1. حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات رحمت للعالمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت و ثناء خوانی جہاں مسلمانوں کا شعار رہی ہے، وہیں کچھ ایسے غیر مسلم شعراء بھی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت عمدہ نعتیہ کلام لکھے۔ان غیر مسلم شعرا کی ایک طویل فہرست ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اسی ضرورت کے پیش نظر ہم اس سیکشن میں ہم غیر مسلم شعرا کا تعارف اور انکا نعتیہ کلام پیش کریں گے۔ قارئین فروغ نعت سے بھر پور تعاون کی استدعا ہے۔
  2. محترم مہمان السلام علیکم! فروغ نعت فورم میں سوشل شیئر کا آپشن شامل کیا گیا ہے۔ جب آپ کوئی نیا موضوع شروع کرتے ہیں تو موضوع کے شروع ہو جانے پر موضوع کے اوپر یہ آپشن ظاہر ہوتا ہے اس آپش پر کلک کرنے سے مختلف سوشل نیٹ ورکس کے آئکان ظاہر ہوتے ہیں آپ اپنی پسند کے نیٹ ورک پر اسے شائع کر سکتے ہیں۔میری دوستوں سے درخواست ہے کہ جب بھی کوئی کلام فورم میں شامل کریں تو سوشل شیئر بٹن کے ذریعہ اس کو فیس بک ، ٹویٹر اور گوگل پلس وغیرہ پر بھی شیئر کر دیا کریں اور اگر ممکن ہو تو جس کا کلام ہو اس کی فیس بک وال پر بھی شیئر کیا کریں تاکہ فورم کی ٹریفک میں اضافہ ہو اور لوگوں کی آمد و رفت رہے۔ جوکہ اس فورم کی مقبولیت کے لیے بہت ضروری ہے۔

غیر مسلم نعت گو نغمہ محمدی شاعر : جان وولف وین گوئٹے اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

'غیر مسلم شعرا کی نعت گوئی' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکرالقادری, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. شاکرالقادری

    شاکرالقادری نعت گوئی مراحوالہ ہے رکن انتظامیہ رکن فروغ نعت

    پیغامات:
    294
    مشہور زمانہ جرمنی کے شاعر گوئٹے سے تو بہت لوگ واقف ہونگے۔ لیکن اس نے ایک نعت مبارکہ بھی کہی تھی اس بات کا شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو؟ گوئٹے نے نعت جرمن زبان میں لکھی تھی ۔ شان الحق حقی نے اردو میں منظوم ترجمہ کیا ۔ یہ نعت اور یہ ترجمہ خاصے کی شے ہے۔

    نغمہ محمدی
    شاعر : جان وولف وین گوئٹے
    اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

    وہ پاکیزہ چشمہ
    جواوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا
    سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے
    چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا
    چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے
    وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے
    آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے
    بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا
    بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں
    پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے
    جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا
    اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی
    یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ
    اُس ﷺ کی منزل نہ تھی
    وہ تو بڑھتا گیا
    کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار
    اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا
    اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے
    خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔
    سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر
    جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے
    شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے
    راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو
    کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے
    راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے
    یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں
    آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں
    ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے
    جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے
    اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے
    اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے
    گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں
    آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں
    وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے
    ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے
    شہر آتے رہے شہر جاتے رہے
    اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے
    اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی
    ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی
    قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے
    کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے
    شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں
    عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں
    اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں
    از زمیں تا فلک
    از فلک تا زمیں
    از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں
    دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ
    فیض یاب اس سے کل
    اور خود کل سے بے واسطہ

    Song for Mohammed
    By: Johann Wolfgang von Goethe
    Behold this rocky spring,
    bright with joy
    like a twinkling star;
    above the clouds
    its youth was nourished
    by good spirits
    among the cliffs in the bushes.
    Fresh as a youth
    it dances out of the cloud
    down to the marble rocks,
    cheering again
    to the sky.
    Along mountainous paths
    it chases after colorful pebbles,
    and with the step of a young leader
    its companion-springs journey
    with it onward.
    Below in the valley
    flowers appear from its footprints,
    and the meadow
    derives life from its breath.
    But no shaded valley can stop it,
    no flower,
    clasping its knees
    and imploring it with loving eyes:
    toward the Plains it presses its course,
    twisting like a snake.
    Brooks nuzzle up
    sociably. Now it treads
    into the Plain, resplendent with silver,
    and the Plain grows silver too,
    and the rivers of the Plain
    and the brooks of the mountains
    cheer and shout: "Brother!
    Brother, take your brothers with,
    take them with you to your ancient father,
    to the eternal ocean,
    whose outstretched arms
    await us,
    who, ah! has opened them in vain
    to embrace his yearning children;
    for the bleak wasteland's
    greedy sand devours us; the sun above
    sucks up all our blood; a hill
    clogs us into a pool! Brother,
    take your brothers from this Plain,
    take your brothers from the mountains,
    take them with you to your ancient father!
    Come all of you! -
    and now [the spring] swells
    more grandly: an entire race
    lifts the prince up high!
    And in rolling triumph
    it gives names to the lands and cities
    that grow in its path.
    Irresistibly it rushes onward,
    leaving a wake of flaming-tipped towers
    and houses of marble - creations
    of its bounty.
    Like Atlas it bears cedar houses
    upon its giant's shoulders;
    over its head, the wind noisily
    blows a thousand flags
    as testimony of its glory.
    And so it brings its brothers,
    its treasures, its children,
    effervescent with joy,
    to the waiting parent's bosom.

    Translation from German to English
    by Emily Ezust
    منقول