اسلام اور دہشت گردی

شاکرالقادری نے 'اسلام اور عصر رواں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اگست 10, 2011

  1. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    اسلام اور دہشت گردی
    دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔
    یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
    اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔
    یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔
    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔
    کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔
    اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔
    کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

    اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔
    ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔
    چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہیں
    جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32

    کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام )
    وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
    تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
    مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
    مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
    جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔
    مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
    جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ)
    تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
    ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے اپنے ملک کو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام اور ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
    رحمت خان، شعبان نظامی، سویدا اور ایک اور رکن نے اسے پسند کیا۔
  2. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    [USER=2134]شعبان نظامی[/USER] [USER=1170]اوشو[/USER] [USER=878]ناظم الرضا[/USER]
  3. شعبان نظامی قلمکار

    پیغامات:
    394
    یہ تو تبھی ممکن ہے جب اہل دانش اور علمائے کرام ایسے عقائد و نظریات کو شریعت کے مخالف سمجھیں۔

    آپ کی رائے کے برعکس دہشت گردوں کی خاموش حمایت کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو بڑے تحمل، بردباری اور برداشت کا درس دیتے ہیں کیا انہوں نے آج کے دور کی ظالم طاقتوں کے خلاف بھی کبھی آواز اٹھائی؟
    ہمارے ہاں کے چند نئے نویلے سیاست دان تو صرف یہ کہہ کر بات کو ٹال دیتے ہیں کہ ’’یہ جنگ ہماری نہیں۔‘‘
  4. اوشو قلمکار

    پیغامات:
    86
    اتنے واضح احکامات ہونے کے باوجود کلمہ گو لوگ کس طرح ان دہشت گرد عناصر کے جال میں پھنس جاتے ہیں؟
    شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔
  5. شعبان نظامی قلمکار

    پیغامات:
    394
    [USER=1170]اوشو[/USER] بھائی اس کی کئی وجوہات ہیں شاید یہ بھی ہوں:
    بے روزگاری، غربت، ناخواندگی، تشدد پسندانہ ماحول میں تربیت، تعصب، اور بعد میں بیرونی مداخلت،
    یہ عناصر ملیں تو پھر بنتا ہے پاکستان:)
  6. اوشو قلمکار

    پیغامات:
    86
    لیکن کیا ان میں سے کوئی وجہ ایسی بھی ہے جو انسان کو اس نہج تک لے جائے کہ وہ اپنی ساتھ ساتھ اور بہت سے لوگوں کی جان لے لے۔
    شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔
  7. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    [USER=1170]اوشو[/USER] بھیا! یہ سوال بہت ہی اہم ہے۔ میرے خیال میں مجرمانہ ذہنیت کو مد نظر رکھ کر اگر اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے تو بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے۔ کئی کئی لوگوں کو قتل کرنے والے کتنی ہی عورتوں کی عصمت دری کرنے والے عجیب و غریب ذہن کے انسان نما درندے ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور ماہرین نفسیات کے نزدیک ان کو کوئی ذہنی بیماری یا غیر معمولی پن (ایب نارملٹی)بھی لاحق نہیں ہوتی۔ وہ صحت مند ذہن کے مالک ہونے کے باوجود درندگی دکھاتے ہیں۔ حالانکہ انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس مار دھاڑ پر ثواب کے ٹوکرے نہیں ملیں گے۔ لیکن خودکش دھماکہ کرنے والا اپنے تئیں جنت کما رہا ہوتا ہے۔
    جب مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے قاتلوں کو جنت کا لالچ بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہوجائے گا۔
  8. عثمانی قلمکار

    پیغامات:
    11
    کسے کے اقتباس سے پیش کررہاہوں:ہماری آنکھوں کے سامنے جس طرح میر جعفر اور میر صادق جیسے پاکستان کے دشمنوں اور غداروں کی نسلِ نو پاکستان کو توڑنے کے لئے ڈٹی ہوئی ہے، اسی طرح محمد علی جناح جیسے وفاداروں کی اولاد بھی پاکستان کو بچانے کے لئے سینہ سپر ہے۔ اس وقت دہشت گردوں کے یاروں کے خلاف آواز اٹھائیے، غداری کے خلاف آواز اٹھائیے۔ ابھی وقت ہے، ابھی بولئے، ابھی مہم چلائیے، ابھی قوم کو یہ شعور دیجئے کہ غداروں کا جو یار ہے، وہ بھی غدار ہے۔ غداری کو موضوع بنائیے اور غداری کو مسترد کیجئے۔ غداری کے خلاف عوامی شعور کو اس قدر بیدار کیجئے کہ لوگ آسانی سے اس حقیقت کو سمجھنے لگیں کہ اب ہمارے سامنے راستہ صرف ایک ہے، دوسرا نہیں، ملک و قوم کے ساتھ غداری یا وفاداری۔۔۔ غداروں سے نفرت یعنی دین اور ملک و قوم سے محبت۔
    رحمت خان، شعبان نظامی اور شاکرالقادری نے اسے پسند کیا۔
  9. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    ارے [USER=2134]شعبان نظامی[/USER] یہ پرمزاح کی ریٹنگ کیوں دی۔ :D
  10. عبدالرؤف قلمکار

    پیغامات:
    95
    گستاخی معاف، لیکن کیا یہ جان سکتا ہوں کہ کیا فواد صاحب جیسی کسی شخصیت سے استفادہ کرکے یہ مضمون لکھا گیا ہے؟
    شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔
  11. نذر حافی قلمکار

    پیغامات:
    30
    پاکستان کے دشمنوں کا جو بھی یار اور نوکر ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کام کر رہاہے،بالاخر رسوائی اس کا مقدر ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ۔در اصل غیر مسلم قوتیں خصوصا امریکہ پاکستان سے ڈرا ہوا ہے:

    پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی نظریاتی ملک ہے

    پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے

    پاکستان خطے میں جغرافیائی اعتبار سے اہم اسلامی ملک ہے

    ملت پاکستان کا دل فلسطین سے لے کر کشمیر اور افغانستان و بحرین و بوسنیا سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ملا ہوا ہے

    ہزار ہا مشکلات کے باوجود پاکستانی ایک زندہ اسلامی ملت ہیں،جو ملت اسلامیہ کے ہر درد میں شریک ہوتے ہیں اور ہر گلی کوچے میں امریکہ کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں اور اہم مقام پر مردہ باد امریکہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

    جہاں بھی جو کچھ بھی پاکستان کے خلاف ہورہاہے ،سب امریکہ کی ایما پر ہورہاہے۔امریکہ کے بجائے طالبان کو میدان میں لانا یہ خود امریکہ کی سازش ہے تاکہ ہماری توجہ امریکہ سے ہٹ کر طالبان پر لگ جائےاوربے گناہ انسانوں کے گھروں کو جلانا یہ سب بیرونی ایجنٹوں کا کام ہے۔
    ہمیں صرف اور صرف متحد رہنے کی ضرورت ہے۔اس وقت امریکہ ہم سے ایک تاریخی ثقافتی ،نظریاتی اور دینی جنگ لڑ رہاہے۔امریکہ کی اس چومکھی جنگ کا جواب ہم صرف اور صرف اتحاد سے ہی دے سکتے ہیں۔جو شخص بھی جس محاز سے بھی امریکہ کے خلاف قیام کر سکتاہے اسے کرنا چاہیے،جو بھی امریکہ کی سازشوں کا جواب دے سکتاہے اسے دینا چاہیے۔چاہے زبان سے یا قلم سے،نہیں تو کم از کم دل میں تو امریکہ سے نفرت کرے۔

    ہمیں امریکہ اور اس کے یاروں پر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم سب ایک ہیں،ہم بھائی بھائی ہیں۔
  12. شعبان نظامی قلمکار

    پیغامات:
    394
    آپ کو ہنسانے کے لیے تاکہ آپ کا پروفائلی دباؤ کم ہو۔ ویسے بھی دہشت پھیلی ہوئی تھی دہشت گردی کے موضوع میں اور اس کے علاوہ بھی وجوہات ہو سکتی ہیں:)
  13. شعبان نظامی قلمکار

    پیغامات:
    394
    بھائی یہ مضمون تو ہمارے معاشرتی حالات کی عکاسی کر رہا ہے اس میں فواد صاحب جیسے شخص سے استفادہ کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
    یقیناً آپ کا اشارہ [USER=4]حسن نظامی[/USER] صاحب کے اٹھائے گئے سوال سے متعلق ہے!
    میرے خیال میں کسی شخص کے برے فعل سے اس بات کا جواز پیدا نہیں ہوتا کہ آپ بھی اسی طرح کے فعل کو انجام دیں۔
    فقط

    باقی [USER=2812]عبدالرؤف[/USER] بھائی اپنے سوال کی وضاحت کریں اور باقاعدہ اعتراض اٹھائیں تو اس پر سوچا جا سکتا ہے۔
  14. فواد قلمکار

    پیغامات:
    57
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امريکی حکومت اور اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کسی بھی تنظيم کو دہشت گردی کی لسٹ ميں شامل کرنے کے لیے جن بنيادی اصول و ضوابط اور قانونی فريم ورک کو بنياد بناتی ہے وہ بالکل واضح، شفاف اور بغير کسی امتياز کے ہیں۔

    اس تنظیم کا غيرملکی ہونا لازمی ہے۔

    سال 1988 اور سال 1989 ميں فارن ريليشنز آتھرائيزيشن ايکٹ کی شق 140 (ڈی) (2) کے تحت واضح کردہ تشريح کے مطابق دہشت گرد کی تعريف پر پوری اترتی ہو يا آئ –اين – اے کی شق 212 (اے)(3)(بی) کے تحت دہشت گردی کی کاروائ ميں ملوث پائ جاۓ يا پھر دہشت گردی اور دہشت گرد کاروائ کی صلاحيت اور ارادہ رکھتی ہو۔

    تنظيم کی دہشت گرد کاروائ يا دہشت گردی سے امريکی شہريوں کی حفاظت يا امريکہ کی قومی سلامتی بشمول قومی دفاع، عالمی روابط يا معاشی مفادات کو خطرات لاحق ہوں۔

    آپ ديکھ سکتے ہيں کہ کسی بھی گروہ يا تنظيم کی مذہبی وابستگی يا سياسی اہداف اور مقاصد کا اس پيمانے کے تناظر ميں کوئ تعلق نہيں ہے۔ دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنا اور پرتشدد کاروائياں کرنا وہ اعمال ہيں جو اس پيمانے کو پورا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

    ايک سے زائد مواقعوں پر صدر اوبامہ نے خود يہ واضح کيا ہے کہ القائدہ اور اس سے منسلک تنظيموں نے مذہب کے نام پر جو دہشت گردی پھيلائ ہے، اس کا اسلام سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ انھوں نے اپنی قاہرہ کی مشہور تقرير کے دوران کے بھی اسی بات کا اعادہ کيا تھا۔

    حتمی تجزيے ميں يہ واضح کر دوں کہ يہ القائدہ اور اس کی متفقہ طور پر مسترد کردہ سوچ ہے جو دراصل مذہب کے لبادے کی محتاج ہے تا کہ وہ کسی طرح اپنے ان غير انسانی طريقوں اور ہتھکنڈوں کی توجيہہ پيش کر سکے جو کسی بھی مذہبی پيمانے اور وابستگی سے قطعی نظر انسانی قدروں اور پيمانوں کے بھی صريح خلاف ہيں۔

    امريکی حکومت کو اس بات کی چندہ کوئ ضرورت نہيں ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی کوششوں کو مسلم اور غير مسلموں کے مابين کسی چپقلش کا رنگ دے۔ يقينی طور پر اس کا حقيقت سے کوئ تعلق بھی نہيں ہے۔ يہ مہذب دنيا اور ان مجرموں کے مابين ايک جاری کوشش ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بے گناہ انسانوں کے قتل میں کوئ قباحت محسوس نہيں کرتے۔

    جہاں تک امريکی حکومت کا تعلق ہے تو ہمارا مقصد صرف ان مجرموں کو پوری انسانيت کے خلاف ان مجرمانہ کاروائيوں سے روکنا ہے۔ مذہب کا اس معاملے سے کوئ تعلق نہيں ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
  15. شعبان نظامی قلمکار

    پیغامات:
    394
    لیں جی @عبد الرؤف بھائی [USER=218]فواد[/USER] صاحب بھی آ ہی گئے۔ عبد الرؤف بھائی آپ کا تعلق میڈیا سے تو نہیں:)
    عبدالرؤف نے اسے پسند کیا۔
  16. عبدالرؤف قلمکار

    پیغامات:
    95
    چونکہ ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں کام کیا کرتا ہوں، اس لیئے میڈیا سےتعلق تو بن ہی گیا ہے، لیکن یہ خالصتا کاروباری تعلق ہے، اورمیں نے جو سوال اٹھایا تھا اب اسے آپ [USER=771]شاکر[/USER] صاحب کے اصلی مضمون اور اُس پر [USER=218]فواد[/USER] صاحب کے بیان کے تناظر میں دیکھیں، اُمید ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
    دراصل دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس سب کے بیچ القاعدہ، طالبان، امریکہ اور اسکے حواریوں، افغانستان، روس، بھارت، چین، ایران، عرب ممالک اور پاکستان کا کردار و تعلق یہ اتنا وسیع مضمون ہے کہ اگر اس پر لکھنا شروع کیا جائے تو کم سے کم ایک ضیغم سے کتاب بن جائے۔ لیکن نفع لاحاصل ہے،کیونکہ کہ نقارخانے میں طوطی کی کون سُنتا ہے؟ اور ویسے بھی آج کل کس کے پاس اتنا فالتو وقت ہے؟
    اس لیئے سب لوگوں کو اپنی اپنی ڈگڈگی بجانے دیجیئے، اور آپ بھی خوش رہیئے۔
    وسلام۔
  17. محمد ذیشان قلمکار

    پیغامات:
    142
    ایک غلط فہمی کا ازالہ کرتا چلوں۔۔۔ وہ یہ کہ افغانی طالبان اور پاکستانی طالبان دو الگ الگ گروہ ہیں۔۔۔!
    افغانی طالبان حقیقت میں اپنے ملک کی آزادی اور بقاء کے لئے مدتوں سے ظالم اور کفریہ طاقتوں کے ساتھ بر سرِ پیکار ہیں۔۔۔! جبکہ پاکستانی طالبان کا گروہ امریکہ نے اصل افغانی طالبان کو بدنام کرنے کے لئے لانچ کیا ہے ۔۔۔! تاکہ مسلمان اصل طالبان سے بھی نفرت کرنے لگیں۔۔۔! حالانکہ حقائق جائزہ لیں۔۔۔! تو خود امریکہ پوری دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے ۔۔۔! ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنانے والا۔۔۔! عراق اور افغانستان میں آ کر بدمعاشی کرنے والا امریکہ ہی اصل میں ہم سب کا دشمن ہے ۔۔۔! کیا ہم مسلمان قرآنِ مجید کے ان واضح احکام کو بالکل بھول چکے ہیں۔۔۔
    جن میں سے ایک جگہ اللہ تعالیٰ مومنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ،جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ۔
    ’’اور یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں ، مگر تمہارے نہیں ‘‘۔
    اور ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے ۔۔۔
    ’’اور یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں بن سکتے ، جب تک کہ تم ان کی ملت کا اتباع نہ کرنے لگو۔‘‘
    اور قرآنِ مجید کی اس صداقت کو ہم اپنی آنکھوں سے پرکھ بھی چکے ہیں ۔۔۔ ۔ اور آج ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں ۔۔۔ ۔’’کہ امریکہ کی دشمنی سے امریکہ کی دوستی زیادہ بھاری ہے ‘‘۔
    شعبان نظامی اور عبدالرؤف نے اسے پسند کیا۔
  18. عبدالرؤف قلمکار

    پیغامات:
    95
    [USER=1543]محمد ذیشان[/USER] بھائی، آپ کی سب باتوں سے اتفاق کرتا ہوں سوائے ایک کے جسے اوپر لکھ دیا ہے۔ کیونکہ پاکستانی طالبان کےبھی ایک سے زیادہ گروہ ہیں، اور سب کے سب ہی امریکہ کی پیداوار یا پٹھو نہیں ہیں، اس لیئے میرے خیال سے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا غلط ہوگا، لہذا ہر ہر کیس کا الگ الگ تجزیہ کیا جانا چاہیئے۔
    شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔
  19. محمد ذیشان قلمکار

    پیغامات:
    142
    شکریہ عبدالروف بھائی۔۔! یقینا ایسا ہی ہے ۔۔۔ مگر جو درست میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔۔۔اور پھر گھن کے ساتھ گہیوں بھی تو پستا ہے ۔۔۔! اب ان کی سیگرگیشن کون کس طرح کرے گا؟
  20. عبدالرؤف قلمکار

    پیغامات:
    95
    وہی کرے گا، جس کو اس موضوع سے سنجیدگی کے ساتھ دلچسپی ہوگی :)
    شعبان نظامی نے اسے پسند کیا۔

اس صفحے کی تشہیر