محمد شاہد الرحمٰن مضمحل جب دل مرا ہو رنج و کلفت کے سبب

'محمد شاہد الرحمٰن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد شاہد الرحمٰن, ‏اپریل 14, 2017۔

  1. محمد شاہد الرحمٰن

    محمد شاہد الرحمٰن آبروئے ماز نامِ مصطفےٰ است رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    218
    مضمحل جب دل مرا ہو رنج و کلفت کے سبب
    چین پاتا ہے فقط یہ ان کی مدحت کے سبب

    جل رہی ہے جاں مری مدت سے سوزِ ہجر میں
    نم ہے میری آنکھ بھی شوقِ زیارت کے سبب

    ماؤں کو خلاقِ عالم نے عطا بیٹے کے
    سرورِ کونینؐ کے جشنِ ولادت کے سبب

    اک جہاں شیدا تھا ان کی خوبئی گفتار کا
    نرم گوئی ، چاشنی ، حلم و متانت کے سبب

    سارے انصار و مہاجر بھائی بھائی بن گئے
    آپ کے درسِ مساوات و اخوت کے سبب

    خوشبوئے گل سے عیاں ان کی پیسنے کی مہک
    ہے نکھارِ گلستاں بھی ان کی رنگت کے سبب

    مرحبِ خیبر ہوا دو نیم بس اک آن میں
    حیدرِ کرّارؑ کی ضربِ شجاعت کے سبب

    نخلِ دیں کی آبیاری اپنے خوں سے کر گئے
    جو بہتّر کٹ گئے حق کی مشیت کے سبب

    میں بھی ہوں ان کے غلاموں کے غلاموں کا غلام
    وہ جو گھر مشہور ہے اپنی سیادت کے سبب

    ہو گئے سیراب جو بھی آئے سائل تشنہ کام
    آپ کے بحرِ کرم ، ابرِ سخاوت کے سبب

    روبرو ان کے یہ کیسے جائے گا عصیاں شعار
    پاؤں اٹھتے ہی نہیں بارِ ندامت کے سبب

    نامۂ اعمال گو شاہدؔ مرا تاریک تھا
    سرخرو میں ہو گیا مہرِ شفاعت کے سبب

    17 فروری 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    Last edited: ‏اپریل 16, 2017
  2. احمد خان

    احمد خان New Member رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    3
    سبحان اللہ بہت عمدہ:)
    • دوستانہ دوستانہ x 1

اس صفحے کو مشتہر کریں