کمپوزنگ تاریخ مشائخ چشت کمپوزنگ

حسن نظامی نے 'ورکنگ زون' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، مارچ 2, 2012

  1. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر ۔ ۱۷۸
    تو تمھاری طرف سے علی الرسم کوئی نشان دے دیا جائے ۔
    ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں :
    ایں جا در قبیلۂ ما دو سہ دختر بودند می خواہم کہ یکے نامزد شما بکنم ( م ۲۹ ص۳۲)
    یہاں ہمارے خاندان میں دو تین لڑکیاں ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے ایک تمھارے لئے نامزد کر دوں ۔
    مگر معلوم نہیں کہ شاہ کلیم اللہ صاحب ؒ کے خاندان میں ان کی کوئی شادی ہوئی یا نہیں ۔ ان کی ایک زوجہ حضرت سید محمد گیسو دراز ؒ کے خاندان سے تھیں۔اُن کے بطن سے دو لڑکے اور ایک لڑ کی پیدا ہوئی ۔ لڑکوں کے نام محمد اسمٰعیل اور فخر الدین تھے ۔ دوسری بیوی سے تین لڑکے ہوئے جن کے نام غلام معین الدین ، غلام بہا ء الدین ، غلام کلیم اللہ تھے ۔
    خلفاء: شجرۃ الانوار میں لکھا ہے :
    خلفائے ذی کرامت و اہل ارشاد بے شمار در اطراف اقالیم خلائق را رہنما بودہ اند ۔
    (ان کے ) بے شمار ایسے خلفاء جو ذی کرامت اور صاحب ارشاد تھے مختلف علاقوں میں خلقت کی رہنمائی کرتے تھے ۔
    مندرجہ ذیل خلفاء کے نام تذکروں میں ملتے ہیں :
    (۱)خواجہ کامگار حسینی ؒ (۲) محمد علیؒ (۳) خواجہ نور الدین ؒ (۴) سید شاہ شریف ؒ (۵) شاہ عشق اللہ ؒ(۶) غالم قادرخان ؒ(۷) میاں محمد یار بیگ ؒ (۸) محمد جعفر ؒ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مناقب فخریہ ۔ص ۵۔شجرۃ الانوار میں ان کا نام ''محمد عماد الدین خان '' دیا ہے ۔
  2. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۷۹
    (۹)شیر محمد ؒ (۱۰)کرم علی شاہ ؒ (۱۱) امام الدین ؒ (۱۲) شیخ محمود ؒ (۱۳)حافظ مودود ؒ
    ان خلفاء میں خواجہ نور الدین اور خواجہ کمگار حسینی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اُن کے ذریعہ شیخ اورنگ آبادی ؒ کی تعلیم اور حالات زندگی صوف حلقوں میں پہنچے ۔ یہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور نقشبندی سلسلہ کے مشہور بزرگ خواجہ خاوند محمود لاہوری المعروف بہ حضرت ایشاں ؒ (۱۶۴۲۔۱۵۶۶ء) کے نبیرہ خواجہ برہان الدین ؒ کے بیتے تھے ۔ خواجہ برہان الدین بن خواجہ محمد خاوند بن حضرت ایشاں ؒ یہ دونوں اورنگ آباد میں شاہ نظام الدین ؒ کے دمن سے وابستہ ہو گئے تھے اور اپنے مرشد سے گہری عقیدت اور سلسلہ کی تعلیم سے گہری دل چسپی کے باعث خانقاہ میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ شاہ کلیم اللہ صاحب ؒ خواجہ نور الدین ؒ کی صلاحیتوں کے خاص طور سے معتف تھے ۔ ایک خط میں شاہ نطام الدین ؒ کو لکھتے ہیں کہ وہ فنا فی الشیخ ہیں تمھارے سب خلفاء پر فوقیت لئے ہوئے ہیں ۔ اگر عربی علم اور حاصل کر لیں تو :
    عالمے ازیں مرد روشن شود (م۷۲ ص ۵۸)
    ایک عالم اس شخص سے روشن ہو جائے ۔
    انھوں نے ایک بار اپنا ''نیمۂ آستین '' اُن کو بھیجا تھا ۔ ۲؎ اور شاہ نظام الدین ؒ کو ہدایت کی تھی کہ :
    ہمچوں ایں عزیز را باید کہ امتیاز دادہ در تربیت باطن ایشاں
    ایسے مرید کے لئے چاہیئے کہ مخصوص طریقے پر باطنی تربیت کی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ شجرۃ الانوار سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ خواجہ نور الدین بڑے تھے ۔
    ۲؎ مکتوبات کلیمی (م۴۹،ص۴۷،م۴۳،ص۴۲)
  3. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۰
    کوشش بسیا ر نمودہ ۔۱؎
    طرف توجہ کی جائے ۔
    شاہ نظام الدین صاحب ؒ کے نام ایک خط میں اُن کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں :
    ''قدوۃ الاصفیاء والا صحاب زبدۃ الاحباب خواجہ محمد نور الدین ''۔ ۲؎
    پھر فرماتے ہیں :
    '' عجب صاحب توفیق است کہ اللہ تعالٰے طفیل شما ، عمرو حیات و منصب الٰہی ایں مرد بیفزاید''۔۳؎
    خواجہ نور الدین نے ان سے درخواست کی تھی کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ شیخ کی محبت اُن کے دل میں بڑھ جائے۔ ۴؎ شیخ اورنگ آبادی ؒ ان پر خاص التفات فرماتے تھے ۔اور اکثر اُن سے کتابیں پڑھوا کر سنتے تھے ۔ ۵؎ اُن کا انتقال مرشد کی حیات میں ہی (۲۷ ربیع الاول ۱۱۳۲ ؁ھ ) ہو گیا تھا ۔
    دوسرے بھائی خواجہ کامگار حسینی کے ذریعہ شیخ اورنگ آبادی ؒ کی تعلیم ہی محفوظ نہیں ہوئی بلکہ شاہ کلیم اللہ دہلوی ؒ کی مجلسوں کی آب وتاب اور ان کے انداز تبلیغ و اشاعت کی بہت سی تفصیلات کا سامان بھی فراہم ہو گیا ۔ انھوں نے احسن الشمائل میں اپنے شیخ کے حالات دل کش انداز میں لکھے ہیں ۔ گو عبارت آرائی نے افادیت کا پہلو کچھ کمزور کر دیا ہے ۔ لیکن تذکرہ خوبیوں سے خالی نہیں ۔ مجالس کلیمی میں انھوں نے شاہ کلیم اللہ ؒ کی چودہ مجلسوں کاحال لکھا ہے ۔ وہ ۲۸ / ربیع الاول ۱۱۳۲ ؁ھ سے ۲۰/ جمادی الاولٰی ۱۱۳۲ ؁ھ تک شیخ کی خدمت با برکت میں رہے اور ان کی مجلسوں
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مکتوبات م ۶۶ ص ۵۵
    ۲؎ ۳؎ مکتوبات کلیمی م ۳۱ ص ۳۴
    ۴؎ مکتوبات م ۳ ص ۳۴ ۔ م ۳۶ ص ۳۷
    ۵؎ با لخصوص مشکوٰۃ شریف ۔ تکملہ سیر الاولیاء ص ۱۰۲
  4. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۱
    کا حال بڑے جذبہ اور خلوص سے قلمبند کیا ۔ اس ملفوظ کا سبب تالیف یہ تھا کہ دونوں بھائیوں نے حسین علی خان کے ساتھ دہلی آنے کی اجازت اپنے شیخ سے چاہی تھی ۔ تاکہ شاہ کلیم اللہ ؒ کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل کر سکیں ۔ شاہ نظام الدین ؒ نے صرف کامگار حسینی کو اجازت دی ۔غالباً خواجہ نور الدین کی صحبت ایسی نہ تھی کہ اتنا طویل سفر اُن کے لئے مناسب ہوتا ۔
    کامگار حسینی دہلی میں ہی تھے کہ بھائی کے انتقال کی خبر وحشت اثر اُن کو ملی ۔ اب اس دلی کیفیت کی تسکین کے لئے جو واپسی پر بھائی سے نہ ملنے کے خیال سے پیدا ہوئی تھی ،انھوں نے یہ سوچا کہ مجالس شیخ کا حال لکھ کر مرحوم کی روح کو خوش کریں ۔ مجالس کلیمی کے دو نسخوں کا اب تک پتہ چلا ہے ۔ ایک نسخہ کتب خانہ سالار جنگ ( حیدر آباد ) میں ہے ( ۶۹۴۔۱۵۶) دوسرا خانقاہ تونسہ شریف میں ( نمبر ۱۸۹ ب )۔ کامگار حسینی کی ایک اور تصنیف ملفوظات خواجہ نظام الدین اورنگ آبادی ؒ ہے ۔ ا س کا واحد نسخہ خانقاہ تونسہ شریف میں بتایا جاتا ہے ۔صاحب شجرۃ الانوار نے شیخ اورنگ آبادی ؒ کے تذکرہ میں اس سے استفادہ کیا ہے ۔ شیخ اورنگ آبادی ؒ خواجہ کامگار حسینی کا اتنا خیال کرتے تھے کہ اپنے بڑے بیٹے محمد اسمٰعیل کو اُن کا مرید کرایا تھا۔۱؎
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎؎ مناقب فخریہ ص ۵
  5. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    سکین پکچر نمبر۔0091۔0092۔ میرے ذمہ۔۔۔
    حسن نظامی نے اسے پسند کیا۔
  6. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۳
    باب سوم
    حضرت شاہ فخرالدین دہلوی ؒ
    محمد شاہ کی دلی ہے ۔زوال و انحطاط کے آثار ہر طرف نمایاں ہیں ۔ قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے ۔نادر شاہ کا قتل عام اسی سر زمین پر ہو چکا ہے ۔ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ہچکیاں لے رہا ہے اور دم توڑنا ہی چاہتا ہے ۔ جس دور کی ابتدا ، ایبک و ایلتمش کی رزم آرائیوں سے ہوئی تھی ، وہ آج محمد شاہ کی بزم آرائیوں اور ہنگامہ ہائے ناؤ نوش میں ختم ہو رہا ہے ۔ فلسفۂ تاریخ کے مفکر کی یہ صدا فضاؤں میں گونج رہی ہے ۔ ؎
    آ تجھ کو میں بتلاؤں تقدیر امم کیا ہے
    شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آ خر
    اس سیاسی بد امنی اور اخلاقی پستی کے زمانے میں اللہ کے کچھ بندے درس و تدریس اور ارشاد و تلقین کے کا م میں مشغول ہیں ۔ حالات نامساعد ہیں ، ہوا تیز و تند ہے ، لیکن وہ اپنا چراغ جلا رہے ہیں ۔ طوفان امنڈ تا چلا آ رہا ہے ۔ لیکن اُن کے دست و بازو چپو پر جمے ہوئے ہیں ۔ و ہ ہمت نہیں ہارتے ۔ ایمان و یقین کا بے پناہ سرمایہ اُن کے حوصلوں کو بلند او ر عزم کو مستحکم کئے ہوئے ہے ۔ دہلی میں جس کا عالم بقول شاہ عبد العزیز ؒ یہ تھا کہ
  7. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔ ۱۸۲ خالی ہے۔
  8. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۴
    بِھَا مَدَا رِسُ فَطَافَ الْبَصِیْرُ بِھَا
    لَمْ تَفْتَحْ عَیْنَھُ اِلَّا عَلَے الصُّحُّفِ
    (جس طرف نکل جائیے اس میں مدارس نظر آ ئیں گے ۔ اور وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہو گا )
    دو مدرسے ایسے ہیں جو اس وقت دلی کی جان ہیں ، ایک مدرسہ رحیمیہ جس میں دربار ولی اللہ سج رہا ہے ، اور ایک زبردست انقلابی تحریک کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے ، اور دوسرا اجمیری دروازہ کا مدرسہ جس میں دکن کا ایک نو عمر عالم کسی روحانی ادارے پر آ کر اقامت گزیں ہو گیا ہے ۔ تقریباً نصف صدی قبل اس نوجوان کے باپ کو دہلی کے ایک مشہور بزرگ نے دکن میں تبلیغ و اصلاح کے کام پر متعین کیا تھا ۔ آج اس کا فرزند علم و عرفان کی شمع جلانے دکن چھوڑ کر دہلی چلا آیا ہے ۔ لوگ پروانوں کی طرح اس کے گرد جمع ہو رہے ہیں ۔ اس کی چتون میں غضب کا جادو بھرا ہے کہ جس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ لیتا ہے وہ اسی کا ہو جاتا ہے ۔ جب حدیث کا درس دینا شروع کر دیتا ہے تو سننے والوں پر
    فتاد سامعہ در موجہ کوثر و تسنیم
    کا عالم طاری ہو جاتا ہے ۔ یہ شاہ فخر الدین ؒ ہیں ۔ ان کے والد شاہ نظام الدین ؒ اورنگ آبادی ؒ ، شاہ کلیم اللہ دہلوی ؒ کے عزیز ترین مرید اور خلیفہ تھے ، اور اُن ہی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ یہ وہی مدرسہ ہے جس کی نسبت مولوی بشیر الدین احمد نے لکھا :
    '' اس مدرسے میں چھوٹے چھوٹے مکان بن گئے ہیں ، چوہان کسان وغیرہ غریب لوگ رہتے ہیں ۔ یہیں ایک چھوٹی سی مسجد آپ (شاہ ولی اللہ ) کے نام سے مشہور ہے جس میں آپ نماز پڑھتے تھے ۔ اب چونکہ یہ کل جائداد رائے بہادر لالہ شیو پرشاد صاحب کی ہے ۔ اس لئے اس گلی پر مدرسہ رائے بہادر لالہ رام کشن داس کا تختہ لگا دیا گیا ہے ۔'' ( واقعات دار الحکومت دہلی ج۲ ص۱۶۷)
  9. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۵
    کے حکم کے مطابق دکن چلے گئے تھے ۔
    ولادت : شاہ فخر الدین صاحب ؒ کی ولادت باسعادت ۱۱۲۶ ؁ھ ( ۱۷۱۷ ؁ ء ) کو اورنگ آباد میں ہوئی تھی ۔ جب حضرت شاہ کلیم اللہ دہلوی ؒ کو اپنے عزیز مرید شا ہ نظام الدین ؒ کے یہاں بیٹا پیدا ہونے کی خبر پہنچی تو بہت خوش ہوئے ۔فخر الدین ۱؎ نام تجویز کیا اور اپنا ملبوس خاص نومولود کے لئے عنایت فرمایا۔ ساتھ ہی اس بچہ کے شان دار مستقبل کی بشارت دی ۔ ایک مجلس میں خود شاہ فخر صاحب ؒ نے اس کا ذکر اس طرح فرمایا تھا :
    حضرت شیخ بعد تولد من رقعہ کہ برائے حضرت صاحب قبلہ نوشتہ بو دند ،چنانچہ تا حال آں رقعہ پیش ِ ما ہست ، برائے من بسیار بشارات و الفاظ زیادہ تر از رتبہ من نوشتہ اند و بہ تصدیق تلفظ ایشاں حق تعالٰی بر من رحمت کردہ است ۔
    حضرت شیخ ( یعنی شاہ کلیم اللہ صاحب ؒ ) نے میرے تولد کے بعد جو خط حضرت والد صاحب قبلہ کو لکھا تھا وہ اب تک میرے پاس ہے ۔ اس میں میرے لئے بہت سی بشارتیں ہیں اور ایسے الفاظ ہیں جو میرے رتبہ سے بڑھ کر ہیں ، اللہ تعا لٰی نے ان ہی کلمات کی برکت
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مناقب فخریہ ( مطبع مجتبائی دہلی ۱۲۹۵ ؁ ھ) ص ۵
    مناقب فخریہ کے مصنف غازی الدین خان نظام ، نظام الملک آصف جاہ کے پوتے تھے ۔ اٹھارہویں صدی کی تاریخ میں ان کا نمایاں حصہ تھا ۔ ۱۲۱۵ ؁ ھ ( ۱۸۰۰ ؁ ء) میں کالبی میں انتقال ہوا ۔ اردو، فارسی ، عربی ، ترکی میں شعر کہتے تھے ۔ فارسی دیوان کے نسخے برٹش میوزیم (Rieu -2 v 19 b ) اور لینن گراڈ( 9 Romaskewieg –p. میں موجود ہیں ۔ ۱۳۰۱ ؁ ھ ( ۱۸۸۳ ؁ ء ) میں دیوان حیدر آباد سے شائع ہوا تھا ۔ اُن کے لکھے ہوئے قصائد حضرت علی ؓ کی مدح میں اور ایک مثنوی فخریۃ النظام ( شاہ فخر الدین دہلوی ؒ کی مدح میں ) خاص طور پر معروف ہیں ۔ ذخیرۂ سبحان اللہ علی گڑھ میں خود مصنف کے قلم کا لکھا ہوا قصیدہ موجود ہے ۔ (۲۹۷۴۷۔۔۔۲۷عربیہ)
    فخر الطالبین ( مطبوعہ مطبع مجتبائی ، دہلی ۱۳۱۵ ؁ ھ ) ص ۵۵
  10. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    سکین پکچر۔۔0093۔۔۔۔0094۔۔میرے ذمہ
  11. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۶
    سے مجھ پر رحمت فرمائی ہے ۔
    شاہ صاحب ؒ نے اس مکتوب میں یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ لڑکا شاہ جہاں آباد میں رُشد و ہدایت کی شمع روشن کرے گا ۔ ۱؎
    شاہ فخر الدین صاحب ؒ کےچار بھائی اور ایک بہن تھی ۔ایک بھائی حقیقی تھے ، باقی سوتیلے ۔ بڑے بھائی خواجہ کامگار حسینی کے مرید تھے ۔ باقی تینوں بھائیوں نے شاہ فخر صاحب ؒ سے بیعت کی تھی ۔۲؎ بڑے بھائی کے متعلق شاہ فخر صاحب ؒ کا بیان ہے :
    ''برادر کلاں من بسیا ر سادہ بودند ، و مرا بہ لفظ مُلّا یا د کردند ، بایں جہت کہ ایشاں اکثرے بہ تماشا مشغول می شدند ، و بہ ایں ذوق داشتند ، من اکثر کم حاضری شدم مرا مُلّا می گفتند۔ ''۳؎
    میرے بڑے بھائی بہت سادہ لوح تھے ، مجھے مُلّا کہہ کر خطاب کیا کر تے تھے اور وہ اس وجہ سے کہ وہ اکثر تماشہ میں مشغول رہتے تھے اور اس میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔میں اس میں کم شریک ہوتا تھا ۔ اس لئے مجھے مُلّا کہتے تھے ۔
    شاہ فخر صاحب ؒ کو اپنی بہن اور بھائیوں سے بڑی محبت تھی ۔ بہن کو '' آپا'' کہا کرتے تھے ۔۴ ؎
    بڑے بھائی کا جب انتقال ہوا تو بہت رنجیدہ اور مضطرب ہوئے ۔ ۵؎
    سلسلہ نسب اور لقب : شاہ فخر الدین صاحب ؒ باپ کی جانب سے صدیقی اور ماں کی جانب سے ''سید '' تھے ۔ ان کی والدہ (جن کا نام سید بیگم تھا ) ،حضرت سید محمد گیسو درازؒ کے خاندان سے تھیں۔۶؎
    شاہ فخر صاحب ؒ کا لقب محب النبی تھا ۔ ۷؎ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپ نے
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ۲؎ مناقب فخریہ ۔ص ۵
    ۳؎ ۴؎ فخر الطالبین ۔ ص ۵۵
    ۵؎ فخر الطالبین ۔ص ۳۰
    ۶؎ شجرۃ الانوار ( قلمی )
    ۷؎ تکملہ سیر الاولیاء۔ ص ۱۱۴۔۱۱۳ ( مناقب فخریہ ص۴)
  12. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۷
    حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور حضرت چراغ دہلی ؒ کو اس لقب سے مخاطب کرتے ہوئے خواب میں دیکھا تھا ۔ ۱؎
    تعلیم: شاہ فخر الدین صاحب ؒ کی تعلیم پر کافی توجہ صرف کی گئی تھی ۔ان کے والد ماجد خود بڑے ذی علم بزرگ تھے ۔اُنھوں نے اپنے اس بیٹے کی ، جس کے شاندار مستقبل کے متعلق حضرت شاہ کلیم اللہ ؒ بشارت دے چکے تھے ، تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا ۔ اور اس زمانے کے مشہور علماء کے زیر تربیت رکھا۔ ۲؎
    شاہ فخر صاحب ؒ نے فصوص الحکم ، صدرا ، شمس بازغہ وغیرہ کتابیں میاں محمد جان سے پڑھی تھیں ۔ میاں محمد جان جید عالم تھے ۔ شیخ محی الدین ابن عربی ؒ کی تصانیف پر بڑا عبور تھا اور فلسفۂ وحدت وجود کے ماہر استادوں میں شمار کئے جاتے تھے ۔۳؎ انھوں نے شاہ فخر الدین صاحب ؒ میں بھی امام اکبر ؒ کے فلسفہ کا درک پیدا کردیا ۔ غالباً اسی کا نتیجہ تھا کہ ایک زمانے میں شاہ فخر الدین صاحب ؒ نے فلسفۂ وحدت وجود کی تشریح میں ایک رسالہ لکھنے کا ارادہ کیا ، لیکن پھریہ سوچ کر کہ امام اکبر ؒ کے افکار کے باریک نکات عوام خاطر خواہ طریقہ پر نہ سمجھ سکیں گے۔اور پھر شارح کو بدنام کرنا شروع کر دیں گے ، اپنے ارادے سے باز رہے ۔ ۴؎
    شاہ فخر الدین صاحب ؒ نے ہدایہ اپنے عہد کے ایک مشہور فقیہہ مولانا عبد الحکیم سے پڑ ھی تھی ۔ تکملہ میں اُن کے متعلق لکھا ہے :
    بزرگے خوب عالم بود ..... در علم فقہ تمام مہارت داشت وہم
    بڑے اچھے عالم تھے ........ علم فقہ میں مہارت حاصل تھی اور انتہائی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ تکملہ سیر الاولیاء ۱۱۴۔ ۱۱۳ ؛ مناقب المحبوبین ص ۸۱۔۴۹۔۴۸
    ۲؎ تکملہ سیر الاولیاء ص ۱۰۶
    ۳؎ تکملہ سیر الاولیاء ص۱۰۶
    ۴؎ فخر الطالبین ص ۳۹
  13. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۸
    توکل بدرجہ اتم بود۔۱؎
    توکل کی زندگی تھی ۔
    لکھا ہے بعض اوقات پاجامہ تک اُن کے پاس نہ ہوتا تھا ۔ اور وہ ایک ''نیمہ'' میں گذر اوقات کر تےتھے۔
    شاہ فخر الدینؒ کو ان سے استغنا اور توکل کا سبق ملا ۔حدیث کی سند شاہ فخر صاحب ؒ نے دکن کے ایک مشہور محدث حافظ اسعد الانصاری المکی ثم اورنگ آبادی ؒ سے حاصل کی تھی ۔ ۲؎ حافظ صاحب ؒ شیخ محمد ابراہیم کردی ؒ کے شاگرد تھے ۔ شیخ کردی ؒ جید عالم اور محدث تھے ۔ ان کا حال حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے انفاس العارفین میں لکھا ہے ۔۳؎
    شاہ فخر الدین صاحب ؒ کو علم حدیث سے خاص دلچسپی تھی اور احادیث کا مطالعہ بھی کافی وسیع تھا ۔ مولوی خدا بخش ملتانی کا بیان ہے کہ ان کو مشارق الانوار زبانی یاد تھی اور :
    ''کتاب مشارق الانوار بشب می خواند ندو بجانب چراغ پشت می کردند '' ۴؎
    کتاب مشارق الانوار ات کو پڑھتے تھے اور چراغ کی جانب پشت کر لیتے تھے۔
    شاہ فخر صاحب ؒ نے اپنے والد ماجد سے بھی کچھ کتابیں مثلاً شرح وقایہ، مشارق الانوار اور نفحات الانس پڑھی تھیں ۔ درسیات کے علاوہ انھوں نے بعض اور علوم اور فنو ن سے بھی واقفیت حاصل کی تھی ۔ طب کی کتابیں پڑھی تھیں اور تیر اندازی اور فنون سپاہ گری میں مہارت حاصل کی تھی ۔ مناقب فخریہ میں ان کو '' جامع جمیع علوم
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ تکملہ سیر الاولیاء(ص ۱۰۷۔ ۱۰۶) نیز خلاصۃ الفوائد ( قلمی ) ص ۳۹
    ۲؎ ملاحظہ ہو سند حدیث مندرجہ تکملہ سیر الاولیاء (۱۰۸)
    ۳؎ انفاس العارفین (ص ۲۰۰۔۱۹۸) معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم میں حجازی اثرات شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کے علاوہ اور بزرگوں کے ذریعہ بھی ہند وستان پہونچے تھے ۔
    ۴؎ سر دلبراں، ص ۹
  14. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    سکین پیج نمبر۔۔0095۔۔۔0096۔۔ میرے ذمہ ۔۔
  15. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۸۹
    و فنون'' لکھا ہے ۔ ۱؎
    تیغ و قلم کا یہ اجتماع ابتدائی زمانہ میں ان کی شخصیت کی خصوصیت تھی۔ روحانی تربیت نے ''تیغ'' کو اس طرح روحانی اور اخلاقی قدروں کے تابع کر دیا ۔ کہ کوئی ان سے مل کر کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ '' صاحب سیف '' بھی رہ چکے ہیں ۔
    بیعت: شاہ فخر صاحب ؒ کے والد ماجد کو اُن سے بیحد محبت تھی ۔ اس لئے ان کی باطنی تربیت کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے ۔ بچپن ہی میں ان کو اپنا مرید کر لیا تھا ۔ ۲؎
    جب شاہ نظام الدین کا انتقال ہوا تو ان کی عمر ۱۶ سال تھی ۔ باپ نے قاضی کریم الدین کے ذریعہ (کہ نسبت خویشی بہ آں جناب داشت ص ۵) ان کو اپنے پاس بلوایا ، اور دیر تک سینۂ مبارک سے چپٹا کر اپنی باطنی نعمتیں ان کو منتقل کر دیں ۔ اس کے بعد اُن کی روح عالم قدس کی طرف پرواز کر گئی۔ ۳؎
    شاہ فخر الدین صاحب ؒ کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی ۔ چنا نچہ باپ کے وصال کے تین سال بعد تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ ۴؎
    لشکر میں ملازمت: تعلیم سے فراغت کے بعد ، باپ کے سجادہ پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے لشکر میں ملازمت کر لی ۔ لیکن درویشی فطرت کا تقاضا تھا ۔ اس کو ٹال نہ سکتے تھے ۔
    اگر دن تیغ و سناں کی جھنکاروں میں گذرتا تھا تورات رکوع و سجود میں ۔ مناقب فخریہ میں لکھا ہے کہ وہ تمام تمام رات خیمہ میں عبادت کرتے تھے ۔ ۵؎ اور اخفائے حال
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ مناقب فخریہ ۔ص ۱۱
    ۲؎ فخر الطالبین ۔ص ۵۸
    ۳؎ مناقب فخر یہ ۔ص ۵
    ۴؎ مناقب فخریہ۔ ص ۶
    ۵؎ مناقب فخریہ ۔ص ۶




  16. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔ ۱۹۰
    کی بڑی کوشش کرتے تھے ۔ جو لوگ آپ کی ظاہری حالت کو دیکھتے تھے ، وہ کبھی اس بات کا گمان بھی نہیں کر سکتے تھے کہ یہ شخص راہ طریقت میں گامزن ہے ۔ ایک دن فرمانے لگے :
    '' من در ایام سابقہ محنت در مشغولی ہم بسیار کردہ ام ''۱؎
    میں نے گذشتہ ایام میں شغل و ذکر میں کافی مصروفیت رکھی ہے ۔
    مناقب فخریہ میں لکھا ہے ۔ کہ انھوں نے آٹھ سال تک رات دن مشقتیں اٹھائی تھیں ۲؎۔ لشکر میں وہ نظام الدولہ ناصر جنگ ( مصنف مناقب فخریہ کے چچا ) اور ہمت یار خان کے ساتھ رہتے تھے ۔ مناقب فخریہ میں لکھا ہے :
    '' فوج کشی ہا و شمشیر زنی ہا نمودند و صوم دائمی در آں حالت می داشتند ۴؎۔''
    فوج کشی اور شمشیر زنی کرتے تھے ۔ اور اسی حالت میں ہمیشہ روزے بھی رکھتے تھے ۔
    لشکر میں گو کہ آپ نے اپنی روحانی کیفیات کو پوشیدہ رکھنے کی انتہائی کوشش کی لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ جب شہرت بڑھنے لگی تو لشکر چھوڑ کر اورنگ آباد چلے گئے ۔
    اورنگ آباد میں قیام : اورنگ آباد پہنچ کر شاہ صاحب ؒ اپنے والد کے سجادہ پر متمکن ہوئے۔ حتی المقدور اظہار حال سے گریز فرماتے تھے ، لیکن جس خانقاہ اور سجادہ سے وہ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ فخر الطا لبین ص ۱۰
    ۲؎ مناقب فخریہ ص ۶
    ۳؎ ہمت یار خان ، آصف جاہ اول کے معتبر سپہ سالاروں میں تھا ۔ اور متعدد اہم جنگوں میں اُن کے ساتھ رہا تھا ۔ ۱۷۴۲ ؁ء میں کرنول کے باغی سردار نے قتل کر دیا تھا ۔ ملاحظہ ہو ۔ڈاکٹر یوسف حسین خان کی کتاب :
    Nizam- ul-Mulk Asif Jah,1,p..159,p..251
    ۴؎ مناقب فخریہ ص۶
  17. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۹۱
    متعلق تھے وہاں اخفاء حال آسان نہ تھا ۔رفتہ رفتہ لوگوں کو آپ کی ریاضات شاقہ کا علم ہو گیا اورعقیدت مندوں کا ہجوم بھی بڑھنے لگا ۔ لکھا ہے :
    آں حضرت دید ند کہ تمام ملک دکن اشتہار شد ۔ خواستند کہ بجائے دیگر عزم فرمایند و ستر حال را بحال دارند ۱؎۔
    حضرت شیخ نے جب دیکھا کہ تمام ملک دکن میں مشہور ہو گئے تو چاہا کہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں اور اپنے حال کو پوشیدہ رکھیں ۔
    لیکن اورنگ آباد چھوڑنا بھی اُن کے لئے آسان نہ تھا ۔ جب وہاں سے روانگی کا ارادہ کرتے تھے تو دل میں خیال آتا کہ یہاں میرے والد اور مرشد کا مزار ہے ۔ آخر اس کو چھوڑ کر کس طرح چلا جاؤں ۔ اسی کش مکش میں تھے کہ خواب میں اپنے والد ماجد کو دیکھا کہ یہ شعر پڑھتے ہیں ؎
    شہ اقلیم فقرم بے خودی تخت روانِ من
    نہ چوں فرہاد مزدور م نہ چوں مجنوں زمیندارم۲؎
    پھر عارف روم ؒ کی اس ہدایت سے کچھ ہمت بندھی ؏
    بند بگسل باش آزاداے پسر ۳؎
    مذبذب ارادے میں پختگی پیدا ہوئی اور اورنگ آباد کو خیر باد کہنے کے لئے تیار ہو گئے ۔
    دہلی کو روانگی: ایک دن آپ اپنے دو ملازموں ، قاسم اور حیات کے ساتھ اورنگ آباد سے پا پیادہ چل کھڑے ہوئے۔ مناقب فخریہ میں آپ کی روانگی کا سال ۱۱۶۰ ؁ ھ( ۱۷۴۷ ؁ ء) درج ہے ۴؎۔ مناقب المحبوبین میں ۱۱۶۵ ؁ ھ( ۱۷۵۱ ؁ ء ) میں لکھا ہے اور غازی الدین خان نظام کی مثنوی کے اِن اشعار سے سند لی گئی ہے ؎
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ۲؎ تکملہ سیر الاولیاء ۔ص ۱۰۹
    ۳؎ مناقب فخریہ ۔ص ۹۔۸
    ۴؎ مناقب فخریہ ۔ ص ۱۱
    صفحہ نمبر۔۱۹۱
    متعلق تھے وہاں اخفاء حال آسان نہ تھا ۔رفتہ رفتہ لوگوں کو آپ کی ریاضات شاقہ کا علم ہو گیا اورعقیدت مندوں کا ہجوم بھی بڑھنے لگا ۔ لکھا ہے :
    آں حضرت دید ند کہ تمام ملک دکن اشتہار شد ۔ خواستند کہ بجائے دیگر عزم فرمایند و ستر حال را بحال دارند ۱؎۔
    حضرت شیخ نے جب دیکھا کہ تمام ملک دکن میں مشہور ہو گئے تو چاہا کہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں اور اپنے حال کو پوشیدہ رکھیں ۔
    لیکن اورنگ آباد چھوڑنا بھی اُن کے لئے آسان نہ تھا ۔ جب وہاں سے روانگی کا ارادہ کرتے تھے تو دل میں خیال آتا کہ یہاں میرے والد اور مرشد کا مزار ہے ۔ آخر اس کو چھوڑ کر کس طرح چلا جاؤں ۔ اسی کش مکش میں تھے کہ خواب میں اپنے والد ماجد کو دیکھا کہ یہ شعر پڑھتے ہیں ؎
    شہ اقلیم فقرم بے خودی تخت روانِ من
    نہ چوں فرہاد مزدور م نہ چوں مجنوں زمیندارم۲؎
    پھر عارف روم ؒ کی اس ہدایت سے کچھ ہمت بندھی ؏
    بند بگسل باش آزاداے پسر ۳؎
    مذبذب ارادے میں پختگی پیدا ہوئی اور اورنگ آباد کو خیر باد کہنے کے لئے تیار ہو گئے ۔
    دہلی کو روانگی: ایک دن آپ اپنے دو ملازموں ، قاسم اور حیات کے ساتھ اورنگ آباد سے پا پیادہ چل کھڑے ہوئے۔ مناقب فخریہ میں آپ کی روانگی کا سال ۱۱۶۰ ؁ ھ( ۱۷۴۷ ؁ ء) درج ہے ۴؎۔ مناقب المحبوبین میں ۱۱۶۵ ؁ ھ( ۱۷۵۱ ؁ ء ) میں لکھا ہے اور غازی الدین خان نظام کی مثنوی کے اِن اشعار سے سند لی گئی ہے ؎
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ ۲؎ تکملہ سیر الاولیاء ۔ص ۱۰۹
    ۳؎ مناقب فخریہ ۔ص ۹۔۸
    ۴؎ مناقب فخریہ ۔ ص ۱۱



  18. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    صفحہ نمبر۔۱۹۱ دو دفعہ اپلوڈ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔

اس صفحے کی تشہیر