1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تذکرہء نعت گویاں صغیر اختر مصباحی

'نعت گویان انڈیا' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہ بابا, ‏مئی 29, 2017۔

  1. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    671
    نام: محمد صغیر احمد رضوی
    ادبی نام: صغیر اختر مصباحی
    موطن: کیمری ضلع رامپور یو پی انڈیا
    رہائش و تدریس : جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف
    تعلیم: جامعہ رضویہ کیمری ضلع رامپور
    الجامعہ الاسلامیہ رامپور
    مفتاح العلوم رامنگر نینیتال
    دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
    الجامعۃ الاشرفیۃ مبارکپور اعظم گڑھ
    فراغت: الجامعۃ الاشرفیۃ مبارکپور اعظم گڑھ
    27 نومبر 1992
    تدریس : محمدیہ حنفیہ امروہہ (3 ماہ)
    دارالعلوم فیض عام اناؤ (11 ماہ)
    ضمیر العلوم سنبھل (ڈیڑھ سال)
    جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف (بقیہ تمام مدت)


    نمونہ کلام

    1


    ہر ایک عطر ہے خاموش، عطرداں خاموش
    بہارِ زلفِ نبی سے ہے گلستاں خاموش

    زہے اس امی لقب کی زبان کھلتے ہی
    بفضلِ رب ہوا ہر طرہء زباں خاموش

    توجہِ نظَرِ مصطفی کا کیا کہنا!
    کہ بول اٹھتی ہیں ناگاہ مٹھیاں خاموش

    تمہارے جلووں نے پُرشوخ کردیا ورنہ
    پڑے ہوئے تھے نظارے جہاں تہاں خاموش

    مقابلہ تھا کسی نقشِ پا کی رفعت کا
    کوئی تو بات تھی؟ تھے ساتوں آسماں خاموش

    غمِ حبیب وہ غم ہے اگر میسر ہو
    غمِ جہاں کا ہو ہر بحرِ بیکراں خاموش

    بس اس خیال سے میں گنگنا اٹھا اختر
    کہ بزمِ نعت سجے اور نعت خواں خاموش


    2


    جو ان کے نام سے دستِ دعا دراز کیا
    مری دعا کو اجابت نے سرفراز کیا

    خدا نے ایسا انہیں آشنائے راز کیا
    ہر ایک راز تہہِ دست ِطبعِ ناز کیا

    زہے کرم! کرَمِ مصطفیٰ کا کیا کہنا!
    نیاز مند کو بھی جس نے بے نیاز کیا

    رہِ مدینہ جو دیکھی تو پھر رہا نہ گیا
    مچل کے دل نے نچھاور سرِ نیاز کیا

    رہِ جنوں کی جنوں خیزیاں زہے حیرت!
    خرد کو محرمِ اسرارِ سوز و ساز کیا

    یہ مجھ پہ خاص عنایت ہے میرے ساقی کی
    شریکِ مجمعِ رندانِ پاکباز کیا

    خدا کا شکر ہے اختر کہ میری آنکھوں کو
    ادب شناسِ غبارِ رہِ حجاز کیا.


    3


    قدم قدم پہ تھا محشر میں خوفِ رسوائی
    " انا لہا " نے کی بر وقت ہمت افزائی

    تصورات میں تصویر ِ یار کیا آئی
    چمک اٹھی مری واللہ شامِ تنہائی

    درِ رسول کی عظمت اسی سے ظاہر ہے
    فرازِ عرش کو ہے حسرتِ جبیں سائی

    زہے نصیب! نصیب اور اوج پر پہونچا
    ہوئی نصیب ترے در پہ جبہ فرسائی

    ترے بغیر رہے ناتمام ماہِ تمام
    تمام ماہ کرے گرچہ چرخ پیمائی

    وہی جمال سما جائے دیدہء دل
    قرارِ دیدہء بلبلِ ہے جس کی زیبائی

    یہ زر نگاریِ فکرِ رسا تری اختر
    ہے بزمِ شعر و سخن میں بڑی پذیرائی.


    4



    اس کے آگے خلد کی آب و ہوا کچھ بھی نہیں
    کون کہتا ہے مدینہ کی فضا کچھ بھی نہیں

    آگہی، حسنِ نظر، فکرِ رسا کچھ بھی نہیں
    بے بہائے حبِ احمد بے بہا کچھ بھی نہیں

    لیجئے اب آ گیا وہ شہرِ طیبہ آ گیا
    میں نہ کہتا تھا کہ حسنِ دو سرا کچھ بھی نہیں

    لے چلو مجھ کو مدینہ کی گلی میں لے چلو
    ہند میں مر مر کے جینے کا مزا کچھ بھی نہیں

    بے عمل تھا پھر بھی حبِ مصطفی نے رکھ لی لاج
    اک صدا آئی کہ ایسوں کی سزا کچھ بھی

    جیسے بھی ممکن ہو جلد از جلد طیبہ لے چلو
    ورنہ بیمارِ محمد کی دوا کچھ بھی نہیں

    مرحبا اے التفاتِ چشمِ رحمت مرحبا
    اب تو میری فردِ عصیاں میں بچا کچھ بھی نہیں

    دولتِ شعر و سخن بھی ہے بدولت آپ کی
    اخترِ خستہ کا ورنہ ہے ہی کیا؟ کچھ بھی نہیں


    5


    اس کے آگے خلد کی آب و ہوا کچھ بھی نہیں
    کون کہتا ہے مدینہ کی فضا کچھ بھی نہیں

    آگہی، حسنِ نظر، فکرِ رسا کچھ بھی نہیں
    بے بہائے حبِ احمد بے بہا کچھ بھی نہیں

    لیجئے اب آ گیا وہ شہرِ طیبہ آ گیا
    میں نہ کہتا تھا کہ حسنِ دو سرا کچھ بھی نہیں

    لے چلو مجھ کو مدینہ کی گلی میں لے چلو
    ہند میں مر مر کے جینے کا مزا کچھ بھی نہیں

    بے عمل تھا پھر بھی حبِ مصطفی نے رکھ لی لاج
    اک صدا آئی کہ ایسوں کی سزا کچھ بھی

    جیسے بھی ممکن ہو جلد از جلد طیبہ لے چلو
    ورنہ بیمارِ محمد کی دوا کچھ بھی نہیں

    مرحبا اے التفاتِ چشمِ رحمت مرحبا
    اب تو میری فردِ عصیاں میں بچا کچھ بھی نہیں

    دولتِ شعر و سخن بھی ہے بدولت آپ کی
    اخترِ خستہ کا ورنہ ہے ہی کیا؟ کچھ بھی نہیں


    صغیر اختر مصباحی.