جاءوک کی تفسیر کہتی ہے
    گنہگاروں کی بخشش رحمۃ للعالمیں پر ہے

    نفیس اکرم
    *محب* بنارسی

    ***********************************


    کرم اتنا مرے سرکار کا دینِ متیں پر ہے
    کہ برسوں بعد بھی باقی چمک اس کی جبیں پر ہے

    ثنائے سرورِ دیں کر رہا ہے کوئی محفل میں
    عجب سا کیف طاری حاضرین و سامعیں پر ہے

    میسر ہے گلوں کو خوشبوؤں کا پیرہن تم سے
    ردا شیرینی کی تم سے ہی جسمِ انگبیں پر ہے

    مرا اسلام، ان کے دستِ شفقت کے تلے جینا
    مرا ایمان، مرنا ان کے پائے نازنیں پر ہے

    نکلتا ہے تمہاری یاد میں آنکھوں سے جو آنسو
    فضیلت اس کو حاصل گوھر و لعل و نگیں پر ہے

    ہزاروں انبیا موجود ہیں بیت المقدس میں
    امامت کی نظر لیکن امام المرسلیں پر ہے

    کرم کی اک نظر سرکار پھر سے جانبِ اقصی
    حکومت کفر کی پھر سے فلسطیں کی زمیں پر ہے

    نسیمی تاجی

    ***********************************


    تصور کے افق پر ہے تخیل کی جبیں پر ہے
    نبی کی نعت کا مصرع مرے دل کے نگیں پر ہے

    شعاعیں نور کی ہیں عارضِ والشمس کے ا وپر
    عمامہ گیسوئے والیل کا ان کی جبیں پرہے

    یہ اندازِ محبت بھی عجب انداز ہے پیارے
    جبیں جبریل کی جو ان کے پائے نازنیں پر ہے

    بنایا خالقِ کل نے انہیں جب مالکِ کل تو
    حکومت ان کی بیشک فرش تا عرشِ بریں پر ہے

    ذرا ٹھہرو نکیرو بعد میں تم بات کرلینا
    ابھی میری نظر سرکار کے روئے حسیں پر ہے

    میں عاصی مجرم و خاطی ہوں حقدار سزا لیکن
    قسم اللہ کی مجھکو بھروسہ شاہ دیں پر ہے

    نہیں گھبراؤ اتنا اے حسنؔ ان پر یقیں رکھو
    گنہگاروں کی بخشش رحمۃ اللعالمیں پر ہے

    غلام نبی حسنؔ قادری مظفر پوری

    ***********************************

    مثال سرور دنیا و دیں کوئی کہیں پر ہے ؟
    سبھی اہل نظر کا اتفاق اب تک نہیں پر ہے

    بلندی ، اوج و رفعت ان کے سر کی کوئی کیا جانے
    کہ پائے نازنیں جن کا ،،،،،،،،، سر عرش بریں پر ہے

    اے زاہد ! بہر جنت انتظار آخرت کر تو
    مدینہ طیبہ عشاق کی جنت یہیں پر ہے

    ہمیں معلوم ہے ہر طرح سے کھوٹے ہیں ہم ، لیکن
    گمان و ناز ہم کو ،،،،،،،،،، سرور دنیا و دیں پر ہے

    ملی ہے بھیک شب کو ان کی زلف عنبریں سے ، اور
    مدار انوار کا سرکار کے ،،،،،،، روئے حسیں پر ہے

    خزانے سارے عالم کے ہیں دست پاک میں ، لیکن
    قناعت مالک کونین کی ،،،،،،،،،، نان جویں پر ہے

    ہمارے حق میں جاتی ہے یہی اک بات بس *احسن*
    *گنہگاروں کی بخشش ،،،،،،، رحمة للعلمیں پر ہے*


    ✍.........سید محمد آل مصطفیٰ احسن
    جامعہ فاطمہ جلال نگر شاہ جہان پور یو پی

    ***********************************


    یہ جو مہتاب کا جھومر فلک تیری جبیں پر ہے
    فدا وہ بھی مرے سرکار کے روئے حسیں پر ہے

    عمل پر کیا کریں، تکیہ بس اس حسن یقیں پر ہے
    گنہ گاروں کی بَخشِش رحمۃ للعالمیں پر ہے

    کوئی پوچھے اگر مجھ سے یہاں جنت کہیں پر ہے ؟
    تو میں بے ساختہ کہہ دوں عرب کی سرزمیں پر ہے

    فلک اترا نہ تو مہتَاب يا خُورشید و انجُم پر
    فَروزَاں ہیں یہ جِس کے نُور سے وُہ اِس زَمیں پر ہے

    خدا و مصطفٰی کے حکم پر چھوڑا جنہوں نے گھر
    تصدق میری جاں أن سب وطن کے تارکیں پر ہے

    نگاہ نازنیں ایک ایک عاصی پر ہے محشر میں
    نگہ ایک ایک عاصی کی نگاہ نازنیں پر ہے

    زنان مصر جس کے حسن پر قربان ہیں منظر
    وہ یوسف شیفتہ سرکار کے روئے حسیں پر ہے

    منظر چشتی

    ***********************************

    نہ تو فرشِ زمیں پر ہے۔ نہ تو عرشِ بریں پر ہے
    بلندی مصطفیﷺ ٰ پیارے کے پائے نازنیں پر ہے

    عطاء کرنا خدائے اولین و آخریں پر ہے
    مگر تقسیمِ نعمت سرور دنیاودیں پر ہے

    مجھے احوالِ محشر کا بھلا احساس کیونکر ہو
    نظر میری جمی ان کے رخ مہر جبیں پر ہے

    ہوئے شمس و قمر روشن غسالہ آپ کا پاکر
    فدا ہراک ستارہ آپ کے نور ِ مبیں پر ہے

    دل مہجور کی فریاد سن لیں یارسول اللّٰہ ﷺ
    بڑا غم بار فرقت کا مرے قلبِ حزیں پر ہے

    خداونداسنادےانکے لبہائے مبارک سے
    مر ے دربار میں آجا ترا مسکن یہیں پر ہے

    ہو تم رنجیدہ خاطر اس قدر بےحد تعجّب ہے
    سحر بخشش تمہاری جب شفیع المذنبیں پرہے


    سحر اورنگ آبادی


    **************************

    یہ وہ 36 کلام تھے جو مقابلہ میں شامل ہوۓ..
    اس مرتبہ بھی بزم نعت گروپ کے مقابلہ میں ججوں کے پینل نے سارے کلاموں کو نمبرات سے نوازا...
    اس کےنتائج آپ کے سامنے پیش ہیں....

    پہلے آپ ہمارے فیصل پینل سے ملاقات کر لیں..

    جج پینل میں 4 معزز لوگ شامل ہیں

    ...جج پینل....

    1 استاذالشعراحضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی صغیر اختر مصباحی صاحب قبلہ ، بریلی شریف.

    2 تاج الشعرا حضرت علامہ سلمان رضا فریدی صاحب قبلہ ، مسقط عمان

    3 استاذالشعرا حضرت علامہ الشاہ طفیل علوی صاحب قبلہ ہزاری باغ ، جھارکھنڈ.

    4 رئیس القلم شاعر ذی وقار حضرت علامہ الشاہ محمد مشاہد رضا عبیدالقادری صاحب قبلہ دھانے پور گونڈہ.

    بزم نعت کے مقابلہ میں شرکت کے لئے آنے والے کلاموں کو چار الگ الگ زاویوں سے جانچا پرکھا جاتا ہے

    1- *حسنِ فن*

    2- *حسنِ مضمون*

    3- *حسنِ زبان*

    4- *حسنِ بیان*


    مذکورہ عناوین کو مد نظر رکھتے ہوئے جج حضرات کا پینل فیصلہ سناتا ہے

    1- *حسنِ فن* یعنی کلام کی فنی اور عروضی نزاکتوں، خوبیوں اور خامیوں کو دیکھتے ہوئے *حضرت علامہ مفتی صغیر اختر مصباحی صاحب قبلہ* کلام کو نمبرات عنایت فرماتے ہیں.

    2- *حسنِ مضمون* یعنی کلام میں مستعمل مضامین کس معیار کے ہیں اس کو نظر میں رکھتے ہوئے *تاج الشعرا حضرت علامہ سلمان فریدی صاحب قبلہ* کلام کو نمبرات عنایت فرماتے ہیں.

    3- *حسنِ زبان* یعنی کلام میں استعمال کی گئی زبان کے معیار کو دیکھتے ہوئے *استاذالشعرا حضرت علامہ طفیل علوی صاحب قبلہ* کلام کو نمبرات عنایت فرماتے ہیں.

    4- *حسنِ بیان* یعنی معنی کی ادائیگی اور معیار کو دیکھتے ہوئے *حضرت علامہ محمد مشاہد رضا عبیدالقادری صاحب قبلہ* کلام کو نمبرات عنایت فرماتے ہیں.

    الحمد لللہ ہمارے پینل نے پوری مستعدی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض کو انجام دیا.....

    28-07-2017
    عالمی واٹسپ گروپ بزم نعت کے فائنل نتائج.....

    سرپرستِ "بزم نعت" حضور سید حسان میاں صاحب قبلہ کے حکم پرمنعقد ہوۓ "بزم نعت" کے تینتیسویں طرحی مشاعرہ میں جج پینل کے ذریعہ دئے گئے نمبرات کی تفصیل پیش ہے...

    ہمارے پینل میں 4 جج حضرات ہیں جو مختلف عناوین کے تحت ہر کلام کو نمبرات عنایت فرماتے ہیں ہر عنوان پر زیادہ سے زیادہ 25 نمبر تک مل سکتے ہیں
    یعنی ایک شاعر کو زیادہ سے زیادہ 100 نمبر تک حاصل ہو سکتے ہیں.
    سبھی جج حضرات کے انفرادی نتیجے آپ دیکھ چکے ہیں...

    اب مجموعی تفصیل ملاحظہ فرمائیں.

    نام شاعر کل نمبر

    1 جناب سراج تابانی ، کلکتہ 80

    2 جناب ثاقب القادری بنارس 80

    3 ج نعمان اخترفائق الجمالی 80

    4 جناب اختر حشمتی 78

    5 سید منظر میاں چشتی 78

    6 جناب حسن الہ بادی 77

    7 جناب جاوید صدیقی 77

    8 جناب شفیق راۓ پوری 77

    9 جناب ندیم شمسی 76

    10 جناب طفیل شمسی 75

    11 جناب نسیمی تاجی 75

    12 جناب ارشاد مصباحی 74

    13 ڈاکٹرسرور حسین قادری 74

    14 جناب ضمیر یوسف کلکتہ74

    15 جناب شمیم القادری 74

    16 جناب حسن رضا اطہر 73

    17 جناب غلام نبی حسن 73

    18 جناب علی احمد رضوی 72

    19 جناب کفیل فتحپوری 72

    20 جناب مبارک رضوی 72

    21 جناب برکت علی جامعی 72

    22 سید آل مصطفیٰ احسن 72

    23 جناب شاکر بانکوی 70

    24 جناب محبوب گوہر 70

    25 جناب محب بنارسی 70

    26 سیدفضل الرحمٰن کاظمی 69

    27 جناب حافظ بنارسی 69

    28 جناب سحر اورنگ آبادی 69

    29 جناب غلام غوث چشتی 68

    30 جناب ساحل مظفر پوری 67

    31 سیدہ زینب سروری 67

    32 جناب ابرار احمد 66

    33 ڈاکٹر کاشف بریلوی 66

    34 جناب رفیق احمد نوری 66

    35 جناب حامد رضا نعمانی 64

    36 جناب قیصر تیغی 61


    اس طرح اس مقابلہ میں علامہ سراج تابانی صاحب
    نے 80 نمبر کے ساتھ پہلا ، علامہ ثاقب القادری صاحب صاحب نے 80 نمبر کے ساتھ دوسرا اور علامہ نعمان اختر فائق الجمالی صاحب نے 80 نمبر پا کر تیسرا مقام حاصل کیا....
    میں تمام اراکین کی جانب سے ان تینوں عظیم شعرا کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں.....
    ان شاء اللّه بہت جلد سرپرستِ "بزم نعت"حضور سید حسان میاں صاحب قبلہ کی جانب سے خانقاہ مسولی شریف کے تحائف تینوں حضرات کو ارسال کر دئے جائیں گے....

    خادم بزم نعت. اظھار شاہجہاں پوری
    9305412583

    *********************************
    آپ میں سے بھی اگر کوئی صاحب نعتیہ شاعری کا ذوق رکھتے ہوں اور بزم نعت کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہوں تو
    9305412583
    پر رابطہ فرمائیں. (صرف واٹسپ پر)
    اس پوسٹ کو دوسروں تک پہنچا کر نعتیہ شاعری کو فروغ بخشیں اور عنداللہ ماجور ہوں.....

    نوٹ.. گروپ میں نئے ممبران کوایام مشاعرہ میں شامل نہیں کیا جاتا ہے......

    فیس بک پر بزم نعت کا پیج لائک کرنے کے لئے لنک پر جائیں.....

    http://www.fb.me/bazmenaat786

    خادم گروپ:- اظھار شاہجہاں پوری
    93305412583
  2. محمد رضوان

    محمد رضوان Well-Known Member رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    1,045
  3. محمد رضوان

    محمد رضوان Well-Known Member رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    1,045