1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

کتابوں پر تبصرے شاکر القادری کے مجموعۂ نعت ”چراغ“ پرصاحبزادہ محمد نجم الامین عروسؔ فاروقی کا تبصرہ

'کتابوں پر تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد شاہد الرحمٰن, ‏مارچ 21, 2017۔

  1. محمد شاہد الرحمٰن

    محمد شاہد الرحمٰن آبروئے ماز نامِ مصطفےٰ است رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    220
    چراغِ شاکرؔ
    شفقت مآب جناب سیّد اعجاز حسین شاہ عاجزؔ المعروف شاہ بابا نے فخرِِ سادات بحرِ شفقات منبعِ معلومات جناب سیّد شاکرالقادری چشتی نظامی کا مجموعہ نعت " چراغ " بڑی محبت کے ساتھ عطا فرمایا۔ جس پہ ان کا انتہائی شکر گزار ہوں۔
    مجموعہ نعت چونکہ ایک بڑے استاد کا ہے لہذا مجھ ایسا مبتدی اس کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کرنے اور کماحقہٌ تعریف و تحسین کرنے سے عاجز و قاصر ہے۔ لیکن یہ کتاب ایسی ہے کہ راقم کچھ کہے بغیر رہ نہیں سکتا۔
    ''چراغ'' بلا شبہ چراغ کہلانے کی حق دار ہے کہ اس کے پڑھنے سے قاری کے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں بلکہ ٹائٹل ہی اتنا خوب صورت ہے کہ اسے دیکھنے سے آنکھوں کو فرحت و راحت ملتی ہےجس پہ سید فیضانؔ الحسن گیلانی الگ سے داد کے حق دار ہیں۔ ورق ، کمپوزنگ اور بائنڈنگ بھی اعلی معیار کے حامل ہیں۔ عام کمپوز شدہ کتابیں بہت روکھی معلوم ہوتی ہیں کہ کمپوزنگ میں وہ جاذبیت نہیں ہوتی جو اچھے کاتب کی کتابت میں ہوتی ہے۔ مگر چراغ کی کمپوزنگ ایسی ہے کہ کسی خوش خط اور اچھے کاتب کی کتابت کا گمان ہوتا ہے۔کمپوزنگ میں غلطیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    یہ باتیں تو تھیں ٹائٹل اور کمپوزنگ کے بارے میں ۔ اگر ہم جناب شاکر القادری چشتی نظامی کے کلام پر گفتگو کریں تو کہنا پڑے گا کہ یہ کلام واقعی ایک بڑے استاد کا کلام ہے۔
    جناب شاکر القادری عربی زبان و ادب سے اسی طرح واقف ہیں جس طرح ایک استاد کو ہونا چاہیے یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام میں جابجا عربی کے کلمات ہی نہیں مرکّبات بھی نظر آتے ہیں۔دو شعر دیکھیں:
    ہے آبرو سخن کی ثنائے رسول سے
    ہے سیّد الکلام شہِ کُن فکاں کی بات

    درپئے جان ہو مکّہ تو مدینہ میں تری
    طلع البدر علینا سے پذیرائی ہو​

    ایک جگہ تو آپ پورا مصرع عربی میں لائے ہیں :
    از خدائے پاک خواہم اجرِ نعتِ مصطفےٰ
    عندہ خیر الجزاء عندہ حسن المآب

    مذکورہ شعر میں اگر مصرعِ ثانی عربی میں ہے تو مصرعِ اول فارسی میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہا آپ فارسی سے پوری طرح واقف ہی نہیں فارسی کے قادر الکلام شاعربھی ہیں۔ یہی وجہ ہے چراغ کا ایک حصہ فارسی کلاموں پر مشتمل ہے ۔ بلکہ فارسی کا معاملہ تو یہاں تک ہے کہ آپ اردو میں نعت کہتے ہوئے فارسی کی طرف نکل جاتے ہیں اورفارسی میں نعت کہنا شروع کردیتے ہیں۔
    ملا کی قیل و قال غلط گفتگو غلط
    صوفی کا وجد و حال غلط ہا و ہو غلط
    یہ ذکر و فکر نیم شبی یہ مراقبے
    مستانہ وار نعرۂ اللہ ھو غلط
    باطل ہے اہل دانش و حکمت کا ادعا
    ہر فلسفی کی فکر غلط جستجو غلط
    بے کیف ہیں قیام و قعود و رکوع سب
    زاہد تری نماز غلط ہے وضو غلط
    یہ شعر و نغمہ، حسن تخیل یہ فکروفن
    یہ آگہی یہ عشق یہ ذوق نمو غلط
    یہ ہجر یہ فراق یہ آشفتگی یہ درد
    یہ قرب یہ وصال غلط آرزو غلط
    وہ سنگِ در جبیں کو میسر نہ ہو اگر
    یہ بزم کائنات غلط رنگ و بو غلط
    ای ار جبینِ دل نہ نہادی بہ درگہش
    تو رو بہ قبلہ ای و ترا قبلہ رو غلط
    اے بے خبر ز معنی لولاک گوش کن !
    بے شاہد ایں مشاہدۂ رنگ و بو غلط
    اے سرکشیدۂ درِ خیرالورا شنو!
    از بہر تست مژدۂ لا تقنطوا غلط
    تا آن بہ حضرتش نہ رسیدی بصدقِ دل
    چیزے درست نیست نگویم بہ تُو غلط

    دیکھ لیجے کہ یہ نعتیہ نظم اردو سے شروع ہوئی اور ختم فارسی پہ ہوئی۔ آپ کی فارسی دانی کا یہ عالم ہے کہ جناب کے بعض اردو اشعارسراپا فارسی ہیں اور ان میں اردو برائے نام ہے ۔ جیسے کہ یہ شعر :
    فردوسِ تخّیل میں سمن زار کی صورت
    آئینہ ہیں دیوار و درِ کوئے مدینہ
    جاں ناقہء مستانہ، دلِ گرم حُدی خواں
    اس رنگ سے طے ہو سفرِ کوئے مدینہ
    اس نعت کا ایک اور شعر دیکھیں جس میں اردو برائے نام بھی نہیں:
    آہستہ قدم زن کہ بہ ہر ذرّہ دلے ہست
    ای زائرِ آشفتہ سرِ کوئے مدینہ

    جناب نے اساتذہ کے اردو اور فارسی مصرعوں پر تضمینیں بھی کہی ہیں اور اتنی خوبصورتی سے کہ صاحبانِ مصارع بھی یقینا داد دے رہے ہوں گے۔ آپ کا کمال یہ بھی ہے کہ آپ نے اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضاؔ خانؒ کے مشہورِ زمانہ سلام " مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام " کہ منتخب شعروں پہ فارسی میں تضمینی بند لکھے ہیں۔ عام طور پر فارسی شعروں پر اردو تضمینات ملتی ہیں۔
    آپ کے ہاں کئی نعتوں کے مقطعے نہیں ہیں۔ یعنی آپ کے کئی کلام ایسے ہیں کہ جن کے آخری شعر میں آپ اپنا نام یا تخلص نہیں لائے۔جس سے معلوم ہوتا کہ آپ نمود و نمائش نہیں چاہتے بلکہ نعت گوئی کا اجر آخرت میں اللہ تعالیٰ سے پانا چاہتے ہیں۔یہ بات آپ نےاپنی اردو نعت کےایک فارسی شعر میں بھی کہی ہےجس کا ایک مصرع عربی میں ہے۔ یہ شعر پیچھے گزر چکا ہے لیکن دوبارہ ذکر کردیتا ہوں:
    از خدائے پاک خواہم اجرِ نعتِ مصطفےٰ
    عندہ خیر الجزاء عندہ حسن المآب
    ﷺ​
    کسی شاعر کی شاعری اس کے مشاہدے اور مطالعے کی عکاس ہوتی ہے ۔ جناب شاکر القادری کی شاعری فقط ان کے مشاہدات اور مطالعات کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ ان کے احساسات کی بھی ترجمانی کرتی ہے بلکہ واضح طور پر بتاتی ہے جناب جو محسوس کرتے ہیں وہ ہر شاعر محسوس نہیں کرسکتا ہے ۔ آپ نے اپنے سفرِ مدینہ کے احوال اور محسوسات اپنے مختلف کلاموں میں بیان کیے ہیں ۔ اس حوالے سے چند شعر دیکھیں:
    میں نے شہرِ مدینہ دیکھا
    ایسے جیسے سپنا دیکھا
    ہر ذرّے میں دھڑکن پائی
    ہر پتھّر کو زندہ دیکھا
    سانسیں لیتا تھا ہر منظر
    ہر اک نقش روانہ دیکھا
    صبح کی انگڑائی بھی دیکھی
    شام کو کیف میں ڈوبا دیکھا​
    ان احساسات کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حرمین شریفین کی زیارت صرف چشمِ ظاہر سے ہی نہیں کی جاتی بلکہ چشمِ باطن سے بھی کی جاتی ہے۔
    جناب کے ان شعروں کو پڑھنے کے بعد کہنا پڑاکہ:
    سر کی آنکھیں ہی نہیں دید کی محرم اے عروسؔ
    دل کی آنکھوں سے بھی دیدارِ حرم کرتے ہیں​
    بعض شعر ایسے ہیں کہ ان پر گفتگو کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔ مثلاََ
    جالی کے پیچھے کا منظر
    کیا بتلاؤں کیسا دیکھا
    جبرائیلؑ نے جو دیکھا تھا
    میں نے بھی وہ تارا دیکھا​
    اسی مفہوم کا ایک اور شعر ہے
    جو حجاباتِ خداوندی میں چمکا مدّتوں
    جالیوں سے دیکھ آیا ہوں وہ تارا نور کا​
    جناب عزیز احسن لکھتے ہیں:
    "شاکر القادری کا تفضیلیت پسند رجحان نمایاں ہےجس پر میرے کچھ تحفّظات ہیں۔"
    میں کہوں گا اگر جناب شاکر القادری نے اہلِ بیتِ اطہار کی مدح و ثنا کھل کر کی ہے تو صحابہ ء ذی شان علیہم الرضوان کی شان بھی بیان کی ہے ۔ یہ دو شعر دیکھیں:
    صدّیق کو صداقتِ شاہِ امم ملی
    فاروق کو ملی ہے عدالت حضور کی
    عثمانِ باحیا کو سخاوت ہوئی عطا
    مولا علی کو جرات و ہمّت حضور کی​

    آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت شاکر القادری چشتی نظامی کو عمرِ دراز اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے
    اور آپ اسی طرح نعت کے فروغ کے لیے کام کرتے رہیں۔ آمین بجاہِ سید الانبیاء والمرسلینﷺ
    Last edited: ‏اپریل 22, 2017