شرف الدین ساحل: حرا کی روشنی (منظوم سیرت النبیﷺ)

'کتابوں کو برقیانا' میں موضوعات آغاز کردہ از مشاہد رضوی, ‏ستمبر 6, 2016۔

  1. مشاہد رضوی

    مشاہد رضوی نعت میری آبرو رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    349
    حرا کی روشنی
    ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ
    (سیرت النبیﷺ منظوم)

    نمونۂ کلام

    ۔2۔
    قدم کس نے رکھا فرشِ زمیں پر
    ادب سے جھک گۓ محراب ومنبر
    ملائک گا رہے ہیں نعتیہ گیت
    کھُلے جبریل کے خوشیوں میں شہپر
    ہوا خوشبو سے یوں ہے مست و بے خود
    زمیں کا گوشہ گوشہ ہے معطّر
    نسیمِ صبح گزری ہے جدھر سے
    چھڑکتی جا رہی ہے مشک و عنبر
    یہ کیسی روشنی پھیلی جہاں میں
    ہی شرمندہ ضیاۓ ماہ و اختر
    حیا و شرم سے ہے پانی پانی
    فلک پر روۓ خورشیدِ منوّر
    وہ نورِ معرفت پھیلا ہے ہر سو
    ہے روشن ذرّہ ذرّہ مثلِ گوہر
    ہر اک جانب مسلسل آ رہی ہے
    صداۓ نعرۂ اللہُ اکبر
    صدا سن کر ہبل گھبرا رہا ہے
    لرزتے ہیں سبھی اصنامِ آذر
    کیا آتش کدے کو سرد اپنے
    اُٹھا وہ اہرمن میں شورِ محشر
    ہوا دریاۓ سادہ خشک مطلق
    تحیّر میں ہیں کسریٰ کے ثناگر
    گِرہ غش کھا کے شانِ روم و یوناں
    ہوۓ معذور ایراں کے دلاور
    ہر اک فتنہ ہے پوشیدہ جہاں کا
    پہن لی جہل نے رحمت کی چادر
    جدھر دیکھو فضا میں اُڑ رہے ہیں
    سکوں سے امنِ عالم کے کبوتر
    یتہم و بے کس و مفلس ہیں شاداں
    تبسّم ہے غلاموں کے لبوں پر
    اخوّت کی ہوائیں چل رہی ہیں
    مقیّد ہو گۓ گھر میں ستم گر
    ہیں مستی میں جمادات و نباتات
    دُرودِ پاک ہے ان کی زباں پر
    ہے آخر کون یہ اس آمنہ کا
    ہوا آمد سے جس کی گھر منوّر
    نِدا آئی یہ ہے ذاتِ محمّدﷺ
    نبئِ آخری، حق کے پیمبر
    یہی ہیں پاسبانِ شمعِ توحید
    کہو ظلمت سے باندھے اپنا بستر

    ۔3۔
    دل میں شرک کے خلش
    لمحہ لمحہ پُر کشِش
    نور نور آسماں
    پر حسیں جہانِ شش
    سرد سرد ہو گئی
    ریگزار کی تپش
    داعیِ الٰہ کی
    ہو رہی ہے پرورش

    خوش ہیں سارے دیدہ ور
    طیش میں ہیں کم نظر
    وجد میں زمین ہے
    رقص میں شجر حجر
    جس طرف بھی دیکھۓ
    ہنس رہی ہے رہ گزر
    مرکزِ جمال ہے
    اے حلیمہ تیرا گھر

    وقت ہے رواں دواں
    ہو گیا ہے اب جواں
    اوڑھ کر رِداۓ قدس
    دینِ حق کا پاسباں
    سچ کا جو ثبوت دیں
    مل رہے ہیں وہ نشاں

    دامنِ جیاد میں
    چر رہی ہیں بکریاں
    تھم گیا یہ سوچ کر
    بے مثال گلّہ باں
    کون اس جہان کا
    اصل میں ہے پاسباں
    کس کے حکم کے مطیع
    ہیں زمین و آسماں
    آب و بادِ تازہ ہے
    کس کے حکم سے رواں
    اور کس کے حکم سے
    بہہ رہی ہیں ندّیاں
    بحرِ بے کنار میں
    چل رہی ہیں کشتیاں
    ہو رہی ہیں بارشیں
    چھا رہی ہیں بدلیاں
    آسماں کے فرش پر
    ہنس رہی ہے کہکشاں
    مہر و مہ سفر میں ہیں
    روز و شب کے درمیاں
    کس کے حکمِ خاص سے
    اُگ رہی ہیں کھیتیاں
    سوچ کا یہ سلسلہ
    ہے یقینِ جاوداں
    ٭٭٭

اس صفحے کو مشتہر کریں