1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

مقالات نعت عمر فاروق وڑائچ: نعت،نعت گوئی اور نعت خوانی

'مقالات نعت' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہ بابا, ‏جولائی 25, 2017۔

  1. شاہ بابا

    شاہ بابا فضائے نعت میں رہنے سے دل دھڑکتا ہے رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    667
    نعت،لغت میں کسی کی تعریف کرنا ہے لیکن اب اس کامعنی خاص ہوچکا ہے اور وہ ہے مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس حوالے سے دو اور اصطلاحات ہیں،
    نعت گوئی اور نعت خوانی اور انھیں سے متعلق نعت گو اور نعت خواں اسم فاعل کے صیغے بھی ہیں۔
    نعت گوئی اور نعت خوانی اپنے مفاہیم میں الگ الگ ہیں لیکن بعض لوگ ان دونوں میں امتیاز نہیں کرتے ،یہ درست نہیں۔ اسی حوالے سے جناب محمد خاور صدیقی صاحب کی طرف سے حکم ہوا کہ ان میں فرق واضح کروں۔چنانچہ یہ سطور اسی غرض سے لکھی جارہی ہے۔
    اجمالاً، نعت گوئی کہتے ہیں نعت لکھنے کو یعنی نعتیہ شاعری کو اور نعت خوانی کا مطلب ہے نعت پڑھنا۔ ظاہر ہے نعت پڑھنا نعت لکھنے سے یکسر مختلف عمل ہے۔
    اب میں اس کی تفصیلی بحث کی طرف آتا ہوں۔زیر بحث لفظوں کے متعلق کتب لغات کے مخففات کے اشارے اور دیگر ضروری تفصیلات آخر میں درج کروں گا۔
    تاکہ بحث متاثر نہ ہو،اور صرف متعلقہ عبارت ہی نقل کروں گا۔اور باقی چھوڑ دوں گا۔
    پہلے ہم لفظ نعت کے لغوی معنی پہ بات کرتے ہیں۔لغت عرب میں اس کا معنی کسی کی اچھی عادات کا ذکر کرنا ہے۔اپنے معانی میں یہ لفظ اچھائی کی تعریف کے لیے ہے۔اگر برائی کا ذکر مقصود ہو تو اسے نعت سوء کہا جاتا ہے۔
    علامہ ابن منظور نے علامہ ابن الاثیر کا قول نقل کیا ہے کہ
    النعت وصف الشی ء بمافیہ من حسن۔
    (ل ۔ع، ص 100، ج 2)
    بیشتر درصفت خوب استعمال میشود۔
    (ف۔ ن، ص 356، ج 5)
    صفت و صفت کردن۔
    (م۔ ل، ص 402)
    وصف کردن(خصوصاً توصیف نیکو)
    ف۔ م، ص 1950، ج 2)
    تعریف۔ صفت ۔ تعریف کرنا۔
    (ل۔ک، ص431)
    تعریف و وصف کردن
    (غ۔ ل، ص 741 )
    وصف؛ توصیف
    (ب۔ س۔ ص 7866، ج 8)
    مدح ،ثناء ۔تعریف و توصیف۔
    (ع۔ ا، ص 1515)
    صفت و ثنا۔ تعریف و توصیف ۔مدح ۔ ثنا۔
    (ف۔ آ، ص 579، ج 4)

    عربی سے یہ لفظ فارسی میں آیا تو جہاں عموماً نیکوں کی تعریف کے لیے استعمال ہوا، وہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کے لیے بھی مستعمل ہوا۔
    خاص کر صفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
    (ل۔ ک، ص 431 )
    اگرچہ لفظ نعت بمعنی مطلق وصف است لیکن اکثر استعمال ایں لفظ بمعنی مطلق و ستایش و ثناء رسول صلی اللہ علیہ وسلم آمدہ است۔
    (غ۔ ل، ص 741)
    ستایش پیغمبر
    (ف۔ ن، ص،356، ج 5)
    مجازاً خاص حضرت سید المرسلین رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف۔
    (ف۔آ، ص 579، ج 4)
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں مدحیہ اشعار۔
    (ع۔ ا، ص 1515)
    نعت عربی میں بمعنی مدح النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔فارسی میں بمعنی مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حمد اور منقبت کے لیے بھی استعمال ہوا۔
    صفت، خصلت (بیشتر در مورد خدا و رسول (ص) استعمال شود)
    (ف۔ م، ص 1950 ،ج 2)
    اوصاف و خصلت ھای نیک و پسندیدۂ کسی (بہ ویژہ اوصاف خداوند و رسول و ائمہ) را بیان کردن؛ ستایش۔
    (ب۔س،ص 7866،ج8)
    ان معانی میں بھی فارسی تک مستعمل ہے یہ لفظ، اردو میں یہ لفظ خاص مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مستعمل ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے اور اصطلاح پر لغوی معنی کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ یوں بھی فارسی کے تمام قواعد و ضوابط کا اطلاق اردو پر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تمام لغت کا۔ اردو میں وہی سمجھا جائے گا،جس معنی میں مستعمل ہوا اور اساتذہ زبان نے برتا۔مولوی غیاث الدین لکھتے ہیں کہ

    وبمعنی صیغہ اسم فاعل و اسم مفعول و صیغہء صفتِ مشبہ نیز می آید۔
    (غ۔ ل، ص 741)
    ظاہر ہے کہ اردو میں نعت بمعنی ناعت کہیں نہیں۔یہی صورت حال اسم مفعول و صفت مشبہ کے صیغے کے لیے ہے۔ اسی طرح عمومی معنی بھی اردو میں نہیں بلکہ معنی خاص کے لیے مستعمل ہے۔
    یہ لفظ بمعنی مطلق وصف ہے لیکن اس کا استعمال آنحضرت صلعم کی ستائش و ثنا کے لیے مخصوص ہے۔
    (ن۔ ل، ص 827 ،ج 4)
    وہ موزوں کلام جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و تعریف کی گئی ہو یا آپ ﷺ کے اوصاف و شمائل کا بیان ہو نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا ان سے منسوب کسی چیز سے محبت و عقیدت کا اظہار ہو۔
    ۔
    (ا۔ ت، ص 154 ،ج 20)
    وہ نظم جو رسول اکرم ص کی شان میں کہی جائے۔
    (ا۔ل، ص 437)
    حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف۔
    (م۔ ڈ، ص 521)
    صفت و ہر چیزی کہ بغایت نیکو بود و در اصطلاح شعرا صفت حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم را نعت گویند۔
    (م۔ ف، ص 219 ، ج 2)
    (شاید یہ کتابت کی غلطی ہے کہ'' صفت ہرچیزی'' کو'' صفت و ہرچیزی'' لکھ دیا گیا ہے۔)
    وصف و تعریف آنحضرت صلعم کی نظم ہویا نثر۔
    (ز۔ ل، ص 117)
    مدح حضرت محمد مصطفےٰ۔
    (ت۔ و، ص 1)
    اردو اور فارسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کے بارے میں اشعار کو نعت کہا جاتا ہے۔جو عربی میں مستعمل نہیں۔ عربی میں ایسے کلام کو مدح النبی یا المدائح النبویہ کہتے ہیں۔
    (ا۔ د، ص 395 ،ج 22)
    بابا رفیق عزیزی کا فیصلہ ہے کہ۔
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف احوال، کردار، افکار،اشغال، عادات، معاملات، سخاوت، عفود در گزر کے حوالے سے جو شاعری کی جاتی ہے اور کی جارہی ہے۔ اس صفت سخن کا نام ''نعت'' طے پاچکا ہے۔
    (خزینہ نعت،ص7)
    پروفیسر محمد یونس گیلانی کہتے ہیں کہ۔
    نعت کا لفظ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی تعریف و تو صیف کے لیے مختص ہو گیا ہے۔
    ( تذکرہ نعت گویان اردو ، حصہ اول،ص3)
    راجا رشید محمود کا قول ہے کہ۔
    جو اصطلاح خاص طورسے کثرت کے ساتھ مدح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوئی ہے،وہ نعت ہے۔
    (پاکستان میں نعت ، ص 110)
    ( درج بالا تینوں حوالے فروغ نعت شمارہ نمبر 15 میں شائع شدہ مضمون ''نعت گوئی کا تاریخی و تنقیدی تجزیہ''از شاہد کمال سے لیے گئے ہیں۔ یہ حوالے بالواسطہ ہیں، اس لیے ان کی تفصیل یہیں لکھی ہے اور مکمل نام بھی درج کیا ہے تاکہ کچھ امتیاز ہو جائے۔ ان کا ذکر مخففات کے اشاریے میں نہیں آئے گا۔)
    فرہنگ انیس میں تو''نعت'' کی بجائے ''نعت نبی'' کا لغت ہے اور لکھا ہے۔
    لفظ نعت رسول کے لیے مخصوص ہے۔ آنحضرت صلعم کی تعریف ثناء۔
    (ف۔ ا، ص 451 ،ج 1)
    اب لفظ نعت کا معنی و مفہوم بہت واضح ہوچکا ہے۔ تو میں نعت گوئی اور نعت خوانی کی جانب پلٹتا ہوں اور ان میں فرق واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
    ان دونوں تراکیب کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں۔ ان میں فرق نمایاں ہو جائے گا۔
    پہلے نعت گوئی کی طرف آتا ہوں۔ نعت گو اور نعت گوئی کی تراکیب اردو لغات میں کم کم نظر آتی ہیں۔
    نعت گو (و مج) ایسا شاعر جو عموماً نعت لکھے، ناعت۔
    (ج۔ ا، ص 1496)
    ایسا شاعر جو عموماً نعت لکھتا ہو؛ صرف نعتیہ شاعری کرنے والا۔
    (ا۔ ت، ص 154 ،ج 20)
    فارسی لغات میں یہ ترکیب نظر نہیں آئی البتہ ب۔ س۔ میں نعت گفتن کا اندراج ہے۔
    اوصاف و خصلت ھای نیک و پسندیدہ کسی را بیان کردن۔
    (ب۔ س ص 7867 ،ج 8)
    اس میں تو خاص معنی نعت کی وضاحت نہیں ہوتی۔ ا۔ ت۔ میں نعت گوئی کے تحت لکھا ہے۔
    شاعری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنا، نعت کہنا، نعت لکھنا، نعت نگاری۔
    (ا۔ ت، ص 154 ،ج 20)
    ان حوالوں سے نعت گوئی کا معنی تو واضح ہو گیا ہے کہ ازخود نعت کہنے کو کہتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ہم اس ترکیب ''نعت گوئی'' کے دونوں لفظوں کو جدا جدا کرتے ہیں۔نعت کے معنی و مفہوم سے واقف ہوچکے ہیں۔ گوئی ، فارسی مصدر گفتن سے مشتق ہے اور گفتن کے معانی لغت مین یوں لکھے ہیں۔(پہلوی میں گفتن، گوفتن تھا۔)

    چیزی رابہ زبان آوردن؛ بیان کردن۔۔۔۔۔۔ چیزی رابہ قلم آوردن؛ نوشتن۔۔۔۔۔۔۔۔ سرودن؛بہ نظم آوردن۔
    (ب۔ س، ص 6199 ، ج 6)
    حرف زدن، سخن راندن، ادا کردن سخن۔
    (ف۔ ع، ص 1689 ، ج 2)
    سخن راندن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہ نظم آوردن۔
    (ف۔ م، ص 1467 ، ج 2)
    سرودن(شعر گفتن)
    (ف۔ مع، ص 1065)
    ان حوالوں سے واضح ہوچکا ہے کہ نعت گوئی تخلیق نعت کا عمل ہے۔ لیکن میں اس پر ایک اور پہلو سے مزید وضاحت کی کوشش کروں گا۔ ا۔ ت میں نعت گوئی کے ذیل میں نعت نگاری بھی لکھا ہے۔ جس کے حوالے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اسی میں مزید لکھا ہے کہ
    نعت نگار: ر ۔ ک۔ نعت گو
    (ا۔ ت، ص 154 ،ج 20)
    اگر ہم نگار مشتق بہ نگاریدن کا جائزہ لیں تو مزید وضاحت ہو سکتی ہے۔
    نگاریدن کے معانی یوں ملتے ہیں۔
    نقش کردن، تصویر کردن ، رسم کردن (اشکال ہندسی) تحریر کردن نوشتن۔
    (ف۔ م، ص 1973 ،ج 2)
    لکھنا۔
    (عامرہ ، ص 544)
    نگاریدن کا معنی نگاشتن بھی لکھا گیا ہے۔
    1۔ (ف۔ م، ص 1973 ،ج 2) 2۔ (ف۔ ن، ص 372 ،ج 5) 3۔ (عامرہ، ص 544)
    اور نگاشتن بھی لکھنا ہے۔
    نوشتن(نگاشتن کتاب)
    (ف۔ مع، ص 1269)
    تحریر کردن ، نوشتن۔
    (ف۔ م، ص 1973 ،ج 2)
    نوشتن و نقش کردن۔
    (ف۔ ن، ص 372 ،ج 5)
    لکھنا۔
    (ل۔ ک، ص 543)
    نوشتن، تحریر کردن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثبت کردن
    (ب۔ س، ص 7949 ،ج 8)
    اب یہ بات خوب عیاں ہوگئی کہ گفتن کا معنی تخلیق شعر وغیرہ سے ہے اور نگاریدن بھی لکھنا ہے، خواہ تخلیق ہو، خواہ کتابت۔ ایک ترکیب واضح ہوئی، اب ہم دوسری ترکیب نعت خوانی کو سمجھتے ہیں۔
    نعت پڑھنا۔ (ا۔ ل، ص 437)
    نعتیہ اشعار پڑھنا، نعت پڑھنا، نعت پڑھنے کا عمل۔
    (ا۔ ت، ص 154 ،ج 20)
    اور نعت خواں جو اسم فاعل کا صیغہ ہے۔
    لحن سے نعت پڑھنے والا، نعت خوانی کرنے والا۔ ۔ ۔ ۔ (نعت +ف خواں، خواندن، پڑھنا)
    (ا۔ ت، ص154 ، ج 20)
    نعت پڑھنے والا
    1۔ (ا۔ ل، ص437)
    2۔ (ج۔ ا، ص1496)

    مناسب ہے کہ یہاں خواندن کی تفصیل درج کی جائے کہ خوان و خوانی مشتق بہ خواندن ہیں۔ یہ لفظ واو معدولہ کے ساتھ ہے، جس میں واو متلفظ نہیں ہے۔ پہلوی میں واو متلفظ کے ساتھ خواندن(خَ وَاندن) تھا اور اس کا اصل معنی طلب کرنا تھا لیکن اور بعد ازاں واو معدولہ کے ساتھ مختلف معانی میں مستعمل ہوا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ''نعت خوانی'' میں خواندن کس معنی میں ہے۔
    چیز نوشتہ را بازبان ادا کردن یا نگاہ کردن در ذہن گرفتن۔۔۔۔۔چیزی را مطابق موسیقی بازبان ادا کردن۔
    ( ف۔ ن، ص 609 ،ج 2)
    پڑھنا
    1۔ (عامرہ، ص 209) 2۔ (ک۔ ل، ص 131) 3۔ (ل۔ فی، ص 185) 4- (ف۔ل، ص370)
    قرائت کردن، مطالعہ کردن کتاب یا روزنامہ یا نوشتہ
    (ف۔ ع، ص 885 ،ج 1)
    قرائت کردن۔۔۔۔۔۔۔۔۔آواز خواندن، سرور گفتن
    (ف۔ م، ص 641 ،ج 1)
    کلامی را باصوت آہنگین ادا کردن۔۔۔۔۔۔۔۔آواز خواندن
    (ب۔ س۔ ص 2857 ،ج 4)
    ادای واژہ ہا یا صداہا بہ صورتی آہنگین (آواز خواندن)
    (ف۔ مع۔ ص 549)
    آواز خوان: گانے والا، مغنی۔
    آواز خواندن: گانا۔
    (ف۔ ل، ص 370)
    پس ظاہر ہوا کہ نعت خوانی، لحن سے پڑھنے کا نام ہے اور اس کا تعلق تخلیق سے نہیں جبکہ نعت گوئی تخلیق نعت کا نام ہے اور اس میں بلند آہنگی سے پڑھنے کو دخل نہیں ہے۔

    تفصیل مخففات

    ا ۔ ت : اردو لغت تاریخی اصول پر
    اردو لغت بورڈ، کراچی
    ا ۔ د : اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور
    ا ۔ ل : اردو لغت از مرزا مقبول بیگ بدخشانی
    ب ۔ س : فرہنگ بزرگ سخن از ڈاکٹر حسن انوری
    ت ۔ و : فرہنگ تاریخ وصاف از اولاد حسین شاداں بلگرامی
    ج ۔ ا : جہانگیر اردو لغت از وصی اللہ کھوکھر
    ز ۔ ل : زبدۃ اللغات از مفتی غلام سرور لاہوری
    ا ۔ ع : علمی اردو لغت از وارث سرہندی
    عامرہ : فرہنگ عامرہ از عبداللہ خویشگی
    غ ۔ ل : غیاث اللغات از مولوی غیاث الدین رام پوری
    ف ۔ ا : فرہنگ انیس از نائب حسین نقوی
    ف ۔ آ : فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی
    ف ۔ ع : فرہنگ عمید از حسن عمید
    ف ۔ ل : فیروز اللغات فارسی۔ اردو از مرزا مقبول بیگ بدخشانی
    ف ۔ م : فرہنگ فارسی از ڈاکٹر محمد معین
    ف ۔ مع : فرہنگ معاصر فارسی از غلام حسین صدری
    ف ۔ ن : فرہنگ نظام از سید محمد علی
    ک ۔ ل : کریم اللغات از مولوی کریم الدین
    ل ۔ ع : لسان العرب از علامہ ابن منظور
    ل ۔ فی : لغات فیروزی از مولوی فیروز الدین
    ل ۔ ک : لغات کشوری از مولوی تصدق حسین
    م ۔ ڈ : ماڈرن اردو ڈکشنری از عبدالحکیم نشتر
    م ۔ ف : مؤیدالفضلا از محمد لاد
    م ۔ ل : منتخب اللغات از ملا عبدالرشید
    ن ۔ ل : نور اللغات از مولانا نور الحسن نیر

    نوٹ:

    1) ناشر اور اشاعت کے فرق سے حوالے میں دیے گئے صفحہ نمبر میں فرق آسکتا ہے۔ بہ وجوہ پیش نظر نسخوں کی اشاعت کی تفصیل نہیں دے سکا۔ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
    2) حتی الامکان کتب لغات کا اصل املا برقرار رکھا گیا ہے۔ اس لیے بعض الفاظ کا املا مضمون میں مکرر آنے پر مختلف بھی ہے مثلاً ستایش کا فارسی میں اصل املا ستایش ہے مگر اردو میں رائج املا ستائش ہے۔ سو اس میں کتب لغات کے املا میں فرق ہے۔
    3) درود شریف (صلی اللہ علیہ وسلم) کے معاملے میں بعض کتب میں کچھ فرق ہے مثلاً کچھ نے '' صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم'' لکھا ہے لیکن مضمون میں یکساں رہا ہے۔
    4) جس جگہ درود نہیں لکھا گیا، وہاں اصل متن میں اسم مبارک کے اوپر ص کی علامت ہے۔ ٹائپنگ میں نہ آ سکنے کی وجہ سے رہ گئی ہے۔

    عمر فاروق انشا وڑائچ