تعارف اسلام علیکم۔

دانشور نے 'تعارف و مکالمہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جون 7, 2013

  1. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    آہا! ! ! جمالیاتی ذوق کی داد نہ دیں تو کیا کریں۔۔۔۔ (بارک اللہ) کیا صورت احوال کا بیان فرمایا یعنی بدکار ہونا قبول ہےبدذوق ہونا نہیں۔ حضرت نہ کیجیے۔۔ اس کے بعد امراض ہی لاحق ہوں گے۔
    تڑپنے، پھڑکنے والے۔۔۔۔۔۔ کٹھڑی اور بسمل جیسے۔۔۔۔۔۔۔ اللھم زد فزد۔ آپ تو عاشقوں میں سے ہیں۔
  2. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    ہائیں ۔۔۔ ۔ ۔ یہ ۔۔۔۔ مکئی تو سنا تھا(جس کے خواص ہم پھر کبھی بیان کریں گے) لیکن یہ مقئی کیا ہوتا ہے۔۔۔ اس کی سمجھ آئے تو باقی بات سمجھ میں آجائے گی پھر ہی کوئی جواب با صواب دیں گے ہم
    تاکہ آپ کی تسکینِ رو ح و جان کا سامان فراہم کیا جا سکے
    :hungry:
  3. وصی اللہ قلمکار

    پیغامات:
    26
    قُبلہ مقئی یعنی قے آور ;)
  4. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    مقئی کی تو لغت بیان فرما دی۔۔ اب ذرا قُبلہ کی وضاحت بھی کر دیجیے۔ کہ یہاں پیش ڈالنے کا بھی کوئی لغوی سبب ہے۔ اور پھر ان دونوں کا بدکاری کے ساتھ ربط ضبط بھی واضح کر دیجیے۔ (مشتاق یوسفی) کے ساتھ تعلق ایسے ’’مقوی نفس‘‘ مزاح کے آثارِ لاچار کا باعث بنے گا۔ ہم نہ جانتے تھے۔
    اس معاملہ میں تو دانشور صاحب اور مجھے ۸ گز پگڑی پیش کرنی پڑے گی آپ کو۔ :)
  5. وصی اللہ قلمکار

    پیغامات:
    26
    ذرا گلا صاف کرلیں؛ تھوڑا سا کھنکار لیں پھر تفصیل سے بیان فرماویں گے؛ آج کل طبیعت ذرا اطریفل اسطخدوسی سی ہے؛ قبلہ پر پیش کا استعمال دانستہ فرمایا تھا ہم نے۔۔ ایک وضاحت فرمادیں کہ یہ دانش ور ہیں یا دان شور؟؟؟؟؟ جیسا کہ اپنی طبیعت کے بارے میں ہم فرما چکے ہیں، اس لیے ہمیں اُردو اور خصوصاً اُردو تلفظ کا ہیضہ ہو گیا ہے
  6. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    ہیضہ ! :p
    یہ تو اچھی بات ہے: اس سے باطن کا تمام تر تعفن اور گندگی کا خروج ہوجاتا ہے۔ اور اگر اردو اور خصوصا اردو تلفظ کا ہیضہ ہو جائے تو پھر پیش والا قبلہ اور نظارہءِ حسن کے بعد مقئی کی مریضانہ کیفیات کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن ہماری نظر میں ایسا کوئی دھاگہ نہیں جس کو ہم بیت الخلاء کا نام دے سکیں۔ ورنہ نسخہءِ ادویات اور پرہیز کے ساتھ اس کی طرف راہنمائی بھی ضرور کرتے۔

اس صفحے کی تشہیر