1. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

انٹرنیشنل نعت ریسرچ سنٹر کراچی نعت اور آداب ِ نعت :کوکب نورانی اوکاڑوی

'یونی کوڈ کتابیں' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکرالقادری, ‏اکتوبر 6, 2016۔

  1. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
    نعت

    آداب ِ نعت
    ( نعت رنگ میں مطبوعہ خطوط کا مجموعہ)


    کوکب نورانی اوکاڑوی

    ناشر
    =============صفحہ ۲================
    ( جملہ حقوق محفوظ ہیں )

    نام کتاب : نعت اور آداب ِ نعت
    مصنف : کوکب نورانی اوکاڑوی
    مرتب : صاحب زادہ ارشد جمال نقش بندی
    کمپوزنگ : سید محمد ساجد
    اشاعت : دسمبر 2004ء
    تعداد : ایک ہزار
    قیمت :
    ناشر
    ================صفحہ ۳=====================
    انتساب


    مجدّدِ مسلک ِ اہلِ سنّت ، عاشقِ رسو ل ،خطیب ِ اعظم
    حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی
    رحمۃ اللّٰہ علیہ
    کے نام
    کہ
    عشقِ رسول ( ﷺ )
    ہی ان کا اثاثہ
    اور یہی ان کا ورثہ ہے
    =============صفحہ۴===============
    ترتیب

    شمار عنوان تحریر صفحہ

    ۱ عرضِ ناشر:
    ۲ تقدیم : کوکب نورانی اوکاڑوی 7 تا 11
    ۳ عرض مرتب : صاحب زادہ ارشد جمال نقش بندی 12 تا 25
    ۴ تأثرات : ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی 27
    ۵ تأثرات : پروفیسر علی محسن صدیقی 28 تا 30
    ۶ تأثرات : مشفق خواجہ 31 تا 33
    ۷ تأثرات : پروفیسر محمد اسحاق قریشی 34 تا 38
    ۸ تأثرات : عزیز احسن 39 تا 41
    ۹ تأثرات : مولانا عبدالحکیم شرف قادری 42
    ۱۰ مکتوب ِ اول : 44 تا 45
    ۱۱ مکتوب ِ دوم : 46 تا 48
    ۱۲ مکتوب ِ سوم : 49 تا 52
    ۱۳ مکتوب ِ چہارم : 53 تا 58
    ۱۴ مکتوب ِ پنجم : 59 تا 75
    ۱۵ مکتوب ِ ششم : 76 تا 83
    ۱۶ مکتوب ِ ہفتم : 84 تا 122
    ۱۷ مکتوب ِ ہشتم : 123 تا 164
    ۱۸ مکتوب ِ نہم : 165 تا 211
    =============صفحہ ۵=================
    ۱۹ مکتوب ِ دہم : 212 تا 289
    ۲۰ مکتوبِ یازدہم : 290 تا 347
    ۲۱ مکتوب ِ دوازدہم : 348 تا 420
    ۲۲ نعت اور آداب ِ نعت : 422 تا 428
    ۲۳ تبصرے 429
    ۲۴ پروفیسر حفیظ تائب 430
    ۲۵ پیر زادہ علامہ اقبال احمد فاروقی 431 تا 432
    ۲۶ مولانا ملک الظفرسہسرامی 433 تا 436
    ۲۷ ( پروفیسر) شبیر احمد قادری 437 تا 439
    ۲۸ شاہ انجم بخاری 440 تا 441
    ۲۹ پروفیسر قیصر نجفی 442 تا 446
    ۳۰ رضی مجتبی 447
    ۳۱ محمد منیر قصوری 448
    ۳۲ سعید بدر 449 تا 452
    ۳۳ پروفیسر محمد اکرم رضا 453 تا 456
    ۳۴ جعفر بلوچ 457
    ۳۵ ڈاکٹر غلام یحیی 458
    ۳۶ فہرست کتب 465
    ٭ ٭ ٭
    ===========صفحہ ۶=========
    عرضِ ناشر

    الحمد للّٰہ علی احسانہ ، تاجِ دارِ گولڑا شریف حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللّٰہ تعالی علیہ کی یاد میں قائم کئے جانے والے ادارے ’’ مہرِ منیر اکیڈمی ( انٹرنیشنل ) ‘‘ نے اپنے اشاعتی سفر کا آغاز پروفیسر شفقت رضوی کی کتاب ’’ نعت رنگ کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ ‘‘ کی طباعت و اشاعت سے کیا تھا اور ہمیں خوشی ہے کہ نعت اور فروغِ نعت کے حوالے سے اس سنجیدہ علمی و ادبی کام کو خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی اور اس طرح یہ خیال بھی غلط ثابت ہوا کہ نعت صرف سماع کی چیز ہے ۔ نعت رنگ میں نعت کے ادبی پہلوؤں پر جن تواتر سے ادبی مباحث شائع ہوئے ہیں اس نے ہمارے قارئین میں اس صنف کے متعلق جاننے اور پڑھنے کی خواہش بیدار کردی ہے اور یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے ہمارے لکھنے پڑھنے والوں میں ایک مکالمے کی فضا پیدا ہوگئی ہے ۔ نعت رنگ نے نعتیہ ادب کو جس طرح اُردو دنیا میں موضوعِ گفتگو بنایا ہے اس کا اعتراف تو بڑے پیمانے پر ہوچکا ہے لیکن جس مکالمے کی طرف ہم نے نشان دہی کی ہے وہ نعت رنگ کے گوشۂ خطوط میں سامنے آیا ہے ۔ اُردو کے اہم لکھنے والے ان علمی و ادبی مباحث میں شمولیت اختیار کررہے ہیں انہی ناموں میں ایک نمایاں اور محترم نام علامہ ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی کا ہے جن کے خطوط کے بارے میں اب یہ رائے عام ہے کہ لوگ نعت رنگ کے دیگر مشمولات کا مطالعہ بعد میں کرتے ہیں اور علامہ اوکاڑوی کا خط پہلے پڑھتے ہیں ۔ علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی اپنے خوش اسلوب اندازِ تحریر کے ساتھ ساتھ علمی استدلال اور مستند حوالوں سے اپنے ہر خط کو ایک مکمل مقالہ بنادیتے ہیں جو نعت اور آداب ِ نعت کے متعدد پہلوؤں کو ہمارے سامنے لاتا ہے ۔ مولانا کوکب نورانی کے خطوط کا یہ مجموعہ پہلے بھی ضیاء القرآن پبلی کیشنز ( لاہور ، کراچی ) کی طرف سے شائع ہوچکا ہے مگر ہم اب اسے مزید تین نئے خطوط اور کچھ تبصروں کے اضافے کے ساتھ شائع کررہے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ یہ خطوط اس موضوع پر اپنی افادیت کے سبب زیادہ سے زیادہ لوگوں کی علمی رہ نمائی کا سبب ٹھہریں گے ۔
    صابر داؤد
    چیئرمین مہرِ منیر اکیڈمی ( انٹرنیشنل )
    ==================صفحہ ۷=================
    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم
    تقدیم
    سید صبیح الدین صبیح رحمانی کو مَیں نے پہلی مرتبہ رے ڈیو پاکستان ، کراچی اسٹوڈیو میں دیکھا ، ایک مختصر محفلِ میلاد شریف کی ریکارڈنگ ہورہی تھی - نظامت ( کمپیئرنگ ) کے فرائض پیرزادہ شہریار قدوسی صاحب انجام دے رہے تھے ، اس پروگرام میں میری تقریر کے علاوہ تین افراد نے نعت خوانی کرنی تھی - صبیح رحمانی کا نام اور کلام بھی اس دن پہلی مرتبہ سُنا - اس کچی عمر میں اتنا پختہ کلام ، ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ کا پہلا شمارہ مجھے صبیح رحمانی نے خود بھجوایا تھا ، سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر محترم جناب شکیل عادل زادہ کے آفس ، پریس چیمبرز میں صبیح رحمانی کی ملاقات میرے ایک عقیدت مند سے ہوئی - صبیح رحمانی صاحب نے انہیں نعت رنگ کا پہلا شمارہ مجھے پہنچانے کے لئے دیا - نعت رنگ مجھے اچھا لگا، مَیں نے سید صبیح رحمانی کو پہلا خط لکھا ، یہی خط نعت رنگ اور سید صبیح رحمانی سے تعلق کی ابتداء تھا ، 1995ء میں لکھے گئے اس خط سے اب تک نعت رنگ کے شماروں میں شائع ہونے والے میرے خطوط کا یہ مجموعہ آپ کے ہاتھوں میں ہے - ان خطوط کو یک جا کرکے کتابی شکل میں شائع کرنے کا سودا بھی سید صبیح رحمانی ہی کے سر میں سمایا اور وہ دو برس تک اس اصرار کی تکرار کرتے رہے ، ان کا کہنا تھا کہ یہ خطوط نعت کے موضوع پر ناقدوں اور نعت نگاروں کے لئے کوئی اہمیت رکھتے ہیں - ان کے اصرار میں ان کے کام کا سا خلوص نمایاں تھا ، عرض کی کہ خطوط آپ کے پاس ہیں ، آپ جانیں !
    نعت شریف سے وابستگی ہر مومن کا خاصہ ہے - میرے پیارے نبی پاک ﷺ سے محبت ، کمال محبت ، ایمان کی بنیاد اور ایمان کی جان ہی نہیں ، ایمان کی امان بھی ہے - ہمارے اُردو معاشرے میں ’’ نعت ‘‘ کا لفظ میرے رؤف و رحیم رسولِ کریم ﷺ کی مدح و ثناء کے حوالے سے مخصوص ہے - میری آنکھ اسی ماحول میں کھلی ہے جہاں ثنائے رسول ﷺ ہی وظیفہ
    =================صفحہ ۸============
    تھا اور مَیں انہی ہستیوں میں پروان چڑھا ہوں ، ذکر ِ مصطفی ﷺ ہی جن کا شیوہ تھا ، الحمد للّٰہ اب یہی ذکر میری پہچان بھی ہے اور زیست کا عنوان بھی - یہ شعر واقعی میرا ترجمان ہے ؎
    مَیں سوجاؤں یا مصطفی کہتے کہتے کھلے آنکھ صل علیٰ کہتے کہتے
    نعت شریف ، میرے والد ِ گرامی علیہ الرحمہ بھی اپنی ابتدائی عمر سے پڑھتے آئے ، مبدء فیاض نے انہیں کتنا نوازا تھا ، سمتوں میں اپنے بیگانے سبھی کو اس کا اعتراف ہے - وہ علومِ دِین سے فیض یاب ہوکر خطیب ِ اعظم اور مجدد ِ مسلک ِ اہلِ سنّت کے مرتبے پر پہنچے مگر انہوں نے آخر دم تک نعت شریف سے اپنا پیمان قائم رکھا -
    حضرت مولانا ضیاء القادری ، مولانا عبدالسلام باندوی ، حضرت شاہ انصار الہ آبادی ، حضرت بہزاد لکھنوی ، جناب رعنا اکبر آبادی ، الحاج حافظ محمد افضل فقیر ، الحاج محمد اعظم چشتی ، الحاج محمد علی ظہوری قصوری ، مستری علی محمد جالندھری ، جناب ابوالاثرحفیظ جالندھری ، جناب منور بدایونی اور مرزا شکور بیگ جیسے نعت گو اور نعت خواں حضرت کو پڑھا سُنا ، کراچی کے جناب پروفیسر اقبال عظیم ، تابش دہلوی ، سرشار صدیقی ، امید فاضلی ، ادیب رائے پوری ، حنیف اسعدی ، لاہور کے جناب پروفیسر حفیظ تائب ، راول پنڈی کے حافظ مظہر الدین ، الحاج بشیر حسین ناظم اور حضرت صاحب زادہ پیر سید غلام نصیر الدین نصیر گولڑوی کو پڑھا سُنا ، متعدد نعت خوانوں کی خوش نوائی سے بہرہ اندوز ہُوا … از دل خیزد ، بردل ریزد … جس کے کلام یا آواز میں عقیدت و محبت کی پاکیزگی اور صدق و اخلاص کی تازگی ملی ، رُوح کی تسکین ہوئی -
    مجلسِ حسّان ، پاکستان نعت کونسل ، انجمن عندلیبانِ ریاضِ رسول ( ﷺ ) کی محافلِ نعت میں متعدد مرتبہ شریک ہُوا - الحاج قمر الدین احمد انجم ہر جمعہ کو جامع مسجد آرام باغ ، کراچی میں مختصر محفلِ نعت سجاتے تھے ، آستانۂ رحمانی پر سالانہ نعتیہ مشاعرہ ہُوا کرتا تھا - الحاج سکندر لکھنوی کی کہی ہوئی نعتیں ، ایک وقت تھا کہ ہر محفل میں سُنی جاتی تھیں - ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے ’’ نغمۂ حبیب ( ﷺ ) ‘‘ کراچی آتے ہی شائع کی تھی، وہی کتاب یہاں پہلا مجموعۂ انتخاب اور بہت مقبول تھی - کراچی شہر میں انہوں نے ابتداء ً متعدد نعتیہ مشاعرے بھی منعقد کروائے ، نعت
    ===================صفحہ ۹=============
    خوانوں کی حوصلہ افزائی اور نعت شریف کے فروغ کے لئے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی خدمات ناقابلِ تردید حقیقت ہیں - یہ ایک جھلک ہے نعت شریف پڑھنے سُننے سے میری وابستگی کی -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ کے کتابی سلسلے نے اُردو دان طبقے میں نعت شریف کے موضوع پر اب تک جو کام پیش کیا ہے ، وہ اس سے پہلے اس طرح اور اس تسلسل کے ساتھ میرے دیکھنے میں نہیں آیا - نعت شریف کے انتخاب کیے ہوئے مجموعوں اور کچھ تحریروں کا ذکر تو کیا جاسکتا ہے جو نعت رنگ کے اجراء سے پہلے منظرِ عام پر تھیں ، لیکن نعت شریف کے حوالے سے ایسا متنوع اور مفصل مواد کسی جریدے یا کسی کتاب میں محفوظ نہیں ہُوا تھا -
    نعت شریف کا ذکر ہو تو لفظ و زبان ، طرز و بیان اور معانی و مفاہیم ہی کی نہیں ، عقائد و نظریات کی بھی بات از بس لازمی ہے ، قرآن و حدیث ، سنن و آثار ، معجزات و غزوات اور سیرتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کے تذکار ہوتے ہیں - اس موضوع پر تحریروں اور شعروں میں مبالغہ یا مغالطہ خالی از امکان نہیں ہوتا - عقیدہ و عقیدت کا اور خیال و حقیقت کا فرق معلوم نہ ہو ، یا معلومات کی صحیح اور پوری فہم نہ ہو ، یا تاویل و تفسیر اور اصول و فروع کی ضروری باتوں سے آگہی نہ ہو ، تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ منظوم و منثور نعت شریف میں کہے گئے اچھے لفظ بھی اچھے نہیں رہتے -
    ہر عالم ، شاعر نہیں اور ہر شاعر ، عالم نہیں ہوتا - بات عمدگی سے کہنا اپنی جگہ خوبی ہے لیکن اس کی اصل خوبی کا مدار اس بات کی صحت سے مشروط ہے اور اس شرط کی تکمیل علمِ نافع اور فہم واقع کے بغیر مشکل ہے - ذہانت کو حقیقت سے متصف کرنے والا علمِ نافع ہی ہے -
    کون سا بیان اور کون سا انداز ، کون سا لفظ اور کون سا پیرایہ کس ہستی کے بارے میں نادرست ہے ؟ کہاں تک کسی کو کہنے کا اختیار ہے ؟ یہی جان کاری تو بتاتی ہے کہ شعر کہنے اور نعت کہنے میں بنیادی فرق ہے -
    جس مقدس و مکرم ہستی کے ارشادات کی پہچان اور عرفان کے لیے اصولِ حدیث ، فہم حدیث اور نقدِ رجال کے علوم و فنون قائم ہوئے ، اس معظم اور مطہر ہستی کے تذکرے کے لیے بھی کچھ آداب و شرائط اور قواعد و ضوابط ضروری ہیں ، شریعت نے ہمیں ان کا پابند بنایا ہے -
    ================صفحہ۱۰================
    ’’ نعت رنگ ‘‘ اسی غرض سے جاری ہُوا اور جناب سید صبیح رحمانی مجھے اسی اہمیت کی بنیاد پر آمادۂ تحریر کرسکے - نعت رنگ کے چودہ شمارے جناب صبیح رحمانی کے اسی حُسنِ نیت اور قدرِ فکر کا اظہار ہیں - مجھے ہر گز ادعائے علم نہیں ، اپنی بے مایگی کا مجھے پورا اعتراف ہے ، بایں ہمہ ، عقیدت اور حقیقت کے بیان میں میری یہ تحریریں آپ کے سامنے ہیں -
    اس کتاب کے قارئین سے میری یہ بھی عرض ہے کہ میرے نبی کریم ﷺ کا مداح ، خود میرا ربّ ِ کریم ہے اور وہی میرے رسولِ کریم ﷺ کی حقیقت و شان جانتا ہے - میرے معبودِ کریم جلَّ شانہ کا کلام قرآنِ کریم ، میرے پیارے رسولِ کریم ﷺ کی نعت شریف ہی ہے اور میرے نزدیک ’’ علم ‘‘ اسی ارفع و اعلیٰ ہستی کی مرتبت کو حتی المقدور جاننے ہی کا نام ہے ، اسی عرفان کا اظہار جب لفظوں کے قالب میں بیان ہوتا ہے تو نعت کہلاتا ہے - سچ کہوں ، دل کو ترجمان کرنا شاید آسان ہو ، مگر اس اکرم الخلق ہستی کی مرتبت کا کماحقّہ بیان ، کسی انسان سے ممکن ہی نہیں ، جس کسی نے جتنا بیان کیا ، وہ بیان ہی بتاتا ہے کہ یہ بیان نا تمام ہے - محبوبِ کریم ﷺ کے حُسن و جمال اور فضل و کمال کی حد ہی نہیں تو بیان کیسے پورا ہو ! ہر بندہ ٔمومن کی کہی ہوئی نعت یہی بتاتی ہے کہ اسے اس حبیب ِ کریم ﷺ کا کتنا عرفان ہے اور ان سے اس کی اپنی وابستگی کتنی ہے ؟ نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں … یقین مانیے مَیں جس قدر آگہی پاتا ہوں اسی قدر دُرود و سلام کا ہدیہ زیادہ پیش کرتا ہوں ، کوئی مجھ سے پوچھے تو کہوں کہ انسان کے حق میں اس سے بڑی سعادت اور کوئی نہیں کہ اسے اس مقدس و مطہر اور معظم و مکرم رسول ﷺ پر دُرود و سلام بھیجنے کی توفیق عطا ہوئی ہے ، مجھے وہی نعت بھاتی ہے جو ان پر محبت و ادب سے دُرود و سلام زیادہ بھیجنے کی تحریک و ترغیب دلائے - لفظوں ، ترکیبوں ، بندشوں ، استعاروں ، تلمیحوں ، قافیوں ، ردیفوںوغیرہ کا حُسن بھی مجھے وہیں متأثر کرتا ہے جہاں کہنے والا اپنے ممدوحِ کریم ﷺ کی محبت و عقیدت کی کثرت و شدّت میں بھی تعظیم و توقیر کا ہر طرح خیال رکھنے میں مستعد رہتا ہے ، جہاں وہ ناز بھی نیاز سے کرتا ہے ، جہاں وہ اظہار بھی حُسنِ ادب سے کرتا ہے -
    نعت کے حوالے سے کچھ دوست اپنی کاوشوں کو ’’ اوّلیات ‘‘ کا نام دیتے ہیں ، میرے ذوق کو ان دوستوں کی یہ سر خوشی اس عنوان سے تو نہیں بھاتی ، لیکن مَیں یوں خوش ہوتا ہوں کہ ذکر ِ محبوب ﷺ کے حوالوں کو یہ دوست اپنا اعزاز تو جانتے ہیں اور یہی اقرار کرتے ہیں کہ عزّت و شہرت اور سعادتیں اسی محبوب ِ کریم ﷺ کے ذکر سے وابستہ ہیں ، اُن کے بغیر اِن سعادتوں کا کوئی تصور ہی نہیں -
  2. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    =====================ضفحہ ۱۱=======================
    نعت شریف پڑھنے والے اکثر نعت خواں ، نعت شریف کے اشعار کا انتخاب اپنی فہم یا ذوق کے مطابق کرتے ہیں ، نعت شریف سنتے ہوئے کبھی ایسا بھی ہُوا کہ لفظوں کی تراکیب ، قرینہ اور کبھی کچھ الفاظ معترضہ لگے - کئی مرتبہ محافل میں نعت خوانوں کو مصرع کے الفاظ بدل کر پڑھنے کو کہا ، کوئی شعر غلط پایا تو کبھی اپنی تقریر میں بیان کرنا پڑا - اس حوالے سے کوئی ادارہ نہیں تھا جہاں اصلاح و تربیت ہوتی - ’’ نعت رنگ ‘‘ کے کتابی سلسلے نے اس حوالے سے جو کام کیا ہے وہ قابلِ قدر ہے - مجھے احساس ہے کہ یہ تحریریں اہلِ علم و فہم کے ایک مخصوص طبقے تک پہنچی ہیں مگر ان کے ذریعے وہ کام شروع ہُوا ہے جو رہ نما بھی ہے اور دُور رس بھی - سید صبیح رحمانی کا کہنا ہے کہ میرے خطوط کا یہ مجموعہ خواص و عوام تک اس کام کو پھیلائے گا -
    ایک بار پھر یہ بات دُہراؤں گا کہ مجھے علم و فہم کا کوئی دعوٰی ہے نہ ہی کوئی زعم - میری کسی تحریر و تقریر میں کوئی بات بھی مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت اور ادلّہ شرعیہ کے منافی ہو ، یا واقعے کے خلاف ہو ، اس سے توبہ و رجوع کرتا ہوں - اللّٰہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے ، آمین
    نعت رنگ کا اجراء اور تسلسل جناب سید صبیح رحمانی کی محنتوں اور محبتوں کا واضح ثبوت ہے ، دعا ہے کہ اللّٰہ کریم انہیں اس کارِ خیر میں کام یابی اور برکت سے نوازے اور ان کی خدمات کو اہلِ ایمان کے لیے مفید و نافع فرمائے ، آمین
    محترم صاحب زادہ ارشد جمال نقش بندی کا شمار اہلِ طریقت ، اہلِ محبت میں ہوتا ہے ، عقائد میں پختگی اور علمائے حق سے وابستگی انہیں بہت عزیز ہے ، یہ مجموعہ انہوں نے عقیدت و محبت سے مرتب کیا ہے - ضیاء القرآن پبلی کیشنز کے کار پرداز الحاج صاحب زادہ حفیظ البرکات شاہ اس گناہ گاہ کی ہر کتاب محبت سے شائع کرتے ہیں - اس کتاب کا پہلا ایڈیشن انہی کے زیر اہتمام شائع ہوا تھا ۔ دوسرا ایڈیشن جناب صابر داؤد نے اپنے ادارے ’’ مہر منیر اکیڈمی ( انٹرنیشنل ) ‘‘ کی طرف سے شائع کیا ، تیسری اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے ، اللّٰہ کریم ان سب شائع کنندگان کو اجرِ جزیل عطا فرمائے ، آمین
    بجاہ النبی الامین صلی اللّّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم

    کوکب ِ نورانی را احمد( ﷺ ) شفیع
    (اوکاڑوی غفرلہ )
    53- بی ، سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی ، کراچی - 74400
    ====================صفحہ ۱۲=====================
    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

    عرضِ مرتب
    اللّٰہ کی دَین ہے ، جسے چاہے ، جو چاہے اور جتنا چاہے ، عطا فرمادے - کوئی لاکھ کچھ کہے ، مَیں تو یہی کہوں گا کہ سید صبیح الدین صبیح رحمانی کے حصّے میں خدمت ِ نعت کی سعادت ، عطائے ربّ تعالیٰ ہی ہے اور نوجوانی میں اتنا بڑا کام ، یہ کرم ہی کی باتیں ہیں ، نعت گوئی ، نعت خوانی ، اشاعت ِ نعت ، وہ جس طرف بھی گئے اس کرم نے انہیں اپنے حصار میں رکھا -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ ( نعتیہ ادب کا کتابی سلسلہ ) سے میری شناسائی اتنی ہی ہے جتنی کہ اس کے مدیر، سید صبیح رحمانی سے ، وہ ایک عرصے سے ہمارے پیرو مرشد حضرت حاجی نور احمد بدخشانی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے عرس شریف میں نعت خوانی کے لیے تشریف لاتے ہیں ، بالخصوص ہمارے برادرِ بزرگ صاحب زادہ انور جمال بدخشانی اور ہمارے سلسلے اور ہمارے خاندان کا ہر فرد ان سے واقف و متعارف ہے اور ان سے پیار کرتا ہے - ان کی نعت گوئی اور نعت خوانی کا ہم ہی کیا ، ایک زمانہ معترف ہے- انہوں نے مجھ سے پہلی مرتبہ جب ’’ نعت رنگ ‘‘ کا ذکر کیا تو ذہن میں ڈائجسٹ قبیل کے کسی رسالے کا گمان گزرا ، ہاں ، یہ تجسّس ضرور رہا کہ اس رسالے میں نعت کے اہم اور نازک موضوع سے کیا سلوک رَوا رکھا جائے گا ؟ خیال تھا کہ نعتوں کے انتخاب یا نعت نگاروں اور نعت خوانوں کے تعارف اور تعریف کی باتیں ہوں گی ، کچھ اور رسمی و روایتی مضامین بھی ہوں گے ، مدیر کے لیے تعریفی ، ستائشی اور سپاس گزاری کے پیغام و خطوط ہوں گے کہ اب تک نعت کے حوالے سے ایسے ہی رسائل و جرائد دیکھنے میں آئے تھے… مگر میرے یہ خیالات ، خیالات ہی رہے ، ’’ نعت رنگ ‘‘ ان سے مختلف تھا - نعت رنگ کا پہلا شمارہ مجھے ملا ، مَیں نے اس کا مطالعہ کیا تو مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ یہ رسالہ ، نعت کے موضوع پر بجائے خود ایک کتاب ہے اور صرف نعت کے ادبی فروغ کے لیے مخصوص ہے - اس امتیاز و اختصاص نے متأثر کیا - وقفے وقفے سے ’’ نعت رنگ ‘‘ کے شمارے آتے رہے اور میری توجہ اور دل چسپی بڑھتی رہی - نعت رنگ کے قلمی معاونین میں دنیائے علم و ادب کے نام وَر ادیب و شاعر شامل تھے ، تحریریں بھی ایک سے بڑھ کر ایک شائع
    =========================صفحہ ۱۳=====================
    ہورہی تھیں ، نعت رنگ کا ہر شمارہ مفید اور فکر افروز ہی نہیں بلکہ اپنے موضوع پر اہم حوالہ ہوگیا -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ کے لکھنے پڑھنے والوں میں سے کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہوگا کہ سید صبیح رحمانی کی یہ پیش کش ، دیانت اور سچائی کا مرقع ہے اور نعت کے بارے میں ان کے خلوص اورنعت کو اس کا ادبی مقام و مرتبہ دلانے کے لیے ان کی مسلسل محنت اور سچے جذبے کی عکاسی کرتی ہے، نعت رنگ کے پہلے شمارے کے ابتدائیے میں وہ خود رقم طراز ہیں :
    ’’ ’’ نعت رنگ ‘‘ پیشِ خدمت ہے - فروغِ نعت کے اس عہد ِ زریںمیںیہ کوئی بڑا کارنامہ نہیںلیکن نعت نگاری کی طرف رجوعِ عام کے اس اہم دَور میں نعت کو رطب و یابِس اور شعراء کے غیر محتاط رویّوںسے محفوظ رکھنے کی باقاعدہ کوشش ضرور ہے - ‘‘ ( ص : ۸ ، شمارہ : ۱)
    ’’ رطب و یابِس اور غیر محتاط رویّوں ‘‘ کے الفاظ ہی دوسروں کو بھڑکا سکتے تھے اور صبیح رحمانی دوسروں کے اعتراض کا ہدف ہو سکتے تھے ، لیکن مَیں اپنی وہی بات دُہراؤں گا کہ ان کا اس خدمت کے لیے ( گویا ) انتخاب ہوچکا تھا ، قدرت مہربان رہی ا ور خدائی دَین کا اظہار یوں بھی ثابت ہُوا کہ صبیح رحمانی اپنے عزم میں مخلص اور اس کے لیے مستعد رہے - بحیثیت مدیر انہوں نے کسی طرح جانب دارانہ رویّہ نہیں اپنایا بلکہ ’’نعت رنگ ‘‘ میں مختلف مکاتب ِ فکر سے وابستہ اہلِ قلم کی نگار شات شائع ہوئیں اور تحریروں کو من و عن شامل کیا گیا ، یوں کسی کو ان کی نیت پر کوئی شک نہیں ہُوا - نعت سے صبیح رحمانی کے والہانہ لگاؤ کی برکت تھی کہ نعت رنگ نے ترقی کا سفر جس خوبی اور جتنی تیزی سے طے کیا اس کی مثال اُردو کے کسی موضوعی جریدے کے حوالے سے کم ہی ہوگی- وطنِ عزیز ہی نہیں ، بیرونِ ملک بھی اس کا چرچا ہُوا - بھارت ، وسطی یورپ ، امریکا ، کناڈا اور بلادِ عرب میں نعت رنگ کی تنقید و تحسین کا شور ہُوا ، تحریروں میں معرکہ آرائیاں اس کی شہرت میں اضافہ کرتی رہیں - نعت رنگ کی علمی و ادبی وقعت تسلیم کی جانے لگی ، نعت کے موضوع سے نعت رنگ کا ذکر کچھ ایسا وابستہ ہوگیا کہ اب فروغِ نعت یا نعت کے ارتقاء کا کوئی جائزہ نعت رنگ کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوگا ، یا یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ضمن میں نعت رنگ کا ذکر لازمی ہوگیا- نعت رنگ اب ایک کتابی سلسلہ ہی نہیں رہا بلکہ نعت کے حوالے سے ایک ادبی تحریک بن گیا ہے - بارگاہِ رسالت ﷺ میں مدح سرائی کے آداب سے واقفیت کی تحریک ، ناموسِ رسالت کے
    ========================صفحہ ۱۴==================
    تحفظ کی تحریک ،نعت گوئی میں غیر معیاری اور غیر محتاط رویوں کے سدّ ِ باب کی تحریک اور ہماری ادبی تاریخ میں نعت کو اس کا جائز مقام و مرتبہ دلوانے کی تحریک …
    اس تحریک کی اہمیت و افادیت اور مقبولیت کا اندازہ کرنے کے لیے آپ کے سامنے اپنے عہد کے نام وَر ادبا و شعراء کے تحسینی کلمات میں سے چند اقتباسات پیش کررہا ہوں تاکہ عام قاری اس جریدے اور اس تحریک کے اپنے عہد میں مرتب ہونے والے اثرات کی کچھ جھلکیاں دیکھ سکے -
    ٭ ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو ( بھارت ) : ’’ صرف نعت گوئی کے موضوع پر اتنے ضخیم نمبر نکالنا اور مفید اور قیمتی مضامین شائع کرنا آسان کام نہیں - ‘‘
    ٭ ڈاکٹر جمیل جالبی ( پاکستان ) : ’’ معیار اور حسن طباعت کے اعتبار سے ایسا کوئی دوسرا رسالہ میری نظر سے نہیں گزرا - ‘‘
    ٭ ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ سے نعت کے ادبی پہلوؤں کے جائزے کا جو سلسلہ شروع ہُوا ہے اس نے ارباب ِ نظر کو تفہیمِ نعت کی طرف متوجہ کردیا ہے - ‘‘
    ٭ پروفیسر جگن ناتھ آزاد ( بھارت ) : ’’ نعت رنگ کی جو جلدیں مجھے موصول ہوئی ہیں انہیں تو مَیں انسائِکلو پیڈیا کہہ سکتا ہوں - ‘‘
    ٭ جمیل الدین عالی ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ ایک مبارک اصلاحی قدم ہے - ‘‘
    ٭ مشفق خواجہ ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ میں نعت گوئی کے تاریخی ، فکری ، جمالیاتی اور فنی پہلوؤں کے بارے میں بصیرت افروز مباحث ملتے ہیں - ‘‘
    ٭ پروفیسر حفیظ تائب ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ کی تدوین ، تحقیق اور تنقید کا بہت اہم سنگ ِ میل ہے - ‘‘
    ٭ ڈاکٹر سلیم اختر ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ فکری اعتبار سے ایک قابلِ توجہ جریدہ ثابت ہُوا ہے - ‘‘
    ٭ ڈاکٹر انور سدید ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ نے پرانی لکیر کو نہیں پیٹا بلکہ نعت کی
    ===================صفحہ ۱۵==================
    پیش کش کا نیا انداز نکالا ہے ، جب تک پیش کش کا اس سے بہتر نقش سامنے نہیں آتا اس ’’ اقلیم ‘‘ میں اسی کا نام منور نظر آئے گا - ‘‘
    ٭ پروفیسر سحر انصاری ( پاکستان ) : ’’ نعت رنگ کی اشاعتوں سے برّصغیر بلکہ اُردو دنیا میں نعت فہمی اور نعت شناسی کے کئی تازہ در وا ہوئے ہیں - ‘‘
    نعت کہنے اور پڑھنے والے سبھی ایک جیسے نہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شعر کہنے اور نعت کہنے میں فرق ہے ، اس فرق سے کماحقّہ آگہی بھی ہر ایک کا کام نہیں - نعت پر تنقید اور زیادہ مشکل مرحلہ ہے ، اس تنقید کا دائرہ علوم و معارف کی وسعتوں کے ساتھ ہے ، لامحالہ بات ہے کہ یہ صاحبانِ علم و عرفان ہی کا حصہ ہے - صبیح رحمانی کہتے ہیں مجھے تمنا تھی کہ کچھ علمائے دِین ایسے مل جائیں جو نعت رنگ کی تنقیدی تحریروں میں قرآن و سنّت کے مطابق صحیح عقائد و نظریات اور اسلامی تعلیمات و ہدایات سے متصادم یا مخالف باتوں کی نشان دہی مثبت اور ادبی پیرائے میںکرتے ہوئے حقائق واضح کریں تاکہ نعت پر صحیح تنقید ہوسکے - یہ تنقید کتنی ضروری اور اہم ہے ، اس کا احساس ہی صبیح رحمانی کے ’’ نعت رنگ ‘‘ کی بنیاد ہے اور نعت رنگ کے شائع ہونے والے شمارے اسی احساس کا اظہار و ثبوت ہیں - عقیدتوں کو عقیدوں کے احاطے میں رکھنا اور لفظوں کو معنوں کی طہارت میں محصور رکھنا ہی کمال ہے ورنہ صرف بات تو ہوتی ہے ، نعت نہیں ہوتی - اور یہ اس بارگاہ عالی جاہ کا معاملہ ہے جس کے آداب ہمارا خدا تعالیٰ ہمیں تعلیم فرماتا ہے - جس لفظ میں کسی طرح تحقیر و توہین کا تو ہّم بھی ہوسکتا تھا ا س بارگاہ عالی جاہ کے لیے وہ لفظ ہی ممنوع ہوگیا ، یوں ہم نے جان لیا کہ نعت گوئی میں ہم آزاد نہیں ، پابند ہیں - اس پابندی کی آگہی ، نعت کے مصادر ، قرآن و حدیث اور سیرت ِ نبوی (ﷺ ) سے گہری واقفیت رکھنے والے اہلِ علم و فضل ہی کا حصہ ہے اور وہی بتاسکتے ہیں کہ افراط و تفریط کہاں ہوئی ہے یا کون سی بات میں الفاظ کا انتخاب یا انداز ، درست نہیں ہُوا -
    ہمارے بیش تر علمائے کرام تفاسیر ، شروحِ احادیث اور فتاوی ہی زیادہ تحریر کرتے ہیں ، دِینی موضوعات پر ان کی اکثر تحریریں آسان زبان میں نہیں ہوتیں ، انہیں اپنے مطالعے اور تدریس میں جس پیرایۂ بیان سے واسطہ رہتا ہے ، وہی ان کی گفتگو اور تحریر میں نمایاں رہتا ہے - نہ
    ========================صفحہ ۱۶======================
    صرف عام لوگ بلکہ خواص میں بھی اکثر ان کی اس طرزِ تحریر سے بآسانی استفادہ نہیں کرپاتے - یوں صبیح رحمانی کی یہ بھی خواہش تھی کہ انہیں ایسے علماء کا تحریری تعاون ملے جو ادیب بھی ہوں اور ا ن کی تحریر عام فہم ہو - تنقید و تحقیق کے شعبوں میں ناقدین اور محققین بھی اکثر مشکل پیرایۂ بیان کے خوگر ہوتے ہیں ، اسی لیے ان کی ایسی تحریریں خواص تک محدود رہتی ہیں - نعت سے تو ہر مومن و مسلم وابستہ ہے ، عام لوگوں تک سلیس اور سادہ انداز و الفاظ ہی میں حقائق و خصائص پہنچائے جائیں تو مفید ہوں گے -
    نعت میں قرآن و حدیث اور سیرتِ نبوی ( ﷺ ) کے حوالوں کے ساتھ ساتھ نعت نگار اپنے جذبات اور احساسات اور کیفیات و واردات بھی اپنی فہم و استعداد کے مطابق بیان کرتا ہے - جان بوجھ کر وہ کوئی ایسا لفظ یا قرینہ نہیں استعمال کرنا چاہتا جو شانِ رسالت کے منافی ہو - لیکن یہ بھی بعید نہیں کہ وہ جسے درست گمان کررہا ہو ، وہ حقائق کے مطابق نہ ہو یا اس نعت نگار پر وہ حقیقت واضح نہ ہو -
    نعت پر تنقید کرتے ہوئے فاضل ناقدین بھی ، قرآن و حدیث ،سیرتِ نبوی ( ﷺ ) اور فقہی جزئیات کی ضروری معلومات نہ ہونے کی وجہ سے دانستہ یا نا دانستہ طور پر لغزش کرسکتے ہیں- نظم و نثر کی ان تحریروں کو باریک بینی سے دیکھنا اور حقائق کے مطابق جانچنا اور ان کی تصحیح یا تغلیط بیان کرنا علمائے حق ہی کا منصب اور ذمہ داری ہے - بعض مرتبہ قافیے اور ردیف کو خوب صورتی سے برتنے کی کوشش میں شاعر اپنے تخیل کا صحیح بیان نہیں کرپاتا اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیت اور خیال کو اس کی سچائی اور عمدگی کے باوجود صحیح بیان نہیں کرپاتا ، اس لئے اکثر عمدہ بات بھی معترضہ ہوجاتی ہے بلکہ ایمان کے لیے مسئلہ ہوجاتی ہے اور رسول اللّٰہ ﷺ کے باب میں معمولی سی بے احتیاطی یا بے ادبی سے وہ نقصان ہوجاتا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے -
    کوئی صحیح العقیدہ مسلمان یہ نہیں چاہے گا کہ وہ جس عظیم بارگاہ میں ہدیَہ عقیدت و محبت پیش کرکے فلاحِ دارین چاہتا ہے اسی بارگاہ میں وہ اپنی کسی کوتاہی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوجائے- صبیح رحمانی اس لحاظ سے نعت نگاروں کے محسن قرار پاتے ہیں اور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ادبی و علمی اور اعتقادی خامیوں کی نشان دہی کے لیے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ
    ========================صفحہ ۱۷======================
    ساتھ علمائے کرام کی معاونت چاہی اور نظم و نثر میں نگارشات پیش کرنے والوں کو ایمانی نقصان سے بچانے کا بھی اہتمام چاہا -
    نعت رنگ میں لکھنے والے اہلِ قلم اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز و محترم شمار ہوتے ہیں ، انہیں اگر نامناسب پیرائے میں ان سے سرزد ہونے والی اعتقادی ، علمی اور دیگر خامیوں کا جواب دیا جاتا تو وہ شاید اسے کسی خاطر میں نہ لاتے یا اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے - مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نعت رنگ میں تنقید و تحقیق کی تحریروں میں اختلافات و اعتراضات ، دلائل و براہین اور حقائق کے ساتھ عمدہ پیرائے میں بیان ہوئے ، کئی مباحث چھڑے ، کئی مکالمے روشن ہوئے اور تمام تر بحث و مباحثے کے باوجود کسی طرف سے بھی انانیت ، کٹ حجتی یا ناراضی کا مظاہرہ نہیں ہُوا ، یہ عمل ’’ نعت رنگ ‘‘ میں لکھنے والوں کی نعت سے سچی محبت کا گواہ ہے -
    صبیح رحمانی کے پیشِ نظر یہ سوال تھا کہ یہ اہم ذمہ داری کون قبول کرے ؟ اور اس حسّاس اور نازک موضوع کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اسے بخوبی انجام دے ، تحریروں کو توجہ سے پڑھے ، سمجھے اور حقائق کو دلائل کے ساتھ واضح کرے - بالعموم مشہور مذہبی شخصیات اس طرح کے کاموں کو غیر اہم یا اپنے معیار سے کم یا سطحی معاملہ گردانتی ہیں یا رسالوں میں لکھنا اپنے شایانِ شان نہیں سمجھتیں یا ان کے پاس اس کے لیے وقت ہی نہیں ، کچھ شخصیات یہ عذر کرتی ہیں کہ اس طرح کی تحریروں سے وہ متنازع ہوجائیں گی یا کچھ لوگوں میں ناپسندیدہ ٹھہریں گی ، گویا وہ شخصیات جو کچھ کررہی ہیں وہی بہت ہے ، کافی ہے ، اس کے علاوہ کام ان کے لیے غیر ضروری یا غیر اہم ہیں- ظاہر سی بات ہے کہ یہ کام صرف منصبی ذمہ داری اور فرائض کی بجا آوری کا ہے اس میں کسی ظاہری منفعت سے صَرفِ نظر کرکے ہی دِینی و ایمانی جذبہ و خلوص کی بنیاد پر خدمت کی جاسکتی ہے اور ( میرے نزدیک ) یہ سعادت ہر کسی کا حصہ نہیں - میرے دل میں علمائے کرام کا احترام بہت ہے لیکن ہمارے معاشرے کے اس مقدس طبقے کے اکثر افراد کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں اور وہی ان کے نزدیک مقدم اور اہم ہیں، انہی میں وہ مگن ہیں - یہ طبقہ ہمارا محسن ہے اور ہمیں اس کی مرتبت و فضیلت کا ہر طرح خیال ہے مگر (شاید یہ ہمارا گمان ہی ہو ) اس محترم طبقے کی اکثریت سے معاشرے کو عمدگی اور آسانی سے وہ رہ نمائی نہیں مل رہی جسے از خود لوگوں کو پہنچانا ان
    ========================صفحہ۱۸======================
    معزز ہستیوں کا منصبی فریضہ ہے -
    نعت گوئی اور نعت خوانی ، اسلامی معاشرے میں شروع سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ، علمائے کرام نے اس باب میں اصلاح کے حوالے سے اپنی توجہات رکھی ہوتیں تو غیر معیاری یا معیوب کلام و انداز نہ پنپتے - فساد بڑھ جائے تو علاج پر محنت زیادہ ہوتی ہے اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے - میری نظر سے اب تک کوئی ایک کتا ب بھی اُردو میں ایسی نہیں گزری جس میں نعت گوئی کے لیے رہ نما اصول تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہوں - نعت کے موضوع پر تنقید و تحقیق کا اُردو میں جتنا کام تاحال منظرِ عام پر آیا ہے وہ بھی زیادہ تر اس طبقے کا ہے جو علمائے دِین شمار نہیں ہوتا -
    زیر نظر کتاب ’’ نعت اور آداب ِ نعت ‘‘ … بنیادی طور پر نعت رنگ میں شائع ہونے والی تحریروں کے تنقیدی و تحقیقی جائزے پر مشتمل ان چند خطوط کا مجموعہ ہے جو وطنِ عزیز کے عالمی شہرت رکھنے والے مثالی خطیب و ادیب ، حضرت علامہ ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی نے جناب صبیح رحمانی ، مدیر نعت رنگ کے نام تحریر کیے اور نعت رنگ میں شائع ہوئے- ان خوش پاروں کو ان کی علمی اور ادبی قدر و قیمت کی وجہ سے کتابی شکل میں محفوظ کرنے کا خیال جناب صبیح رحمانی نے مجھ سے ظاہر کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی - مَیں نے ان کی رائے کو نہ صرف صائب بلکہ بہت مفید تسلیم کرتے ہوئے ان مکاتیب کو مرتب کرنے کا فریضہ ادا کیا ، جسے مَیں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں - ایک خط سے اس کتاب ہونے تک کی کچھ تفصیل اور ان تحریروں کی افادیت و اہمیت جو مَیں نے محسوس کی ، اس کا بیان کچھ یوں ہے -
    نعت رنگ کے شمارہ 2 میں شائع ہونے والے خطوط میں علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی دامت برکاتہم العالیہ کا پہلا مکتوب شائع ہُوا تھا - ان کا نام اور کام سبھی جانتے ہیں - دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں ٹی وی چینلز کے ذریعے حقانیت سے بھرپور ان کی خوش گفتاری اور ان کے دل نشین اور شیریں انداز نے لاکھوں کو متأثر کیا ہے - ان کی متعدد تحقیقی کتب بھی اصلاحِ عقائد و اعمال کے سلسلے میں نمایاں اور مقبول ہیں- تقریر ہو یا تحریر ، تنقید ہو یا تحقیق وہ ہر میدان میں اپنی مثال آپ ہیں - کثرت ِ مشاغل کے باوجود انہوں نے نعت رنگ کے ہر شمارے کو نہ صرف بنظرِ عمیق پڑھا بلکہ اپنی مختصر اور مفصل تحریروں کے ذریعے نعت رنگ میں مطبوعہ تحریروں کا ، عقائد ،
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  3. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ========================صفحہ ۱۹======================
    عشق اور ادبیات کی روشنی میں عمدہ تحقیقی اور تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا- علامہ اوکاڑوی کی اس محنت سے مجھ سمیت جانے کتنے دلوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی کہ ابھی ایسے علمائے حق موجود ہیں جو اپنی علمی بصارت و بصیرت سے اپنے گرد و پیش کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور مبدء فیض سے عطا ہونے والی صلاحیتوں کو حق اور حقانیت کے اعلان و ابلاغ کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں اور اظہارِ حق میں بے باک اور بے لچک موقف رکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ ان کا مقصود صرف یہی ہے کہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں انہیں قبولیت حاصل ہوجائے -
    علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کا اندازِ مطالعہ اور اندازِ تحریر ان کے مقصود کا واضح ثبوت ہے - کہیں کوئی لفظ ، اشارہ ، استعارہ و کنایہ انہیں ایسا نظر آیا جو روحی فداہ سرکار ﷺ کے بارے میں مطلوبہ معیار سے کم رہا ، اسے انہوں نے نظر انداز نہیں کیا ، قرآن و حدیث اور ٹھوس دلائل سے اس کا ایسا جواب دیا کہ غیر معیاری نثر و نظم لکھنے والے کی اصلاح ہو اور ناواقف قارئین پر کوئی منفی یا غلط تأثر قائم ہوگیا ہو تو وہ بھی زائل ہوجائے - وہ جس تحریر کے بیانیے میں عناد یا توہین کا شائبہ بھی پاتے ہیں وہاں اس عناد کو بے نقاب ہی نہیں کرتے بلکہ حقائق سے آگاہ کرکے شبہات تک دُور کردیتے ہیں اور صحیح مؤقف پر دلائل پیش کرتے ہیں-کسی تحریر میں کوئی آیت ِ قرآنی یا حدیث ِ نبوی یا کوئی حوالہ دیکھتے ہیں جس سے غلط استدلال کیا گیا ہو یا مفہوم بدلنے کی کوشش کی گئی ہو ، اسے مُبرہَن کیے بغیر نہیں رہتے - اللّٰہ تعالیٰ کا ان پر خاص فضل و کرم ہے کہ وہ شرعی موقف کے اظہار میں حق بات کہنے میں باک نہیں رکھتے - اگر کسی اہلِ قلم نے کسی جائز اور درست بات کو اپنے علم و فہم کے مطابق ناجائز اور نادرست قرار دیا ہو تو علامہ اوکاڑوی صاحب اس کی شخصیت اور علمی مرتبے کا لحاظ کئے بغیر اس بات کے جائز اور درست ہونے کے دلائل واضح کرتے ہیں -
    وہ اعتراضات کے جواب بھی دیتے ہیں اور خود بھی اعتراض قائم کرتے ہیں - اچھے جملوں اور عمدہ تحریروں کی تعریف و تائید بھی کرتے ہیں ، گرفت سخت کرتے ہیں مگر لفظوں کو نرم اور لہجے کو دھیما رکھ کر ، نعت رنگ کے صفحات اس کے گواہ ہیں- اپنے دلکش اسلوب ِتحریر میں وہ علوم و معارف کے دبستاں کھولتے چلے گئے ہیں - ان کے خطوط سے کتنے موضوعات اور ابحاث نے جانے کتنے عقدے حل کیے ہیں - عقائد کے باب میں ان کا قلم شرحِ صدر کرتا ہے -

    ========================صفحہ ۲۰======================
    ان کے خطوط کے مطالعے سے اندازہ ہُوا کہ لفظوں کی صرف نشست ہی بدل دی جائے تو معنی و مفہوم میں بڑا تغیر آجاتا ہے - وہ خیال کو لفظوں کا پابند نہیں بلکہ لفظوں کو صحیح خیال کا پابند رکھنے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں،لسانی اور ادبی مسائل پر بھی جو اظہارِ خیال وہ کرتے ہیں اس میں بھی شرعی حدود و قیود کو واضح کرتے ہیں - ان خطوط میں ان کی زیادہ توجہ نثری مضامین پر رہی لیکن منظوم کلام کے حوالے سے بھی وہ جہاں کہیں بات کرتے ہیں، نہایت واضح اور بامقصد کرتے ہیں - انہیں دِینِ اسلام کی شرعی تعلیمات کے منافی کوئی بھی لفظ یا جملہ گوارا نہیں -
    الغرض ، ’’ نعت اور آداب ِ نعت ‘‘ کے اس عظیم کام کے لیے صبیح رحمانی کو نہایت موزوں شخصیت حضرت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کی نظر آئی جو صبیح رحمانی کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی تھی اور نعت رنگ میں علامہ اوکاڑوی کے شائع ہونے والے خطوط اس بات کے گواہ ہیں کہ صبیح رحمانی کا انتخاب درست تھا -
    نعت رنگ میں شامل علامہ اوکاڑوی کے خطوط میں ایسے متعدد نکات اجاگر ہوئے جن سے عوام و خواص دونوں کو دل چسپی تھی ، نتیجۃً ا ن کے خطوط نے علمی و ادبی حلقوں کے علاوہ عام قاری کی توجہ بھی حاصل کرلی اور یہ توجہ اور پذیرائی نعت رنگ کے ہر شمارے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ قارئین ، نعت رنگ ہاتھ میں آنے کے بعد بے اختیار ، خطوط والے صفحات کو تلاش کرتے ہیں -
    نعت رنگ کی افادیت و اہمیت اپنی جگہ مسلّم مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ علامہ اوکاڑوی کے خطوط بھی نعت رنگ کی پہچان بن چکے ہیں اور نعت رنگ کے قاری ان کا اسی بے چینی سے انتظار کرتے ہیں جیسے کسی رسالے میں کسی مستقل یا قسط وار سلسلے کا - یہ پذیرائی اور اثر پذیری حضرت مولانا کو اپنے دل کش اسلوب تحریر ، وسیع مطالعے اور تنقیدی بصیرت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے - درحقیقت ان کی یہ مقبولیت اللّٰہ تعالیٰ کی ان پر عطائے خاص ہے- وہ اپنی تحریروں میں معمولی معمولی باتوں کا خیال رکھتے ہیں ، اپنی تحریر میں کسی سے سُنی ہوئی یا کہیں پڑھی ہوئی بات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ بات جس کسی سے سنی یا جہاں پڑھی ، اس کا
    ========================صفحہ ۲۱======================
    حوالہ ضرور نقل کرتے ہیں ، ہوسکتا ہے ہر کسی کے نزدیک یہ کوئی اہم بات نہ ہو لیکن یہ بات کسی مصنف کی سچائی اور دیانت کو ظاہر کرتی ہے اور اس طرح رابطوں اور محبتوں کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے-
    جہاں کہیں کسی تحریر میں کوئی بات ایسی آئے جو شرعی تعلیمات میں اہم ہے ، وہ اسے اچھی طرح واضح کرتے ہیں تاکہ ناقدین اور قارئین اس کی حقیقت اور تفصیل سے آگاہ ہوں جیسے اقسامِ حدیث ، تاویل ، حقیقت و مجاز ، نفی و اثبات کی آیات ، اقتباس ، استمداد ، توسّل اور دِینی مسائل وغیرہ -
    اگر کسی مضمون نگار نے حضرت مولانا کی بیان کی ہوئی کسی بات کی درستی یا کسی درست تحقیق کی طرف ان کی توجہ کروائی تو حضرت مولانا نے اس کی درست بات کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اظہار تشکر بھی کیا ہے - یہ خوبی بھی دیکھی کہ وہ زعمِ علم نہیں بلکہ اپنی فروتنی کا اظہار جا بجا کرتے ہیں اور ہر تحریر میں لکھتے ہیں کہ : ’’ کوئی غلطی و کوتاہی ہوگئی ہو تو اللّٰہ تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں - ‘‘
    حضرت مولانا کے یہ خطوط اور ان میں بیان کردہ علمی ، ادبی ، فقہی اور اعتقادی معاملات ہر لحاظ سے اصلاحِ احوال کا باعث اور قابلِ تحسین ہیں - ان خطوط کی اہمیت کے پیش نظر ان کا منتشر رہنا انہیں ضایع کرنے کے مترادف تھا ، مَیں نے جناب صبیح رحمانی کے مشورے اور حوصلہ افزائی کے سہارے ان خطوط کو مرتب کرنے کی ہمت کی -
    مجھے خوشی ہے کہ زیر نظر کتاب ’’ نعت اور آداب ِ نعت ‘‘ اس موضوع پر اُردو میں کسی عالمِ دِین کی ( غالباً) پہلی کاوش ہے ، لیکن فکر افروز اور توجہ طلب ہے - نعت رنگ کا کتابی سلسلہ جاری رہا تو ان شاء اللّٰہ اس کتاب کی مزید جلدیں اس موضوع پر بہترین اور قابلِ قدر کتابیں ہوں گی اور تنقید نعت کے حوالے سے ہمارے علمائے کرام کی غفلت کا کفارہ بھی ادا کریں گی -
    حضرت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے ان خطوط کے مطالعے سے ان کی اہمیت و افادیت کا قارئین خود بخوبی اندازہ کرلیں گے ، یہاں ان کے خطوط سے کچھ اقتباس پیش کررہا ہوں ، ملاحظہ فرمائیں - مدیر نعت رنگ کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا نے اپنے ایک خط میں باوجود اپنی مصروفیت کے ان کی معاونت، اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کی- لکھتے ہیں :

    ========================صفحہ۲۲======================
    ’’ آپ نے فرمایا کہ یہ فقیر آپ کے مجلے کے مندرجات کے بارے میں شرعی و مسلکی نقطۂ نگاہ کے حوالے سے آپ کا معاون ہو - آپ کی اس خواہش پر خوشی ہوئی لیکن خود کو اس قابل نہیں پاتا اور سچ یہ بھی ہے کہ خود اتنا گِھرا ہُوا ہوں کہ وعدہ بھی نہیں کرسکتا ، تاہم آپ سے جو تعاون کرسکا اسے اپنے لئے نیکی سمجھوں گا - ‘‘
    ایک مضمون نگار کی لغزشِ قلم کو ان کا ایمانی ذوق گوارا نہ کرسکا اور دیکھئے انہوں نے اس پر کس باریک بینی سے گرفت کی ، ملاحظہ فرمائیے :
    ’’ ایک مضمون نگار نے لکھا : ’’ مَیں بعد توبہ و استغفار لکھتا ہوں کہ قرآنِ مجید میں موسیقیت کی جو شان … ‘‘ حضرت مولانا نے یوں جواب دیا : ’’ یہ الفاظ بعد توبہ و استغفار کے بھی یوں صحیح نہیں بلکہ یوں ہوسکتے ہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت پر موسیقیت کی ہر شان بھی قربان -‘‘
    ایک عالمِ دِین کے احساسِ ذمہ داری اور تشویش کو مدیر کے نام لکھی گئی اس ایک سطر میں ملاحظہ فرمائیں :
    ’’ تمام اہلِ قلم کو پابند کیجئے کہ وہ رسولِ کریم ﷺ کے بارے میں کوئی ایسا لب و لہجہ اور الفاظ و انداز اختیار نہ کریں جو گستاخی و اہانت کے زُمرے میں آتا ہو - ‘‘
    زیر نظر پیراگراف میں مولانا کے مخاطب تو مدیر نعت رنگ ہیں لیکن کیا یہ سوال پوری امت کے لیے دعوتِ فکر نہیں ہے ؟
    ’’ مَیں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ لوگ جو مسلّمہ اصول و قواعد کے مطابق نادہند قرار پاتے ہیں اور ان کی تحریریں موجود ہیں کہ شانِ رسالت مآب ﷺ میں وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز شمار ہوئی ہیں ، اس کے بعد ان لوگوں کی مدح و تعریف یا تعظیم کیوں رَوا سمجھی جاتی ہے ؟ کیا حقائق سے چشم پوشی کرنا اور حقائق کو جھٹلانا سُودمند ہوسکتا ہے ؟ کیا اس طرح حقائق بدل سکتے ہیں ؟ جب یہ طے ہے کہ مخلوق میں رسولِ کریم ﷺ سا کوئی نہیں ، وہ ہر طرح افضل و اعلیٰ ہیں اور ان کی بارگاہ کے آداب خود ان کے خالقِ کریم جلَّ شانہ نے تعلیم فرمائے ہیں اور ان کی تعظیم ہر مسلمان پر لازمی ہے ، پھر کیا گنجائش ہوسکتی ہے کہ ان کے کسی طرح گستاخ و بے ادب سے کوئی رعایت سوچی جائے خواہ وہ کوئی ہو ؟‘‘

    ========================صفحہ۲۳======================
    نعت رنگ کی تحریروں کے مثبت پہلوؤں پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
    ’’ مجھے بہت خوشی ہے کہ نعت شریف کے حوالے سے عمدہ اصلاحی تنقید ہورہی ہے اور مقصد بھی خوب ہے کہ شرعی تقاضے پورے ہوں ، ادب کے منافی کچھ نہ ہو ، غلطی و کوتاہی کو جان کر ان کا اعادہ نہ کیا جائے اور جو کچھ غلط ہوگیا اس سے توبہ کی جائے - ‘‘
    ایک خط میں نعتیہ ادب کے ناقدین کو ضابطہ تنقید کے بارے میں علامہ اوکاڑوی نے کیا اچھا مشورہ دیا ، ملاحظہ ہو :
    ’’ نعتیہ شاعری پر تنقید ضروری کی جائے مگر علم و فہم میں توازن ضروری ہے اور واضح رہے کہ نبی پاک ﷺ کی ذات و صفات ، محامد و محاسن اور ان کے جمال و کمال کے بیان میں قلم و زبان کو حد درجہ احتیاط لازم ہے بلکہ فکر و خیال کو بھی - کوشش کی جائے کہ جو بات ہو وہ محض خامہ فرسائی کے شوق کی تکمیل نہ ہو - ‘‘
    نعتیہ ادب پر تنقید کو جائز قرار دیتے ہوئے ایک خط میں اس طرح اپنے نظریئے کو واضح کرتے ہیں :
    ’’ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ہر شاعر کی کہی ہوئی ہر نعت ، حمد ، منقبت وغیرہ کو صرف یہ کہہ کر قبول نہیں کیا جاسکتا کہ یہ حمد و نعت و منقبت بالائے تنقید ہے بلکہ اسے حقیقت اور عقیدہ و عقیدت کے صحیح تقاضوں سے متصادم یا متضاد پاکر ہی نقد و جرح کا ہدف بنایا جاسکتا ہے اور ایسا ہونا چاہیے کیوں کہ حمد و نعت میں احتیاط کا ہر تقاضا ملحوظ رکھنا ضروری ہے لیکن عشق کو شرک اور محبت کو بدعت کہنے والے لوگوں کے پیمانے پر نہیں بلکہ ادلّہ شرعیہ کے مطابق تصحیح و تنقید ہو اور ایسا کرنے والا بھی دیانت و صداقت کا پاس دار ہو اور علم و فہم میں توازن رکھتا ہو - ‘‘
    نعت گو شعرا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کتنی اہم باتیں کہی ہیں ، فرماتے ہیں :
    ’’ ہر نعت گو سے یہی چاہتا ہوں کہ وہ نعت کہنے سے پہلے آداب ِ نعت سے واقفیت ضرور حاصل کرے کیوں کہ یہ صرف شعر کہنے والی بات نہیں یہ تو محبوب ِ ربّ ِجلیل کی بارگاہ میں باریابی پانے کی جستجو کا مرحلہ ہے - محبت ِ رسول کے میزان پر ایمان تولنے کا معاملہ ہے - ایمان و
    ========================صفحہ ۲۴======================
    عقیدت کے قبلہ و کعبہ کی طرف جان و دل کرنے کا سلسلہ ہے - قطرے کو گُہر کرنے ، ذرّے کو رشک ِ آفتاب کرنے کا وَل وَلہ ہے اور کیوں نہ ہو ، نعت گوئی میرے معبود ِ کریم کی سنّت ہے ، یہ وہ وصف و سعادت ہے جو مشت ِخاک کو قربِ ایزدی عطا کرتی ہے -‘‘
    فرماتے ہیں : ’’ رسولِ کریم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں حد درجہ احتیاط لازم ہے - ہم خطا و نسیان سے مرکب انسان ہیں ، اگر ہم سے کوئی خطا اس مبارک ذکر میں ہوجائے اور خود ہمیں اس کا احساس نہ ہو تو اس خطا کی نشان دہی پر ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہم توبہ و استغفار اور غلطی سے رجوع ہی کی طرف مائل ہوں - ‘‘
    ناقدینِ نعت کو مشکلات ِتنقید سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کتنا صائب مشورہ دیا ہے :
    ’’ نعت شریف ایسا موضوع نہیں کہ ہر کوئی محض خامہ فرسائی کے شوق میں کوئی مضمون لکھ دے ، جس طرح شاعر کو نعت کہنے کے لئے عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ عقائد اور حقائق سے آگہی ہونا ضروری ہے اسی طرح نعت شریف پر تحقیق و تنقید میں کچھ لکھنے سے پہلے بہت جان کاری کی ضرورت ہے اور لکھتے ہوئے احتیاط اس سے زیادہ ضروری ہے - اس تمام تر احتیاط کے باوجود یہ حوصلہ بھی رہنا چاہیے کہ فی الواقع غلطی پر صرف اس کا اعتراف ہی نہ کیا جائے بلکہ اس تصحیح و اصلاح کو مفید اور قابلِ قدر سمجھا جائے - ‘‘
    محترم قارئین ! مجھے اپنی بے بضاعتی اور کم علمی کا اعتراف ہے لیکن مَیں نے یہ کتاب اس خواہش کے پیشِ نظر مرتّب کی ہے کہ خدا کرے حشر میں میرا بھی نام نعت کے خدمت گزاروں میں شمار ہوجائے-
    اس کتاب کو مرتّب کرنے کے بعد نعت رنگ کی ممتاز اہلِ قلم شخصیات سے ان کے تأثرات بھی حاصل کئے - میں جناب ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی ، جناب پروفیسر علی محسن صدیقی ، جناب مشفق خواجہ ، جناب ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ، جناب عزیز احسن اور حضرت مولانا عبدالحکیم شرف قادری کا ممنون ہوں کہ انہوں نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اپنے تأثرات سے بھی نوازا ، یہ تمام تحریریں اس کتاب میں شامل کی جارہی ہیں -

    ========================صفحہ۲۵======================
    کمپوزنگ یا پروف ریڈنگ میں حتی الامکان احتیاط کے باوجود کوئی غلطی رہ گئی ہو تو معذرت خواہ ہوں -
    مَیں سید صبیح الدین صبیح رحمانی صاحب کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری گزارشات کا احترام کرتے ہوئے مکمل تعاون فرمایا اور مجھے جہاں کہیں رہ نمائی کی ضرورت ہوئی انہوں نے مہربانی فرمائی- مَیں خصوصیت کے ساتھ خطیب ِ ملّت حضرت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی دامت برکاتہم العالیہ کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے نعت کے موضوع پر نعت رنگ کے لیے یہ خطوط تحریر کرکے نعت کے شیدائیوں کے دل موہ لیے- ان خطوط کا مرتب کرنا میرے لیے باعث ِ سعادت و اعزاز ہے - اس عاجز و خطا کار کو یقین ہے کہ جوہرِ عشقِ رسول ﷺ کی بدولت علامہ اوکاڑوی کی تحریریں مقامِ قبولیت پر فائز ہوں گی تو اس احقر کا نام بھی ان کے نام کی نسبت سے معتبر ہوجائے گا -
    اس کتاب کی پہلی اشاعت مارچ 2003ء میں ضیاء القرآن پبلی کیشنز کی طرف سے ہوئی تھی اور اب تین ( ۳ ) مکتوبات اور کچھ مطبوعہ تبصروں کے اضافے کے ساتھ مہرِ منیر اکیڈمی (انٹرنیشنل ) کی طرف سے کی جارہی ہے۔
    اللّٰہ تعالی ، حق گو اور حوصلہ مند عالم حضرت علامہ اوکاڑوی کا سایہ تادیر اہلِ سنّت پر قائم رکھے ، ان کی موجودی دلوں کی طمانینت اور حق پر استقامت کا باعث ہے -

    فدائے نعت
    ( صاحب زادہ ) ارشد جمال نقش بندی
    فروری ، 2003ء ( سجادہ نشین ) درگاہِ بدخشانی ، نارتھ کراچی

    ========================صفحہ۲۶======================


    تأثرات






    ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی
    پروفیسر علی محسن صدیقی
    مشفق خواجہ
    پروفیسر محمد اسحاق قریشی
    عزیز احسن
    مولانا عبدالحکیم شرف قادری

    ========================صفحہ ۲۷======================
    عزیزم مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی ، ان علماء میں ہیں جو خوش گفتار ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر میں ’’ خوش اسلوب ‘‘ بھی ہیں - ان کی تحریروں میں علم کے ساتھ ساتھ شگفتگی اور زندگی کی وہ لہر بھی ہے جو چھیڑ چھاڑ کے لطف سے باخبر ہے -
    مولانا نے نعت پر جو کچھ لکھا ہے اس میں ادیب کی نعت شناسی اور مفتی کی شرعی گرفت کا امتزاج ہے اور یوں وہ نعت کے ناقدین میں عجب انفرادیت کے مالک ہیں - اگرچہ راقم الحروف ان کے التفاتِ خاص سے نوازا گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ مولانا کی تحریروں کے حُسن اور افادیت کا قائل ہے - دعا ہے کہ ان کے نقد ِ ادب کا یہ سلسلہ جاری رہے اور وہ ہماری زبان کو قائم رہنے والی تحریریں دیتے رہیں -


    ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی
    سابق صدرِ شعبہ اُردو ، جامعہ کراچی

    ========================صفحہ ۲۸======================
    کتاب ِ حاضر کراچی کے ایک جواں سال اور جوان ہمّت فاضل مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی کے مکاتیب کا مجموعہ ہے - دراصل یہ مکاتیب جریدہ ’’ نعت رنگ ‘‘ کے مدیر جناب سید صبیح الدین رحمانی کے نام لکھے گئے علمی شذرات ہیں جو مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی نے ان کے جریدے میںشائع ہونے والے مقالات پر تعقیباً و تنقیداً تحریر کئے ہیں -
    مولانا کوکب نورانی کے والد ِ ماجد حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مرحوم و مغفور سے میری شناسائی تھی اور بعض محافل میں و نیز رے ڈیو پاکستان کے مذہبی پروگراموں میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں - مَیں ان کی مسحور کُن خطابت اور مزاج کے انکسار و سادگی کا مداح و معترف تھا اور اب بھی ہوں - ان کے صاحب زادے مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی سے میری ملاقات نہیں مگر خیال یہی تھا کہ اپنے والد مرحوم کی طرح وہ بھی بے مثل عوامی خطیب ہوں گے اور شاید ہوں بھی ، لیکن ان کے معارضانہ مضامین دیکھ کر ان کے زورِ قلم ، قوت ِ استدلال اور وسیع مطالعہ کا اندازہ ہُوا - اس مادی ترفّہ کے دَور میں مطالعہ کا ذوق ختم ہوتا جارہا ہے جس سے قومی و علمی زندگی میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے ، اس علمی کساد بازاری کے دَور میں مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی جیسے نوجوانوں کو دیکھ کر یہ اطمینان ہوتا ہے کہ ابھی ہماری علمی زندگی میں توانائی ، برنائی اور نشاط انگیزی کے قوی عناصر موجود ہیںاور ہم کہ محفل دو شینہ کے بجھتے چراغ ہیں ، جب نہ رہیں گے ، تو عزیزم کوکب نورانی جیسے فاضل اخلاف اس محفل کی روشنی و رونق کو بحال رکھے ہوئے ہوں گے -
    نعت نگاری بہت نازک اور نہایت مشکل صنف ِ ادب ہے - اس کا موضوع وسیع بھی ہے اور عمیق بھی - جناب سرورِ کائنات و فخرِ موجودات محمد مصطفی ﷺ کی ذات ِ پاک ، اس فن شریف کا موضوع ہے - اس سے کلّی واقفیت تو علمِ انسان کے بس سے باہر ہے کہ اس کا نکتہ شناس ، صرف خالقِ محمد ( ﷺ ) ہے، مگر اس سے جزوی اور محدود آگہی جو طاقت ِ بشری سے ممکن ہے ، نعت نگار اور نعت شناس کے لیے ضروری ہے - نعت کے تنقید نگاروں کے لیے علومِ اسلامیہ سے کما حقّہ واقف و آگاہ ہونا بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے لیکن ’’ نعت رنگ ‘‘ میں شائع ہونے والے بعض
    ========================صفحہ ۲۹======================
    مضامین او رکتابوں پر تبصروں کے مطالعہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کے قلم کار یا تو ضروری علوم سے آگاہ نہیں ہیں یا محض ستائشِ بے احتیاط کے باعث قابلِ اعتراض جملے لکھ جاتے ہیں - مولانا کوکب نورانی نے ایسے مقالہ نگاروں کی صحیح گرفت کی ہے اور دلائل کے ساتھ ان کے موقف کی تغلیط کی ہے - ان کی تحریروں میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی ، اللّٰہ کرے زورِ قلم اور زیادہ -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ کے ایک مقالہ نگار جناب ظہیر غاری پوری نے اپنے مضمون مشمولہ ’’ نعت رنگ ‘‘ شمارہ نمبر 11 میں حضرت مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اشعار میں عروضی اغلاط پر ایک غیر ضروری اور غیر علمی مضمون تحریر کیا - مولانا علیہ الرحمہ دَورِ آخرین کے علماء اسلام میں اپنے تبحرِ علمی اور کثرت ِتصانیف کے لیے مشہور ہیں - ان کی ذات ہمہ صفات بے نظیر و منفرد ہے اور ان کے علمی کمالات سے انکار ممکن نہیں ہے - مولانا کوکب نورانی نے ظہیر غازی پوری پر سخت تعقیب کی ہے اور ان کے الزامات کو ٹھوس علمی بنیاد پر پادر ہَوا ثابت کردیا ہے - اسی طرح ’’ نعت رنگ ‘‘ کے شمارہ 12 میں بھارت کے ایک قلم کار ڈاکٹر یحیٰی نشیط نے اپنے مضمون میں جس کا عنوان ہے ’’ عظمت ِ رسول ( ﷺ ) خطوطِ غالب میں ‘‘ - فخر الافاضل ، رئیس المتکلمین مولانا فضلِ حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ پر مسئلہ ’’ امتناع النظیر ‘‘ کے ضمن میں بے جا تنقید کی ہے - مولانا کوکب نورانی نے اس کی تردید کی ہے - ’’ مسئلہ امتناع النظیر ‘‘ دراصل علمِ کلام کا نہایت مہتم بالشّان مسئلہ ہے اور اس کا تعلق عقیدۂ ختمِ رسالت ( ﷺ ) سے ہے - حضرت مولانا فضلِ حق خیر آبادی کے زمانہ میں مولوی محمد اسماعیل نے اس مسئلہ پر اپنی حسب ِ عادت گفتگو کی تھی - مولانائے مرحوم نے مسئلہ کی سنگین نوعیت کے پیشِ نظر اس کی عالمانہ و متکلمانہ مقدمات قائم کرکے سخت تردید کردی اور ان کے دوست غالب نے ان کی کتاب پر بطور تقریظ ایک مثنوی لکھ دی - مولانا حالی نے یادگار غالب میں اس کا سرسری ذکر کیا ، چوں کہ یہ دقیق کلامی مسئلہ ان کی اور ان کے ممدوح استاد کی ذہنی و علمی سطح سے بہت بلند تھا ، وہ اسے نہ سمجھ سکے اور جو کچھ انہوں نے لکھا وہ غیر علمی تھا - ڈاکٹر یحیٰی نشیط کی فہم سے مسئلہ امتناع النظیر بہت بلند تھا تو انہوں نے بھی حضرت مولانا خیر آبادی کی تردید کی غیر علمی کوشش کی ہے - حالی تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، مگر ان کی زندگی ہی میں مرزا غلام احمد قادیانی
    ========================صفحہ ۳۰======================
    نے نبوت کا دعوٰی کیا اور مولوی اسماعیل کے ’’ انکار امتناع النظیر ‘‘ سے شہ پاکر نبوت و رسالت ِ محمدی ﷺ سے بغاوت کی - مولانا خیر آبادی مرحوم نے علمی بصیرت ، کلامی عبقریت اور ایمانی فراست سے کام لے کر امکان نظیر رسالت مآب ﷺ پر اپنی کتاب لکھ کر جو دِینی خدمت انجام دی ، وہ نہ غالب کی بادہ نوشی ، نہ حالی کی نیچریت اور نہ ہی یحیٰی نشیط کی ناواقفیت سے کم ہوسکتی ہے -
    مَیں آخر میں مولانا کوکب نورانی کو ان کی دِینی حمیت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں -

    علی محسن صدیقی
    سابق پروفیسر علومِ اسلامی و تاریخِ اسلام
    کراچی یونی ورسٹی - کراچی
  4. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: ۳۱=======================​

    مکتوب نگاری ہماری علمی و ادبی روایت کا حصہ ہے - اہلِ علم کا ہمارے ہاں یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کبھی کسی سوال کے جواب میں ، کبھی کسی نکتے کی شرح میں اور کبھی کسی مسئلے کے بیان میں اس ذریعۂ اظہار و ابلاغ کو استعمال کرتے آئے ہیں - یہی نہیں بلکہ کتنے ہی علمی ، ادبی ، فکری اور نظری مباحث پر اہلِ علم و فن کے مابین مکتوباتی مناقشے چلتے رہے ہیں - چناں چہ علمی و ادبی سرمائے کی صورت میں ہمارے پا س مکاتیب کا بھی ایک معتد بہ ذخیرہ ریکارڈ پر موجود ہے اور یہ مکاتیب اپنی قدر و قیمت کے لحاظ سے دوسری علمی تخلیقات و نگارشات سے کسی طرح کم نہیں - اگر یہ کہا جائے کہ امتدادِ زمانہ کی دست برد سے جو کتابیں بچ رہی ہیں اور جن کی اہمیت و ضرورت ہمارے عہد تک باقی ہے ، اُن میں مکاتیب کے بھی کئی ایک مجموعے شامل ہیں - مکاتیب کے ان مجموعوں کی اشاعت کا جواز بھی یقینا یہی رہا ہوگا کہ انہیں افادۂ عوام و خواص کے لیے محفوظ کرلیا جائے -
    آج یہ روایت گو کہ اس طرح مستحکم تو نہیں ہے جیسا کہ کبھی اہلِ علم و ادب کے ہاں تھی لیکن یہ سلسلہ یکسر منقطع اور معدوم بھی نہیں ہُوا ہے - ہمارے عہد میں بھی فکری اور نظری مباحث کے لیے یہ طریقہ رائج ہے - ذاتی اور شخصی خطوط نویسی کو چھوڑ کر علمی و ادبی رسائل و جرائد نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا ہے- رسائل و جرائد میں اب بھی ایسے خطوط شائع ہوتے رہتے ہیں جو فکر و فہم کے نہ صرف نئے گوشے سامنے لاتے ہیں بلکہ سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہیں - زیر نظر کتاب ’’ نعت اور آداب ِ نعت ‘‘ ایسے ہی مکاتیب کا مجموعہ ہے -
    ان مکاتیب کے مصنف مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی سے میری شناسائی گو کم کم سہی مگر خاصی پرانی ہے - اوّل اوّل میں انہیں محض مذہبی حوالے سے جانتا تھا لیکن بعدازاں ان کے جوہر کھلے اور ان کی علمی جہت سے واقفیت ہوئی تو معلوم ہُوا کہ ان کا علمی ادبی ذوق بھی عمدہ ہے اور مطالعہ خاصا وسیع ہے - شریعت ، فقہ اور احادیث ِ مبارکہ کی کتب کے ساتھ ساتھ وہ ادبی کتابیں بھی
    ====================صفحہ: ۳۲======================​
    باقاعدگی اور اشتیاق کے ساتھ پڑھتے ہیں - جن لوگوں کو ان کی گفتگوئیں اور تقاریر سُننے کا موقع ملا ، ان کا کہنا ہے کہ ان کے طرزِ بیاں اور سلیقۂ اظہار سے ان کے مطالعے کے معمول کا صاف صاف اندازہ کیا جاسکتا ہے - تقریر کے بعد تحریر سے بھی ان کے شغف کا حال کھلا تو مجھے ذاتی طور پر اور خوشی ہوئی کہ ایک زمانے میں ہمارے جید علماء اور مذہبی رہ نما ہمہ جہت شخصیت کے حامل نظر آتے اور کسی در بند محسوس نہ ہوتے - فی زمانہ یہ جوہر کم یاب ہوگیا- سو اب مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی کے ان اوصاف سے یک گونہ طمانینت ہوئی کہ اسلاف کے اطوار کا سلسلہ ٹوٹا نہیں ، کم ہُوا ہے مگر جاری ہے -
    اس کتاب میں شامل سب مکاتیب اس سے قبل نعتیہ ادب کے اہم کتابی سلسلے ’’ نعت رنگ ‘‘ کے مختلف شماروں میں شائع ہوچکے ہیں - ظاہر ہے یہ مکاتیب اسی رسالے میں شائع ہونے والی تحریروں کے حوالے سے قلم بند کیے گئے ہیں اور ان مباحث و مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جو ’’ نعت رنگ ‘‘ کے مطالعے کے دوران مولانا کوکب نورانی کے نزدیک توجہ کے طالب ، فکر انگیز اور بحث طلب رہے ہوں گے - لہذا ان مکاتیب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب نگار نے ہر بار کسی نہ کسی نکتے کی گرفت یا اس پر اپنے اختلاف کے اظہار کے لیے قلم اٹھایا ہے - پھر یہ بھی ہُوا کہ مولانا کوکب نورانی کی رائے سے اختلاف اور اپنے مؤقف کے اظہار کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دوسرے شخص نے جواب رسالے کو لکھ بھیجا - مولانا کوکب نے اس جواب پر بھی سوالوں کی گنجائش محسوس کی اور مکتوباتی مکالمے کو آگے بڑھایا - مقصد کہنے کا یہ ہے کہ خطوط کسی لگے بندھے انداز اور ایسی مخصوص طرز پر نہیں لکھے گئے ہیں جو پڑھنے والے کے لیے اپنی خشکی اور یکسانیت کے سبب عدم دلچسپی کا باعث ہوں - اس کے برعکس یہ خطوط ایسی جیتی جاگتی کیفیت ، برجستہ اظہار اور دلچسپ پیرایۂ بیاں کے حامل ہیں کہ اپنے موضوع کی تمام تر سنجیدگی اور متانت کے باوجود قاری کے لیے دلچسپی اور انہماک کا خاصا سامان رکھتے ہیں -
    ہمارے ہاں نعت گوئی کو محض عقیدے اور عقیدت کے اظہار کا معاملہ سمجھا جاتا ہے جو اپنی جگہ درست ہے لیکن اس وجہ سے یہ ہُوا کہ ہمیں نعتیہ ادب کے تنقیدی مطالعے میسر نہیں آئے
    ===================صفحہ: ۳۳========================​
    - حالیہ برسوں میں کچھ اس طرف توجہ کی جانے لگی ہے اور کچھ ثقہ ادیب اور سنجیدہ نقاد اس موضوع کی طرف آئے ہیں - اس کام کا کریڈٹ ’’ نعت رنگ ‘‘ کو جاتا ہے جس نے اس شعبے میں کام کی ضرورت کو محسوس کیا اور لکھنے والوں کو اس طرف مائل کیا - مکاتیب کا زیر نظر مجموعہ بھی ایسے ہی مساعیِ جمیلہ میں شمار ہوتا ہے - گو کہ یہ مجموعۂ مکاتیب ہے لیکن اس میں جو سوالات اٹھائے اور جو مباحث پیش کیے گئے ہیں ، وہ اپنی نہاد میں نعت کے حوالے سے نقد و نظر ہی کی توسیع کا مزاج رکھتے ہیں - امید کی جاسکتی ہے کہ ان خطوط کے نکات اور مباحث نعتیہ ادب کے تنقیدی مطالعے میں نہ صرف خود اہم کردار ادا کریں گے بلکہ اس نوع کے تنقیدی مطالعات کی راہ بھی ہموار کریں گے -
    ان خطوط کا بنیادی موضوع یوں تو نعتیہ ادب اور اس کے اظہار و ابلاغ کے مسائل ہیں لیکن اپنے مطالعے کی خوبی اور استحضار کی بدولت مولانا کوکب نورانی نے ان کے مباحث کا دائرہ خاصا وسیع کرلیا ہے - ان خطوط میں کئی باتیں ایسی بھی آگئی ہیں جو خود تنقید کے لیے بھی مفید ِ مطلب ہیں یا پھر یہ کہ ان سے محض اس موضوع کے لکھنے والے ہی نہیں بلکہ پڑھنے والے بھی بخوبی استفادہ کرسکتے ہیں -
    چناں چہ ان خطوط کا کتابی صورت میں مرتب ہوکر سامنے آنا یوں بھی درست اور مفید ہے کہ یہ تحریریں یک جا ہوکر آئندہ کے قارئین و ناقدین کے استفادے کے لیے محفوظ ہوگئی ہیں - مجھے تو اس کتاب کی اشاعت سے یوں بھی خوشی ہے کہ مَیں مولانا کوکب نورانی کو ان کے اوصاف کی وجہ سے دل سے پسند کرتا ہوں اور یہ توقع رکھتا ہوں کہ اس کتاب کی اشاعت ان کے لیے اپنے موضوعات پر جم کر مبسوط کام کی تحریک پیدا کرے گی -

    مشفق خواجہ

    ====================صفحہ: ۳۴=======================​
    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

    ’’ نعت رنگ ‘‘ کا اجراء خوش گوار حیرت کا سبب بنا ، خوش گوار اس لیے کہ ’’ نعت ‘‘ کے حوالے سے گفتگو جذبات ِ محبت کی عکاس تھی ، حیرت اس لیے کہ صدیوں کا قرض ایک جوان کی ہمت و عزم سے ادا ہونے لگا ، ہر شمارہ تحریک بنا اور ہر نگارش توجہ کا مرکز بنی ، یوں نعت ، لمحۂ موجود کی ادبی سرگرمیوں کامحور قرار پائی -
    نعت ایک مشکل صنف ِ سخن ہے کہ اس میں صداقت شعاری کی سطوت قائم ہے ، یہ اعتقاد و ایمان کا مسئلہ بھی ہے اور ادبی روایات کی پاس داری کا بھی ، ذات ِ ممدوح ﷺ کے اوصاف و خصائل کی کثرت اور شمائل و محامد کے تنوع نے شاعر کو سہولت فراہم کی ہے کہ وہ ان گنت مضامین میں سے اپنے ذوق کے مطابق انتخاب کرے مگر یہ کثرت و تنوع اسے حزم و احتیاط کا پابند بھی بناتا ہے کہ اس کی سلیقہ مندی کا امتحان ہے - انتخاب سے پیش کش تک کا ہر مرحلہ نازک ہے ، جذبہ ، لفظ ، معنی اور ادائی سب کی استواری و شائستگی درکار ہے ، آداب آشنائی کا یہ طویل دورانیہ ایک آزمائش ہے اور یہی وہ مقامات ہیں جہاں بڑے بڑوں کے قدم لڑ کھڑانے لگتے ہیں ، لغزشِ قدم کی اصلاح اور راست روی کی ترغیب مستحسن بھی ہے اور ضروری بھی ، ’ نعت رنگ ‘ نے اسی نقد و جائزہ کی سہولت فراہم کی ہے تاکہ ’ جہان نعت ‘ کو تقدس کا سایہ حاصل رہے ، ’نعت ‘ جذبات ِ محبت کی امین بھی رہے اور ادبی وقار و عظمت کی حامل بھی ، یہ سہولت ہی قلم کاری کی محرک بنی ا ور مختصر دورانیے میں اہم پیش رفت ہوئی ، ایسے ایسے مقالات زینت ِ قرطاس بنے جن سے شوق فراواں ہُوا ، دِینی حلقوں میں ادبی رجحانات کی نمود ہوئی تو ادبی حلقوں میں دِینی تقاضوں سے مانوسیت ہویدا ہوئی ، اصلاح کی خواہش نے ترجیحات کے تعین میں راہ نمائی کی جس سے ادبی ذوق بھی نکھرنے لگا -

    ====================صفحہ: ۳۵=======================​
    پیش رفت تیز ہو اور رُکے ہوئے جذبات کو اظہار کے مواقع فراہم ہوں تو لغزشوں کا خطرہ بھی ہوتا ہے ، اس لیے تہذیب آشنا رکھنے کی کوششیں بھی ضروری ہوتی ہیں ، ’’ نعت رنگ ‘‘ کے معاونین نے یہ مرحلہ بھی پورے وقار کے ساتھ طے کیا ہے ، مضامین کی صورت میں آراء کی تقویم کا سلسلہ شروع ہُوا جس سے ’ مالہ وما علیہ ‘ کا ہر انداز سامنے آیا ، بعض قارئین نے ’ خطوط ‘ کا سہارا لیا اور ان کے ذریعے اپنے خیالات کو ’ نعت رنگ ‘ میں شامل کیا ، عموماً ’ خط ‘ تحسین و تشکر کے غماز ہوتے ہیں یا کبھی کسی ایک نکتے یا پہلو کی وضاحت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر جناب مولانا کوکب نورانی نے اپنے خطوط کو علمی مباحث اور تحقیقی کاوش کا مرقع بنادیا جس کا انتظار ہونے لگا ، مکتوبات سے اصلاح کی خواہش ماضی میں بھی ہوتی رہی حتی کہ بعض مکتوبات تو سنجیدہ فکری تحریک کے حامل ٹھہرے ، مولانا کا ارادہ بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مگر ایک مشکل ضرور ہے کہ ان خطوط میں ’ ’ نعت رنگ ‘‘ میں شامل تمام مضامین کا احاطہ مقصود بنا ہے ، اس سے موضوع پر گفتگو میں تشنگی کا احساس بھی ابھرتا ہے ، کیا ہی اچھا ہوتا مولانا کوکب نورانی مقالہ نگاری پر توجہ دیتے اس لیے کہ ان کے ہاں علمی پختگی بھی ہے اور ادبی ہوش مندی بھی ، اس خواہش کے باوجود مجھے اعتراف ہے کہ مولانا کے خطوط قاری کی توجہ جذب کرتے ہیں اور ان طویل خطوں سے قاری لطف اندوز بھی ہوتا ہے اور علمی طور پر بہرہ مند بھی -
    مولانا نے ’ نعت رنگ ‘ کے دوسرے شمارے میں اپنے تأثرات کا پہلا اظہار یوں کیا تھا :
    ’’ آپ نے تأثرات چاہے ہیں ، خوش بو پہنچانے والے کو دعا دی جاتی ہے ، پھول سجانا اور ان کی مہک عام کرنا ہر کسی کا حصہ نہیں - اللّٰہ کریم آپ کی اس سعادت میں برکت فرمائے - ‘‘
    اس پہلے تأثر کے بعد مولانا کا اشہب ِ قلم سر پٹ دوڑا ہے ، تقریباً ہر شمارہ ’’ ان کی آراء سے آراستہ ہے ، مولانا بات کہنے میں بھرپور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، ان کا ذوق ، تعریف و توصیف کے دورانیہ میں بھی ناپسندیدہ بات پر گرفت کرنے سے خائف نہیں رہتا ، ترجمہ میں ستم ہو یا اصطلاح میں کوتاہی کا احساس ، مولانا برملا اظہار کرتے ہیں ، استدلال ہمہ جہتی مگر پُرجوش ہوتا
    ====================صفحہ: ۳۶=======================​
    ہے ، ہر وہ لفظ یا جملہ جو قرینے کا حامل نہ ہو یا جس سے عظمت ِ رسول ﷺ میں کسی تخفیف کا اشارہ بھی ملتا ہو ، مولانا کی باریک بینی سے اوجھل نہیں رہتا ، محاسبہ کرنے میں دلیر ہیں اور ( دلائل سے )مسلح بھی ، محاسبہ میں جدلیت کا رنگ بھی ہے مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدلیت مقصود بالذات نہیں ، عقائد و نظریات کی ترسیخ مطلوب ہے - اصولی مباحث کے ماہرانہ حوالوں سے خط کو علمی نگارش بناتے ہیں ، مولانا کی طبیعت میں عقیدت و محبت کی پُرجوش فراوانی ہے ، ذوق پر ’ سپاس گزاری ‘ کی چھاپ گہری ہے ، عظمت ِ رسالت کے حوالے سے ہر ہر لفظ پر نظر رکھتے ہیں اور اگر کبھی رفعت شان کا احساس ، مکمل سپر اندازی کا مظہر نہ ہو تو مولانا کے وجود پر لرزش طاری ہوجاتی ہے ، پھر وہ بے تکان لکھتے ہیں اور اپنے ایمانی جذبوں کی تسکین تک رواں رہتے ہیں ، یہ بلاشبہ مولانا کے صدقِ یقین اور غیرت ِ ایمانی کا مرحلہ ہوتا ہے - ان کے نزدیک اس درِ رحمت پر آزادئ فکر نہیں پابندئ فکر ضروری ہے-
    مولانا کوکب نورانی نے اپنے خطوط میں بڑے نازک مباحث کا ذکر بھی کیا ہے ، وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے حوالے سے مولانا کی رائے اور تبصرہ بڑا متوازن ہے - قصیدہ بُردہ پر ڈاکٹر یحیٰی نشیط کی تحریر پر مولانا کا تبصرہ خوب صورت ہے - حضرت آمنہ رضی اللّٰہ عنہا کے ذکر پر مولانا کا قلم جس طرح سراپا سپاس ہے اس سے ان کے دل کی کیفیات کا اندازہ ہوتا ہے - اگرچہ مولانا نے اپنی جس کتاب کا حوالہ دیا ہے وہ مجھے دست یاب نہ ہوسکی مگر خط کی ہر سطر مہک رہی ہے - مولانا کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اپنی بات کہنے کا سلیقہ حاصل ہے ، ’ اختیارِ کلمات ‘ کا حسن ان کی تحریروں کو مہکا رہا ہے - مولانا جب استدلال کی قوت بروئے کار لاتے ہیں تو ان کا جلال دیدنی ہوتا ہے - دِینی ادب پر ان کی نظر بڑی مستقیم ہے ، معاصر ادب سے بھی آگہی آشکارا ہے - یہی وجہ ہے کہ ’ نعت رنگ ‘ کے اصحاب ِ علم و دانش ان کے حوالے دینے لگے ہیں - پیر زادہ اقبال احمد فاروقی صاحب لکھتے ہیں :
    ’’ ایک خط مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی کا چھپا ہے ، خط کیا ہے ؟ ایک مضمون ہے ، ایک انشائیہ ہے ، ایک اعترافیہ ہے ، ایک مستقل مقالہ ہے ، پھر ناقدانہ مرقع ہے - ‘‘ ( نعت رنگ ، شمارہ
    =====================صفحہ: ۳۷======================​
    ۱۲ ، ص ۴۲۷ )
    حافظ عبدالغفار حافظ کے خط میں ظہیر غازی پوری کے بعض اعتراضات کا جواب لکھا گیا ، آخر میں کہتے ہیں :
    ’’ اب رہا معنوی اعتبار سے اعلیٰ حضرت کے ان اشعار کے قابلِ گرفت ہونے اور حصارِ نعت میں آنے کا معاملہ تو مَیں عرض کردوں کہ مَیں عالمِ دِین نہیں اس لیے اس کا جواب نہیں دے سکتا ، تاہم مجھے قوی امید ہے کہ حضرت مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی صاحب اس پر ضرور خامہ فرسائی کریں گے اور ظہیر غازی پوری صاحب کے افلاس علم کو ظاہر کردیں گے - ‘‘ ( نعت رنگ ، شمارہ ۱۲ ، ص ۴۳۷ )
    یہ اعتراف ِ عظمت ہے کہ نظریں مولانا کوکب نورانی کی طرف اٹھنے لگی ہیں - یہ مولانا کی اس خود سپردگی کافیض ہے جو انہیں دربارِ گہربار میں با ادب حاضر ہونے کی تحریک دیتا ہے - نقد و تبصرہ میں قلم کیسا ہی مشّاق ہو جب نگاہ بارگاہِ ادب کی طرف اٹھتی ہے تو مولانا سراپا سپاس ، ہمہ تن ژلہ رُبا ہوتے ہیں ، ان کی اس حالت کا منظر انہیں کی زبان سے سنئے :
    ’’ نعت گو ہوں یا نعت خواں ان کے حوالے سے لکھنے والے یہ یاد رکھیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے ذخیرۂ الفاظ اور مبلغِ علم و آگہی سے رسولِ پاک ﷺ کی شان نہیں بڑھاتا بلکہ کما حقہ کوئی بھی شانِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء بیان بھی نہیں کرپاتا ، نہ ہی کرسکتا ہے ، نہ ہی کسی سے بیان ہوسکتی ہے ، محدث ہو یا فقیہ ، مجتہد ہو یا مفتی ، مدرس ہو یا معلم ، خطیب ہو یا ادیب ، مقرر ہو یا واعظ ، نعت گو ہو یا نعت خوان ، سب کے سب مدح و ثنائے رسولِ کریم ﷺ سے خود اپنا قد بڑھاتے اور عزت پاتے ہیں - ہرخاص و عام کو جو صلاحیت و توانائی ودیعت ہوئی ہے اسے حبیب ِ ربّ العالمین ﷺ کا ذکرِ مبارک کرنے اور ان کی خدمت میں لگادینے اور خود کو ان کے لیے وقف کردینے ہی میں کام یابی اور دارین کی بھلائی ملتی ہے ، اپنی ہی جھولی سعادت و رحمت سے بھرجاتی ہے ، علم وہی اچھا جو ان کا ادب سکھائے ، سمع و بصر وہی اچھی جو ان کی باتیں سُنے اور جلوہ کرے ، گویائی وہی مبارک جو ان کی باتیں کرے ، اس ممدوحِ کائنات ﷺ اور اس کی بارگاہ
    ====================صفحہ: ۳۸=======================​
    کے آداب خود میرے ربّ ِ کریم ، ذی الکبریا و ذی العظمۃ نے تعلیم فرمائے ہیں ، جتنا ارادہ و اختیار بندے کو ملا ہے اس سے وہ محبوب ِ ربّ العالمین ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں ادب ہی نہیں حُسنِ ادب سے باریابی پالے ، اس سے بڑھ کر سعادت و کام یابی کوئی ہو ہی نہیں سکتی - ‘‘ (نعت رنگ شمارہ ، ۱۲ ، ص ۴۰۸)
    یہی وہ جذبے ہیں جو محبت ِ سرکار ابد قرار ﷺ میں وارفتگی عطا فرماتے ہیں ، یہ جذبے ایمان کا حاصل اور عقیدتوں کا محور ہیں ، مولانا کوکب نورانی ان ایمانی جذبوں سے سرشار ہیں - یہ ضرور ہے کہ یہ سرشاری کبھی کبھی اس قدر شدید ہوجاتی ہے کہ دائیں بائیں رستا خیز کا ہنگام بپا کردیتی ہے - ’’ نعت رنگ ‘‘ ایسی رزم آرائیوں کا متحمل ہوسکے گا ؟ یہ سب کے لیے سوچنے کا مقام ہے ، مجھے تسلیم ہے کہ بعض مقالہ نگار بلا جواز ایک خاص کمیں گاہ میں بیٹھ کر نشانہ لگاتے ہیں جس پر ’ محافظ ناموس ‘ مضطرب ہوجاتے ہیں - مولانا عشق و محبت کے نقیب ہیں اور محبت کرنے والوں میں غیرت بھی ہوتی ہے اور یک سوئی بھی کہ محبت شراکت برداشت نہیں کرتی ، یہ خواہش ضرور ہے کہ خط ، نامۂ محبت رہیں تاکہ زیادہ اثر آفریں رہیں ، اپنا یقین و ثبات کسی دوسرے کے بارے میں شک کی آب یاری نہ کرے ، اصلاح کی کوشش افتراق کا سبب نہ بنے کہ یہی اہلِ محبت کا امتیاز ہے - اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب ِ مکرم ﷺ کے صدقے ، محبتیں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے - مَیں مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی کے صدقِ مقال کو سلام پیش کرتا ہوں اور مستقبل میں ان سے علمی و تحقیقی میدان میں بیش بہا کارناموں کی امید رکھتا ہوں -

    پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
    سابق وائس چانسلر
    محی الدین اسلامی یونی ورسٹی ، نیریاں شریف
    وائس چانسلر
    انڈیپنڈنٹ یونی ورسٹی ، فیصل آباد

    =====================صفحہ: ۳۹======================​

    علمائے دِین زیادہ تر تدریس یا خطابت کے مردِ میدان ہوتے ہیں اور اکثر عرصۂ قرطاس و قلم میں داخلے سے گریزاں نظر آتے ہیں - لیکن جو علماء یہ سرحد عبور کرلیتے ہیں ان میں سے بیش تر اپنی موجودگی محسوس کروائے بغیر نہیں رہتے - علامہ شبلی نعمانی ( م ۱۳۳۲ ھ ) سے حضرت مولانا احمد رضا بریلوی صاحب ( م ۱۳۴۰ ھ ) تک دنیائے ادب کو فتح کرلینے والے بہت سے نام ہیں -
    ’’ نعت رنگ ‘‘ میں شائع ہونے والے مضامین ، تنقیدی نہج اور اظہاری زاویوں کے لحاظ سے دنیائے نعت میں بالکل الگ رنگ ڈھنگ اور جُدا ذائقے ( Taste ) کے مضامین تھے تب ہی تو وہ علامہ کوکب نورانی کی خاص توجہ کے مستحق ٹھہرے ! … مولانا ئے موصوف نے ان مضامین کا با عماقِ نظر مطالعہ فرمایا اور اپنے مبلغِ علم ، ادبی ذوق اور مطالعہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان مضامین کے مافیہ (Content ) کا شرعی اور لسانی محاکمہ کیا - اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لئے انہوں نے خطوط نویسی کا میڈیم اختیار فرمایا - علامہ نے خطوط نویسی غالباً اس لیے اختیار فرمائی کہ انہیں ایک ہی تحریر میں مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال میں آسانی رہے اور اس مقصد میں وہ کام یاب نظر آتے ہیں - ’’ نعت رنگ ‘‘ میں مولانا کے خطوط کی مسلسل اشاعت سے یہ تأثر خاصی حد تک کم ہُوا ہے کہ ہمارے علمائے کرام کو شعر و سخن اور نقد ادب سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی - حالاں کہ مولانائے محترم کے تنقیدی اہداف میں میری چند باتیں بھی شامل تھیں تاہم مولانا کا اندازِ بیان مجھے بھلا لگتا تھا - پھر مجھے اس بات کی بھی خوشی تھی کہ نقد ِ نعت کے وظیفے سے اس اقلیم کے اہل الرّائے میں بیداری کی لہر دوڑ رہی ہے ، بقول سحر انصاری ؎
    یاں تو رَدّ ِ عمل ہی تھا ناپید
    کم سے کم لوگ کچھ خفا تو ہوئے

    =====================صفحہ: ۴۰======================​
    مولانا کوکب نورانی کے خطوط سے ان کا تبحر علمی ، ان کی لسانی بصیرت ، ان کا اندازِ تفہیم اور ان کا شائستہ اُسلوبِ نگارش نمایاں سے نمایاں تر ہوئے اور بلا شبہ نعت رنگ کے قارئین کو ہر شمارے میں مولانا کے خط کا انتظار رہنے لگا - ان مکتوبات کے مندرجات سے تو اختلاف کی گنجائش ہے - لیکن مولانا کوکب کے اخلاصِ نیت پر شبہ کی گنجائش قطعی نہیں ہے - انہوں نے جو محسوس کیا بلا کم و کاست حو ا لۂ قرطاس کردیا -
    ادبی تحریروں میں عموماً اظہار کی خوب صورتی اور بیان کی لطافتوں کا خیال رکھا جاتا ہے … اس لیے ادب کے قارئین کو تو وہ تحریریں مسحور کرلیتی ہیں لیکن مذہبی مزاج کے لوگوں او رعلمائے دِین کے لیے بعض جملوں کو ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے - وہ حسن بیان اور لطافت ِ احساس کو سراہتے تو ہیں لیکن الفاظ کے در و بست اور جملوں کی ساخت میں کہیں شرعی و فقہی اعتبار سے کوئی رعایت رَوا نہیں رکھتے - ان خطوط سے ادباء و نقادان فن ادب اور ایک عالمِ دِین کے زاویہ ہائے نگاہ کا فرق بھی واضح ہوتا ہے -
    ان خطوط سے نعت گو شعراء بھی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں اور ان کے اصل مخاطب ، نقادانِ سخن بھی - کیوں کہ مقامِ رسالت ، مقصد ِ بعثت ِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام اور جذبۂ محبت ِ رسول ﷺ کے اظہار کے آداب کے شرعی پہلوؤں سے جتنے علمائے دِین واقف ہوتے ہیں اتنے ادب کے عام قاری اور لکھاری ہوہی نہیں سکتے ! مولانا کی خوبی یہ ہے کہ وہ مطالعے کے دوران میں کسی تحریر کے متن (Text ) کے بین السطور مفہوم تک جلد رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور لفظ کے مختلف لَو نی عکس (Shades ) دیکھ لیتے ہیں - نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ چوں کہ بڑا نازک موضوع ہے اس لیے اس موضوع کی نزاکتوں کے حوالے سے قلم بند ہونے والے احساسات ، جذبات اور خیالات بھی تطہیری عمل کے محتاج ٹھہرتے ہیں … اس لیے مولانا ان اظہاریوں پر بھی محاکمہ فرماتے ہیں اور بسا اوقات اتنی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے -
    کسی ادبی تحریر پر جناب کوکب نورانی کی گرفت دیکھ کر محسوس ہوتا ہے وہ فکری جست
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  5. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: ۴۱=====================
    سے لفظوں کی بلند معنویت کو بھی چھولیتے ہیں اور اپنی غواص طبیعت کے ذریعے الفاظ کے دلوں میں بھی اُتر جاتے ہیں- اتنی ریاضت کے بعد وہ ادیبوں اور نقادوں کو ان کے تسامحات سے آگاہ فرماتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنے قاری کو معنیاتی نگار خانے میں پہنچادیا ہو جہاں عرفی کے ایک شعر کے مختلف النوع عکس مُصَوَّر نظر آنے لگتے ہیں ؎

    عرفی مشاب ایں رہِ نعت است نہ صحراست
    آہستہ کہ رہ بردم تیغ است قدم را
    خطوط کے اس مجموعے کے لیے کسی علمی سند یا توصیفی تقریظ کی ضرورت تو قطعی نہیں ہے تاہم میری یہ چند سطور مولانا کوکب نورانی کے حوالے سے میرے دل میں موجزن راست جذبات کی عکاسی کرنے کے لیے ہیں -
    ’’ جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے ‘‘
    اور یہ مو لانا کی تحریر کا سحر حلال ہی تو ہے جس نے مجھے مسحور کرلیا - اصل تاثیر تو تپشِ عشق نبوی (علیٰ صاحبہاالصلوۃ والسلام ) کی ہے - میری اس تحریر سے یہ بھی متبادر ہوگا کہ نیک نیتی سے اظہار میں آنے والے علمی اختلافات سے دلوں میں کشادگی پیدا ہوتی … تنگ نظری نہیں !

    عزیز احسن
    یکم ذی قعدہ ۱۴۲۳ ھ
    اتوار - 5 جنوری 2003ء

    ====================صفحہ: ۴۲=====================
    فاضل نوجوان مولانا کوکب نورانی حفظہ اللّٰہ تعالی نے عظیم والد خطیب ِ عالم اسلام مولانا علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے صحیح نسبی اور علمی وارث اور مسند نشین ہیں، علمی وسعت ، باقاعدہ مطالعہ کی عادت ، اخلاق جمیلہ اور مسلک ِ اہلِ سنّت و جماعت پر پورے تصلب کے ساتھ قائم رہنا یہ وہ اوصاف جلیلہ ہیں جو انہیں اپنے والد گرامی سے ورثہ میں ملے ہیں اور مَیں سمجھتا ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر ورثہ نہیں دے سکتا ، اپنے والد گرامی کی طرح انہوں نے پوری دنیا کو تبلیغی جولانی گاہ بنایا ہوا ہے ۔
    تصنیف و تالیف کے ساتھ ان کا لگاؤ بھی قابلِ قدر ہے ، اسی سلسلے کی کڑی وہ خطوط ہیں جو انہوں نے ’’ نعت رنگ ‘‘ کے ایڈیٹر جناب سید صبیح الدین صبیح رحمانی زید لطفہ کے نام ارسال کئے اور نعت رنگ میں شائع ہونے والے مقالات پر علمی اور اعتقادی حوالے سے معقول اور مدلل تنقید کی ۔ سید صبیح رحمانی نے وہ خطوط اگرچہ آئندہ شماروں میں شائع کردیئے لیکن ان خطوط کی اہمیت اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ انہیں الگ سے شائع کیا جائے ۔ تنقید کا مقصد کسی پر کیچڑ اچھالنا نہیں ہوتا ، صحیح تنقید کا مقصد اصلاح ہوتا ہے ، علامہ کوکب نورانی کی تنقید بھی اسی زمرے میں آتی ہے ، اس لئے ان کے مکاتیب کی اشاعت دل آزاری کا باعث نہیں بلکہ سامانِ راہ نمائی ہے ۔
    اللّٰہ تعالی علامہ کوکب نورانی اور سید صبیح رحمانی کو اس عمل صالح پر جزائے خیر عطا فرمائے ، آمین

    محمد عبدالحکیم شرف قادری
    ۳ / ذی الحجہ ۱۴۲۴ ھ دارالعلوم نظامیہ ۔ لاہور

    ====================صفحہ: ۴۳=====================
    مکاتیب

    مکتوب ِ اوّل ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 2 )
    مکتوب ِ دوم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 4 )
    مکتوب ِ سوم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 5 )
    مکتوب ِ چہارم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 6 )
    مکتوب ِ پنجم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 8 )
    مکتوب ِ ششم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 9 )
    مکتوب ِ ہفتم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 11 )
    مکتوب ِ ہشتم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 12 )
    مکتوب ِ نہم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 13 )
    مکتوب ِ دہم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 15 )
    مکتوب ِ یازدہم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 16 )
    مکتوب ِ دوازدہم ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 17 )

    ====================صفحہ: ۴۴=====================
    مکتوب ِ اوّل ، ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 2 )

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

    محب محترم جناب سید صبیح الدین رحمانی زید مجدہٗ - سلام مسنون

    اللّٰہ کریم جلّ شانہ اپنے حبیب ِ کریم ﷺ کے صدقے ہم سب کو مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت پر استقامت اور دارین میں عفو و مغفرت سے نوازے ، آمین
    ’’ نعت رنگ ‘‘ ( تنقید نمبر ) مجھے ملا ، بہت شکریہ - ورق گردانی کرتے ہوئے اندازہ ہُوا کہ صرف اسے دیکھنا کافی نہیں، حرف حرف پڑھنا ہوگا … اس میں اعلیٰ مضامین اور تاریخی حقائق نظر آئے اور نعت نگاری میں ذم کے پہلو کے عنوان سے تنقید کا سلسلہ اچھا لگا ، حالاں کہ اسے پوری طرح دیکھا نہیں … غوث میاں نے میرے والد صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی مرتّبہ ’’ نغمۂ حبیب ‘‘ کا ذِکر کیا ، جسے ’’ نعت کائنات ‘‘ وغیرہ والے جانے کیوں نظر انداز کرگئے … اس میں صرف یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ’’ نغمۂ حبیب ‘‘ 1960ء سے قبل طبع ہوئی تھی ، غالباً غوث میاں نے اس کا تیسرا اڈیشن دیکھا ہوگا اور ’’ نغمۂ حبیب ‘‘ نے ایک مقتدر عالم دِین کی طرف سے نہ صرف ایک جامع انتخاب کی ضرورت کو پورا کیا بلکہ نغمۂ حبیب نے نعت خوانی کے فروغ میں جو کلیدی کردار ادا کیا اسے تسلیم نہ کرنا بلاشبہ حقائق سے چشم پوشی شمار ہوگا … نعت خوانی کے فروغ اور خواص و عوام میں اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی کی علمی فقہی مرتبت اور ان کے کلام و شخصیت سے متعارف کروانے میں ابا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی خدمات ناقابلِ تردید حقیقت ہیں … ’’ نغمۂ حبیب ‘‘ میں عمدہ اضافہ کے ساتھ طباعت کی خوبیوں سمیت اشاعت کا سودا سر میں سمایا ہُوا ہے ، متعدد احباب سے تعاون کی درخواست کی لیکن ، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا والا معاملہ ہے -
    مجھے صرف عمدہ و منتخب مجموعے مطلوب تھے اس سے زیادہ تعاون چاہا ہی نہیں …
    ====================صفحہ: ۴۵=====================
    وعدے سبھی نے کیے اور سبھی نے پورے نہیں کیے ، آپ کے اس مجلے سے کچھ مجامیع کی آگہی ہوئی ہے شاید وہ مجموعے مجھے میسر ہوجائیں اور مَیں اپنے ذوق کی تکمیل کرسکوں -
    محترم سید آلِ احمد رضوی کا مضمون سرسری دیکھا ، انہوں نے واقعی محنت کی ہے - آپ کو اس قدر عمدہ مجلے کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللّٰہ کریم آپ کی اس محنت اور محبت کو قبول فرمائے اور محبانِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کے لئے بار آور بنائے - آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین
    آپ نے تأثرات چاہے ہیں ، خوش بو پہنچانے والے کو دعا دی جاتی ہے ، پھول سجانا اور ان کی مہک عام کرنا ہر کسی کا حصہ نہیں ، اللّٰہ کریم آپ کی اس سعادت میں برکت فرمائے ، آمین

    والسلام
    المرقوم : یکم رجب ۱۴۱۶ ھ فقیر : کوکب نورانی اوکاڑوی غفرلہ


    ====================صفحہ: ۴۶=====================
    مکتوب ِ دوم ، ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 4 )

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

    محب محترم جناب سید صبیح الدین رحمانی زید مجدہٗ - سلام مسنون

    اللّٰہ کریم جلّ شانہ اپنے حبیب ِ کریم ﷺ کے صدقے ہم سب کو مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت پر استقامت اور دارین میں عفو و مغفرت سے نوازے ، آمین
    ایک مدت کے بعد آپ سے گرامی قدر سید نسیم احمد صاحب زیدی قادری کے ہاں سالانہ گیارہویں شریف کی محفل میں ملاقات ہوئی - آپ نے اپنے مجلے ’’ نعت رنگ ‘‘ کے دو شمارے عطا کئے - شکریہ ، جزاکم اللّٰہ - ایک مجلہ میں آپ نے اپنے نام میرے پہلے خط کو اشاعت میں شامل کیا - مہربانی - اس میں کمپوزنگ یا پروف ریڈنگ کی وجہ سے املا وغیرہ کی کچھ غلطیاں تھیں ، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایسی غلطیاں مخالفین کے لئے بہت ’’ اہمیت ‘‘ رکھتی ہیں ، حالاں کہ اہلِ فہم جان لیتے ہیں کہ کون سی غلطی تحریر کی ہے اور کون سی طباعت و کتابت کی ہے - آپ اتنے بڑے کام کو سر انجام دے رہے ہیں اور تنہا ہر کسی شعبے کی پوری طرح نگرانی کوئی کھیل نہیں ، یقینا آپ کوشش کرتے ہوں گے کہ ہر طرح خیال رکھیں اور یہ فقیر اپنی تصانیف اور تقاریر میں اس بات کو دُہراتا رہا ہے کہ دانستہ یا نادانستہ کوئی کوتاہی ہوجائے تو اس پر طالب ِ عفو ہوں - مجھے غلط کو صحیح ثابت کرنے کی مذموم سعی سے کوئی شغف نہیں ، اللّٰہ کریم سے یہی دُعا ہے کہ وہ راہِ حق پر مستقم رکھے اور ہر غلطی اور غلط سے بچائے ، آمین -
    آپ نے فرمایا کہ یہ فقیر آپ کے مجلے کے مندرجات کے بارے میں شرعی و مسلکی نقطۂ نگاہ کے حوالے سے آپ کا معاون ہو - آپ کی اس خواہش پر خوشی ہوئی لیکن خود کو اس قابل نہیں پاتا اور سچ یہ بھی ہے کہ خود اتنا گِھرا ہُوا ہوں کہ وعدہ بھی نہیں کرسکتا ، تاہم آپ سے جو تعاون
    ====================صفحہ: ۴۷=====================
    کرسکا اسے اپنے لئے نیکی سمجھوں گا -
    سرسری طور پر دونوں شمارے دیکھتے ہوئے نعت رنگ سوم میں ’’ نعت خوانی کے آداب اور اصلاحِ احوال و متعلقات ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر افضال احمد انور کی تحریر پڑھی ، اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کے بارے میں یہی کہوں گا کہ یہ عمدہ کاوش ہے جس کی بہت ضرورت تھی ، حالاں کہ اس تحریر کی کچھ باتوں سے اتفاق نہیں کرتا - کچھ عبارات کے ترجمے محلِ نظر ہیں اور کچھ احباب کے بیانات ان کے اپنے عمل سے متضاد ہیں - حضرت پیر مہر علی شاہ اور مولانا احمد رضا خان کو مجذوبانِ رسول ﷺ کی حیثیت دی گئی ، جانے یہ ’’ رعایت کس سوچ کی وجہ سے ہے ؟ اور لفظ تُو تم ، تیرا کونا درست قرار دینے کی بنیاد کیا ہے ؟ اُردو میں آپ کا لفظ ہے مگر اللّٰہ کریم کے لئے استعمال نہیں ہوتا اور تو تم تیرا کو اللّٰہ کے لئے نا درست کیوں نہیں مانا جاتا ؟ سگریٹ اور پان کو ایک ہی درجے میں کیوں شمار کیا گیا ؟ ما دعا للّٰہ داع کا ترجمہ درست نہیں کیا گیا - نوٹ نچھاور کرنے کو مجرے کے انداز سے مشابہت دینا درست نہیں - بایں ہمہ یہ مضمون اچھا ہے اور اس شعبے سے وابستہ ہر شخص کو بہت تحمل سے اسے پڑھنا ، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے - اس ایک شخص کے ادارے میں سالانہ محفلِ نعت کے انداز کو کیوں قابلِ تقلید قرار دیا گیا ؟ جب کہ اسی تحریر میں ہے کہ آقائے نام دار ﷺ اپنے ثناء خواں کے لئے اندھیرے میں نہیں ، اُجالے میں مسند لگواتے تھے اور اپنے ثناء خواں کو انعام سے بھی نوازتے تھے وہ بھی سب کے سامنے …
    نعت گو اور نعت خواں ہر دو کے بارے میں تحریریں خوب ہیں - آپ نے انفاس العارفین میں درج وہ واقعہ نہیں دیکھا جو حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی نے بیان کیا ہے جسے حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی نے تحریر کیا ہے ، اس فقیر نے اسے اپنی کتاب ’’ مزارات و تبرکات اور ان کے فیوضات ‘‘ میں نقل کیا ہے - اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات ’’ سماع ‘‘ کے بارے میں کیا احوال رکھتے تھے … علاوہ ازیں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ وہ وقت آسکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے مگر وہ وقت نہیں آسکتا کہ رسولِ کریم ﷺ کی تعریف کرنے اور دُرود و سلام ان پر بھیجنے والا کوئی نہ رہے … اس لئے کہ مخلوق کو فنا ہے مگر خالق کو نہیں
    ====================صفحہ: ۴۸=====================
    اور اللّٰہ کا فعل اس کے ساتھ ہے - اللّٰہ کی کوئی ابتداء و انتہا نہیں - اللّٰہ کی عبادت صرف مخلوق کرتی ہے اور حبیب ِ کریم ﷺ پر دُرود خود اللّٰہ بھیجتا ہے ، اس لئے نبی کی نعت اور دُرود و سلام کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا … آپ اس تحریر میں ص ۱۷۰ پر درج جناب منظور الکونین کے الفاظ شائع نہ کرتے تو بہتر تھا ، اگر کہیں اور سے نقل کیے گئے ہیں تو بھی قابلِ اصلاح ہیں … باقی تحریروں کے بارے میں مطالعے کے بعد کچھ عرض کروں گا - آپ کے لئے دل سے دعا ہے کہ اللّٰہ کریم آپ کو صدق و خلوص سے اس نصب العین پر قائم رکھے اور آپ کی ہر طرح مدد فرمائے ، آمین



    ====================صفحہ: ۴۹=====================
    مکتوب ِ سوم ، ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 5 )

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

    محترم جناب سید صبیح الدین رحمانی زید لطفہ - سلام مسنون

    اللّٰہ کریم جلّ شانہ اپنے حبیب ِ کریم ﷺ کے صدقے ہم سب کو مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت پر استقامت اور دارین میں عفو و مغفرت سے نوازے ، آمین
    گرامی قدر حضرت شکیل عادل زادہ نے مہینا بھر پہلے بتایا تھا کہ انہوں نے نعت رنگ نمبر ۴ میں میرا خط پڑھا ، مجھے اس وقت تک اس کی اشاعت کی خبر نہ تھی - آپ نے انہیں یہ تازہ شمارہ مہینا بھر پہلے پہنچایا ہوگا مگر آپ نے مجھے نعت رنگ کا شمارہ دو روز قبل بھجوایا ، بہت شکریہ - نور کی بہار کے مقدس مہینے میں محافلِ میلاد کی کثرت ہے اور اس ذکر سے میرے شغف کا احوال آپ پر عیاں ہے - ایسے میں سطر سطر آپ کا یہ شمارہ تو نہ پڑھ سکا مگر یہ میرے سرہانے رہا اور مَیں نے ہر اس لمحے میں اسے دیکھا جو مجھے میسر ہُوا - رشید وارثی صاحب نے اس تحریر پر خوب لکھا جس کے بارے میں میرے مطبوعہ خط میں صرف کچھ اشارے تھے - جناب ابوالخیر کشفی کی تحریر میں ’’ شب ِ اسرا کے دولہا ‘‘ کے الفاظ ص ۴۶ پر ہیں جو انہوں نے شاید (نعت میں ) معترضہ بتائے ہیں ، کیا مَیں ایسا سمجھا ہوں یا کشفی صاحب نے واقعی معترضہ بتائے ہیں ؟ اگر ان کے نزدیک معترضہ ہیں تو کیوں ہیں ؟ جاننا چاہوں گا - ص ۵۰ پر ہے کہ ’’ اس لئے بہت سے صاحبان ’’ اللّٰہ ‘‘ کے لفظ پر اصرار کرتے ہیں اور خدا کے لفظ کے استعمال سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ خدا کی جمع خداؤں استعمال ہوتی ہے - ‘‘ اس حوالے سے عرض ہے کہ لفظ ’’ خدا ‘‘ اللّٰہ تعالی کا نام نہیں ہے ، خدا حافظ (وغیرہ ) کہنا جائز ہے مگر ’’ اللّٰہ ‘‘ کہنے پر ثواب ہوتا ہے ، چالیس نیکیاں ملتی ہیں اور مومن کو ثواب کی طلب و خواہش بد ِ یہی بات ہے - ص ۴۸ پر اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے دو
    ====================صفحہ: ۵۰=====================
    اشعار لکھے ہیں ، ان کے بارے میں بھی سمجھ نہیں سکا کہ کشفی صاحب کا اعتراض کیاہے ؟ علاوہ ازیں جسمانی یک جائی اور شب ِ اسراء کے حوالے سے کس نے کہا ہے ؟ راجا رشید محمود کا جو شعر ہے اس میں بھی غالباً یہ بات نہیں ہے ( یہ شعر اسی صفحے پر ہے ) ص ۱۳۳ پر راجا رشید محمود صاحب مدیر ماہ نامہ نعت لاہور کے ایک اداریے کے کچھ جملے ہیں اور ان میں کچھ الفاظ ضرور قابلِ اصلاح ہیں ، ہوسکتا ہے انہوں نے کسی کیفیت کے اثر میں یہ اداریَہ لکھا ہو ، میرے نزدیک ہمارا ایمانی تشخص بہت اہم اور عظیم ہے - غیر مسلم ، میرے محبوب ِ کریم ﷺ کی مدح میں کیسا اور کتنا ہی رطب اللسان کیوں نہ ہو ، وہ کسی مومن کے برابر نہیں ہوسکتا ، بڑا یا بہت بڑا ہونا تو دُور کی بات ہے - اور یہ الفاظ بھی مجھے تو کسی غیر مسلم یا بدمذہب کے لئے گوارا نہیں کہ ’’ میرا سر تو ہر اس شخص کے آگے مستقلاً خم سمجھیں جو اپنا سر میرے سرکار ﷺ کی بارگاہ میں جھکاتا ہے ، وہ کوئی بھی ہو - ‘‘ پروفیسر محمد اقبال جاوید کی دو تحریریں اس شمارے میں ہیں - فرماتے ہیں : ’’ حقیقت یہ ہے کہ جس نے حضور ﷺ کے بارے میں مبالغے سے کام لیا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے - ‘‘ ( ص ۱۷۹ ) پروفیسر صاحب نے اپنے جملے کو واضح نہیں کیا ، انہیں یہ فرمانا چاہیے کہ ایسا مبالغہ جو غلط ہو ( یعنی شرعی حدود سے باہر ہو ) ورنہ شانِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کی کوئی حد ہی نہیں - امام بوصیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ؎
    فان فضل رسول اللّٰہ لیس لہ حدٌ فیعرب عنہ ناطق بفم
    ص ۱۸۱ پر پروفیسر اقبال جاوید صاحب لکھتے ہیں :- مَیں بعد توبہ و استغفار لکھتا ہوں کہ قرآنِ مجید میں موسیقیت کی جو شان … ‘‘ یہ الفاظ بعد توبہ و استغفار کے بھی یوں صحیح نہیں بلکہ یوں ہوسکتے ہیں کہ قرآن مجید کی تلاوت پر موسیقیت کی ہر شان بھی قربان - پروفیسر صاحب نے ۱۸۲ پر لکھا ہے کہ : ’’خیال رہے کہ نعت ذراسی بے احتیاطی ( بزعم خویش عقیدت ) سے حمد بن جاتی ہے … ‘‘ عرض کرنا چاہوں گا کہ حمد کا لفظ رسولِ پاک ﷺ کے لئے منع تو نہیں ہے ان کا تو اسمِ گرامی ہی ’’ محمد ‘‘ ( ﷺ ) ہے جس کا مادّہ ہی حمد ہے- وہ شاید مروّج اصطلاح میں مراد لیتے ہوئے فرمارہے ہیں البتہ انہوں نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ حضور ( ﷺ ) کو ان
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  6. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: ۵۱=====================​
    کے مرتبے سے گرادینا ، اپنے ایمان کو ختم کرلینا ہے اور مرتبے سے بڑھادینا شرک ہے ، ( مرتبے سے بڑھادینا ، یعنی خدا کا شریک یا اس کے مثل یا ہمسر قرار دینا ) -ص ۱۸۵ پر رشید وارثی صاحب نے اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی کا ایک شعر لکھ کر لفظ ’’ یار ‘‘ کے بارے میں جو وجہ لکھی ہے اس پر تعجب ہُوا - پروفیسر محمد اقبال جاوید صاحب نے غالب کی نعتیہ غزل کے عنوان سے ص ۲۱۲ پر غلام احمد پرویز کے ساتھ ’’ مرحوم ‘‘ کا لفظ جانے کیسے لکھ دیا ؟ اور حیرت و افسوس کہ ان کا حوالہ نعت کے حوالے سے ان کی تعریف کے ساتھ پیش کیا -آں جہانی پرویز نے رسولِ اکرم ﷺ کی جو گستاخیاں کی ہیں اور علمائے دیوبند نے بھی اس شخص کے بارے میں تکفیر کے فتاوٰی شائع کیے اس کے بعد اس شخص کی ایسی تعریف اور حوالے کا بیان قابلِ گرفت ہے -
    ص ۳۱۳ پر احمد صغیر صدیقی صاحب نے اپنے مکتوب میں ’’ مولائے کل ، آقائے دو جہاں - سرکارِ دو عالم ‘‘ کے القاب رسولِ کریم ﷺ کے لئے تسلیم نہیں کیے ، وہ فرماتے ہیں کہ یہ : ’’ تمام القاب مجھے ربّ ِ رحمان و رحیم کے محسوس ہوتے رہے ہیں - ‘‘
    احمد صغیر صاحب سے عرض ہے کہ زبان سے کہنا اور قلم سے لکھنا دونوں احتیاط سے مشروط ہیں اور قلم اٹھانے سے پہلے کچھ زیادہ احتیاط لازم ہے -علم کے مطابق فہم اور فہم و علم میں توازن و مطابقت نہ ہو تو اعتراض پیدا ہوتا ہے - علم و فہم میں کسی ایک کی کمی ہی اعتراض و اختلاف کی بنیاد بنتی ہے یا پھر حقائق سے چشم پوشی پر اعتراض و اختلاف ہوتا ہے - احمد صغیر صاحب آیات ِ قرآنی میں یہ القاب رسولِ کریم ﷺ کے لئے ملاحظہ فرماسکتے ہیں ، وہ اعتراض کی بجائے استفسار کرلیتے- نبی پاک ﷺ کی تو شان بہت ہی بلند ہے - سیدنا غوث ِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا فرمان ہے ’’ وانا شیخ الکل ‘‘ - احمد صغیر صاحب شاید یہاں بھی کچھ اور ہی محسوس کریں گے - انہیں چاہیے کہ وہ مولا ، سرکار اور آقا کے معانی و مفاہیم کو جانیں اور سمجھیں اور لفظ ’’ کُل ‘‘ کے بارے میں محض اپنے فہم کو سب کچھ نہ سمجھیں - دیوبند کے علماء کے ساتھ ’’ مطاع العالم اور مطاع الکل ‘‘ کے القاب لکھے گئے ہیں حالاں کہ ان کے لئے کسی طرح یہ القاب درست نہیں ، خواہ وہ کتنی تاویلیں کیوں نہ کریں …

    ====================صفحہ: ۵۲=====================​
    احمد صغیر صاحب کی تسلی کے لئے آیات و احادیث پیش کرسکتا ہوں ، ضرورت ہو تو وہ رابطہ فرمائیں - وہ لفظ ’’ مولانا ‘‘ پر بھی غور فرمائیں ، قرآنِ کریم میں انت مولانا اور ھو مولانا کے الفاظ اللّٰہ تعالی کے لئے ہیں ، پھر ہر داڑھی والے کو مولانا کیوں کہہ دیا جاتا ہے ؟ سورۂ تحریم میں ہے : فان اللّٰہ ھو مولاہ و جبریل و صالح المومنین ، قرآن میں ’’ کُل ‘‘ کا لفظ ۳۲۵ سے زائد مرتبہ آیا ہے - کلاّ ۱۵ مرتبہ- کلّہ ۷ مرتبہ - کلّہا ۵مرتبہ - کلّہم ۴ مرتبہ … وہ ذرادیکھیں اور بتائیں ہر جگہ کیا معنی ہیں ؟ انہیں شاید نہیں معلوم کہ ’’ العالمین ‘‘ ماسوی اللّٰہ کو کہتے ہیں ، اس کے آقا و مولیٰ اور سردار و سرکار نبی پاک ﷺ ہی ہیں -
    صبیح رحمانی صاحب ! جس قدر مطالعہ ہوسکا اس کے حوالے سے فوری تحریر پیش کررہا ہوں ، تفصیلاً لکھنے کا یارا نہیں اور محافل و مشاغل کی اس کثرت سے جلد فراغت نہیں ہوگی - اگر کچھ لمحے میسر آئے تو مزید خامہ فرسائی کروں گا - اللّٰہ کریم آپ کے شوق اور جذبے میں برکت فرمائے اور آپ کی کاوشیں مقبول و نافع بنائے ، آمین - کوئی غلطی ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں - اگست کے آخر میں بیرونِ ملک روانگی ہے ، حرمین شریفین حاضری کے بعد وطن واپسی ہوگی … اِن شاء اللّٰہ

    ====================صفحہ: ۵۳=====================​

    مکتوب ِ چہارم ، ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 6 )

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

    محترم جناب سید صبیح الدین رحمانی زیدت محاسنہ - سلام مسنون

    اللّٰہ کریم جلّ شانہ اپنے حبیب ِ کریم ﷺ کے صدقے ہم سب کو مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت پر استقامت اور دارین میں عفو و مغفرت سے نوازے ، آمین
    اس مرتبہ آپ نے خصوصی مہربانی فرمائی کہ سید لائق علی صاحب کے توسط سے نعت رنگ کا نیا شمارہ جاری ہوتے ہی عطا فرمایا - یہی نہیں بلکہ اپنے مجموعۂ کلام اور اوج کے خصوصی نمبر سے بھی نوازا - جزاکم اللّٰہ تعالی - بہت بہت شکریہ -
    تادمِ تحریر صرف چند صفحات دیکھ سکا ہوں ، قلم یوں تھام لیا کہ آپ کی عنایات کا شکریہ ادا کرنے میں مزید تاخیر کا کوئی عذر نہیں تھا -
    عبارت و املا کے حوالے سے کچھ غلطیاں ناگوار گزرتی ہیں جو ہر چند دانستہ نہیں ہوتیں ، کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ میں رہ جاتی ہیں ، تاہم قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ اتنا بہت سا کام ایک شخص تنہا انجام دے تو ایسی کمی رہ جانا بعید نہیں - آپ کی کاوش کو املا و طباعت کی ایسی خامیوں کی وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، آپ کی محنت اور محبت قابلِ قدر ہے - اللّٰہ کریم قبول فرمائے اور اس میں برکت فرمائے ، آمین -
    جناب احمد صغیر صدیقی نے اپنے مکتوب میں مجھے یاد فرمایا ، ان کا شکریہ - خود نمائی و خود ستائی کے کسی شائبے کی بھی گنجائش نہ رکھتے ہوئے عرض گزار ہوں کہ جو کچھ گزرتی ہے اور جس طرح گزرتی ہے اس کی تفصیل جان کر احمد صغیر صدیقی صاحب بھی تسلیم کریں گے کہ احوال اور میرے
    ====================صفحہ: ۵۴=====================​
    بیان میں تضاد نہیں ، یقین مانیے کہ کتنے مسودے تیار ہیں ، پروف ریڈنگ یا نظر ثانی کی مہلت نہیں مل رہی ، ایسے میں کسی مزید ذمہ داری کو قبول کرنا یقینا درست نہیں ہوگا - بایں ہمہ مدح و نعت ِ رسول علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام سے اپنی وابستگی و دل چسپی کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتا ہوں - اللّٰہ کریم مجھے ہمت و توفیق عطا فرمائے اور اہلیت و صلاحیت بھی -
    احمد صغیر صاحب کہاں تو سرکارِ دو عالم ﷺ کے لئے آقا و مولیٰ اور ایسے ہی القاب پر تذبذب کا شکار تھے اور تازہ شمارے میں لفظ ’’ خالق ‘‘ پر کشادہ دلی کا مظاہرہ فرما رہے ہیں یعنی جس لفظ میں گنجائش ہے اعتراض کی بلکہ واضح ہے اس میں وہ تحقیق بھی نہیں چاہتے - علاوہ ازیں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے وجودِ اقدس کے ’’ بے سایہ ‘‘ نہ ہونے کے بارے میں جناب سلیمان ندوی کی تحریر اور دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ندوی صاحب کے دلائل درست ہیں - عرض ہے کہ جناب شبلی نعمانی اور ندوی صاحب کے بارے میں خود ان کے ہم مسلک جناب اشرف علی تھانوی نے جا بہ جا تنقید کی ہے بلکہ سخت اختلاف کیا ہے جو احمد صغیر صاحب کے علم میں شاید نہیں - نبی پاک ﷺ کے وجودِ نوری و مقدس کا سایہ نہ ہونے کے بارے میں علمائے حق کی تحریریں یادگار ہیں جن کا مطالعہ کافی ہوگا ، اِن شاء اللّٰہ - اسی شمارے میں ڈاکٹر یحیٰی نشیط صاحب کے مقالے میں بھی نورِ مجسم شفیعِ معظم حضورِ اکرم ﷺ کے نور ہونے کے بارے میں ’ نور ناموں ‘‘ کے تذکرے میں منفی تأثر پایا جاتا ہے - اس موضوع پر انہوں نے متعدد نور ناموں اور اسی طرح معراج ناموں کا تذکرہ کیا ہے لیکن اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے قصیدۂ معراجیہ اور ’’ نور ‘‘ کے حوالے سے نعتیہ شاعری کا کوئی تذکرہ تک نہیں کیا بلکہ ڈاکٹر یحیٰی صاحب تو میلاد ناموں کے تذکرے میں علمائے اسلام پر اسرائیلی اساطیر کے تتبع کا الزام بھی لگاتے ہیں اور عقیدت کا غلو اِس بات کو فرمارہے ہیں کہ نبی کریم ( ﷺ ) کی والدہ محترمہ کو ایام حمل میں (خواب میں ) انبیائے کرام نے بشارت دی ، وہ بھی جناب شبلی نعمانی کو معتبر جانتے ہیں ، وہ تو پروفیسر نجیب اشرف کی یہ ہر زہ سرائی لکھتے ہوئے نہیں جھجکے کہ : ’’ تولد نامہ ‘‘ میں نبی پاک ﷺ کی ولادت کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ
    ====================صفحہ: ۵۵=====================​
    بڑی حد تک کرشن جی کی ولادت کے حالات کا آئینہ معلوم ہوتے ہیں-‘‘ ڈاکٹر یحیٰی اپنے مضمون ’’ اُردو نعت گوئی کے موضوعات ‘‘ میں ’’ میلاد نامے ‘‘ کے عنوان سے جو کچھ لکھ پائے ہیں وہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ عید میلاد النبی ﷺ منانے کو دل سے قبول نہیں کرتے چناں چہ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
    ’’ نفس ذکر میلاد النبی کو بعض علمائے اسلام صرف باعث ِ خیر و ثواب ہی نہیں بلکہ مستحب و سنّت قرار دیتے ہیں - ‘‘
    اس حوالے سے عرض ہے کہ اس فقیر نے ایک کتاب ’’ اسلام کی پہلی عید ‘‘ کے نام سے اب سے دس برس پہلے لکھی تھی جو اُردو اور انگریزی میں ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، داتا گنج بخش روڈ ،لاہور نے شائع کی ، اسے ملاحظہ فرمالیا جائے - ڈاکٹر یحیٰی صاحب سے عرض ہے کہ ترمذی شریف میں پورا باب ’’ میلاد النبی ( ﷺ ) ‘‘ کے عنوان سے موجود ہے اور یحیٰی صاحب شاید نہیں جانتے کہ بعض علمائے اسلام نہیں ، تمام علمائے حق ، علمائے اسلام ، نفس ذکر میلاد رسول ﷺ اور محفلِ میلاد کو نہایت مبارک اور بڑی سعادت سمجھتے مانتے ہیں - جو نہیں مانتے وہ علمائے اسلام کہاں ہوسکتے ہیں ؟
    نعت رنگ کے اس شمارے میں ص ۵۹ پر ڈاکٹر صاحب نے نہایت شدّت سے یہ جسارت بھی کی ، ان کے الفاظ ہیں :
    ’’ ہمارے نعت گو شعراء نے اس تصور کو بڑی حد تک قبول کیا ہے ، اور اسی کے مطابق عقائد ِ اسلامیہ کو بالائے طاق رکھ کر نعت ِ نبی ﷺ کو جزو ایمان سمجھ لیا ہے ، افسوس کہ علماء و فضلاء بھی اس بدعت ِقبیحہ کے مرتکب ہوئے ہیں - ‘‘
    اس کے جواب میں عرض ہے کہ نعت جزوِ ایمان نہیں بلکہ جانِ ایمان ہے اور عقائد ِ اسلامیہ کو بالائے طاق رکھنے والا مومن نہیں رہتا - ڈاکٹر صاحب نے اسی صفحے پر تین اشعار لکھے ہیں ، انہوں نے ان اشعار کے بارے میں علماء و فضلاء کے بیان اور فتاوٰی ملاحظہ نہیں فرمائے ، کیا یہ سب اشعار کسی صحیح العقیدہ و قابل شخص کے ہیں؟ جب علمائے حق کی طرف سے ایسے اشعار کی
    ====================صفحہ: ۵۶=====================​
    سخت مذمت کی گئی ، اس کے بعد ، ڈاکٹر یحیٰی کا صرف انہی اشعار کو پیش کرتے ہوئے یوں غیر تحقیقی انداز میں تمام علماء و فضلاء او راہلِ علم پر زبانِ اعتراض دراز کرنا ہر گز درست نہیں - مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر یحیٰی صاحب نے انتہائی غیر محققانہ تحریر پیش کی ہے - ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریر میں تمام حوالے صرف ایک مکتب ِ فکر کے علماء کے پیش کئے ہیں - ص ۵۷ پر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :
    ’’ رسالہ برہان دہلی کے سابق ایڈیٹر جناب سعید اکبر آبادی نے بھی لکھا تھا : ’’معراج سے متعلق احادیث ِ صحیحہ میں بھی ضعف پایا جاتا ہے - ‘‘
    یحیٰی صاحب سے پوچھنا چاہوں گا کہ سعید اکبر آبادی صاحب کا محققین میں کیا درجہ ہے ، وہ کس درجہ کے محدث ہیں ؟ کیا اس بارے میں کوئی متفقہ و اجماعی رائے اہلِ علم کی وہ پیش کرسکتے ہیں ؟ کچھ رواج ہوگیا ہے کہ قرآن و حدیث کے بارے میں اپنی رائے کو اہمیت دی جارہی ہے حالاں کہ اس بارے میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں - محدثین و محققین نے جن احادیث کو ضعیف کہا ہے ان کے ضعف کی وجہ بیان کی ہے اور مسائل و فضائل کے بارے میں اصول و قواعد مختلف ہیں - اگر حدیث فی الواقع ضعیف ہو تو وجوب ثابت نہ ہوگا ، استحباب تو ثابت ہوگا اور فضائل میں تو سبھی ضعیف روایات کو بھی قبول کرتے ہیں -
    کسی حکم ، عمل یا بات کے وجوب و استحباب کے اثبات میں محدثین جو حدیث پیش کرتے ہیں ، اس حدیث کا اصطلاحی درجہ بھی بیان کرتے ہیں - حدیث سے ناواقف یا حدیث کو کم تر سمجھنے والے جہلاء وغیرہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ضعیف حدیث سے مراد غلط حدیث ِنبوی ہے جب کہ حدیث ِضعیف کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا - امام ابن ہمام فتح القدیر میں واضح فرماتے ہیں کہ ضعیف کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ حدیث باطل ہوتی ہے ، بلکہ حدیث ِ ضعیف دراصل محدثین کی مقرر کردہ چند شرائط میں سے کچھ پر پوری نہ اترنے والی حدیث کو کہتے ہیں - اسناد میں روایت کے ضعف کے باوجود وہ احادیث صحیح ہی ہو تی ہیں - علمائے دیوبند میں مشہور جناب شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ :
    حدیث جعلی نہ ہو ضعیف ہو تو بھی استحباب ثابت ہوجاتا ہے - والاستحباب یثبت
    ====================صفحہ: ۵۷=====================​
    بالضعیف غیر الموضوع ( مقدمہ فتح الملہم شرح مسلم )
    اور غیر مقلد اہلِ حدیث میں مشہور جناب نذیر حسین محدث فرماتے ہیں : حدیث ضعیف سے جو موضوع نہ ہو ، استحباب و جواز ثابت ہوتا ہے - ( فتاوٰی ثنائیہ بحوالہ فتاوٰی نذیریہ ج ۱ ، ص ۳۱۵ ) -
    نیل الاوطار میں جناب شوکانی بھی فرماتے ہیں کہ ضعیف روایات مل کر بلند مرتبہ ہوجاتی ہیں اور مستحب اعمال میں کام دیتی ہیں -
    یہ وضاحت یوں کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو حدیث کو ضعیف قرار دے کر تضحیک و توہین کرتے ہیں وہ حقائق سے واقف ہوں اور محتاط رہیں -
    صفحہ ۵۹ پر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں : ’’ ثنائے محمدی ﷺ کو ’’ حمد ‘‘ کی شکل میں پیش کرنے کا فن کس قدر مذموم اور ناروا ہے لیکن اُردو کی نعتیہ شاعری کی بڑی مقدار میں یہی اصنامی تصور چھایا ہُوا ہے - ‘‘ ڈاکٹر صاحب سے عرض ہے کہ ثنائے نبی ( ﷺ ) کو حمد کی شکل میں نہیں تو کیا ’’ ذم ‘‘ کی شکل میں پیش کیا جانا چاہیے ؟ اور ’’ اصنامی تصور ‘‘ کے الفاظ تو دریدہ دہنی شمار ہوں گے ، وہ بتائیں کہ بڑی مقدار میں کیا وہ ثبوت پیش کرسکتے ہیں ؟ بلاشبہ نعت ، حمد ِ رسول ﷺ ہے اور نعت و مدح کہنا آسان نہیں لیکن ’’ بڑی مقدار‘‘ کے الفاظ ، ڈاکٹر صاحب کا مبالغہ ہی نہیں مغالطہ بھی ہیں - اگر توصیف ِ رسول ﷺ کو ’’ اصنامی تصور‘‘ کہا گیا ہے تو یہ شقاوت اور گستاخی ہے جس پر توبہ واجب ہے - ڈاکٹر یحیٰی صاحب ملاحظہ فرمائیں کہ ڈاکٹر ابوالخیر کشفی صاحب ص ۲۲ پر لکھتے ہیں :’’ یہ شاعرانہ تخیل کا اعجاز ہے … ‘‘ لفظ اعجاز کا استعمال انہوں نے شاعرانہ تخیل کے ساتھ کیا ہے ، وہ شاعر کو کیا درجہ دیتے ہیں ، ان کی تحریر اسے واضح کرتی ہے - شاعری اور ایک شاعر کے کرشمہ و کمال کے لئے تو تعریف و توصیف کی حد نہ ہو لیکن وصف ِ رسالت ﷺ اور توصیف ِ رسول ﷺ کے بیان میں نامناسب لفظ استعمال کئے جائیں !!! وہ ہستی جس کی شان کی حد ہی نہیں ، جس کی مدح میں پورا قرآن ہے ، خالقِ کائنات خود جس کی تعریف فرماتا ہے ، جس کی جان ، جس کی خاکِ پا ، جس کے زمانے کی قسمیں یاد فرماتا ہے ، جس کی تعظیم و توقیر کا حکم دیتا ہے ، اس ہستی
    ====================صفحہ: ۵۸=====================​
    کے بیان میں کون انسان دعوٰی کرسکتا ہے کہ وہ اس کی شان بیان کرسکا ہے ؟ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ لیس کلامی یفی بنعت کمالہ … ‘‘ اور مرزا غالب بھی لکھ گئے :
    غالب ثنائے خواجہ بَہ یزداں گزاشتیم کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است ( ﷺ )
    علامہ اقبال فرماتے ہیں :
    تو فرمودی رہِ بطحا گرفتیم وگرنہ جز تو مارا منزلے نیست
    مزید ملاحظہ ہو ، فرماتے ہیں :
    معنی حرفم کنی تحقیق اگر بنگری بادیدۂ صدیق اگر
    قوت ِ قلب و جگر گردد نبی از خدا محبوب تر گردد نبی ( ﷺ )
    محترم سید صبیح رحمانی صاحب ! نعت رنگ میں ایسی تحریروں کو جگہ نہ ہی دی جائے تو بہتر ہوگا ، ڈاکٹر یحیٰی صاحب اور تمام اہلِ قلم کو پابند کیجئے کہ وہ رسولِ کریم ﷺ کے بارے میں کوئی ایسا لب و لہجہ اور الفاظ و انداز اختیار نہ کریں جو گستاخی و اہانت کے زُمرے میں آتا ہو - میرے نبی پاک ﷺ کا اسمِ گرامی میرے ربّ ِ کریم نے ’’ محمد ‘‘ ﷺ رکھا ہے جو اس امر کا واضح اعلان ہے کہ یہ ہستی ہی تعریف کے لئے تخلیق ہوئی ہے - وہ بے مثل و بے مثال ہستی ہے - ص ۳۴ پر سورۂ کہف کی آیت کا ترجمہ اپنے مضمون کی ابتداء میں ڈاکٹر یحیٰی یوں کرتے ہیں ’’ اے محمد ! کہو کہ مَیں تو تم جیسا ایک انسان ہوں … ‘‘ اس ترجمے ہی سے ڈاکٹر صاحب کا باطن خوب جھلکتا ہے - یہ فقیر اسی آیت پر ٹی وی کے پروگرام ’’ فہم القرآن ‘‘ میں جو بیان کرچکا ہے اس کی ریکارڈنگ محفوظ ہے ، ڈاکٹر صاحب دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیں - ان پر حقائق واضح ہوجائیں گے - ص ۳۵ پر آیت دُرود و سلام کے ترجمہ میں ڈاکٹر صاحب ’’ وسلّموا تسلیما ‘‘ کا ترجمہ ہی اڑا گئے … ( معاذ اللّٰہ )
    صبیح رحمانی صاحب ! یہ مراسلہ کچھ طویل ہوگیا ہے قبل اس کے کہ یہ رسالہ ہوجائے ، بہتر ہے کہ قلم روکوں ، سچ ہے کہ ڈاکٹر یحیٰی صاحب کی اس دل آزار تحریر کو آپ کے نعت رنگ میں شامل پاکر افسوس ہُوا - اللّٰہ کریم ہمیں ادب کی توفیق دے ، آمین
    ====================صفحہ: ۵۹=====================​



    مکتوب ِ پنجم ، ( مطبوعہ در نعت رنگ ، شمارہ 8 )

    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم - والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

    محترم جناب سید صبیح الدین رحمانی زید مجدہٗ - سلام مسنون

    اللّٰہ کریم جلّ شانہ اپنے حبیب ِ کریم ﷺ کے صدقے ہم سب کو مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت پر استقامت اور دارین میں عفو و مغفرت سے نوازے ، آمین
    نعت رنگ کے چھٹے شمارے کی اشاعت میں شاید کچھ تاخیر ہوئی ، لاہور سے محترم پیر زادہ اقبال احمد صاحب فاروقی نے اپنے مکتوب میں مجھے تحریر فرمایا کہ آپ سے دریافت کروں اور انہیں آپ کے جواب سے آگاہ کروں ، یوں یہ واضح ہوگیا کہ اہلِ محبت آپ کے ’’ نعت رنگ ‘‘ کا انتظار کرنے لگے ہیں - یہ آپ کی محبتوں اور محنتوں کی کام یابی ہے - اللّٰہ کریم جلَّ شانہ آپ کے صدق و اخلاص میں برکت فرمائے اور ہر تصنع و رِیا سے بچائے رکھے ، آمین
    ان دنوں یہ فقیر اپنے والد ِ گرامی حضرت مجدّدِ مسلک ِ اہلِ سنّت ، عاشقِ رسول ، محب ِ صحابہ و آلِ بتول ، خطیب ِ اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ رحمۃ الباری کے پندرہویں سالانہ عرس مبارک کے انتظامات میں مشغول ہے - اس لئے آپ کا نعت رنگ تمام تر نہیں دیکھ سکا اور آپ نے خود اس مرتبہ شمارہ بھجوایا بھی نہیں - اخبار میں اس کی اشاعت کی خبر دیکھی ، آپ نے بروشر بھیجا تو خیال ہُوا کہ پانچ شمارے مفت ملے ، چھٹا شمارہ مجھے خریدنا چاہیے ، چناں چہ فضلی سنز سے حاصل
    ====================صفحہ: ۶۰=====================
    کرلیا - ہوسکتا ہے کہ آپ بھجوانا چاہتے ہوں تاہم مجھے کچھ رقم دے کر آپ کی یہ کاوش حاصل کرنا گراں نہیں گزرا - سرورق عمدہ ہے - پہلی نثری تحریر جناب سید ابوالخیر کشفی کی ہے جس کا عنوان ’’ نعت کے موضوعات ‘‘ ہے - پہلا جملہ ص ۱۳ پر اس تحریر میں جو کشفی صاحب کے ایک خیال کی تقویت کا باعث ہُوا ، اچھی فکر کی بنیاد میں معاون ہے - جملہ یوں ہے کہ ’’جب کوئی شعر ، اپنے موضوع اور مخاطب سے بڑا ہو تو اس کا مصداق سرورِ کائنات علیہ الصلوۃ والسلام بن جاتے ہیں - ‘‘ دوسرا جملہ ص ۱۴ پر ہے : ’’ کوئی لفظ ان ( ﷺ ) کی ذات و صفات کا بار اٹھانے کے قابل معلوم نہیں ہوتا - ‘‘ ص ۱۵ پر حرم کو شاید کتابت / کمپوزنگ کی غلطی سے ’’ حرام ‘‘ لکھ دیا گیا ( مسلم شریف کی روایت کے حوالے سے ) - مثبت اور ادب والی سوچ کے حوالے سے اسی صفحے پر یہ جملہ بھی شمار کیا کہ : ’’انہوں نے گرمی کی شدت کا علاقہ مدینے کی کھجوروں کی شیرینی سے قائم کیا ہے - ‘‘ ص ۱۷ پر جبلِ اُحد کا تذکرہ ہے - مجھے یاد آیا کہ مکہ مکرمہ میں الحاج فاروق احمد چشتی صاحب سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی ، آٹھ نو برس پہلے کی بات ہے ، وہ ان دنوں بینک الجزیرہ میں تھے - سُنا ہے کہ اب ملتان میں نیشنل بینک سے وابستہ ہیں - جبلِ اُحد کے حوالے سے ان کی بات اچھی لگی تھی اس لئے تذکرہ کررہا ہوں - ’’ رحمت للعالمین آقا ﷺ نے جبلِ اُحد پر قدم رنجہ فرمایا ، اسے اپنی محبت کی سند عطا فرمائی تو یہ جبلِ اُحد سینہ تانے اور بازو پھیلائے کھڑا ہے کہ دجال کو مَیں اپنے محبوب ِ کریم ﷺ کے شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا - ‘‘ محبت والے یوں بھی سوچتے ہیں - ص ۱۸ پر حدیث ِ قدسی ان الفاظ میں ہے : ’’ لولاک لما خلقت الربوبیہ- ‘‘ یہ حدیث ِقدسی مجھے یاد ہے ، یوں ہے : ’’ لولاک لما اظہرت الربوبیۃ - ‘‘ تفسیر عزیزی ( فتح العزیز ) میں مَیں نے یہ حدیث قدسی پڑھی تھی - ہمارا عقیدہ ہے کہ اللّٰہ کریم کی صفات ہر گز مخلوق نہیں - رب ہونا اس کی صفت ہے اس لئے کشفی صاحب کا یہ جملہ صحیح نہیں کہ ’’ آپ کی خاطر یہ ربوبیت پیدا کی گئی ‘‘ ( ص ۱۸ ) ، یہ جملہ یوں صحیح ہوگا کہ آپ ( ﷺ ) کی خاطر ربوبیت ظاہر ہوئی - ص ۱۹ پر کشفی صاحب لکھتے ہیں :’’ الفاظ کے معانی اپنے ماحول اور محلِ استعمال سے بدل جاتے ہیں ‘‘ - اور اسی صفحے پر انہوں نے امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کہی ​
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  7. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: ۶۱=====================​
    ہوئی نعت شریف کے ایک شعر کا پہلا مصرع لکھا : ’’ مَیں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب ‘‘ - اس حوالے سے کشفی صاحب لکھتے ہیں : ’’جب مالک کا لفظ لغوی طور پر استعمال کیا جائے جیسے اس مصرع میں ( ہے ) تو بات اپنی حدود سے نکل جائے گی ، شاعر اس غلو سے اسی وقت بچ سکتا ہے جب اسے آقائے جان و دل کی حقیقی عظمتوں کا دھیان رہے اور ان عظمتوں کا علم قرآنِ پاک و احادیث ِ ختم الرسل ( ﷺ ) سے ہوتا ہے‘‘ - کشفی صاحب نے خود فرمایا کہ الفاظ کے معانی اپنے ماحول اور محلِ استعمال سے بدل جاتے ہیں اور پھر اس مصرع میں اپنی ہی رائے فراموش کرتے ہوئے اعتراض فرمایا ، اگر لفظ ’’ مالک ‘‘ بعینہ اسی معنی میں اور حقیقی مراد لیا جائے جیسا کہ اللّٰہ کریم کے لئے لیا جاتا ہے تو بلاشُبہ اعتراض درست ہوگا مگر کون ہے جو اللّٰہ کریم کے برابر یا اس کے مثل کسی کو گردانتا ہے ؟
    اسی صفحہ ۱۹ پر پہلی سطر میں کشفی صاحب فرماتے ہیں : ’’ رسول اللّٰہ ﷺ مالک کے حبیب ہیں مگر مالک نہیں ہے ( ہیں ) حکم اور امر صرف اللّٰہ کا ہے اور اللّٰہ کے لئے ہے -‘‘ کشفی صاحب کے پیشِ نظر شاید یہ قرآنی آیت ہوگی ان الحکم الاللّٰہ - کشفی صاحب ذرا ماضی کے اس دَور پر نظر فرمائیں جب خوارج یہی آیت حضرت سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کے رُوبرو پڑھتے تھے تو مولائے غم گسار حیدرِ کرار فرماتے : ’’ کلمۃ حق ارید بھا باطل ‘‘ جو بات کہہ رہے ہو وہ حق سچ ہے مگر اس سے جو ثابت کرنا چاہ رہے ہو وہ باطل ہے -
    ہمارا عقیدہ ہے کہ اللّٰہ تعالی جلَّ شانہ کا ہر کمال ذاتی ، حقیقی ، لامتناہی اور غیر فانی یعنی ناقابلِ فنا ہے اور مخلوق کا ہر کمال اللّٰہ تعالی کا عطا کیا ہُوا (عطائی) ہے حقیقی نہیں ، لامتناہی نہیں - حکم اور امر ، حقیقی طور پر اللّٰہ تعالی ہی کا ہے اور قرآنِ کریم ہی کے مطابق یہ مخلوق کو بھی عطا ہُوا - آیات ِ قرآنی شاہد ہیں : آتینا حکما و علما ( القصص : ۱۴ ) - فوھب لی ربی حکما ( الشعراء : ۲۱ ) - رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین ( الشعراء: ۸۳ )- ولو طااتینہ حکما وعلما (الانبیاء : ۷۴) - ولما بلغ اشدہ اتینہ حکما و علما ( یوسف :۲۲ ) - وکلا اتینا حکما و علما (الانبیاء : ۷۹ ) - فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجربینھم (النساء : ۶۵) -
    ====================صفحہ: ۶۲=====================​
    واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (النساء : ۵۸) - وتدلوا بھا الی الحکام ( البقرہ : ۱۸۸ ) - الیس اللّٰہ باحکم الحاکمین (التین : ۸ ) - تلک عشرۃ کاملہ … اور امر کے حوالے سے اگر : ان الامر کلّہ للّٰہ (آل عمران : ۱۵۴) بل للّٰہ الامر جمیعا ( الرعد : ۳۱ ) قرآن میں ہے ، تو : یامرون بالمعروف (آل عمران ۱۰۴ ) ، تامرون بالمعروف ( آل عمران ۱۱۰) ، وامر بالعرف ( الاعراف : ۱۹۹ ) ، وامر بالمعروف ( لقمان : ۱۷) ، اتامرون الناس ( البقرہ : ۴۴ )، اولی الامر (النساء : ۵۹ ) ، اذا قضی اللّٰہ ورسولہ امرا (الاحزاب : ۳۶ )، وامرھم شوری بینھم (الشوری : ۳۸ ) ، ویسرلی امری ( طہ : ۲۶ )، ولسلیمان الریح عاصفۃ تجری بامرہ (الانبیاء : ۱۸ ) کے الفاظ بھی قرآن میں ہیں -
    ان آیات سے نتیجہ واضح ہے - مزید ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے - تبارک الذی بیدہ الملک ( الملک : ۱ ) - ولم یکن لہ شریک فی الملک ( الفرقان : ۲ )- اور یہ بھی آیات ِ قرآنی ہیں : توتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء (آل عمران : ۲۶)- الم ترا الی الذی حاج ابراھیم فی ربہ ان آتاہ اللّٰہ الملک ( البقرہ : ۲۵۸ )- مزید ملاحظہ ہو ، ارشاد باری تعالی ہے : ان العزۃ للّٰہ جمیعا ( یونس : ۶۵ )- اور یہ بھی فرمودۂ قرآن ہے : وتعز من تشاء وتذل من تشاء ( آل عمران : ۲۶)- وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنافقین لا یعلمون ( المنافقون : ۸ )- لفظ خالق پر ملاحظہ ہو : قرآن کریم میں ہے : ھل من خالق غیر اللّٰہ ؟ (فاطر : ۳ ) اور یہ بھی قرآن کریم میں ہے : فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین ( المومنون : ۱۴ ) - انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر ( آل عمران : ۴۹ )- واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر ( المائدہ : ۱۱۰)- مزید ملاحظہ ہو : الذی یحی ویمیت ( البقرہ : ۲۵۸ ) اور یہ بھی ہے واحی الموتی باذن اللّٰہ ( آل عمران : ۴۹ ) - ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا (المائدہ : ۳۲)-
    ان آیات ِقرآنی سے نسبت ِحقیقی اور نسبت ِ مجازی واضح ہے - کشفی صاحب ہی کا فرمانا ہے کہ قرآن پاک اور احادیث ِ نبوی سے علم ہوتا ہے ، اس کے باوجود انہوں نے نبی کریم ﷺ
    ====================صفحہ: ۶۳=====================​
    کی شان میں اس ہستی کے کہے ہوئے شعر پر اعتراض کیا جس کے کلامِ بلاغت نظام پر قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے والے کسی ثقہ و جید عالم نے کوئی اعتراض نہیں کیا - فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کا پورا شعر ملاحظہ ہو :
    مَیں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
    یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
    جیسا کہ ص ۱۴ پر ہے کہ کشفی صاحب نے یہ تحریر عجلت میں لکھی ، وہ اگلے دن زیارت و عمرہ کے لئے روانہ ہونے والے تھے ، ہوسکتا ہے انہوں نے توجہ نہ فرمائی ہو ، تاہم مَیں نے اس لئے یہ مختصر وضاحت تحریر کردی تاکہ نعت رنگ کے قارئین اور ناقدین ملاحظہ فرمالیں - اپنی یادداشت کے حوالے سے مختصراً لکھ رہا ہوں اگر خط کی بجائے کتاب یا مقالے کے طور پر لکھتا تو احادیث ہی نہیں بلکہ اہلِ سنّت و جماعت سے اختلاف رکھنے والے مکاتب ِ فکر کے علماء کی تحریروں سے بھی اپنے موقف کی تائید پیش کرتا اور مزید تحقیق بھی -
    ص ۲۰ پر کشفی صاحب نے سیدنا جبریلِ امین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : ’’ دربانی تو جبریل کا کام نہیں تھا … تفصیل سے دامن بچاتے ہوئے یہی عرض کروں گا کہ حضرت جبریل بہتر سلوک کے مستحق ہیں کہ یہ ایمان کا تقاضا ہے - ‘‘
    کشفی صاحب سے عرض ہے کہ جس ہستی کی برکت سے حضرت جبریلِ امین رُوح القدس ، رُوح الامین اور رسول فرشتے ہوئے بلکہ جس کی برکت سے انہیں وجود ملا ، اس آقا کی بارگاہ کی دربانی کا اعزاز سیدنا جبریلِ امین ( علیہ السلام ) کی تحقیر یا استخفاف نہیں ، البتہ شاعروں نے یا لکھنے والوں نے نامناسب لہجے میں کہیں حضرت جبریلِ امین علیہ السلام کا ذکر کیا ہو تو اس کی تائید نہیں کی جاسکتی -
    ص ۲۱ پر کشفی صاحب نے ان شاعروں کو صحیح تنبیہ کی ہے جو خود کو حسّان اور کعب قرار دیتے ہیں - کوئی غیر صحابی ہر گز کسی صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا - فاضلِ بریلوی ( علیہ الرحمہ ) نے خود کو ’’ سگ ِ حسّانِ عرب ‘‘ فرماکر یہی واضح کیا ہے ، تاہم کشفی صاحب نے ’’بوصیری ، سعدی اور
    ====================صفحہ: ۶۴=====================
    جامی و قدسی اور اقبال و ظفر علی خاں ‘‘ کے نام تو لکھے ( حالاں کہ جناب ظفر علی خاں کے متعدد اشعار و اقوال متنازع و معترضہ ہیں ) مگر ان ہستیوں کے نام سے اجتناب کیا جو نعت گوئی کے (غیر متنازع ) امام شمار ہوتے ہیں - کسی صحیح برگزیدہ شخصیت کی عظمت اور صلاحیت و مرتبت کا اقرار و اعتراف خود قدر دان کے قد و قامت اور سعادت کا اظہار سمجھا جاتا ہے - مَیں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ لوگ جو مسلّمہ اصول و قواعد کے مطابق نادہند قرار پاتے ہیں اور ان کی تحریریں موجود ہیں کہ شانِ رسالت مآب ﷺ میں وہ گستاخانہ اور اہانت آمیز شمار ہوئی ہیں ، اس کے بعد ان لوگوں کی مدح و تعریف یا تعظیم کیوں رَوا سمجھی جاتی ہے ؟ کیا حقائق سے چشم پوشی کرنا اور حقائق کو جھٹلانا سُودمند ہوسکتا ہے ؟ کیا اس طرح حقائق بدل سکتے ہیں ؟ جب یہ طے ہے کہ مخلوق میں رسولِ کریم ﷺ سا کوئی نہیں وہ ہر طرح افضل و اعلیٰ ہیں اور ان کی بارگاہ کے آداب خود ان کے خالقِ کریم جلَّ شانہ نے تعلیم فرمائے ہیں اور ان کی تعظیم ہر مسلمان پر لازمی ہے ، پھر کیا گنجائش ہوسکتی ہے کہ ان کے کسی طرح گستاخ و بے ادب سے کوئی رعایت سوچی جائے خواہ وہ کوئی ہو ؟ اس موضوع پر اپنی کتاب ’’ سفیدو سیاہ ‘‘ میں خاصی تفصیل پیش کرچکا ہوں - نعت رنگ کو مَیں متنازع تحریروں کا مرقّع نہیں دیکھنا چاہتا ورنہ گنجائش بہت ہے - آپ سے یہی گزارش ہے کہ اسے خالص علمی و ادبی مرقع رکھئے اور ان تنقیدی مباحث کو بھی راہ نہ دیجئے جو دل آزاری اور ایمانی غیرت کو للکارنے کا باعث ہوں - آزادیٔ فکر و خیال کا وہ مفہوم جو مغربی مفکروں نے متعارف کروایا ہے وہ عقلِ سلیم کو اور بندۂ مومن کے ایمان کے لئے قابلِ قبول نہیں - اگر کوئی محض اپنی بنیاد پر اپنے علم و فہم کو حجت سمجھتا ہے اور اپنی بات اور رائے کو ہر طرح وقیع سمجھتا ہے تو اہلِ ایمان بھی حقائق کے مطابق اپنے نظریات کے منافی و متضاد قول و فعل کو کسی خاطر میں نہ لانے کا پورا حق رکھتے ہیں اور اس باطل کے ردّ میں حق بجانب ہیں - پورے وثوق سے وہی بات کہی لکھی جانی چاہیے جو درست اور قطعی دلائل سے ثابت ہے - میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بیش تر تحریریں تعصب سے خالی نہیں ہوتیں مگر کسی سے وہ تعصب جو الحب للّٰہ وللرسول والبغض للّٰہ وللرسول کی بیناد پر ہو ، روا مانا سمجھا جاتا ہے ، جو محض سچائی اور حقائق کی بنیاد پر ہو وہ گوارا ہوتا ہے - ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے بارے
    ====================صفحہ: ۶۵=====================​
    میں خود ساختہ عقیدے نہیں رکھتے نہ ہی رکھ سکتے ہیں ، انہیں ’’ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ‘‘ کہنے سے پہلے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ’’ لایمکن الثناء کما کان حقہ ‘‘ ان کے بارے میں آزادیٔ فکر نہیں ، پابندیٔ فکر ضروری ہے اور پابندی بھی قرآن و احادیث کے مطابق ضروری ہے اور قرآن و احادیث کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یا شرح و تفسیر کرتے ہوئے محض اپنی رائے سے کام نہیں لیا جاسکتا -
    ص ۱۶ ، نعت رنگ شماہ ۶ پر جناب سید ابوالخیر کشفی کی تحریر میں ہے کہ :
    ’’ مدینہ سے اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے اُردو نعت گو نے یہ بات بھی اپنے اوپر واجب کرلی ہے کہ مدینہ کا تقابل جنت سے کیا جائے اور جنت کا ذکر تحقیر سے کیا جائے اور حشر سے پہلے اور حشر کے بعد جنت کی جگہ مدینہ میں قیام پر زور دیا جائے - ان اللّٰہ کے بندوں سے پوچھئے کہ جب جنتیوں کے سردار محمد عربی ﷺ جنت میں ہوں گے مدینہ ہمارے لئے کیا ہوگا - جنت کا یہ استخفاف قرآن ناشناسی بلکہ اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ اور سَستی جذباتیت ہے - ‘‘
    کشفی صاحب نے ’’ سَستی جذباتیت ‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے جو ’’ پھبتی ‘‘ لگے - جو شعراء تقابل کرتے ہیں ان کی بات نہیں کرتا - عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ صرف اُردو شعراء ہی نہیں عربی اور فارسی کے شعراء نے بھی مدینہ منورہ کو دیارِ حبیب کی وجہ سے بہت عقیدت سے منظوم کیا ہے - ہمیں مکہ مکرمہ بھی پیارا ہے کہ : وانت حل بھذا البلد ( سورۃ البلد ) فرماکر اللّٰہ کریم نے نسبت ِ محبوب ہی کی وجہ سے اس کی قَسم یاد فرمائی اور ہمارے محبوب ِ کریم ﷺ کو بھی مکہ مکرمہ محبوب تھا ، جہاں تک بات ہے جنت اور مدینہ منورہ کی تو برہان پور ، بھارت کے جناب عبدالباقی اشرفی نے کیپ ٹاؤن جنوبی افریکا میں یہ شعر سُنایا تھا ، اچھا لگا ؎
    ’’ مدینہ جس نے دیکھا ہے وہ جب جائے گا جنت میں
    کہے گا یہ جگہ دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے ‘‘
    جنت کی فضیلت میں شُبہ نہیں اور اس کا استخفاف درست نہیں ، اس بارے میں اہلِ علم کوئی اور رائے نہیں رکھتے مگر اس میں بھی شُبہ نہیں کہ اِس سرزمین پر مدینہ طیبہ اہلِ ایمان کے لئے جنت ہے جیسا کہ فارسی مشہور شعر ہے ؎

    ====================صفحہ: ۶۶=====================​
    اگر فردوس بر رُوئے زمین است
    ہمین است و ہمین است و ہمین است
    وادی ٔ کشمیر کو جنت نظیر کہتے ہوئے اگر یہ شعر اس کے لئے ہے تو یہاں کشفی صاحب ہی کا بیان کیا ہُوا وہ جملہ دُہراؤں گا کہ : ’’ جب کوئی شعر اپنے موضوع اور مخاطب سے بڑا ہو تو … ‘‘
    کشفی صاحب نے فضائلِ مدینہ کے موضوع پر کتب دیکھی ہوں گی اور یہ دعا بھی کتب ِ احادیث کے حوالے سے دیکھی ہوگی : اللھم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ او اشدّ حبّا - اس لئے محبت ِ مدینہ کے حوالے سے جذباتیت کو سَستی ( گھٹیا یا کم تر ) کہنا درست نہیں البتہ جنت کا استخفاف روا نہیں - حدیث شریف میں شہید کے حوالے سے ذکر ہے کہ وہ جنت میں اس مزے اور لذت کے نہ ہونے پر جو اسے راہِ خدا میں سر کٹاتے ، جان دیتے ہوئے دنیا میں ملی تھی ، دنیا میں واپس جانے کی خواہش بیان کرے گا - اسے جنت کا استخفاف نہیں سمجھا جاسکتا ، اسی طرح ایک مومن عاشقِ رسول (ﷺ ) کو دنیا میں جو راحت مدینہ منورہ میں میسر ہے اس کے باعث وہ ( اَن دیکھی جنت کے بجائے نظر آتی جنت نگاہ ) ، مدینہ منورہ سے محبت ظاہر کرتا ہے تو اسے سَستی جذباتیت نہ کہا جائے بلکہ اسے اچھے پیرائے میں یہ سمجھایا جائے کہ مدینہ منورہ کی محبت دراصل رسولِ کریم ﷺ کی وجہ سے ہے اور محشر میں رسولِ کریم ﷺ ، مدینہ منورہ کے اہلِ ایمان کے ساتھ جنت ہی میں ہوں گے اور آقا کا مدینہ طیبہ جنت میں شامل ہوگا - یوں بات بھی ہوجائے گی اور سمجھ بھی آجائے گی اور نامناسب الفاظ و لہجے کی گنجائش نہیں رہے گی -
    اسی طرح کشفی صاحب ص ۱۷ پر کملی کا تذکرہ کرتے ہوئے نعت گو شاعر کو سمجھارہے ہیں کہ مزمل و مدثر کے الفاظ کو ان کی وسعت اور معنویت کے ساتھ دیکھو مگر خود یہ الفاظ بھی لکھتے ہیں کہ
    :’’ یہ (کملی) مدثر اور مزمل کے مرتبہ عالی کی ہندی شکل ہے … وہ چادر جو وحی کے بارِ گراں کو سہل بنانے کے لئے تھی اس کو بھگتی کا رنگ دے کر یہ عاشقانہ روپ دیا گیا ہے - ‘‘ آگے مزید لکھتے ہیں : ’’ معاذ اللّٰہ یہ چادر ِ رسالت کو صوفی کی گلیم یا سادھو کی کملی سمجھتے ہیں - ‘‘

    ====================صفحہ: ۶۷=====================​
    کشفی صاحب کو ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے جانے کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ صوفی اور سادھو میں مناسبت بیان کرنا اور سرکارِ دو عالم ﷺ کی مبارک کملی کا بیان اس تناظر میں یوں کرنا بھی تو ادب و تعظیم کے منافی ہے - انہیں دوسروں کو ادب سکھاتے ہوئے خود بھی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے - وہ اپنے اسی درشت لہجے میں گنبد ِ خضرا کا ذکر بھی کرگئے - کشفی صاحب صرف وہی معانی و مفاہیم ہی کیوں معتبر جانتے ہیں جو ان کے علم و مطالعہ میں ہیں ؟ ’’ اکرام مانسب بہ ‘‘ کے تحت انہیں رسولِ کریم ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر شئے کے بیان میں احتیاط کو فراموش نہیں کرنا چاہیے - انہوں نے اس بارے میں علمائے اسلام کے ارشادات ملاحظہ نہیں فرمائے اور شاید وہ خود کو ان پابندیوں سے مستثنٰی خیال فرماتے ہیں جو دوسروں کے لئے ضروری گردانتے ہیں -
    ص ۶۸ پر جناب رشید وارثی نے رسولِ کریم ﷺ کے لئے ’’ بے ہوشی ‘‘ کے الفاظ ترجمہ میں بیان فرمائے ، ص ۶۷ پر ’’ مرض میں مبتلا ہوئے ‘‘ کے الفاظ تحریر کیے - ص ۷۰ پر فرمایا کہ ’’ آپ ( ﷺ ) کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا - ‘‘ ان الفاظ پر وہ توجہ فرمائیں ، کیا یہ درست ہیں ؟ اسی طرح ہونے چاہئیں یا … ؟
    اپنی بامقصد تحریر کے آخر میں وہ فرماتے ہیں : ’’ اگر چہ اس مقالے پر اعتراضات کا بھی احتمال ہے لیکن اس بندۂ ناتواں نے اللّٰہ تبارک و تعالی پر بھروسا کرتے ہوئے پوری حق گوئی اور خلوصِ نیت کے ساتھ حقائق کا جرأت مندانہ اظہار کیا ہے - ‘‘
    مجھے بہت خوشی ہے کہ نعت شریف کے حوالے سے عمدہ اصلاحی تنقید ہورہی ہے اور مقصد بھی خوب ہے کہ شرعی تقاضے پورے ہوں - ادب کے منافی کچھ نہ ہو ، غلطی و کوتاہی کو جان کر ان کا اعادہ نہ کیا جائے اور جو کچھ غلط ہوگیا اس سے توبہ کی جائے - مگر محترم وارثی صاحب ان لوگوں کے نام ، القاب و آداب سے کیوں لیتے ہیں جو اپنی تحریروں کے حوالے سے گستاخی کا سنگین جرم کرچکے یا گستاخوں کی حمایت کا جرم کررہے ہیں یا گستاخوں کے لیے شرعی احکام صرف اس لئے نہیں مان رہے کہ شخصی و گروہی مفاد و لحاظ اہم ہے ؟ وارثی صاحب نے تلمیحات کے حوالے سے
    ====================صفحہ: ۶۸=====================​
    بہت سے اشعار نقل فرمائے اور بجا اعتراض کیے لیکن آیات و احادیث کے ترجمے نقل کرتے ہوئے انہوں نے اس بنیاد کو ترجیح نہیں دی جو اشعار نقل کرتے ہوئے ان کے پیشِ نظر رہی - ص ۵۵ پر انہوں نے وحی اور الہام کا بیان کرتے ہوئے ا س آیت ’’ ان الشیاطین لیو حون الی اولیائھم ‘‘ ( الانعام : ۱۲۱) کا تذکرہ نہیں فرمایا -
    جناب جمال پانی پتی کا مضمون بعنوان ’’ نعت گوئی کا تصوّرِ انسان ‘‘ ص ۲۲ سے ص ۴۶ تک نعت رنگ کے شمارہ ۶ میں ہے - اس میں ’’ روایتی اسلام ، مذہب کے دُم چھلے ، کٹھ ملاؤں ، مُلاّئے مکتبی یا چلتے پھرتے علامۂ دَہر ‘‘ کے الفاظ و تراکیب محلِ نظر ہیں - ان کی تحریر میں بہت عمدہ باتیں بھی نظر آئِیں اور ایسی بھی دیکھیں کہ تعجب ہُوا اور ملال بھی - اس حوالے سے ضرور لکھتا مگر مجھے پہلے ہی یہ احساس ہو رہا ہے کہ میرا یہ مکتوب خاصا طویل ہوگیا ہے- صورت و حقیقت کی بحث بہت ہوچکی ’’ انا احمد بلامیم ‘‘ کے حوالے سے صرف اتنی عرض ہے کہ اگر یہ قول حضرت خواجہ رضی الدین محمدن الباقی المعروف حضرت خواجہ باقی باللّٰہ نقش بندی (رحمۃ اللّٰہ علیہ ) سے سند اور صحت کے ساتھ ثابت ہے تو بھی وہ معنی نہیں ہوسکتے جو صاحب ِمضمون نے ذات اور حقیقت کے حوالے سے نقل فرمائے ہیں - اس کی تاویل اگر کی جائے گی تو لفظ ’’ احد ‘‘ کی بنیاد پر ہوگی - حضورِ اکرم ﷺ مخلوق ہیں اور مخلوق میں احد ہیں یعنی بے مثل و بے مثال ، یکتا و یگانہ - وہ خود فرماتے ہیں ’’ ایکم مثلی ‘‘ کون ہے تم میں میری طرح ؟ دوسرے مقام پر فرمایا ’’ لست مثلکم ‘‘ مَیں تمہاری طرح، تم جیسا نہیں ہوں - سمجھنے کے لئے یہ مثال پی ٹی وی سے بعنوان ’’ بے مثل بشر ‘‘ فہم القرآن پروگرام میں برسوں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ چائے ، پانی اور پتّی سے بنتی ہے - پانی کی مقدار زیادہ اور پتّی کی مقدار کم ہوتی ہے مگر پانی میں تھوڑی سی پتّی ملادیں تو سب سے پہلے نام بدل جاتا ہے پھر رنگ ، ذائقہ ، مہک ، اثر ، حیثیت وغیرہ وغیرہ - تھوڑی سی پتّی ملادی تو اب اسے پانی نہیں کہتے ، چائے کہتے ہیں - بلا تشبیہ - جس بشر میں اللّٰہ تعالی نے نبوت رکھی ، اسے اب بشر نہیں ، رسول اللّٰہ ( ﷺ ) کہیں گے - جمال صاحب نے بعض جملے بہت خوب ارشاد فرمائے - یہ آیت بھی ملاحظہ فرمائیں : وما من دابۃ فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ الاامم امثالکم ( الانعام :۳۸)
    ====================صفحہ: ۶۹=====================​
    اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اُڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں - مثلیت کا دعوٰی کرنے والے یہ آیت بھی پیشِ نظر رکھیں ، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ افتو منون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض ( البقرہ : ۸۵) - پورا قرآن ماننا ہوگا - اللّٰہ تعالی نے جانوروں اور پرندوں کو انسانوں جیسی امتیں فرمایا - جو کوئی رسولِ کریم ﷺ کو قرآن کی آیت پڑھ کر بشروں کے مثل یا خود کو بشر مان کر اپنی مثل کہنے پر مُصر ہے وہ خود کس کی مثل ہے ؟ یہ نہ بھولے - رسولِ کریم ﷺ کی بشریت کا کون انکار کرتا ہے ؟ مگر یاد رہے کہ وہ بے مثل و بے مثال بشر ہیں - یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جانور ہماری طرح ہیں تو ہم حضورِ اکرم ﷺ کی طرح کیسے ہوسکتے ہیں ؟ قرآن ہی میں اللّٰہ تعالی نے فرمایا : مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح ( النور : ۳۵ )- اس آیت کے الفاظ کو بنیاد بناکر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللّٰہ کا نور چراغ کی طرح ہے ؟ اسی لئے قرآنِ کریم کے خود سے معنی کرنا یا تفسیر بالرّائے کرنا سخت منع ہے اور ایسے کے لئے سخت وعید ہے - آج قرآن کا محض عام لغت کی بنیاد پر ہر کسی کے لئے ترجمہ کی راہ کھولنا ایسا سانحہ ہے جس کے نتائج نہایت سنگین ہیں اور تمسخر و تضحیک اور توہین تک بات پہنچ گئی ہے - نعت رنگ کی صرف تین تحریروں پر ایک ہی نشست میں، مَیں اتنا لکھ گیا ہوں ، مجھ سے کوئی سہو ہُوا یا کوئی بات غلط لکھ گیا ہوں تو اللّٰہ کریم سے طالب ِ عفو و مغفرت ہوں -
    نعت رنگ کے آخر میں خطوط ہیں- پانچواں خط میرا ہے جس میں املا و عبارت کی غلطیاں کمپوزنگ میں ہوگئی ہیں- وہ کا لفظ اور لکھا گیا ، جھجکے کا لفظ جھجکتے لکھا گیا - ص ۴۲۲ کی سطر پر جملہ صحیح یوں ہوگا ’’ اور اہلِ علم پر زبانِ اعتراض دراز کرنا ہر گز درست نہیں ‘‘ مطبوعہ یوں ہے ’’ اور اہلِ علم پر زبانِ اعتراض دراز نہیں کرنا ہر گز درست نہیں - ‘‘ ص ۴۲۳ پر اصنامی کو ’’ اضافی ‘‘ کمپوز کردیا گیا اور جہاں جہاں یہ لفظ آیا وہاں ’’می‘‘ کو ’’ فی ‘‘ کمپوز کردیا گیا ہے - تصحیح کے لئے تذکرہ کردیا ہے - ( قارئین کی سہولت کے لیے اس کتاب کی کمپوزنگ میں ان حروف کو درست کردیا گیا ہے - )
    جناب احمد صغیر صدیقی نے میری اسی مذکورہ تحریر میں وہ آیات ملاحظہ نہیں فرمائیں جو مَیں نے درج کردی تھیں - اگر مزید تفصیل درکار ہوتو اِن شاء اللّٰہ پیش کروں گا - ان سے عرض ہے
    ====================صفحہ: ۷۰=====================​
    کہ صحیح مبالغہ سے مراد جائز مبالغہ ہے - جناب سہیل احمد صدیقی نے اپنے مکتوب میں میری بابت تحریر فرمایا کہ انہیں مجھ سے اس قدر نامکمل جواب کی توقع نہیں تھی - انہوں نے توجہ نہیں فرمائی - مَیں نے جواب نہیں لکھا تھا ، کسی تحریر کے حوالے سے اشارہ کرتے ہوئے مختصر وضاحت کی تھی - انہوں نے میرے الفاظ پر توجہ نہیں فرمائی - مَیں نے ’’خدا ‘‘ کہنے لکھنے کو غلط یا ناجائز نہیں کہا - علاوہ ازیں وہ اسماء حسنٰی ملاحظہ فرمائیں اور بتائیں کیا ’’ خدا ‘‘ اللّٰہ تعالی کا نام ہے ؟ لفظ ’’ خدا ‘‘ کے استعمال پر وہ ثواب نہیں ہوسکتا جو ’’ اللّٰہ ‘‘ ( تعالیٰ ) کہنے پر ہوگا - ص ۴۳۸ پر ’’ بنام خداوند بخشا ئند و مہرباں ‘‘ لکھنے کے بعد سہیل صاحب نے قوسین یعنی بریکٹ میں خود لکھا ہے ’’ ( بسم اللّٰہ کا ترجمہ ) ‘‘ ان سے یہی عرض ہے کہ ’’ خدا ‘‘ کے لفظ کو اللّٰہ کا نام نہیں بلکہ کسی نام کا ترجمہ یا فارسی میں اللّٰہ تعالی کے لئے پکارا جانے والا لفظ کہیں گے ، تاہم اپنے مکتوب کے آخر میں وہ الجواب کے تحت تفصیل ملاحظہ فرماچکے ہیں - امید ہے انہیں مجھ سے شکایت نہیں رہی ہوگی - (قارئین الجواب کے اس حصے کی تفصیل اس مکتوب کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں ) -
    اپنے مکتوب کے آخر میں عرض کروں کہ یہ فقیر نہایت گناہ گار ہے اور اپنی ہر تحریر و تقریر میں اپنی تمام کوتاہیوں ، غلطیوں کے لئے اللّٰہ کریم سے طالب ِ عفو و مغفرت رہتا ہے - وہ دوست جو میری کسی تحریر و تقریر میں کوئی غلطی و کوتاہی دیکھیں مجھے ضرور آگاہ فرمائیں - فی الواقع غلطی پر یہ فقیر توبہ و استغفار اختیار کرے گا - غلطی کو غلطی نہ ماننے کی غلطی اِن شاء اللّٰہ نہیں کرے گا -
    ’’ یہ فقیر اپنا خط مکمل کرچکا تھا ، نعت رنگ کی مزید سرسری ورق گردانی کرتے ہوئے جناب عزیز احسن کی تحریر ’’ اُردو نعت میں آفاقی قدروں کی تلاش ‘‘ میں ص ۱۰۰ پر کچھ جملے نظروں میں اٹک گئے تو یہ اضافہ ضروری ہوگیا ، وہ لکھتے ہیں :
    ’’ لفظوں پر انتقاد کے علاوہ خیال کی اصلاح کا بھی حضور نبی کریم علیہ السلام نے ہمیشہ خیال رکھا - بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک جگہ کچھ لڑکیاں دَف بجاکر بدر کے کچھ شہداء کی شجاعت بیان کررہی تھیں - ایک لڑکی نے کہا ’’ ہم میں ایسا نبی ہے جو کل کو ہونے والی بات کی خبر
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  8. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
  9. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
  10. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
  11. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
  12. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
    Last edited: ‏اکتوبر 6, 2016
  13. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    293
    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================

    ====================صفحہ: =====================​
  14. مرزا حفیظ اوج

    مرزا حفیظ اوج New Member رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    6
    ماشاء اللہ عمدہ کام جاری ھے
    اللہ کریم اس کی بہترین جزا عطا فرمائے