اسلامی فکر کی تشکیل کے داخلی محرکات

محمد اقبال فانی نے 'اسلامی مکاتب فکر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اکتوبر 5, 2009

  1. محمد اقبال فانی مدیر: حدیث فورم

    پیغامات:
    0
    وہ کون سے داخلی مسائل تھے جو مسلمانوں میں فکری روایت کے ارتقاء کا باعث بنے؟؟تاریخی تناظر میں،اس سوال کے جواب کے لیے،ہم دیکھتے ہیں کہ اختلافِ رائے کی خلیج اس وقت وسیع ہوتی دکھائی دیتی ہے جب شہادتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعدمسلمانوں میں سیاسی افراتفری پیدا ہوگئی تو”مسئلہ خلافت “مختلف گروہوں کے ابھرنے کا باعث بنا۔چونکہ مسئلہ خلافت ہی بناءِ اختلاف ہے اس لیے مختلف مکاتبِ فکر کے نقطہ ہائے نظر کے تجزیہ وتحلیل سے قبل اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
    مسئلہٴ خلافت کیا تھا؟؟
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زندگی میں اپناجانشین مقرر نہیں کیا تھااور نہ ہی اس کے انتخاب کا طریقہ بتایاتھا،صرف اس قدر فرمایا تھا کہ امراء قبیلہٴِ قریش سے ہوں گے۔لہذا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال مبارک کے ساتھ ہی مسلمانوں میں اس سوال نے جنم لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جانشین اور خلیفہ کون ہوگا؟؟اس مسئلہ میں غور کے لیے سقیفہ بنو ساعدہ میں ایک اجتماع منعقد ہوا تاکہ اس امر کا کوئی حتمی فیصلہ کر لیا جائے ۔اس اجتماع میں مسلمان دو برابر آراء میں منقسم ہو گئے۔ انصار( اوس اور خزرج ) کا دعوی تھا کہ
    ”ہم ہی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے یہاں ٹھہرایا اور ہر طرح سے ان کی امداد کی لہذا ہم زیادہ خلافت کے حقدار ہیں“ جبکہ مہاجرین کا نقطہ نظر یہ تھا کہ
    ”ہم اسلام میں سبقت کرنے کی بناء پر خلافت کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں“
    طویل بحث ومباحثہ کے بعد انصار (حضرت حباب بن منذر)نے کوشش کی کہ ان دونوں آراء میں سمجھوتہ (Compromise)کردیا جائے۔چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں۔ایک مہاجرین میں سے اور ایک انصار میں سے۔لیکن مہاجرین کی طرف سے یہ تجویزحضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ یہ غیر ممکن ہے کہ ایک رسی سے دو اونٹ باندھ دیے جائیں۔انتخاب خلیفہ میں یہ اختلاف تادیر باقی نہ رہ سکا۔حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ وعمر نے اپنی اپنی رائے سقیفہ بنی ساعدہ کے مجمع کے سامنے پیش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق  کی بیعت خلافت کر لی گئی۔
    ڈاکٹر طٰہ حسین تجزیہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
    ”جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکراور حضرت عمردونوں(جلیل القدرزعماء اور وزراءِ پیغمبر)انصار کو صحیح رائے پرلانے میں یکساں کامیاب ہو گئے۔اورسقیفہ سے(جہاں امت نے ایک تاریخی ، معرکہ آراء اور عاقلانہ فیصلہ کیا)اس وقت تک واپس نہیں ہوئے جب تک کہ خودانصار نے حضرت ابوبکر کی بیعت قبول نہیں کر لی سوچنے کی بات ہے اگر انصار اقتداراورحکومت کے فی نفسہ خواہاں ہوتے اور شریک حکم ہونے کے ایسے ہی خواہشمندہوتے تو حضرت ابوبکر اور آپ کے رفقا یعنی حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ،چندگھنٹوں میں ان لوگوں کو کیسے قائل اورمطیع کر لیتے“ (حضرت ابوبکرصدیق اورحضرت عمر فاروق اعظم:39)
    حضرت مولاءِکائنات علی شیرخداعلیہ السلام اورآپ کے حامی اس اجتماع میں شریک نہ تھے۔جب حامیانِ علی کو بیعتِ حضرت ابو بکر  کی اطلاع ملی تو انھیں نا گواری ہوئی ۔ اِن کے خیال میں خلافت حضور نبی کریم ﷺ کے گھر میں ہی رہنی چاہیے تھی، یہاں سے ایک نئے نقطہ نظر نے جنم لیا،کیونکہ بنو ہاشم(حضرت علی) کا گھرانہ حضرت ابو بکر کے گھرانے سے کہیں زیادہ افضل تھااور عرب کے مختلف قبائل بنو ہاشم کی اطاعت زیادہ کر سکتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق حضرت علی نے چھ ماہ تک حضرت ابو بکر صدیق  کی بیعت نہ کی۔بعض روایات کے مطابق حضرت علی  نے تیسرے دن بیعت کرلی اور چھ ماہ بعد تجدید بیعت کی تاکہ معاملہ فدک کی وجہ سے پیدا ہونے والے ملال کو رفع کیا جا سکے ۔حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے دورِ خلافت کے اختتام پرحضرت عمر کو اپنا ولی عہد مقرر فرمایااورتمام مسلمانوں سے آپ کی بیعت لی ۔ اسی طرح حضرت عمر نے اپنے آخری وقت میں چند اشخاص کومنتخب فرمایاکہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی کو خلیفہ بنا لیں۔چنانچہ ان سب نے حضرت عثمان غنی کو منتخب کیا اور بیعت کے لیے پیش کیا تو سب مسلمانوں نے آپ کی بیعت کر لی تو خلافت پھر بنو ہاشم کو نہ مل سکی۔مگر اس دور میں فتنہ وفساد نے بھی سر نہ اٹھایا ،اس کی دو وجوہات تھیں۔
    عہدِ شیخین میں عدمِ اختلاف:
    شیخ ابو زہرہ مصری عہدِ شیخین میں عدمِ اختلاف کا سبب بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ حضرت ابو بکر وعمر کے عہد خلافت اور عثمانی خلافت کے اواخر تک اختلاف بڑی حد تک ماند پڑ گیا اور اوّلیتِ حضرت علی کے نظریہ میں بھی سکون وجمود آگیا۔اس کی ایک وجہ حضرت ابو بکر صدیق کی جاذب شخصیت اورحضرت عمرفاروق کی عدل پروری اور حزم واحتیاط تھا۔ان حضرات نے قبائلی عصبیت کو سر اٹھانے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مسلمان جہاد میں مصروف تھے اور ان مسائل میں غوروفکر کر رہے تھے جو فتوحاتِ اسلامی کا دائرہ وسیع ہونے سے مسلمانوں میں ابھر آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت ابوبکروعمراورحضرت عثمان غنی کے تقریباً نصف عہد خلافت تک مسلمانوں میں اختلافات کا تذکرہ نہیں ملتا۔(اسلامی مذاہب:52)
    حضرت عثمان غنی  کا عہد:
    حضرت عثمان غنی خاندانِ بنوامیہ سے تھے اور آپ کی خلافت ایک نئے تاریخی سلسلے کا دیباچہ تھی۔حضرت ابوبکروعمر نہ ہاشمی تھے نہ اموی اس لیے ان کا عہد ہر قسم کی خانہ جنگی سے پاک رہا مگرحضرت عثمان غنی کے پرُ آشوب دور میں شدید اختلافات رونماہوئے اور ایسے فتنے معرض وجود میں آئے جوسیاسی افتراق کا باعث بنے۔حضرت عثمان  کی شخصیت کو متنازعہ فیہ بناکراختلافات کی خلیج کو وسیع کرنے میں بنیادی کردارعبداللہ بن سبا کا تھا۔یہ یہودی الاصل منافق تھااور اسلام کے زیرسایہ رہ کر کفر کی پشت پناہی کرتاتھا۔اس کی فتنہ سامانیوں کاآغاز حضرت عثمان غنی کی مذمت اور حضرت علی کی قصیدہ خوانی سے ہوا۔
    مورخ طبری اس کے متعلق لکھتے ہیں۔
    ”عبداللہ بن سبا یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا۔اس کی ماں ایک سیاہ فام کنیز تھی۔وہ حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں اسلام لایا۔اور مختلف بلاد وامصار میں گھوم پھر کر مسلمانوں کو گمراہ کرتا رہا۔بلادِ حجاز سے آغاز کرکے بصرہ اور شام پہنچامگر اس کی آرزو بر نہ آئی۔اہل ِشام نے جب اسے نکال دیا تو مصر پہنچا،کہنے لگایہ بات بڑی تعجب خیز ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ کے آسمان سے نازل ہونے پر ایمان رکھتے ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رجعت کو تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ قرآن آپ کے بارے میں کہتا ہے۔اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرآنَ لَرَادُکَ اِلٰی مَعَادٍ (القصص 85:28) محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوٹ کر آنے کاحضرت عیسٰی سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔پھر کہتادنیا میں ہزارہا انبیاء آئے ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصی تھے۔پھر کہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور حضرت علی خاتم الاوصیاء۔وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ حضرت عثما ن نے خلافت کا حق غصب کر رکھا ہے حضرت علی اس کے اصلی حقدار ہیں۔ایسے حالات میں تم پر یہ فرض آید ہوتا ہے کہ حضرت علی  کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہوجس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے ولاۃ وحکام کے نقائص ومعائب بیان کیجئے اور اس طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرکے لوگوں کی ہمدردی حاصل کیجئے۔چنانچہ اس نے ہر طرف اپنے داعی بھیج دیے۔لوگوں کو ورغلاناشروع کیا۔جس سے شہروں میں فتنہ وفساد کا دوردورہ ہوا۔یہ داعی بذریعہ تحریر اپنے افکارونظریات کی اشاعت کرتے اور اسے امربالمعروف ونہی عن المنکر کا مصداق قرار دیتے تھے۔وہ ولاۃ وحکام کے مصائب سے لبریز خطوط مختلف بلادوامصار میں بھیجتے۔ان کے رفقاء کار بھی اسی طرح کے خط لکھتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکامِ وقت کے مصائب کی بڑی تشہیر ہوئی۔اس سے ان کا مقصدہر گز وہ نہ تھاجس کا وہ اظہار کرتے تھے اور جو باتیں وہ برملا کہتے تھے ان کے دل میں ہر گز نہ تھیں“ ( تاریخ طبری 408:3)
    عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعض ولاۃ وحکام کی شکایت کونقصِ بیعت کے لیے حیلہ بنا کراور امت میں افکارِ باطلہ کی تشہیر کرکے اس کے شیرازہ کو منتشر کر دیا۔ان کی لگائی ہوئی آگ کے نتیجہ میں بالآخرحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔
    حضرت علی علیہ السلام کا عہدِ خلافت:
    شہادتِ عثمان کے بعد اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت نے حضرت علی  کی بیعت کر لی اوراستحقاقِ خلافتِ علی  کے دعویداروں کا نظریہ ایک حقیقتِ ثانیہ بن گیا۔مگر یہاں سے قصاصِ عثمان کے مسئلہ پر ایک نئے پُر فتن دور کا آغاز ہوا۔خانہ جنگی کی کیفیت زور پکڑ گئی۔صحابہ کرام گروہوں میں بٹ گئے۔کچھ صحابہ کرام نے حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا جن میں حضرت طلحہ،حضرت زبیراور حضرت امیر معاویہ شامل ہیں۔کچھ صحابہ غیر جانبدار رہے جن میں سے مشہور حضرات عبداللہ بن عمر بن الخطاب،محمد بن مسلمہ،سعد بن ابی وقاص،اسامہ بن زید،حسان بن ثابت اورعبداللہ ابن اسلام تھے۔غلط فہمیوں اور منافقین کی مکارانہ چالوں اور سازشوں کی وجہ سے صحابہ کرام میں باقاعدہ جنگیں ہوئیں۔جنگِ جمل،جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں بعض جیّد صحابہ کرام بھی ایک دوسرے کے مخالف گروہوں کے ساتھ شریک ہوئے۔حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی حضرت علی علیہ السلام کے خلاف صف آراء ہوئیں۔انہی شروروفتن کے زیرِ سایہ حضرت علی کا حمایتی شیعہ مذہب پروان چڑھا۔جنگِ صفین میں تحکیم کے مسئلہ پر یہ گروہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ایک گروہ تحکیم کے حق میں تھا اور دوسرا اس کے خلاف تھا۔حضرت علی  کے تحکیم کے حق میں ہونے کی وجہ سے دوسرا گروہ ان کے خلاف ہو گیا اور خوارج کے نام سے پکارا گیا اور جو لوگ غیر جانبدار رہے وہ مرجئہ کہلائے۔
    عصرِ اوّل میں پیدا ہونے والے مکاتبِ فکر کا یہ مختصر سا تاریخی پسِ منظر تھا،جوہمیں مجبوراً اس لیے بیان کرنا پڑا کہ اس کی بنیاد پر یہ تینوں سیاسی مکاتبِ فکر (شیعہ،خوارج،مرجئہ)وجود میں آئے ۔آئندہ سطور میں اسلامی فکر کے ارتقاء کے باب میں ہم ان مکاتبِ فکرکے کردار کا جائزہ لیں گے اور ان کے نقطہ ہائے نظر کو بالتفصیل ذکر کریں گے۔
    مبشر شاہ نے اسے پسند کیا۔
  2. محمد اقبال فانی مدیر: حدیث فورم

    پیغامات:
    0
    شیعہ مکتب فکرکاارتقاء

    شیعہ
    شیعہ کے لفظی معنی گروہ،طبقہ،ساتھی،رفیق اور مددگار کے ہیں۔یہ مسلمانوں کے سیاسی فرقوں میں سے قدیم ترین فرقہ ہیں۔ان کا ظہور خلافتِ عثمانِ غنی کے آخری دور میں ہوا،حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں پھلا پھولااورپروان چڑھا۔یہ لوگ شیعانِ علی کہلوائے اورحضرت علی علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت کا ساتھ دیااور ان کے ساتھ الفت ومودّت کااظہار کیا۔ان کے خیال میں خلافت کا حق حضرت علی علیہ السلام کو پہنچتا تھا کیوں کہ وہ اپنے ذاتی اوصاف وکمالات کے اعتبار سے اس لائق تھے کہ اس منصبِ جلیلہ پر فائز ہوتے۔شیعہ کا نقطہ ء نگاہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے حق میں وصیت فرمائی تھی اس لیے وہی بلافصل خلیفہ ءِ برحق تھے،اور جب تک وہ بقیدِ حیات رہے جائز امام وخلیفہ تھے۔شیعہ کے نقطہ ء نظر کے مطابق پہلے تینوں خلفاء نے حضرت علی علیہ السلام کے حق کو غصب کیا۔اس اساسی نظریے نے شیعانِ علی علیہ السلام کوایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آتی گئی اور مختلف عقائد ونظریات کااضافہ ہوتا چلاگیا۔جب اموی دور میں اولادِ علی علیہ السلام کوظلم وستم کی آماجگاہ بنایا گیا اور لوگوں نے یہ مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے تو اس مظلومی کی تاب نہ لا سکے۔اس سے شیعہ مذہب کادائرہ وسیع ہوا،اور اس کے اعوان وانصار میں اضافہ ہونے لگا۔سانحہ کربلا سے ان کی شدت میں مزیداضافہ ہو گیا۔اس گروہ نے نئے نئے عقائد کو اپنا لیا ۔جیسے امام معصوم عن الخطا اور منصوص من اللہ ہوتا ہے،اس کا انتخاب عوام پر نہیں چھوڑاجاسکتا،نئے امام کی نامزدگی پہلاامام خود کرتا ہے،چنانچہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو نامزد فرمادیا تھا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدحضرت علی علیہ السلام امامِ برحق ہیں اور امامت صرف اولادِ عل کا حق ہے۔
    شیعہ افکاروعقائد میں یکساں نہ تھے اس لیے تا دیراپنی وحدت کو برقرارنہ رکھ سکے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔بنیادی طور پر ان کے اہم ترین فرقے دو تھے”زیدیہ اور امامیہ“مگروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دو مزید کئی حصوں میں تقسیم ہوئے۔ہرفرقہ اپنے آپ کو ہی راہِ راست پر تصور کرنے لگا۔بعض فرقے اپنی حد سے اس قدر متجاوز ہوئے کہ دائرئہ اسلام ہی ان کے لیے تنگ پڑ گیا۔کچھ اس حد تک غالی تونہ ہوئے مگر متشدّدانہ نظریات کی ان میں بھی کمی نہ رہی۔البتہ چند فرقوں نے ان دو انتہاؤں کے درمیانی مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔پھران تین بنیادوں پر وجود پانے والے گروہ مزید کئی فرقوں میں بٹے اورکئی نظریات کو جنم دیا۔کسی فرقے نے بھی اپنے نتائجِ فکر کی اساس کے قرآن سے ثبوت کے لیے آیات میں تحریف سے گریز نہ کیا۔شیعہ کے بعض فرقوں پر ہمیں معتزلی افکار کی اوربعض پرمکتب اہلِ سنت کی چھاپ واضح نظر آتی ہے، جن سے متاثر ہو کر اِنھوں نے باقائدہ اپنی فقہ تدوین کی۔ان کے نزدیک نکاحِ متعہ شرعاً جائزہے،انبیاء سے ورثہ حاصل کیا جاسکتا ہے،وضومیں پاؤں پرمسح کرنافرض ہے ان کا دھونا نہیں اور موزوں پرمسح جائزنہیں ہے۔تقسیم میراث کے سلسلہ میں یہ”عول“کے قائل تھے۔ان فقہی اختلافات کے نتیجہ میں قرآنی آیات کو اپنے افکاروآراء کے قالب میں ڈھالتے اور اپنے نظریات سے متصادم آیات واحادیث کی تاویل کرتے۔آئندہ سطور میں ان کے مختلف فرقوں کے افکارونظریات کوہم مختصراً بیانیہ انداز(Descriptive way) میں پیش کرتے ہوئے آگے گزر جائیں گے۔
    (ا)۔فرقہ زیدیہ:
    شیعہ کے تمام فرقوں میں یہ فرقہ اہلِ سنت کے زیادہ قریب ہے۔یہ حضرت زید بن علی بن حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب کے پیروکار تھے۔یہ شیعوں کا اعتدال پسند طبقہ تھا مگرہمیں ان کے بعد عقائدونظریات پرمعتزلی افکار کی چھاپ نظر آتی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت زید(زیدیہ فرقہ کے امام)معتزلہ کے رئیس واصل بن عطا کے شاگرد تھے اور اس کی تعلیمات کو بڑی حد تک اپنایا ہوا تھا۔مگر پھر بھی یہ فرقہ حدِّاعتدال سے متجاوز نہیں ہوا۔اس فرقہ کے بانی حضرت زید کے خیال میں افضل کی موجودگی میں مفضول کی خلافت وامامت جائز ہو سکتی ہے۔لہذا حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت جائز تھی اگرچہ ان سے افضل حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ اس ضمن میں شیخ ابوزھرہ مصری رقمطراز ہیں ۔
    ”زیدیہ کے نزدیک مفضول کی امامت جائزہے۔گویا امام افضل وکامل میں ان صفات کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ دوسروں کی نسبت اس کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔لیکن اگر امت کے اربابِ بست وکشاد کسی ایسے شخص کو امام چُن لیں جس میں یہ بعض صفات موجود نہ ہوں اوراس کی بیعت کر لیں تواس کی امامت درست اور بیعت لازم ہو گی۔اس بناء پرحضرت ابوبکروعمرکی امامت زیدیہ کے یہاں درست اورصحیح تھی۔اس بیعت کی بناء پروہ صحابہ کی تکفیر نہیں کرتے تھے۔زیدحضرت علی  کوافضل الصحابہ تصورکرتے تھے۔مگر ان کے نزدیک ایک مصلحت اور دینی قاعدہ کے تحت خلافت ابوبکر کو تفویض کی گئی تھی۔وہ مصلحت یہ تھی کہ فتنہ کی آگ نہ بھڑک اٹھے۔نیز عوام الناس کی رائے کا احترام،اس لیے کہ غزواتِ اسلامیہ کا زمانہ ابھی بڑاقریب تھا۔اور امیرالمومنین حضرت علی کی تلوارسے مشرکین کا خون ابھی خشک نہ ہونے پایا تھا،سینوں میں انتقام کی آگ ابھی بھڑک رہی تھی،لہذالوگوں کے دل آپ کی طرف مائل نہ ہوتے تھے اور نہ وہ آپ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کو تیارہوتے تھے،مصلحت کاتقاضا یہ تھا کہ خلیفہ ایک ایسا شخص ہو جو حلیم الطبع،محبت پیشہ،معمر،آنحضرت ﷺ کا قریبی اورسابق الاسلام ہو۔انہیں خیالات کی بناء پراکثرشیعہ نے زید کو آڑے وقت میں تنہا چھوڑ دیا“ (مذاہب الاسلام 81َ،82)
    امام کے متعلق بھی ان کا نظریہ کا فی حد تک معتدل تھا۔ان کے نزدیک امامت منصوص بالوحی نہیں ہوتی بلکہ ہر فاطمی ،عالم،زاھد،بہادر،سخی اور حق کے راستہ میں جہاد کی قدرت رکھنے والاامام ہو سکتا ہے اگروہ مطالبہٴِ خلافت کے لیے سلاطین کے خلاف خروج کی اہلیت رکھتا ہو۔اس لحاظ سے ان کے ہاں امامت عملی چیز تھی سلبی نہیں۔خروج کے باب میں آپ کے بھائی محمد باقر اور کئی شیعہ آپ کے ہم خیال نہ تھے۔امام باقر فرمایا کرتے تھے کہ تمھارے مذہب کی رُو سے تو تمھارے والد بھی امام نہیں کیونکہ انھوں نے کبھی خروج نہ کیا۔زیدیہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکفیر نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اپنے ائمہ کو الوہیت یا رسالت کے منصب پر فائز کرتے تھے۔ تعدّدِخلفاء کے بارے میں زیدیہ کازاویہ نگاہ یہ تھا کہ دوالگ الگ ملکوں میں دوجداگانہ امام پائے جا سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہی ملک میں دو خلفاء کاوجود ممکن نہیں۔مرتکبِ کبائر کے بارے میں یہ اعتزالی ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ کبائر کا مرتکب اگر توبہ نہ کرے توابدی جہنمی ہے۔
    حضرت زید نے اموی خلیفہ ھشام بن عبدالملک کے خلاف 121ھ ء میں خروج کیا، آپ کے اعوان وانصار نے آپ کو دھوکہ دے کرتنہا چھوڑ دیا تو آپ کو سُولی دے کرنعشِ اقدس کو جلادیا گیا۔پروفیسر غلام احمد حریری رقمطراز ہیں کہ
    ”جب شام کے گورنریوسف بن عمر ثقفی کے ساتھ آپ کی جنگ ہو رہی تھی تو آپ کے معتقدین نے پوچھا حضرت ابوبکر وعمر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟؟زید فرمانے لگے میرے جدّ امجد حضرت علی ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔میں تو بنوامیہ کے خلاف نبرد آزما ہوں۔اس لیے کہ وہ میرے جداعلیٰ حضرت علی سے لڑے اور انھوں نے میرے داداحضرت حسین کو شہید کیا۔یہ سن کر حضرت زید کے پیرو بغاوت پر اتر آئے اور آپ کو چھوڑ کر الگ ہو گئے۔اسی بناء پر ان کو ”رافضہ“ (الگ ہو جانے والے) کہا جانے لگا“ (تاریخِ تفسیر ومفسرین 355،356) حضرت زید کے بعد آپ کے بیٹے حضرت یحيٰ کی بیعت کی گئی۔حضرت یحيٰ نے بھی 125ھء میں خروج کیا پھر جب آپ مقتول ہوئے تو بعد میں عبداللہ ابن حسن کے دونوں بیٹوں محمد اورابراہیم کی بیعت کی گئی۔عبداللہ بن حسن امام ابوحنیفہ کے محترم استاد تھے۔پھر ابراہیم نے عراق میں خروج کیا اور محمد نے مدینہ میں اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ کو عراق میں اور امام مالک کومدینہ میں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔اگرچہ یہ فرقہ آج تک یمن میں موجود چلاآرہا ہے مگرخلیفہ ابوجعفر منصور کے دور میں زیرِعتاب آنے کی وجہ سے یہ فرقہ کمزور پڑ گیااور دوسرے شیعہ فرقے اس پر غالب آگئے اس لیے یہ اپنی خصوصیات کھو بیٹھے۔یہ مفضول کی امامت کے عقیدہ سے منحرف ہو گئے اور ان روافض میں شمار ہونے لگے جو حضرت ابوبکر وعمر کی امامت کو تسلیم نہیں کرتے اس سے ان کی عظیم خصوصیت جاتی رہی۔انتشار کا شکار ہونے سے یہ دو فرقوں میں بٹ گئے۔
    i۔متقدمین جو روافض میں شمار نہیں ہوتے اور شیخین کی امامت کے قائل ہیں۔
    ii۔متا خرین جورافضی ہیں اور شیخین کی امامت کو تسلیم نہیں کرتے۔
    (یمن کے زیدیہ متقدمین زیدیہ سے بہت قریب ہیں اور وہی عقائد رکھتے ہیں۔
    (ب)۔امامیہ:
    اس فرقہ کے بیش تر عقائدونظریات کی اساس امامت پر ہے اس لیے ان کو امامیہ کہا جاتا ہے۔ زیدیہ امامت کے لیے اوصاف کے تعین کے قائل تھے جبکہ امامیہ ذات کے تعین کے ۔ان کے بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت منصوص تھی کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صراحتا نام لے کرحضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایاتھا۔یہ بھی امامت کو حضرت فاطمہ علیھاالسلام کی اولاد میں محدودومحصورتصور کرتے تھے۔امامیہ اپنے افکاروآراء میں نہایت متعصب اور غالی ہیں اور اکثر صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکروعمرنے حضرت علی سے خلافت چھین لی تھی اس لیے وہ(نعوذ باللہ من ذالک)ظالم وغاصب تھے۔اس لیے ان دونوں سے اظہاربرأت واجب ہے۔انہوں نے اعتراف ِامامت کوایمان کاجزو قراردیا ہے۔علامہ احمد امین مصری رقمطرازہیں۔
    ”شیعہ نظریہ کی بنیاد خلیفہ ہے جسے وہ”امام“کہتے ہیں چنانچہ حضرت علی۔محمد ﷺکے بعدامام ہیں اور پھر ترتیب کے ساتھ ان اماموں کا سلسلہ خدا کی طرف چلتا ہے۔امام کااعتراف کرنااور اس کی اطاعت کرناایمان کاجزو ہے۔امام کی ان کی نظروں میں وہ حیثیت نہیں ہے جو اہل سنت کے نزدیک خلیفہ کی ہوتی ہے۔اہل سنت کے نزدیک خلیفہ یا امام دین کی حفاظت میں صاحبِ شریعت کا نائب ہوتا ہے۔وہ لوگوں کو خدا کے احکام پرعمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور وہی عدالتی ،انتظامی اور جنگی سلطنت کا رئیس ہوتا ہے۔لیکن اسے تشریعی تسلط حاصل نہیں ہوتا وہ کسی امر کی تشریح وتفسیر کرسکتا ہے،جہاں کوئی نص موجود نہ ہووہاں اجتہاد کر سکتا ہے۔لیکن شیعوں کے ہاں امام کی ایک دوسری حیثیت ہے وہ یہ کہ وہ سب سے بڑا معلم ہوتا ہے۔امامِ اول یعنی حضرت علی نے امامت نبی اکرم ﷺ سے وراثتاً پائی تھی۔امام کوئی معمولی شخصیت نہیں ہوتا بلکہ لوگوں سے بلند تر ہستی ہوتا ہے جو غلطی سے معصوم ہوتی ہے“ (فجرالاسلام 339)
    امامیہ جس طرح حضرت علی کے وصی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اسی طرح ان کے بعد حضرت فاطمہ ،حضرت حسن  اور پھر حضرت حسین کی اولاد کوبھی اوصیاء میں شمار کرتے ہیں۔اس حد تک تو ان کا عقیدہ ان کے ہاں اجماعی ہے اس کے بعدیہ محتلف الخیال ہو کرفرقوں میں بٹ گئے۔مگر تمام امامیہ اس بات پر متفق ہیں کہ درج ذیل حضرات خلفاء برحق ہیں:۔
    1۔حضرت علی علیہ السلام (المتوفٰی 661ءء)
    2۔حضرت امام حسن علیہ السلام (المتوفٰی 670ءء)
    3۔حضرت امام حسین علیہ السلام (المتوفٰی 680ء)
    4۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام (المتوفٰی 712ءء)
    5۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام (المتوفٰی731 ءء)
    6۔ حضرت امام محمد جعفر صادق علیہ السلام (المتوفٰی 765ءء)
    ان چھ خلفاء کے بعد ان کے اندر کا فی اختلاف ہے جس کی وجہ سے یہ بہت سے فرقوں میں تقسیم ہوئے ہیں مگر ان میں دو فرقے سب سے زیادہ مشہور ہوئے ہیں۔
    i۔اثنا عشریہ
    ii۔اسماعیلیہ
    (اب ہم اختصار کے ساتھ ان دو فرقوں کے افکار اور نظریات وعقائد کا سرسری جائزہ لیں گے۔
    i۔امامیہ اثنا عشریہ:
    امامیہ اثنا عشریہ امام حضرت جعفر صادق کے بعد مندرجہ ذیل ائمہ کو خلیفہ بر حق قرار دیتے ہیں۔
    1۔حضرت امام موسی کاظم بن جعفر صادق (المتوفٰی 799ءء)
    2۔حضرت امام علی رضا بن موسی کاظم (المتوفٰی 818ء)
    3۔حضرت امام محمد الجوادبن علی رضا  (المتوفٰی 835ء)
    4۔حضرت امام علی ہادی بن محمد جواد  (المتوفٰی 868ء)
    5۔حضرت امام حسن عسکری بن علی ہادی  (المتوفٰی 874ء)
    6۔حضرت امام محمد مھدی بن حسن عسکری  (المتوفٰی 874ء میں روپوش ہوئے)
    اثنا عشریہ کا عقیدہ ہے کہ بارھویں امام محمد مھدی بن حسن عسکری ” سُرَّ مَنْ رَا یٰ“ میں اپنے والد کے گھر کے ایک تہہ خانے میں داخل ہوئے اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ اس میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک چار سال اور بعض آٹھ سال کہتے ہیں۔اثنا عشریہ کا عقیدہ ہے کہ وہ قربِ قیامت میں وہاں سے نکل کر دنیا کو عدل وانصاف اور امن وآشتی کا گہوارہ بنا دیں گے۔اثناعشریہ ابھی تک بارھویں امام کے منتظر ہیں۔اثنا عشری آج کل عراق میں پائے جاتے ہیں، ایران کے اکثر شیعہ بھی اثنا عشری ہیں۔علاوہ ازیں یہ لوگ لبنان،شام اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔اثناعشریہ دیگر شیعہ کی طرح نہ صرف تقدیسِ ائمہ کے قائل ہیں بلکہ انبیاء کی طرح اماموں کاخدا کے ساتھ تعلق بھی مانتے ہیں۔
    ان کے نزدیک امام پر ایمان لانا ایمان باللہ کا لازمی جزو ہے اور جو شخص امام پر ایمان لائے بغیر مر جائے اس کی موت کفر پر واقع ہوتی ہے۔امامیہ امام کے تشریعی مقام کے بھی قائل ہیں ،ان کے نزدیک امام کو قانون سازی کا پورااختیار حاصل ہے اور اس کی ہر بات شریعت کا درجہ رکھتی ہے۔اثنا عشریہ کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے وحی والہام کے ذریعہ حاصل ہونے والے احکامات میں سے بہت سے احکامات کو بیان کر دیا مگر بہت سے احکامات ایسے بھی تھے جودوامی محرکات کے فقدان کے باعث معرضِ ظہور میں نہ آسکے۔یہ مخفی احکامات نبی کریم ﷺ نے اوصیاء کو ودیعت کر دیے اور اس طرح ہر وصی دوسرے تک یہ احکامات پہنچاتا رہا تاکہ مصلحت وحکمت کے تحت مناسب وقت پر انہیں ظاہر کیا جا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ عصمت وتقدیسِ ائمہ میں تمام حدود کوپھلانگ کرغلو کی انتہاء تک پہنچ گیا ہے۔ان کے بقول ائمہ صغائروکبائر سے پاک ہیں اور ان سے خطا اوربھول چوک سرزد نہیں ہو سکتی۔مہدیّت کے بارے میں بھی ان کا عقیدہ عجیب ہے۔امامیہ میں سے ہر فرقہ اپنے الگ الگ امامِ غائب کا منتظر ہے۔ایک فرقہ امام جعفرصادق کا دوسرا محمد بن عبداللہ بن الحسن بن الحسین بن علی بن ابی طالب کااورتیسرا فرقہ محمد بن الحنیفہ کامنتظر ہے۔ان کا عقیدہ رجعت یہ ہے کہ جب”امام منتظر“کا ظہور ہو گا تو نبی کریم ﷺدنیا میں تشریف لائیں گے اور آپ کے ہمراہ حضرت علی،حضرت حسن وحسین اور سب ائمہ ہوں گے۔ان کے دشمن(نعوذ باللہ من ذالک)حضرت ابوبکر وحضرت عمر بھی دنیا کی طرف لوٹیں گے۔نبی کریم ﷺ ائمہ اہلِ بیت کے دشمنوں سے انتقام لیں گے۔امامیہ اپنے ائمہ سے خارق عادت واقعات کے ظہور کو معجزات قرار دیتے ہیں ،ان کے بقول اس سے امامت کی تصدیق ہوتی ہے،اور جب امامت کے بارے میں نص قطعی موجود نہ ہو تو امامت کا اثبات معجزہ سے ہونا چاہیئے۔شیعہ امامیہ کی رائے میں امام کو علمِ کلی بالفعل حاصل ہوتا ہے اور اس کا یہ علم علماء کی طرح ذاتی محنت ومشقت کا نتیجہ نہیں ہوتا کیونکہ اجتہادی علم نقص کی قبیل سے ہے جس کی ابتداء جہل سے ہوتی ہے اور امام کا کسی بھی دینی علم سے جا ہل ہونا جائز نہیں۔اس بات کا منطقی نتیجہ ائمہ کے علمِ کلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔علم کلی کو بنیاد بنا کر وہ کہتے ہیں کہ نبی اوروصی میں وحی الہیٰ کے سوا کوئی فرق وامتیاز نہیں ہے۔
    ii ۔ امامیہ اسماعیلیہ:
    اسماعیلیہ شیعیت ہی کی ایک شاخ ہے۔اس فرقے نے کئی روپ دھارے،کئی سوانگ رچائے اور کئی رنگ بدلے اسی لیے تاریخ میں انہیں کئی القابات سے یاد کیا گیا۔”اسماعیلیہ“ ان کا صحیح نام ہے جس واضح ہوتا ہے کہ ان کا تعلق حضرت امام جعفر صادق کے بیٹے حضرت اسمٰعیل سے ہے حضرت موسی کاظم سے نہیں۔”باطنیہ“ انہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ ظواہراحکام اور نصوص قطعیہ سے کہیں زیادہ اہمیت ان خود ساختہ معانی اور باطنِ الفاظ کو دیتے ہیں جن کی تعییں ان کا کوئی داعی یا امام کر دے۔ یہ اسرار وتعلیمات امام معصوم کی ذات میں منحصر مانتے ہیں اس لیے انہیں” تعلیمیہ“ کہا جاتا ہے۔چونکہ جنابِ اسمٰعیل کی والدہ کا نام فاطمہ تھا جو حضرت حسن کی نواسی تھیں اس لیے انہیں”فاطمیہ“ بھی کہتے ہیں۔اس فرقہ کا اولین داعی حمدان قرمط”واسط“ کے قریب ایک گاؤں قرمط کا رہنے والا تھا اس کی نسبت سے یہ” قرامطہ“ کہلاتے ہیں ۔حرام اشیاء اور محرمات کی حرمت کے قائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ” حَرمیہ“ بھی کہلائے۔اسماعیلیہ کا عقیدہ ہے کہ شریعت کی دعوت دینے والے سات افراد تھے جن میں حضرت آدم ،حضرت نوح ،حضرت ابراھیم ،حضرت موسی ،حضرت عیسیٰ ،حضرت محمد مصطفی ﷺ اور حضرت محمد مھدی المنتظر  شامل ہیں۔ان سات داعیوں میں سے ہر دو کے درمیان سات امام ہوتے ہیں جو ان کی شریعت کی تکمیل کرتے ہیں۔ہرزمانے میں سات ائمہ کا وجود ضروری ہے تاکہ ان سے ہدایت حاصل کی جا ئے اور ان کی پیروی کی جائے۔اس عقیدہ کی اساس پر ان کو ”سبعیہ “کہا جاتا ہے۔آذر بائیجان کے علاقہ میں بابک خرمی کی سیادت میں خروج کرنے کی وجہ سے ”بابکیہ خرمیہ“کہلائے۔بابک خرمی کے زمانہ میں یہ لوگ سرخ لباس پہنتے تھے اس لیے انہیں ”اَلْمُحَمِّرۃ“کہا جا نے لگا۔اسمٰعیلیہ اماموں کواسمٰعیل بن جعفر صادق  پر ختم کر دیتے ہیں۔جبکہ اثنا عشریہ امام جعفر صادق  کے بعد امام موسی کا ظم  کو امام مانتے ہیں کیونکہ جناب جعفر صادق کے فرزندحضرت اسمٰعیل ان کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے۔اسمٰعیلیہ کی دلیل یہ ہے چونکہ جناب اسمٰعیل اپنے والد کی نص کی بناء پر امام ہوئے اس لیے امامت ان اخلاف میں موجود رہی۔ کیونکہ نص کو قابل عمل قرار دینا اس کو مہمل کرکے رکھ دینے سے بہتر ہے اور امام کی نص واجب التعمیل ہے۔
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے افکار تبدیل ہوتے گئے، نظریات بوسیدہ ہونے اورعراق میں حکومتی تختہ مشق ظلم وستم بننے کی وجہ سے ان میں شدت آتی گئی۔قرامطہ اور حرمیہ کے وجود سے یہ فر قہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا کی نظروں میں مطعون ہو گیا۔احمدامین مصری ان کے افکار کی رنگا رنگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
    ”اسمٰعیلیہ فرقہ تاریخ اسلام میں عرصہ دراز تک بہت کھیل کھیلتا رہاہے۔انھوں نے افلاطونیت جدیدہ کو لیا ہے اور عجیب وغریب طریقہ پر اسے شیعی مذہب پر منطبق کر لیا ہے۔اس مذہب افلاطونی کا جس قدر حصہ اخوان الصفا نے اپنے رسالوں میں بیان کیا ہے۔ اس سے انھوں نے کام لیا ہے بعض مورخین کا بیان ہے کہ اخوان الصفا نے ان کے لیے جو تعلیم مقرر کی ہے اس کے انھوں نے نو درجے رکھے ہیں۔ پہلے درجے میں یہ بات آتی ہے کہ اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کیے جائیں۔مثلاً اس قسم کے سوالات پیدا کرنے چاہئیں۔جمرات پر کنکریاں مارنا کیا ہوتا ہے۔صفامروہ کے در میان دوڑ لگانے سے کیا مقصد ہے؟ آخری درجہ پر پہنچ کر اسلام بالکل ختم ہو جاتا ہے اور اس کی تمام قیود ختم کر دی جا تی ہیں اور ہر چیز کی ایک تاویل پیش کر دی جاتی ہے ۔مثلاً وہ کہتے ہیں۔وحی اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں کہ دل کی صفائی کا نام ہے،دینی شعائر عوام کے لیے ہوتے ہیں،خواص کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ان کے انبیاء فلاسفر ہوتے ہیں۔قرآن کے الفاظ سے استدلال اور تمسک کرنے کے کوئی معنی نہیں،وہ تو دراصل کچھ اشیاء کے رموز ہیں جنہیں عارف لوگ ہی جانتے ہیں۔قرآن کو تاویل اور مجاز کے طریقہ پر سمجھنا ضروری ہے۔قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے ہم پر واجب ہے کہ مادی پردوں کو چاک کرتے جائیں تا آنکہ ہم پاکیزہ ترین ممکن روحانیت تک پہنچ سکیں“ (فجرالاسلام 341)
    ہند اور ترکستان کی طرف ہجرت کرنے سے فارسی افکار اور ہندی خیالات ان کے عقائد میں گڈ مڈ ہو گئے اور ان میں عجیب و غریب افکار کے لوگ پیدا ہونے لگے جو دین کے نام سے اپنی مقصد برآری کرتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ متعدد فرقے اسمٰعیلیہ کے نام سے موسوم ہو گئے۔کچھ نے دین کا قلادہ اتار پھینکا اور بعض نے برائے نام اوڑھے رکھا۔شیخ ابو زہرہ مصری ان کے عقائد کو معجونِ مرکب قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
    ”اسماعیلیہ فرقہ کے افراد پر ہندو برہمنوں،اشرافی فلاسفہ اوربدھ مت والوں سے ملے جلے،کلدانیوں اور ایرانیوں میں روحانیت اور کواکب ونجوم سے متعلق جو افکار پائے جاتے ہیں وہ بھی اخذ کیے پھر ان مختلف النوع افکارونظریات کا ایک معجون مرکب تیار کیا۔ایسے لوگ دائرہ اسلام سے بہت دور نکل گئے۔بعض اسماعیلیہ نے صرف واجبی حد تک ان افکار سے استفادہ کیااور اسلامی حقائق سے وابستہ رہنے کی کوشش کی۔ان کے سب سے بڑے داعی باطنیہ تھے جوجمہور امت سے کٹ گئے تھے اوراہل سنت کے نظریات سے انہیں کوئی تعلق نہ تھا۔یہ جس قدر حقائق کو چھپاتے تھے اسی قدر عام مسلمانوں سے دور نکلتے جاتے تھے“ (مذاہب السلام 95)
    iii۔شیعوں کے غالی فرقے:
    حضرت عثمان غنی کے عہد میں مسلہ خلافت کی بنیاد پر جنم لینے والے ”شیعانِ علی “مرورِزمانی کے ساتھ ساتھ اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرتے ہوئے غلو کی کن انتہاؤں تک پہنچے اس کا اندازہ ان کے ان عقائد سے لگایا جا سکتا ہے کہ غلّاۃ حضرت علی  کوخداکارتبہ دیتے تھے،حشراجساد اورحساب کے منکر تھے،ان کے نزدیک امام کو دنیا اور دین کی ساری باتوں کا علم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ سنگ ریزوں اور درختوں کے پتوں کوبھی جانتا ہے،جماعت مسنون نہیں اوربی بی فاطمہ بی بی عائشہ سے افضل ہیں۔ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ نبی کریم ﷺ کوبغیرمعاون کے نبوت کی قدرت نہ تھی۔فقہ کے باب میں ان کے نزدیک لفظ واحدسے تین طلاقیں واقع نہیں ہوتیں اور نہ ہی نماز تراویح مسنون ہے،نمازمیں سیدھاہاتھ بائیں ہاتھ پررکھناسنت نہیں ہے،افطارمیں جلدی کرناناجائزہے اور جب تک کواکب نہ چمک جائیں نماز مغرب نہیں پڑھنی چاہیے مگراسماعیلیہ کے نزدیک افطاراورنماز میں جلدی کرناواجب ہے۔تمام غلّاۃ بالاتفاق کافر ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انبیاء وائمہ خدا ہیں یا خدا نے ان میں حلول کیایاان سے متحدہو گیاہے،حضرت امام جعفرصادق نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے قلتِ دین وایمان کا فتویٰ دیا ہے۔ان کے بھی کافی سارے فرقے اور گروہ معرض وجودمیںآ ئے اورطرح طرح کے نظریات کوجنم دیاجس کااندازہ درج ذیل فرقوں کے نظریات سے لگایا جاسکتا ہے۔
    (ا)۔فرقہ سبیئہ:
    اس فرقہ کی اصل یہود ہے۔کیونکہ اس کا بانی عبداللہ بن سبا یہودی تھا جس کی ماں ایک سیاہ فام باندی تھی۔یہ اسلام کو یہودیت کا دشمن سمجھتا تھا۔اس کے خیال میں یثرب کی وادی کو سب سے پہلے یہودیوں نے آباد کیا تھااور وہی اس میں دائمی رہنے کا حق رکھتے تھے مگر حضور نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ کی بستی سے باہر نکال دیا کیو نکہ یہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے باوجوددشمنوں کا ساتھ دیتے تھے اور خانہ جنگی کی فضا ہموار کرکے ریاستِ مدینہ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے تھے۔مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے اس نے عہد عثمانی میں اسلام کا لبادہ اوڑھااور حبِّ اہلِ بیعت کے نام پر حضرت علی کے متعلق اپنے شرارت آمیز اور گمراہ کن خیالات پھیلانا شروع کر دیے۔اس نے کہا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور محمد ﷺ کے وصی حضرت علی  ہیں اور جس طرح نبی کریم ﷺ افضل الانبیاء تھے اسی طرح حضرت علی  افضل الاوصیاء تھے۔اس نے حضور نبی کریم ﷺ کی رجعت کے عقیدہ کو لوگوں میں پھیلایا۔پھر رفتہ رفتہ یہ الوہیتِ علی کا پرچار کرنے لگا۔حضرت علی  کو علم ہوا تو اس کو قتل کرنے کے در پے ہوئے مگر حضرت عبداللہ ابن عباس  نے روک دیا۔فرمایا اگر آپ نے اسے قتل کر دیاتو آپ کے متبعین میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔لہذا حضرت علی  اسے مدائن کی طرف ملک بدر کر دیا۔حضرت علی  کی شہادت کے بعدلوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس نے طرح طرح کی افسانہ طرازیاں شروع کر دیں۔حضرت علی  کی موت کو حضرت عیسیٰ  پر قیاس کر کے کہنے لگا کہ آپ کو بھی زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور مقتول آپ کی شکل میں متشکل شیطان تھا۔کہنے لگا جس طرح یہودونصاریٰ نے حضرت عیسیٰ  کے قتل کا جھوٹا دعوی کیا تھا اسی طرح خوارج نے قتل علی  کا ڈھونگ رچایا ہے۔آسمان پر بادل کی کڑک کو حضرت علی  کی آواز کہتااور بجلی کی چمک کو آپ کی مسکراہٹ قرار دیتا۔اس فرقہ کے لوگ جب بادل کی آواز سنتے تو کہتے”اَلْسَّلَامُ عَلَیْکَ یَااَمِیْرَالْمُوْمِنِیْنَ“۔اس فرقہ کا عقیدہ تھا کہ ذات باری تعالیٰ حضرت علی  میں حلول کر آئی ہے،بعد میں دیگر ائمہ کے بارے میں بھی ان کا یہی عقیدہ تھا،حلول کا یہ عقیدہ قدیم مصریوں سے مأخوذ تھا۔
    (ب)۔غرابیہ:
    غراب کوّ ے کو کہتے ہیں،ان کو غرابیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک حضرت علی  حضور نبی کریم ﷺسے اسی طرح مشابہ ہیں جیسے ایک کوّا دوسرے کوّے کے مشابہ ہوتا ہے۔یہ فرقہ اگرچہ الوہیت علی  کا قائل تونہیں مگر یہ حضورعلیہ الصلوة و السلام پر حضرت علی  کو فضیلت دیتا ہے۔ان کے خیال میں نبی دراصل حضرت علی  تھے مگر حضرت جبریل  کی غلطی سے وحی حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہو گئی۔کیونکہ حضرت علی  حضورنبی کریم ﷺ کے مشابہ تھے اور حضرت جبریل  پہچان نہ سکے کہ کس کو وحی دینی ہے۔ان کے اس باطل عقیدہ کی تردید میں علماءِ حق نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔موجودہ شیعہ بھی ان کو اور ان کے مشابہ دوسرے تمام فرقوں کوغالی قرار دیتے ہیں اور انہیں اہل قبلہ میں بھی شمار کے لائق نہیں سمجھتے۔ اج کل شیعوں میں سے کوئی بھی ان عقائد کا قائل نہیں اور نہ ہی ائمہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھتاہے۔
    (ج)۔کیسانیہ:
    کیسانیہ کی نسبت کیسان کی طرف ہے۔بعض مور خین کے نزدیک ”کیسان“ مختار بن ابی عبید اللہ ثقفی ہی کانام ہے۔جس نے دعویٰ کیا تھا کہ مجھ پر جبرئیل  ومیکائیل  نازل ہوتے ہیں اور شیعہ کے فرقہ کیسانیہ نے اس کی تصدیق کی تھی۔بعض کے نزدیک حضرت علی  کے آزاد کردہ غلام کا نام کیسان تھا اور بعض آپ کے بیٹے محمد بن حنیفہ کے شاگرد کو”کیسان“قرار دیتے ہیں۔مختار پہلے خارجی تھا پھر شیعہ کا لبادہ اوڑھ کر حضرت علی  کا حامی بن گیا۔ اس نے اپنے شدت پسندانہ نظریات کی ابتداء حُبِّ اہلِ بیعت کے نام سے کی۔یہ محمد بن حنیفہ کو مہدی اور وصی قرار دیتا اور لوگوں سے کہتاکہ
    ”مجھے وصی ومہدی نے تمہاری طرف امین اور وزیربنا کر بھیجا ہے اور ملحدین کو قتل کرنے اور اہل بیعت کے خون کا بدلہ لینے اور کمزوروں سے مدافعت کرنے کا حکم صادر کیا ہے“ (مذاہب الاسلام 75)
    محمد بن حنیفہ  بہت بڑے عالم دین،صاحب فکرونظر اور نتائج وعواقب میں بڑے صائب الرائے تھے اورلوگ آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اس لیے آپ کے مقام و مرتبے سے فا ئدہ اٹھاکر یہ اپنے غیر اسلامی افکار کی ترویج چاہتا تھا۔محمد بن حنیفہ کو جب مختار کی بد نیتی اور اس کے اوہام واکاذیب کا پتہ چلا تو آپ نے اس سے برأت کا اظہار کیا۔یہ انتہا درجہ کا بہروپیا تھا ور طرح طرح کے سوانگ رچاتا تھا کبھی کا ہنوں کا پارٹ ادا کرتااور کبھی مسجع ومقفع عبارت بول کر لوگوں کو حیران کرتا۔یہ ائمہ کو معصوم اورعلم الہیٰ کا نشان قرار دیتا،رجعت کا قائل تھا ،اس کے خیال میں حضرت علی ،حضرت حسن  اور حضرت حسین کے بعدمحمد بن حنیفہ  امام تھے۔بعض کیسانیہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد بن ابی حنیفہ فوت ہو گئے ہیں اور پھر واپس آئیں گے۔لیکن اکثریت کے خیال میں وہ رضوی نامی پہاڑ پر رہتے ہیں اور ان کے پاس شہد اور پانی رکھا ہے۔کیسانیہ”بداء“کا عقیدہ رکھتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ اللہ ربالعزت کا علم تغیر پذیر ہے اس لیے وہ اپنے احکامات کو بدلتا رہتا ہے۔کیسانیہ پر ہندی فلسفے کی چھاپ بھی گہری نظر آتی ہے کیونکہ یہ تناسخ ارواح (روح کا ایک جسم سے دوسرے میں حلول کرنا)کے قائل ہیں مگر اس کا اطلاق صرف ائمہ پر کرتے ہیں۔باطنیہ کی طرح یہ بھی ہر چیز کے ظاہروباطن کے قائل ہیں۔اولادِحضرت علی  کی تعریف میں اس قدر غلواور مبالغہ سے کام لیتے ہیں کہ انہیں نبوت کے مرتبہ پر فائز کر دیتے ہیں۔آج اسلامی ممالک میں اس فرقہ کے پیرو کار کہیں بھی موجود نہیں۔
    (د)۔فرقہ بیانیہ:
    اس فرقہ کے بارے میں پروفیسر غلام احمد حریری رقمطراز ہیں۔
    ”شیعہ کا یہ فرقہ بیان بن سمعان تمیمی کاپیرو ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ امامت محمد بن حنیفہ سے ان کے بیٹے ابو ہاشم عبداللہ بن محمد کی جانب منتقل ہو گئی تھی۔پھر ابو ہاشم نے بیان بن سمعان کے حق میں وصیت کر دی تھی ۔بیان بن سمعان کے بارے میں فرقہ کے لوگ مختلف الخیال ہیں۔بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ نبی تھا اور اس نے شریعت محمدیہ کومنسوخ کر دیا۔بعض اس کی مھدیت کا عقیدہ رکھتے تھے“ (تاریخ تفسیر ومفسرین 362)
    اس فرقہ نے بھی بری طرح سے قرآنی آیات میں تحریفات کی ہیں، الفاظ کو اپنے من پسند اور خود ساختہ معانی دے کر امت میں گمراہی کا باعث بنے ہیں۔
    ﴿ھٰذَابَیَانُ لِلْنَّاسِ وَ ھُدیً وَّ مَوْ عِظَةُ  لِلْمُتَّقِیْنَ (آل عمران 137:7)
    اس آیت کے بارے میں سمعان کا دعوی تھا کہ اس میں ”بیان،ھُدٰی اور موعظت“میرے ہی نام ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کو نور سے بنا ہوا آدمی کہا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ چہرہ کے سوا اس کاسارا بدن فنا ہو جائے گا کیونکہ آیت میں ہے۔
    ﴿کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکُ  اِلَّا وَجْھَہ (القصص 88)
    ”اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے“
    خلاصہٴ مبحث:
    غالی شیعہ فرقوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں سے چند کا سرسری تذکرہ ہم نے کردیا ہے ان کے علاوہ خطابیہ(یہ فرقہ ابی خطاب سے منسوب ہے اس کا عقیدہ ہے کہ امام ہی نبی اور امین ہیں۔ہرزمانہ میں دو پیغمبر ہوتے ہیں ایک بولنے والااورایک خاموش،حضور نبی کریمﷺتوناطق پیغمبر ہوئے اور حضرت علی  خاموش۔یہی عقیدہ فرقہ مضمریہ کا ہے)منصوریہ(ان کی نسبت ابی منصور سے ہے جس نے دعویٰ کیاتھا کہ میں آسمان پر گیا تھااور میرے سر کواللہ نے چھوا تھایہ ختم نبوت اور جنت ودوزخ کا منکر تھا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ کی مخلوق میں سب سے اول انسان حضرت عیسیٰ  ہیں اور ان کے بعد حضرت علی  پیدا ہوئے۔ان کا عقیدہ تھا کہ لوگوں کا مال ناجائز کھا لینا جائز ہے)، مغیریہ(یہ فرقہ مغیرہ بن سعد عجلی سے نسبت رکھتا ہے،یہ شخص گورنرعراق خالد بن عبداللہ قسری کاغلام تھا،اس نے نبوت کا دعویٰ کیاتھااس کے خیال میں اللہ نور ہے مگروہ شکل میں آدمی کی مانند ہے۔مغیرہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آدمی کو زندہ کر سکتا ہے )بزیعیہ(بزیعیہ کی نسبت بزیع سے ہے،ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت جعفرخداہیں اور ان کی شکل خدا جیسی ہے)سلیمانیہ(اس فرقہ کا تعلق سلیمان بن کثیر سے ہے یہ فضیلتِ حضرت علی  کے قائل ہیں اور حضرت ابو بکر  کی بیعت کرنے والوں کو خطاوار گردانتے ہیں ) کاملیہ(یہ فرقہ ابو کامل کی طرف منسوب ہے،یہ لوگ صحابہ کرام کی تکفیر کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں انھوں نے حضرت علی  کی بیعت نہیں کی اورحضرت علی کی اس لیے تکفیر کرتے تھے کہ انھوں نے صحابہ کرام کے خلاف جنگ نہیں کی تھی،یہ تناسخِ ارواح کے قائل تھے،ان کے نزدیک امامت نورِ الٰہی سے ہے اور ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ نور ایک شخص میں امامت ہوتودوسرے میں نبوت بن جائے نیز یہ حلول اورکافرکی امامت کے بھی قائل تھے،یہ حضرت علی کی تکفیر بھی کرتے تھے اور انھیں امام بھی مانتے تھے) مفضلیہ(یہ مفضل سے منسوب ہے یہ اپنے آپ کو ہی نبی جانتے ہیں)شریعت(اس فرقہ کی نسبت شریع سے ہے ان لوگوں کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ پانچ آدمیوں کی صورت میں آیا ہے جن میں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ،حضرت عباس  ،حضرت علی  ،حضرت جعفر اور حضرت عقیل  شامل ہیں)،طیاریہ(ان کی نسبت عبداللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفرطیارسے ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت آدم  کی روح خدا کی روح ہے اور اللہ تعالیٰ آدم  کے قلب میں اتر آیاہے۔یہ تناسخ کے بھی قائل ہیں اور ان کے خیال میں جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تواس کی روح پہلے بکری میں داخل ہوتی ہے اس کے بعد کئی قالب بدلتی ہوئی پاخانہ کے کیڑوں کے قالب میں چلی جاتی ہے اور یہ تناسخ کا آخری درجہ ہے)علاوہ ازیں منفوضہ،حاکمیہ،نصیریہ،طیاریہ،ذبابیہ،غمامیہ، ازامیہ،علویہ،بسلمیہ،اسحاقیہ،ذمیہ،راوندیہ،مقنعیہ، امویہ،معریہ، قطبعیہ ،کیانیہ ،کریبیہ، جاردویہ ، دروزیہ اور حشاشین قابل ذکر ہیں۔تمام غالی شیعوں کے افکار تقریباً ملتے ہیں۔انھوں نے اسلام کا جواء گلے سے اتار پھینکا اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے بہت دور چلے گئے ۔ ان شدت پسند فرقہ جات کے ساتھ ساتھ کچھ شیعی فرقے حاملِ صدق وصواب اور حقیقت پسند بھی تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے غالی فرقے نا پید ہو گئے ۔آج ان کے صرف تین فرقے باقی رہ گئے ہیں۔(1)امامیہ اثنا عشریہ(2)امامیہ اسماعیلیہ اور(3)زیدیہ۔
    اسلامی فکر اور شیعہ:
    ذرا آگے بڑھنے سے قبل اتنے سارے شیعہ فرقوں کے وجود سے اسلام پر اثرانداز ہونے والے عوامل کا تذکرہ بھی کرتے چلیں تاکہ اسلامی فکر کے سفر کے باب میں ان کی خدمات کاجائزہ ہمارے پاس آجائے اور پتہ چل سکے کہ بالعموم ان کاوجوداسلامی فکر کے ارتقاء کا باعث تھا یا تنزل کا؟؟اس قدرے مشکل سوال کا جواب چند جملوں میں تو شاید ممکن نہ ہومگر ہم بے جا طوالت سے گریز کی راہ اپناتے ہوئے اس تلخ جواب کی طرف بڑھتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ صدرِ اسلام میں حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے وصال مبارک کے بعداگر مختلف قبائل میں اختلافات جنم نہ لیتے اور ثقیفہ بنو ساعدہ کی روایت آگے بڑھتی رہتی تواسی طرح امن رہتا جس طرح شیخین کے زمانہٴ خلافت میں تھا۔شہادتِ عثمان غنی  کے نتیجہ میں مسلمانوں میں اختلافات کی خلیج وسیع ہونا شروع ہوئی تو منافقین اور یہود کی سازشی ذہنیت نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔اور اسلامی سلطنت کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔اس وقت اگر مسلمانوں میں اتحاد قائم ہوتا اور اس طرح کے فرقے جنم نہ لیتے تو آج ہمارے پاس اسلام کسی اور صورت میں ہوتا ۔
    شیعہ فرقہ کی ابتداء سیاسی مسئلہ سے ہوئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر دینی رنگ غالب آتا گیا ، ان کے معتقدات میں تبدیلی آنے لگی،دوسری تہذیبوں کے ساتھ اختلاط سے ان کے عقائد پر رومی،ایرانی،یہودی،نصرانی اور ہندی عقائد کا رنگ غالب آگیا۔جس سے ان کے عقائد مختلف غیر اسلامی افکار کاملغوبہ بن گئے۔ان شیعی عقائد کے مقابلہ میں صحیح اسلامی عقائد کو رائج کرنے کے لیے حق پرست (سنی وشیعی)علماء نے ہر دور میں اپنا کردار ادا کیا۔وجود میں آنے والے غیر اسلامی غالی شیعہ فرقوں سے شیعہ علماء نے برات کا اظہار کیا۔مگر پھر بھی ِمن حیث الکل ان کے بارے اتنی اچھی فضاہموار نہ ہو سکی اور ان کو اسلام دشمن سازشی اذہان کی آماجگاہ قرار دیا جانے لگا۔ احمد امین مصری رقمطراز ہیں۔
    ”واقعہ یہ ہے کہ شیعیت ہر اس شخص کی پناہ گاہ تھی جو عداوت اور کینہ کی وجہ سے اسلام کو منہدم کرنا چاہتے تھا۔کچھ لوگ ایسے تھے جواپنے آباؤاجداد کی تعلیمات۔۔۔۔یعنی یہودیت،نصرانیت،زردشتیت اور ہندویت کو اس راستے سے اسلام میں داخل کرناچاہتے تھے۔کچھ ایسے تھے جواسلامی مملکت کے خلاف خروج کرکے آزادی حاصل کرناچاہتے تھے۔یہ سب کے سب اہل بیت کی محبت کانقاب ڈال لیتے تھے اور اس کے اندر اپنی اپنی خواہشات کے ماتحت اسلام میں نئی نئی چیزیں داخل کرتے چلے جاتے تھے۔ یہودیت نے تشیع میں رجعت کاعقیدہ پیدا کرکے جنم لیا۔شیعوں نے کہا کہ جہنم کی آگ شیعوں پر حرام ہے بجز چند دنوں کے،یعنی وہی بات جویہودیوں نے کہی تھی کہ لَنْ تَمَسَّنَا الْنَّارُاِلَّا اَیَّامًا مَّعْدُوْدَات ۔نصرانیت نے تشیع میں اس راستے سے ظہور کیا کہ امام کی نسبت خدا کے ساتھ وہی ہوتی ہے جو مسیح کی نسبت خدا کے ساتھ ہے۔نیز شیعوں نے کہا کہ”امام کی ہستی میں لاہوت اور ناسوت دونوں متحد ہیں“اور یہ کہ”نبوت اور رسالت کبھی ختم نہیں ہو سکتی،جس ہستی میں لاہوت ناسوت کے ساتھ متحد ہوجائے وہ نبی کہلاتا ہے“تشیع کے ماتحت روحوں کا تناسخ،خدا کا تجسم(جسم میں جانا)اور حلول وغیرہ کے اقوال جو برہمنو،فلسفیوں اورمجوسیوں میں اسلام سے پہلے چلے آتے تھے اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے“ (فجرالاسلام 345)
    مختلف ادیان ومذاہب کے پیروکاروں نے تشیع کو اپنے رنگ میں رنگا،یہودیوں نے اے یہودیت کا بپتسمہ دیااور نصرانیوں نے نصرانیت کا،اسی طرح ایرانی تہذیب کا بڑا عنصربھی شیعیت کے رستے اسلام میں داخل ہوا۔اسلامی فکر کے باب میں یہ بات قابل غور ہے کہ کلامی مباحث کا آغاز بھی ان ادیان اور تہذیبوں کے ساتھ شیعی ٹکراؤ سے ہوا۔جس کے نتیجہ میں سیاسی مسئلہ کو مذہبی رنگ کا جامہ میسر آگیا۔دوسری تہذیبوں سے اثر قبول کرنے کے بعداہل تشیع اور اہل سنت میں مباحث کے آغازسے پیدا ہونے والے شیعی افکار کی رنگارنگی کا مفصل تذکرہ ہم کر چکے ۔ان افکار کی آزادانہ ترویج اورشیعہ سنی فسادات کا نتیجہ اسلامی سلطنت کی کمزوری کی صورت میں نکلا،بالآخر ہلاکوخان کی فوجوں نے خلیفہ معتصم باللہ کے زمانہ میں1285ءء میں ،جب شیعہ سنی فسادات عروج پر تھے اوراس کابیٹاابوبکرسنیوں اوروزیراعظم ابن علقمی شیعوں کی سرپرستی کررہے تھے،بغداد کوتاخت وتاراج کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔اس لیے بالعموم اسلامی فکر کے ارتقاء میں،نئے نئے عقائد کی تخییر کی بناء پران کاکردارمنفی رہا۔آئندہ سطور میں ہم ان کی نقیض میں وجودپانے والے فرقے” خوارج“ کا ذکر کریں گے اوران کے معتقدات کاجائزہ لیں گے۔

    تحقیق
    دلللللل
    مبشر شاہ نے اسے پسند کیا۔
  3. محمد اقبال فانی مدیر: حدیث فورم

    پیغامات:
    0
    جواب: اسلامی فکر کی تشکیل کے داخلی محرکات

    شیعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ اب "خوارج" کے بارے میں بھی تفصیلات شاملِ مضمون کی جائیں گی۔
    مبشر شاہ نے اسے پسند کیا۔
  4. مبشر شاہ قلمکار

    پیغامات:
    6
    جواب: اسلامی فکر کی تشکیل کے داخلی محرکات

    جناب سلسلہ جاری رہنا چاہیے
  5. محمد اقبال فانی مدیر: حدیث فورم

    پیغامات:
    0
    جواب: اسلامی فکر کی تشکیل کے داخلی محرکات

    قبلہ شاہ صاحب پسندیدگی کا شکریہ، ،،، اگر آپ کی دعائیں شاملِ حال رہیں تو انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، خوارج کاجائزہ بھی میں نے پوسٹ کر دیا محترم جناب شاکرالقادری صاحب نے اس کو غیرمسلوں کے تحت شفٹ کردیاہے، عنقریب انشاء اللہ معتزلہ، اشاعرہ و ماتریدیہ کا ذکر بھی قلم بندکروں گا "القم" پر۔
    دعاگوودعاجو
    محمداقبال فانی

اس صفحے کی تشہیر