آخر اسلام کو چھپاتے کیوں ہو؟

نذر حافی نے 'قلم اور کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جولائی 31, 2013

  1. نذر حافی قلمکار

    پیغامات:
    30
    آخر اسلام کو چھپاتے کیوں ہو؟

    تحریر: نذر حافی

    ممتاز مفتی کی طرح میں بھی اسلام کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسلمان ہوں۔ ممتاز مفتی نے تو اسلام کی تلاش میں "تلاش" لکھ کر غبارِ دل نکال ڈالا تھا لیکن ہمارا اضطرابِ دل ابھی باقی ہے۔ اگرچہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرا عقیدہ ہے کہ دینِ اسلام دنیا کا شفاف ترین، کامل ترین اور جامع ترین دین ہے، لیکن میں ہر روز اپنے اردگرد مسلمانوں کو مسلمانوں پر شب خون مارتے ہوئے دیکھتا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان کافروں کے ساتھ ملکر مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں، مساجد میں دھماکے کرتے ہیں اور گاڑیوں سے اتار کر مسافروں کی گردنیں کاٹ دیتے ہیں، مسلمان خواتین کی عصمت دری کرتے ہیں اور نہتے مسلمانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ اگر ایک غیر مسلم قوم کسی اسلامی ملک پر چڑھائی کرے تو ملت اسلامیہ کسی نہ کسی حد تک چیختی ہے، واویلا کرتی ہے، ریلیاں نکالتی ہے اور اجلاس منعقد کرتی ہے لیکن اگر مسلمان، مسلمان پر ظلم کرے تو نہ صرف یہ کہ اس ظلم کو چھپایا جاتا ہے بلکہ اس ظلم کو مقدس بناکر پیش کیا جاتا ہے اور اس ظلم سے پردہ اٹھانے کو فرقہ واریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

    میں نے ایک ایسے دور میں جنم لیا ہے جسے علم، شعور اور ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اگرچہ تحقیق و جستجو کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوئے ہیں لیکن اسلامی دنیا کا یہ حال ہے کہ اس دور میں بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ کرکچھ لوگ جو مرضی ہے کرلیں، کوئی بھی انہیں روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ مٹھی بھر لوگ ایک طرف تو زندہ مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں اور دوسری طرف اکابرینِ اسلامیہ کے مزارات کو مسمار کر رہے ہیں اور مساجد میں نمازیوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں، لیکن دنیائے اسلام پر سکتہ اور سکوت طاری ہے۔ میں ایک عام مسلمان ہونے کے ناطے گذشتہ چند سالوں سے مسلسل دنیا بھر میں مسلمان بیواوں اور یتیموں کے بین سن رہا ہوں اور عالمِ اسلام کی اس مجرمانہ خاموشی پر انگشت بدنداں ہوں۔ اگر اس خاموشی اور ظلم کے خلاف میں حسبِ مقدور آوز اٹھاتا ہوں تو مجھے کہا جاتا ہے کہ تم خاموش رہو اور اپنی اصلاح کرو، دوسروں کو چھوڑو، اپنی عاقبت کی فکر کرو، دین سیکھو، نماز اور قرآن پڑھو۔

    بہت سارے احباب نے مجھے صرف اور صرف قرآن مجید سے لو لگانے کا حکم دیا ہے اور میری نجات کے لئے مجھے سختی سے یہ تاکید کی ہے کہ میں صرف اور صرف اپنی اصلاح کروں اور لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دوں۔ وہ مجھے بار بار اس آیت مجیدہ کی یاد دلاتے ہیں کہ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ [1]
    میں نے انہیں بارہا کہا ہے کہ میں خود کو نہیں بھولا بلکہ میں خود بھی ظلم سے نفرت کرتا ہوں اور دوسروں کو بھی یہی کہتا ہوں کہ ظلم سے نفرت کریں، لیکن ان کا اصرار ہے کہ آپ نے دوسروں کی قبر میں تھوڑا ہی جانا ہے۔ لہذا دوسروں کو اس بارے میں کچھ نہ کہیں۔ جب ان کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ قرآن مجید بھی تو یہ کہتا ہے تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ [2]
    قرآن مجید جہاں ہمیں انفرادی طور پر اپنی اصلاح کا حکم دیتا ہے، وہیں پر اجتماعی طور پر بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی ہمارے لئے لازمی قرار دیتا ہے اور اسی بنیاد پر ہمیں بہترین امت کہتا ہے۔ مجھے حیرانگی ہے اپنے ان کرمفرماوں پر جو کہنے کو تو قرآن مجید کو ہی مشعلِ راہ کہتے ہیں، لیکن عملاً ان کی زندگی اور عقیدتاً ان کی فکر قرآن مجید کی تعلیمات کے منافی ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ عالمِ اسلام پر ہونے والے مظالم سے پردہ نہ اٹھایا جائے اور عالم اسلام کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں سے لوگوں کو آگاہ نہ کیا جائے، وہ شعوری یا لاشعوری طور پر قاتلوں اور ظالموں کی مدد کر رہے ہیں۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ حق کو باطل سے مخلوط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کی پردہ پوشی نہ کرو۔ [3]
    لیکن اس کے باوجود وہ لوگ حق کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور ظالم کو ظالم نہیں کہتے۔

    صاحبانِ ایمان کون؟ قاتل یا مقتول
    میں نے یہ جاننے کے لئے کہ عصرِ حاضر میں مرنے اور مارنے والے دونوں میں سے کونسا گروہ صاحبان ایمان پر مشتمل ہے، تحقیق کرنی شروع کی تو میرے سامنے سب سے پہلے یہ سوال تھا کہ آخر قرآن مجید کے نزدیک صاحبانِ ایمان ہیں کون؟ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ قرآن مجید نے بہت واضح انداز میں صاحبان ایمان کی نشاندہی کر دی ہے۔ قرآن مجید واشگاف الفاظ میں صاحبانِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنی پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ، اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا۔ [4]
    اسی طرح ایک اور مقام پر قرآن مجید نے صاحبانِ ایمان کے بارے میں کہا ہے کہ مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ [5]

    مجھے یہ جان کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس لئے مسلمان ہوجائے کہ اس کے باپ اور دادا مسلمان تھے بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان دل کھول کر تحقیق کرے اور اپنی تحقیق کی روشنی میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ قرآن مجید نے بغیر تحقیق کے عقیدہ بنا لینے کو دل کے اندھے پن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہو جاتے؟ حقیقتاً آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔ [6]
    پس مجموعی طور پر قرآن مجید کے مطابق وہ لوگ صاحبانِ ایمان ہیں جو اللہ، اس کے رسول (ص)، قرآن مجید، فرشتوں، سابقہ انبیاء اور آسمانی کتابوں، روزِ قیامت پر بغیر شک کے ایمان لاتے ہیں اور راہِ خدا میں جان و مال صرف کرتے ہیں۔

    صاحبانِ ایمان کی زندگی کے قرآنی اصول
    صاحبان ایمان کی شناخت ہوتے ہی میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جلد از جلد یہ معلوم کیا جائے کہ صاحبانِ ایمان کو زندگی گزارنے کے لئے قرآن مجید نے کیا اصول بیان کئے ہیں، تاکہ ان کے مطابق زندگی گزاری جائے۔ قرآن مجید نے عبادی، سیاسی و اجتماعی طور پر صاحبانِ ایمان کے لئے مختلف سورتوں اور آیات میں ایک مکمل تفصیلی پروگرام بیان کیا ہے، جس کا خلاصہ اس وقت یہاں بیان کیا جا رہا ہے، کہیں پر کہا کہ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ [7]

    اسی طرح مختلف مقامات پر نماز، روزہ اور حج بجالانے کے ساتھ ساتھ زکواۃ و خمس ادا کرنے اور جہاد و امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے نیز خدا او رسول (ص) کے دشمنوں سے نفرت کرنے اور اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب مومنین کے باہمی تعلقات کی بات آئی تو قرآن مجید نے ارشاد فرمایا کہ مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے۔
    [8]
    مومنین کو قرآن مجید نے اس حقیقت سے بھی خبردار کیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں۔ [9]
    یہ سب کچھ کہنے کے باوجود قرآن مجید نے ایک مومن کی جان اور زندگی کو الگ سے احترام اور اہمیت بخشتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مومن کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کر دے۔ [10]بلکہ قرآن مجید نے تمام انسانوں کی جانوں کی حرمت اور تقدس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے، اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا۔ [11]

    ایمان کے لبادے میں دھوکہ باز میں نے جب قرآن مجید میں ایک عام انسان اور ایک مومن دونوں کی عزت و حرمت کا یہ حال دیکھا تو ایک دم مجھے دھچکا لگا کہ جب قرآن مجید ایک مومن کو دوسرے مومن کے قتل سے منع کرتا ہے اور ایک عام انسان کے ناحق قتل کو سارے انسانوں کے قتل سے تشبیہ دیتا ہے تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو قرآن مجیدہ کو ہاتھوں میں بلند کرکے بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔۔۔؟ حالانکہ قران مجید بے گناہوں کو قتل کرنے سے منع کر رہا ہے۔ اسی تحقیق کے دوران مجھے قران مجید کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا اور آخرت پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ وہ صاحب ایمان نہیں ہیں۔ یہ خدا اور صاحبان ایمان کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے۔ اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں انہیں درد ناک عذاب ملے گا۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں، حالانکہ یہ سب مفسد ہیں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھی نہیں ہیں۔ [12]

    عالم کفر کے اتحادی اور ان کا انجام جب مجھے قرآن مجید کی روشنی میں دھوکہ باز، قتل و غارت کرنے والوں اور فسادی لوگوں کی حقیقت کا علم ہوا تو ایک اور نہایت ہی اہم سوال کا جواب ڈھونڈنے میں بھی آسانی ہوگئی۔ میں ایک عرصے سے اس شش و پنج میں مبتلا تھا کہ یہ لوگ جو اپنے آپ کو سب سے بڑا مسلمان اور قرآن و سنت کا پیروکار کہتے ہیں یہ امریکہ، یورپ اور اسرائیل سے اتحاد کیسے کر لیتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید نے ان کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب یہ صاحبانِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیاطین کی خلوتوں میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہاری ہی پارٹی میں ہیں، ہم تو صرف صاحبانِ ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ خدا خود ان کو مذاق بنائے ہوئے ہے اور انہیں سرکشی میں ڈھیل دیئے ہوئے ہے، جو انہیں نظر بھی نہیں آرہی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو دے کر گمراہی خرید لی ہے، جس تجارت سے نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ اس میں کسی طرح کی ہدایت ہے۔ ان کی مثال اس شخص کی ہے جس نے روشنی کے لئے آگ بھڑکائی اور جب ہر طرف روشنی پھیل گئی تو خدا نے اس کے نور کو سلب کرلیا اور اب اسے اندھیرے میں کچھ سوجھتا بھی نہیں ہے۔ یہ سب بہرے گونگے اور اندھے ہوگئے ہیں اور اب پلٹ کر آنے والے نہیں ہیں۔ [13]

    قرآن مجید نے صریح طور پر اہلِ ایمان کو آگاہ کیا ہے کہ یہ لوگ جو عالم کفر کے اتحادی بن کر مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے ہیں یہ درحقیقت ایمان کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں، ان کا سارا مقصد مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانا اور انہیں کمزور کرنا ہے۔ ان کی مساجد عالم اسلام کے خلاف مسجدِ ضرار کا کردار ادا کرتی ہیں اور ان کا سارا ہم و غم مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ لہذا قرآن مجید نے مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خبردار ان کے اسلام کے دعووں اور جھوٹی قسموں پر نہ جانا۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس بارے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی، ضرر رسانی اور کفر اور مومنین میں پھوٹ ڈالنے کے لیے، نیز ان لوگوں کی کمین گاہ کے طور پر، جو پہلے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑ چکے ہیں اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارے ارادے فقط نیک تھے، لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ [14]

    ممکن ہے بعض لوگ پھر بھی یہ دھوکہ کھا جاتے کہ یہ لوگ تو جہاد کے لئے نکلے ہوئے ہیں، چنانچہ قرآن مجید نے ان لوگوں کے جھوٹ اور نفاق کو مزید آشکار کرنے اور ان کے نام نہاد جہاد کے دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ مومنو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم تو ان کو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں، اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدا تعالٰی پر ایمان لائے ہو، پیغمبر کو اور تم کو جلاوطن کرتے ہیں۔ تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔ اور جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو، وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے۔ [15]

    پس ان نام نہاد مجاہدین کا خدا کے دشمنوں امریکہ اور اسرائیل وغیرہ کو دوست بنانا ہی اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ان کی کفّار سے دوستی اور مراسم کے بارے میں قرآن مجید نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ اللہ اور نبی اور ان کی طرف نازل کردہ کتاب پر ایمان رکھتے تو ایسے لوگوں سے دوستی نہ کرتے، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ [16]
    قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ ان نام نہاد مجاہدین کے چہرے سے نقاب ہٹایا ہے بلکہ ان کی مدد کرنے والے کافروں کی نیّت اور ارادوں سے بھی عالم اسلام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے جو لوگ کافر ہیں وہ اپنا مال لوگوں کو خدا کے راستے سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ سو ابھی اور بھی خرچ کریں گے، مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ [17]

    عصرِ حاضر کے کافروں امریکہ اور یورپ کو بھی اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جتنا بھی مال و دولت خرچ کر رہے ہیں اور نام نہاد مجاہدین کی کمر مضبوط کر رہے ہیں، بلاخر یہ سب ذلیل ہونگے اور شکست کھائیں گے۔ دنیا میں تو انشاءاللہ یہ ذلیل ہونگے ہی، قرآن مجید روزِ قیامت بھی ان کی ذلت و رسوائی کی خبر دیتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن جب سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو مستکبرین کی اتباع کرنے والے مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں، تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے، اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے، چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے۔[18]

    یہ لوگ جو نمازیوں کو قتل کرتے ہیں اور مساجد کو ویران کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، قرآن مجید نے ۱۴سوسال پہلے ہی ان کے بارے میں بتا دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو مساجد خدا میں اس کا نام لینے سے منع کرے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے. ان لوگوں کا حصّہ صرف یہ ہے کہ مساجد میں خوفزدہ ہوکر داخل ہوں اور ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔
    [19]

    دین کے نام پر جبر اور دھونس
    صاحبانِ شر اور مفسدین فی الارض کی سازشوں اور انجام سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد قارئین یہ بھی جان لیں کہ قرآن مجید نے صاحبانِ ایمان کو ہرگز یہ اجازت نہیں دی کہ وہ قتل و غارت اور خون خرابہ کرکے زبردستی لوگوں پر اپنا دھونس جمائیں اور ان پر اپنا دین جبراً نافذ کریں۔ چنانچہ ارشادِ پروردگار ہے کہ اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں، سب کے سب ایمان لے آتے، تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں۔ [20]
    اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے، ہدایت گمراہی سے الگ اور واضح ہوچکی ہے، اب جو شخص بھی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کی مضبوط رسّی سے متمسک ہوگیا ہے جس کے ٹوٹنے کا امکان نہیں ہے اور خدا سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے۔ [21]

    ظالموں کے خلاف قیاماب جب ہم قرآن مجید کی روشنی میں ظالموں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں تو آئیے یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنے کے بارے میں قران مجید کا کیا حکم ہے؟ قرآن مجید کی روشنی میں جن لوگوں پر جنگ مسلط کی جائے انہیں جنگ کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ مظلوم واقع ہوئے ہیں۔ [22]
    اسی طرح قرآن مجید میں یہ بھی ارشاد ہے کہ خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مظلوم کے علاوہ کوئی کسی کو اعلانیہ برا کہے اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے۔ [23]
    قرآن مجید نے مظلوموں کو ظالموں کے خلاف جنگ کرنے اور ظالموں کو اعلانیہ طور پر برا بھلا کہنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ مظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیں، ایسے لوگوں کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔ [24]

    دہشت گردی کا قرآنی علاج
    آج پورے عالمِ اسلام پر اور خصوصاً وطنِ عزیز پاکستان پر منافقین اور ظالمین نے جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ آئے روز نہتّے اور بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ ایسے میں اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قرآن مجید کی روشنی میں بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں دیں۔ اس ضمن میں قرآن مجید نے ظلم و بربریّت کو روکنے کے لئے یہ راہِ حل بتایا ہے کہ جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے۔ [25]

    ایک دوسرے مقام پر اس مسئلے کا حل کچھ یوں ذکر کیا ہے کہ شہر حرام کا جواب شہر حرام ہے اور حرمات کا بھی قصاص ہے، لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویسا ہی برتاؤ کرو، جیسی زیادتی اس نے کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ خدا پرہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے۔ [26]
    قرآن مجید نے قتل و غارت اور خون خرابے کو روکنے کے لئے واضح طور پر کہا ہے کہ اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔ [27]

    آخر میں ہماری تمام صاحبانِ ایمان سے گزارش ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنی اس کتابِ حکیم میں صاحبانِ ایمان اور منافقین دونوں کی نشانیاں بتا دی ہیں، منافقین کی کافروں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کی حقیقت سے بھی آگاہ کر دیا ہے اور منافقین کے ہاتھوں ہونے والی قتل و غارت کا علاج بھی بتا دیا ہے۔ پس اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم گروہوں اور فرقوں سے بالاتر ہوکر اسلام کے پیغام کو چھپانے کے بجائے عام کریں اور اگر ہم اپنی فرقہ وارانہ ضد کے باعث بے جا اختلاف کریں گے، اللہ کی کتاب کی آیات کو نہیں مانیں گے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید کے بقول دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے۔ [28]

    لہذا۔۔۔اپنی فرقہ وارانہ مصلحتوں اور گروہی مفادات کی خاطر اسلام کے حقیقی پیغام کو چھپائیں نہیں بلکہ شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے عام کریں۔ ظالموں کی خاطر اسلام کے پیغام کو چھپانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ظالموں کی حمایت کرنا بھی ظلم ہے اور إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُون۔ [29]
    ظالمین نجات نہیں پائیں گے۔

    حوالہ جات
    ------------------------------------------------------------------------------ [1] َ تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَ أَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتابَ أَ فَلا تَعْقِلُونَ بقرہ ۴۴
    [2] 110آل عمران كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
    [3] ۔42 البقرہ وَ لا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْباطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    [4] يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ الْكِتابِ الَّذي نَزَّلَ عَلى‏ رَسُولِهِ وَ الْكِتابِ الَّذي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَ مَلائِكَتِهِ وَ كُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعيداً نساء ۱۳۶
    [5] إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتابُوا وَ جاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ في‏ سَبيلِ اللَّهِ أُولئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ۔الحجرات ۱۱۵
    [6] أَ فَلَمْ يَسيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِها أَوْ آذانٌ يَسْمَعُونَ بِها فَإِنَّها لا تَعْمَى الْأَبْصارُ وَ لكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتي‏ فِي الصُّدُورِ (46[حج آیت ۴۶
    [7] يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اسْتَعينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرينَ (153البقرہ
    [8] حجرات10) إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُواْ بَينْ‏َ أَخَوَيْكمُ‏ْ وَ اتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّكمُ‏ْ تُرْحَمُونَ
    [9] الفتح ۲۹ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُم
    [10] وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِن نساء ۹۲
    [11] مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَميعاً۔ مائدہ32
    [12] وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْيَوْمِ الاَْخِرِ وَ مَا هُم بِمُؤْمِنِينَ(8)يخَُدِعُونَ اللَّهَ وَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ مَا يخَْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُونَ(9)فىِ قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ بِمَا كاَنُواْ يَكْذِبُونَ(10)وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُواْ فىِ الْأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نحَْنُ مُصْلِحُونَ(11)أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لَاكِن لَّا يَشْعُرُونَ(12) بقرہ
    [13] وَ إِذَا لَقُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَ إِذَا خَلَوْاْ إِلىَ‏ شَيَاطِينِهِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نحَْنُ مُسْتهَْزِءُونَ(14)اللَّهُ يَسْتهَْزِئُ بهِِمْ وَ يَمُدُّهُمْ فىِ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ(15)أُوْلَئكَ الَّذِينَ اشْترََوُاْ الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى‏ فَمَا رَبحَِت تجَِّرَتُهُمْ وَ مَا كاَنُواْ مُهْتَدِينَ(16)مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فىِ ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ(17)صُمُّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ(18)بقرہ
    [14] ۔ وَ الَّذِينَ اتخََّذُواْ مَسْجِدًا ضِرَارًا وَ كُفْرًا وَ تَفْرِيقَا بَينْ‏َ الْمُؤْمِنِينَ وَ إِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ مِن قَبْلُ وَ لَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنىَ‏ وَ اللَّهُ يَشهَْدُ إِنهَُّمْ لَكَاذِبُونَ توبہ107
    [15] ۔ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَ عَدُوَّكُمْ أَوْلِياءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوا بِما جاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَ إِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهاداً في‏ سَبيلي‏ وَ ابْتِغاءَ مَرْضاتي‏ تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ أَنَا أَعْلَمُ بِما أَخْفَيْتُمْ وَ ما أَعْلَنْتُمْ وَ مَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَواءَ السَّبيلِ ۱ممتحنہ
    [16] مائدہ۔۸۱۔ وَ لَوْ كانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ النَّبِيِّ وَ ما أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِياءَ وَ لكِنَّ كَثيراً مِنْهُمْ فاسِقُونَ
    [17] 36انفال۔ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ
    [18] بَرَزُوا لِلَّهِ جَميعاً فَقالَ الضُّعَفاءُ لِلَّذينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعاً فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذابِ اللَّهِ مِنْ شَيْ‏ءٍ قالُوا لَوْ هَدانَا اللَّهُ لَهَدَيْناكُمْ سَواءٌ عَلَيْنا أَ جَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا ما لَنا مِنْ مَحيصٍ۔ابراہیم ۲۱
    [19] وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ وَ سَعى‏ في‏ خَرابِها أُولئِكَ ما كانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوها إِلاَّ خائِفينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيا خِزْيٌ وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ (114)بقرہ
    [20] 99یونس۔ وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لاََمَنَ مَن فىِ الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَ فَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتىَ‏ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
    [21] بقرہ ۲۵۶۔ لا إِكْراهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ فقد استَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقى‏ لاَ انْفِصامَ لَها وَ اللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ
    [22] 39حج۔ أُذِنَ لِلَّذينَ يُقاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلى‏ نَصْرِهِمْ لَقَديرٌ [23] نساء148 لا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ وَ كانَ اللَّهُ سَميعاً عَليماً
    [24] شوریٰ41 وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولئِكَ ما عَلَيْهِمْ مِنْ سَبيلٍ
    [25] مائدہ ۳۳۔ إِنَّما جَزاءُ الَّذينَ يُحارِبُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْديهِمْ وَ أَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيا وَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ [26] ۔ الشَّهْرُ الْحَرامُ بِالشَّهْرِ الْحَرامِ وَ الْحُرُماتُ قِصاصٌ فَمَنِ اعْتَدى‏ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدى‏ عَلَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقينَ (194البقرہ
    [27] بقرہ۔وَ لَكُمْ فِي الْقِصاصِ حَياةٌ يا أُولِي الْأَلْبابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (179
    [28] إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذينَ أُوتُوا الْكِتابَ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ ما جاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْياً بَيْنَهُمْ وَ مَنْ يَكْفُرْ بِآياتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَريعُ الْحِسابِ۔ آل عمران۔19
    [29] القصص ۳۷

اس صفحے کی تشہیر