آئیے شاعری سیکھیں (آسان انداز میں ، سبقا سبقا)

محمد اسامہ سرسری نے 'عناصر سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اپریل 3, 2013

?

کیا اس سلسلے سے آپ کو فائدہ ہوا؟

بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ سلسلہ جاری رکھیں۔ 8 آرا 72.7%
کچھ کچھ سیکھنے کو ملا۔ سلسلہ جاری رکھیں۔ 3 آرا 27.3%
کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ سلسلہ بند کردیں۔ 0 آرا 0.0%
  1. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    محترم [USER=2808]بابا جی[/USER]!
    بہت معذرت آپ کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
    کچھ نئے حضرات تشریف لائے ہیں، ہم کچھ انتظار کرلیتے ہیں، تاکہ سب ایک ساتھ چلیں تو ایک کلاس کی سی فضا بھی رہے گی۔:)
    جب تک آپ علامہ اقبال مرحوم کی ”بانگ درا“ کا بنظر غائر مطالعہ فرمالیں۔:):)
    لیلا نقشبندی، بابا جی اور بنت یاسین نے اسے پسند کیا۔
  2. بنت یاسین قلمکار

    پیغامات:
    7

    اطاعت: قناعت ، شجاعت ، عبادت ، سلامت ، ذہانت ، ثابت ، محبت ، مروت ، طاقت ، سعادت۔
    کریم: رحیم ، علیم ، سلیم ، نعیم ، ٹیم ، جیم ، گیم ، لحیم ، شحیم ، شمیم۔
    عابد: زاہد ، راشد ، ساجد ، شاہد ، شاید ، خالد ، مساجد ، شواہد ، وارد ، مسجد۔
    ولی: علی ، گلی ، کلی ، جلی ، ابھی ، کبھی ، تبھی ، جبھی ، سبھی ، سعی ، جمی۔
    انوار: اتوار ، تہوار ، بیمار ، سردار ، بے کار ، اوزار ، سوار ، شمار ، خمار ، ہزار۔
    معصوم: معلوم ، علوم ، مغموم ، مفہوم ، مرحوم ، محروم ، منظوم ، مقسوم ، کلثوم ، قوم۔
    اقوال: چکوال ، اموال ، شوال ، احوال ، سوال ، قوال ، نوال ، جوال ، زوال ، وال
    آباد: برباد ، سجاد ، فرہاد ، فریاد ، آزاد ، شہزاد ، شمشاد ، داد ، شاد ، صاد ، کھاد ، عاد ، یاد
    بندگی: آزردگی ، افسردگی ، متقی ، جنوری ، فروری ، ہمسری ، عاجزی ، آخری ، ظاہری ، باطنی
    :)
  3. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    ماشاءاللہ!
    بہت خوب!
    آپ دوسرے سبق میں کام یاب ہوچکی ہیں، مبارک ہو۔
    البتہ کچھ غلطیوں کی اصلاح کرنے کی اجازت چاہوں گا:
    1۔ ثابت اطاعت کا قافیہ نہیں کیونکہ حرف روی ت ہے اور قاعدہ ہے کہ جب حرف روی ساکن ہو تو ماقبل کی حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے، ثابت میں ت کے ماقبل ب مکسور ہے جبکہ اطاعت میں ت سے پہلے ع مفتوح ہے۔:)
    2۔گیم بھی کریم کا قافیہ نہیں، کیونکہ حرف روی ساکن ہو اور ماقبل حرف علت ہو تو مدہ اور لین کے لحاظ سے ان حروف علت کا ایک ہونا ضروری ہے، مدہ اس ساکن حرف علت کو کہتے ہیں جس سے پہلے والے حرف پر زبر نہ ہو اور لین اس ساکن حرف علت کو کہتے ہیں جس سے پہلے والے حرف پر زبر ہو۔:)
    3۔ سعی بھی ولی کا قافیہ نہیں ہے، کیونکہ سعی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس میں ع ساکن ہے، جبکہ ولی کی لام مکسور ہے اور حرف روی ساکن ہونے کی صورت میں ماقبل کی حرکت ایک ہونا ضروری ہے۔:)
    4۔ قوم کو بھی معصوم کا قافیہ نہیں گردانا جاسکتا کیونکہ معصوم میں و مدہ ہے جبکہ قوم میں لین ہے۔:)
    5۔ اقوال کے قوافی ماشاءاللہ بڑی مہارت کے ساتھ مرتب کیے ہیں کہ سب میں وال کا التزام ہے۔ گو یہ ضروری نہیں، مگر آسان بھی نہیں ہوتا۔:)
    6۔ باقی باتیں جناب [USER=1170]اوشو[/USER] صاحب اور محترم [USER=2808]بابا جی[/USER] صاحب کے دوسرے سبق کے جواب کے ذیل میں بندے نے عرض کردی ہیں، انھیں یہاں دہرانا مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ طوالت کا بھی باعث ہوگا۔:)
    شعبان نظامی اور شاکرالقادری نے اسے پسند کیا۔
  4. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    آپ کے جوابات کا انتظار کیا جارہا ہے۔:)
    لیلا نقشبندی، شاکرالقادری اور بابا جی نے اسے پسند کیا۔
  5. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    ماشأ اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں تو بھیڑ لگ گئی ۔۔۔ [USER=2897]محمد اسامہ سرسری[/USER] آپ مبارکباد کے مستحق ہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ اسباق کو سرسری اندار میں نہیں بلکہ تفصیل سے لکھ رہے ہیں البتہ بعض تفاصیل قبل از وقت ہیں ابتدائی معلومات جان لینے اور ابتدائی مشقوں سے گزر جانے کے بعد جب مبتدی اگلے درجہ کے طلبأ میں شامل ہو جائیں تو پھر یہ تفاصیل سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں اساتذہ فن نے بطور اصول مقرر تو کیا ہے اور اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو فن شعر اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سہل پسندی اور جدت پسندی نے اساتذہ فن کے مقرر کردہ بعض قوانین سے انحراف بھی کیا ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ یہ انحراف عصر حاضر کے فن شعر میں رخصت قرار پاگیا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کو جائز تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اسباق کے دوران اگر اس قسم کے قوانین کو پڑھایا جائے تو بہتر ہو گا کہ اس بات کی وضاحت بھی کر دی جائے کہ اساتذہ فن نے یہ اصول تو مرتب کیا ہے لیکن عصر حاضر میں عمومی طور پر اس اصول کی پروا نہیں کی جاتی یا جدید شعرا نے اس اصول سے انحراف کو اپنی سہل پسندی کی خاطر جائز مان لیا ہے تاہم کسی بھی فن شعر کے طالب علم کے لیے ایسے اصولوں کا جاننا ضروری ہے ۔ تاکہ روایت سے انحراف کے رواج کو کم از کم کی سطح پر لایا جا سکے۔
    شعبان نظامی اور محمد اسامہ سرسری نے اسے پسند کیا۔
  6. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    جزاکم اللہ خیرا۔
    جناب شاکر صاحب!
    یہ ناچیز بندہ آپ کا متشکر ہے اس راہنمائی پر۔
    امید ہے آئندہ بھی قدم قدم پر آپ اسی طرح شفقت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ راہنمائی فرماتے رہیں گے۔:)
    شعبان نظامی، اوشو اور بابا جی نے اسے پسند کیا۔
  7. محمد عبد المعز قلمکار

    پیغامات:
    3
    یہ زمیں جیسے ہے آسماں میں

    جس سے ہیں آپ خوش اس جہاں میں
    وہ شب و روز ہے گلستاں میں

    دیکھ کر میرے اشکِ ندامت
    ابرِرحمت کی بارش ہے جاں میں

    آپ کا سنگِ دراورمراسَر
    حاصِلِ زندگی ہے جہاں میں

    سارےعالم کی لذت سمٹ کر
    آگئ ہے ترے آستاں میں

    لذتِ ذکرِحٖٖٖق اللہ اللہ
    اور کیا لطف آہ و فغاں میں

    کیا کہوں قربِ سجدہ کا عالم
    یہ زمیں جیسے ہے آسماں میں

    برق گرنا مگر رخ بدل کر
    آہ سنتا ہوں میں آشیاں میں

    عالم غیب کا یہ کرم ہے
    چشمِ بینا دیا قلب و جاں میں

    درس تسلیم و خون تمنا
    ہے نہاں عشق کی داستاں میں

    لذت قرب بے انتہاء کو
    کِس طرح لائےاخترزباں میں

    السلام علیکم ورحمتہ اللہِ وبرکاتہ۔
    پہلے سبق کی مشق حاضرِخدمت ہے:

    قافیے: گلستاں، جاں، جہاں، آستاں، فغاں، آسماں، آشیاں، جاں، داستاں، زباں۔
    حرفِ روی: ں۔
    ردیفِ قافیہ: میں۔
  8. محمد عبد المعز قلمکار

    پیغامات:
    3
    اسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

    دوسرے سبق کی مشق پیشِ خدمت ہے:

    اطاعت: 1 شجاعت 2 کرامت 3 عنایت 4 متانت 5 ذہانت 6 فقاہت 7 شرارت 8 فصاحت 9 بلاغت 10 عداوت 11 نظامت 12 عدالت 13 صدارت 14 جہالت 15 حفاظت

    کریم: 1 نعیم 2 سلیم 3 حکیم 4 کلیم 5 وسیم 6 عدیم 7 رحیم 8 عظیم 9 قدیم 10 شمیم

    عابد: 1 زاہد 2 حامد 3 حاسد 4 شاہد 5 خالد 6 ماجد 7 ساجد 8 جامد 9 زائد 10 قائد

    ولی: 1 کلی 2 قلی 3 روی 4 چلی 5 بھلی 6 ٹلی 7 گلی 8 مِلی 9 جلی 10 نئی 11 پلی

    انوار: 1 اطوار 2 اتوار 3 آثار 4 افکار 5 اسفار 6 اقرار 7 اعذار 8 نسوار 9 اشعار 10 انکار (نوٹ: حق دار چل سکتا ہے؟)

    معصوم: 1 مغموم 2 کلثوم 3 مضموم 4 منظوم 5 معدوم 6 مفہوم 7 معلوم 8 محکوم 9 محروم 10 ملزوم

    اقوال: 1 احوال 2 اشکال 3 اقبال 4 اجمال 5 امثال 6 امسال 7 ابدال 8 اعمال 9 افعال 10 ارسال (نوٹ: مس کال چل سکتا ہے؟)

    آباد: 1 افراد 2 برباد 3 اولاد 4 اعداد 5 داماد 6 بغداد 7 امداد 8 اجداد 9 ارشاد 10 دل شاد (نوٹ: کیا یاد چل سکتا ہے؟)

    بندگی: 1 زندگی 2 گندگی 3 کرچکی 4 منچلی 5 رس بھری 6 شاعری 7 ظاہری 8 باطنی 9 داخلی 10 خارجی
    لیلا نقشبندی، محمد اسامہ سرسری اور اوشو نے اسے پسند کیا۔
  9. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بہت خوب۔۔۔ ماشاءاللہ!
    آپ پہلے سبق میں مکمل طور پر کام یاب ہیں۔
    بہت مبارک ہو۔:)
    لیلا نقشبندی نے اسے پسند کیا۔
  10. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ماشاءاللہ۔۔ بھئی! بہت ہی خوب!
    جی بالکل چل سکتا ہے۔
    1۔ اس طرح کے الفاظ سنجیدہ شاعری میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتے۔
    2۔ ہزل(مزاحیہ غزل) میں چل سکتا ہے، البتہ ل سے پہلے والے الف میں چونکہ کسی قدر واؤ مجہول کی آواز بھی شامل ہے اس لیے الف والے قوافی میں اسے لانے میں تردد ہے۔ جناب [USER=3]شاکرالقادری[/USER] صاحب اس پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں۔
    جی ہاں یہ بھی آباد کے قوافی میں شامل ہے، البتہ یہ آباد کے باد کے وزن پر آجائے گا اور ”آ“ کے مقابل ”یاد“ والے مصرعے میں ”یاد“ سے پہلے جو دو حرف ہوں گے وہ آجائیں گے، اس کی تفصیل آگے ان شاء اللہ عن قریب آجائے گی۔

    اس موضوع میں پچھلے تمام مراسلوں کا مطالعہ ضرور کرلیں۔:)
    والسلام۔
    لیلا نقشبندی اور شاکرالقادری نے اسے پسند کیا۔
  11. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    تیسرا سبق
    محترم شرکاء! پچھلی قسط میں ہم نے ’’قافیہ‘‘ خود بنانا سیکھا۔ قافیے سے متعلق بہت سی اہم اہم باتیں بھی سامنے آئیں، اب ہم ان شاء اللہ قافیے سے متعلق مزید دل چسپ باتیں سیکھیں گے۔

    قافیے کی اصولا دو ہی قسمیں بنتی ہیں: درست اور غلط۔
    درست: وہ قوافی جن میں حرف روی مشترک ہو۔ جیسے: عزیز اور دبیز۔
    غلط: وہ قوافی جن میں حرف روی مشترک نہ ہو۔ جیسے: عزیز اور لذیذ۔

    البتہ حرف روی سے سے پہلے اور بعد کے الفاظ کے ایک جیسا ہونے کے لحاظ سے ہم قوافی کے عقلی طور پر چار درجات بناسکتے ہیں:
    1:درست قافیے۔ 2: اچھے قافیے۔ 3: بہتر قافیے۔ 4: بہترین قافیے۔
    درست قافیے: وہ قافیے جن میں صرف آخری حروف ایک جیسے ہوں، باقی سب الگ الگ ہوں، جیسے: جمالی اور سفیدی۔ یہ دونوں لفظ باوزن تو ہیں، مگر ان میں عمدگی نہیں ہے۔
    اچھے قافیے: وہ قافیے جن کے آخر میں ایک سے زیادہ حروف ایک جیسے ہوں، جیسے: جمالی اور چنبیلی، ان دونوں کے آخر میں ’’ی‘‘ بھی ہے اور ’’ل‘‘ بھی، لہٰذا یہ قافیے پہلی قسم کی نسبت اچھے ہیں۔
    بہتر قافیے: وہ قافیے جن میں زیادہ تر حروف ایک جیسے ہوں، جیسے جمالی اور کمالی، ان دونوں میں صرف ’’ج‘‘ اور ’’ک‘‘ کا فرق ہے۔ دونوں میں ’’مالی‘‘ آرہا ہے، لہٰذا یہ قافیے دوسری قسم سے زیادہ اچھے اور بہتر ہیں۔
    بہترین قافیے: وہ قافیے جن میں سارے حروف ایک جیسے ہوں، جیسے جمالی(جمال سے) اور جما لی(جمانا سے)، ان دونوں میں سارے حروف ایک جیسے ہیں، لہٰذا یہ سب سے اچھے اور عمدہ قافیے ہیں۔

    شعر:
    بالآخر ہم نے بھی محفل جمالی ہے
    یہ محفل کتنی پیاری اور جمالی ہے

    ایک اور مثال ملاحظہ کریں: ’’بتانا‘‘
    اس لفظ کے بھی ہم چار طرح کے قافیے بناسکتے ہیں:
    1 درست قافیے: سہارا، تماشا، تقاضا، گوارا، نکھارا، نکالا، جھماکا، پکایا۔
    2 اچھے قافیے: کمانا، رلانا، دکھانا، سجانا، لگانا، بہانا، پکانا، جمانا۔
    3 بہتر قافیے: جتانا، ستانا۔
    4 بہترین قافیے: بتانا(امرِ تاکیدی) ، بِتانا(گزارنا)

    برائے مشق:
    لفظِ ’’بہانہ‘‘ سے پہلی قسم(درست قافیے) کی پندرہ مثالیں، دوسری قسم(اچھے قافیے) کی پانچ مثالیں، تیسری قسم(بہتر قافیے) کی تین مثالیں اور چوتھی قسم(بہترین قافیے) کی ایک مثال بنائیے۔ (واضح رہے کہ ’’ہ‘‘ اور ’’ا‘‘ ایک ہی حرفِ روی شمار ہوتے ہیں۔)
    @اوشو [USER=2808]بابا جی[/USER] [USER=2905]محمد عبد المعز[/USER] [USER=2904]بنت یاسین[/USER] اور دیگر احباب۔:)
    لیلا نقشبندی اور شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔
  12. بابا جی قلمکار

    پیغامات:
    65
    1- درست قافیے:بھگانا،اُگانا، جتانا،منانا،آجانا، مل جانا، ہِل جانا، مل جاتا،لٹکاتا، لگ جاتا، ہنکارا، للکارا، چھڑکنا، ڈھلکنا،اترنا

    2-اچھے قافیے:ملانا، سُلانا،لگانا، لگ جانا،چلے جانا

    3-بہتر قافیے:نہانا،ملانا،ہلانا

    4-بہترین قافیے: دوگانہ، دو گانا
    محمد اسامہ سرسری نے اسے پسند کیا۔
  13. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    ماشاءاللہ بڑی محنت سے آپ نے لکھا ہے۔
    بہت خوب لکھا ہے۔
    آپ کی اس محنت کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔
    [USER=2808]بابا جی[/USER] صاحب! بس آپ نے اس بات کو مد نظر نہیں رکھا شاید کہ سبق میں لفظِ ”بہانہ“ کے قوافی لکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔
    ایک بار پھر میں یہ بتاتا چلوں کہ قوافی کی یہ چار قسمیں صرف اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلا قدم ہے کہ قوافی میں حرف روی سے پہلے اور بعد بھی بعض اوقات کچھ حروف مشترک ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک بہت مشکل اور دقیق مقام ہے، اس لیے فی الحال ان چار قسموں کی مثالیں بنوانے پر اکتفا کیا ہے۔
    ایک اور بات:
    اس چیز میں زیادہ الجھنے کی ضرورت نہیں، وقت کے ساتھ ساتھ قوافی بھی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔
    یہ کہا تھا کہ لفظ ”بہانہ“ کے پندرہ ایسے قوافی لکھیں جن میں صرف آخری حرف میں اشتراک ہو، اس لحاظ سے ”مل جاتا،لٹکاتا، لگ جاتا، ہنکارا، للکارا“ تو درست قوافی کی مثال بنیں گے ، مگر باقی مثالوں میں آخر کے الف سے پہلے ن کا بھی اشتراک ہے، جبکہ بعض میں ن سے پہلے والا الف بھی مشترک ہے، اس طرح یہ مثالیں دوسری اور تیسری قسم کی بن جاتی ہیں۔:)
    ملانا ، سلانا اور لگانا کے چونکہ اکثر حروف ”بہانہ“ میں موجود ہیں، اس لیے یہ اچھے سے بھی بہتر کی مثالیں ہیں۔:) یعنی آپ سے آسان کام کرنے کو کہا گیا تو آپ نے اس سے بھی مشکل والا کرکے اپنی اعلی کارکردگی کو ظاہر فرمادیا۔:)

    درست۔

    بہت خوب! ”بہترین قافیے“ کی یہ مثال دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔(مگر صرف لفظی لحاظ سے):)بہت ہی اعلیٰ۔

    ورنہ دوگانہ(دورکعت) اور دوگانا(بمعنی گانا بصورت سی ڈی یا یو ایس بی کے مجھے دو) کو ایک ساتھ لانا مناسب نہیں،کیونکہ ایک خالصۃ عبادت اور دوسرا گناہ کی قبیل سے ہے۔:)
    لیلا نقشبندی نے اسے پسند کیا۔
  14. بابا جی قلمکار

    پیغامات:
    65
    استادِ محترم آپ کا سکھانے کا انداز بہت آسان فہم ہے
    اسلیئے کوشش کر گزرتا ہوں

    اور دوگانہ و دوگانا کی بابت صرف یہ کہوں گا
    نیکوکار کو پڑھ کے سکوں ملتا
    سیاہ کار کو سُن کے
    دیکھا جائے ایک ہی نتیجہ ہے دو الگ الگ طبیعت کے اشخاص کی تسکیں کا :)
    لیلا نقشبندی اور محمد اسامہ سرسری نے اسے پسند کیا۔
  15. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    اچھی لفاظی کی ہے۔:)
    لیلا نقشبندی نے اسے پسند کیا۔
  16. محمد اسامہ سرسری قلمکار

    پیغامات:
    75
    چوتھا سبق
    محترم قارئین!

    پچھلی قسطوں میں ہم نے ’’قافیے‘‘ سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے ساتھ قافیہ سازی کی مشق بھی الحمد للہ! کسی حد تک کرلی ہے۔

    ایک اہم بات یہ ذہن نشین کرلیجیے کہ قافیے کی اصطلاحات جو کتابوں میں موجود ہیں، وہ حد سے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی مشکل بھی ہیں، اس لیے ہم نے انھیں ذکرنہیں کیا، البتہ ان ابتدائی اسباق سے گزرنے کے بعد آپ ان کا مطالعہ ضرور کرلیں۔ اب اس قسط میں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ مقفّٰی (قافیے والے) جملے بنانا سیکھیں گے۔

    اب آپ مندرجہ ذیل جملوں کو غور سے دیکھیں:

    ’’اللہ کی عبادت کریں…نبی کی اطاعت کریں… قرآن کریم کی تلاوت کریں… ماں باپ کی خدمت کریں… بڑوں کی عزت کریں… چھوٹوں پر شفقت کریں… نیکیوں کیکثرت کریں… گناہوں سے نفرت کریں… یوں حاصل جنت کریں۔‘‘

    یہ سب جملے مقفّٰی ہیں…ان میں عبادت، اطاعت، تلاوت، خدمت، عزت، شفقت، کثرت، نفرت اور جنت قوافی ہیں، ان قوافی میں ’’ت‘‘ حرف روی اور’’کریں‘‘ ردیف ہے۔


    مقفّٰی جملے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے ایک موضوع متعین کریں، پھر اس موضوع سے متعلق ہم قافیہ الفاظ سوچ سوچ کر لکھ لیں۔


    مثال کے طور پر آپ کو کسی بچے کی طرف سے اسکول کا قصہ لکھنا ہے اور قصہ بھی ایسا جو پورا کا پورا مقفّٰی ہو تو پہلے آپ اسکول کے بارے میں جو جو باتیں آپ کے ذہن میں ہیں، ان سے متعلق ہم قافیہ الفاظ جمع کریں جیسے: اسکول، اسٹول، قبول، معمول، دھول، طول، پھول، مشغول وغیرہ۔


    اب ان الفاظ کو مدِّ نظر رکھ کر اسکول سے متعلق جملے بناتے جائیں:

    ’’میں جب گیا اسکول … راستے کا کافی تھا طول… راستے میں تھی دھول… مگر اسکول سے باہر تھے پھول… کلاس روم میں تھیں کرسیاں، ٹیبل اور اسٹول… اسکول جانا ہے میرا روز کا معمول… گھر آکر بھی میں اسکول کے کاموں میں رہتا ہوں مشغول… اللہ تعالیٰ
    میرے اس عمل کو کرلے قبول۔‘‘


    اسی طرح مثال کے طور پر اگر آپ کسی شرارتی نوجوان کے بارے میں مقفّٰی جملے بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اس شرارتی نوجوان سے متعلق ہم قافیہ الفاظ سوچ کرکسی صفحے پر نوٹ کرلیں…مثلاً:

    نوجواں، مستیاں، روآں روآں، عیاں، انگڑائیاں، ناتواں، وہاں، بے دھیاں، تھیلیاں، کہاں، پشیماں، ساماں، طوفاں۔

    اب ان قافیوں کو سامنے رکھ کر مقفّٰی جملے بناتے جائیں:

    ’’ایک پیارا سا نوجواں… کرتا ہے بہت مستیاں… شرارت سے بھرا ہے اس کا روآں روآں…ایک دن اس نے دیکھا کہ جا رہا ہے ایک مردِ ناتواں… اور اس کے ہاتھ میں ہے کچھ ساماں… شرارت نے فوراً لی انگڑائیاں… اس نے اس سے کہا: ’’وہ دیکھو وہاں‘‘… جیسے ہی وہ شخص ہوا بے دھیاں… اس نے چھین لی اس کی سبتھیلیاں… چھینتے ہی اسے بدبو کا محسوس ہوا طوفاں… اُن میں کوڑاکرکٹ اور گندگی تھی عیاں… جنھیں وہ پھینکنے جارہا تھا نہ جانے کہاں… نوجواں اپنی اس حرکت سے ہوا بہت پشیماں۔‘‘


    امید ہے کہ ان مثالوں سے آپ ’’مقفّٰی جملے‘‘ کسی حد تک سمجھ گئے ہوں گے۔


    برائے مشق:

    اپنی زندگی کے اچھے سے تین دل چسپ قصوں کو مقفّٰی جملوں کی صورت میں لکھیں۔

    طریقہ یہی ہے کہ پہلے قصہ سوچیں، پھر اس کے متعلق ہم قافیہ الفاظ سوچ سوچ کر لکھ لیں… پھر مقفّٰی جملے بناتے جائیں۔

    ممکن ہے بہت سے ہم قافیہ الفاظ شروع میں ذہن میں نہ آئیں، بل کہ جملے بنانے کے دوران میں آجائیں… اور اگر خوب مشق کرلی جائے تو ہم قافیہ الفاظ پہلے سوچنے کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔
    لیلا نقشبندی اور حسن نظامی نے اسے پسند کیا۔

اس صفحے کی تشہیر