1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

تضمین مرحبا سید مکی مدنی العربی (تضمین نگار: شہیدِ جنگِ آزادی، مولانا کفایت علی کافؔی شہید علیہ الرحمہ)

'انتخابِ تضمینات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالمیزاب اویس, ‏جولائی 16, 2017۔

  1. ابوالمیزاب اویس

    ابوالمیزاب اویس ــــ:ناظمِ فروغ نعت:ــــ رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    747

    اے شہِ کون و مکاں، ذات تری صلِّ علٰی
    کوئی گل گلشنِ ایجاد میں ایسا نہ کھلا
    حسن و خوبی، شرف و فضل و کرم میں اصلا
    " نسبتے نیست بذات تو بنی آدم را
    برتر از عالمِ آدم تو چہ عالی نسبی "

    شاہِ لولاک لقب، فخرِ عرب، خیرِ انام
    آپ کے نور سے ہے گلشنِ امکاں کا نظام
    آپ کی ذات ہے واللہ سحابِ اکرام
    " نخلِ بستانِ مدینہ ز تو سر سبز مدام
    زاں شدہ شہرۂ آفاق بشیریں رطَبی "

    آپ کی شکل و شمائل کا کہیں کیا عالم
    آپ کے حُسن کو کس چیز سے نسبت دیں ہم
    محوِ حیرت ہوں، خرد دنگ ہے ہنگامِ رقم
    " منِ بیدل بہ جمالِ تو عجب حیرانم
    اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بوالعجبی "

    آپ کے رتبہِ عالی کا کروں کیا مذکور
    کشورِ عز و شرف آپ کے باعث معمور
    اے رسولِ عربی! ناسخِ توریت و زبور
    " ذات پاک تو دریں ملک عرب کرد ظہور
    زاں سبب آمدہ قرآں بزبانِ عربی "

    بحرِ ذخارِ عطا، صاحبِ کوثر کی ذات
    رحمتِ جود و سخا، عینِ عنایات کے سات
    دل فگاروں کا بھی یہ وردِ زباں ہے دن رات
    " ماہمہ تشنہ لبانیم و توئی آبِ حیات
    لطف فرما کہ زحدمی گزرد تشنہ لبی "

    یہ دعا ہے مری اللہ سے ہر شام و سحر
    ہووے جس وقت نمود آفتِ روزِ محشر
    بجنابِ شہِ کونین کہوں میں آکر
    ’’ چشمِ رحمت بکشا ، سوئے من انداز نظر
    اے قریشی لقبی ہاشمی و مطلبی ‘‘


    آپ کا وہ درِ ارشاد ہے اے شاہِ امم
    بصد آداب جہاں آتا ہے روحِ اعظم
    شرم آتی مجھے اپنے سخن پر ہر دم
    ’’نسبتِ خود بسگت کردم و بس منفعلم
    زاں کہ نسبت بہ سگِ کوئے تو شد بے ادبی‘‘

    آپ کا رتبہِ اعجاز بہت ہے عالی
    مردے زندہ کیے، مرتوں کو شفا اکثر دی
    مرضِ دل کا گرفتار ہوا ہے کاؔفی
    " سیدی انت حبیبی و طبیبِ قلبی
    آمدہ سوئے تو قدؔسی پئے درمان طلبی "

    تضمین نگار : مولانا کفایت علی کافی
    کلام: جان محمد قدسی
    • زبردست زبردست x 1