تبت کے بر ق رفتار لاما

شاکرالقادری نے 'کھیل، ورزش اور یوگا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، نومبر 12, 2011

  1. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    تبت کے بر ق رفتار لاما


    مادام الژندرا نے تبتی لاماوٗں کی ایک قسم بیان کی ہے، جو دن رات کہیں رکے بغیر سبک رفتاری مہینوں کا سفر دنوں میں کرتے تھے ۔انہیں لنگ گوم پا کہا جاتا ہے ۔اس نے اپنے چودہ سالہ قیام کے دوران ایسے تین لاما دیکھے۔
    وہ بتاتی ہے کہ اس نے ایک بار دوران سفردور سے ایک سیاہ نقط ہ اپنی جانب آتے دیکھا۔دور بین سے پتہ چلا وہ ایک آدمی ہے جو تیزی سے دوڑتا ہوا اس کی طرف آ رہا ہے۔وہ خوشی سے اچھل پڑی کیونکہ اس نے ایسے لاماوٗں کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن سامنے دیکھنے کا ،وہ بھی دوران عمل ،پہلابار موقعہ ملا تھا۔
    وہ محویت کے عالم میں، دنیا ومافیہا سے بے خبر چھلانگیں مارتا ہوا اپنی منزل کی جانب رواں تھا ۔اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا اور آنکھیں کہیں دور کسی بلند خلائی نقطے پر جمی ہوئی تھی۔ جب بھی اس کے پاوٗ ں زمین کو چھوتے تو وہ ربڑ کی گیند کی مانند اچھل کر آگے جست لگاتا تھا۔ اس کی چلانگوں میں باقاعدہ ربط موجود تھا۔پھر وہ چوکڑیاں بھرتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔
    مادام کے نوکر نے اسے لاما کو روکنے یا بات کرنے سے منع کر دیاکہ اچانک اتنی گہری محویت ٹوٹنے سے اس کی جان کا خطرہ ہے۔
    تبت میں لنگ گوم پا بنے کی تربیت گاہیں تھی،جن میں طالب علموں کو ارتکاز ،استغراق،سانس کی مشقیں اور بے وزنی سکھائی جاتی تھی۔تربیت کا دورانیہ کوئی 3برس3ماہ تھا۔ لیکن بہت کم لاما مکمل طور پر تیار ہوتے تھے۔
    بے وزنی کی تربیت کے لیے لاما کے قد سے دو گنا لمبا کھڈا کھودا جاتا تھا، وہ فرشی گدے پر آلتی پالتی مار کر، سینے میں لمبا سانس بھر کے،جاپ کرتے ہوئے،عالمِ محویت میں ،بغیر کسی ہاتھوں کی مدد سے، آلتی پالتی والی پوزیشن میں پوری طاقت سے اوپر اچھلنے کی کوشش کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کی اچھال کی بلندی بڑھتی جاتی تھی۔مدت کے بعد با لآخر ایک دن وہ ایک ہی جست میںتقریباً دس گیارہ فت لمبے کھڈے سے باہر نکل آتاتھا۔
    تبتی لاما ـــــــــ ’ لطیفہ آتش‘بھڑکانے سے تومو کی صلاحیت اور’ لطیفہ باد‘ سے بے وزنی اور فضامیں معلق ہونے کی اہلیت پیدا کرتے ہیں۔
    چھاتی میں ہوا بھرنے سے آدمی پانی میں نہیں ڈوبتا، بے وزنی کی بنا ء پر وہ کاگ کی مانند اوپر آتا ہے،اس کے علاوہ یہ بے وزنی اسے اونچا اچھلنے یا اڑنے میں مدد کرتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایسے لاماوٗں کے پورے جسم میں ہوا بھری ہوئی ہے۔
    سائنس دان اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ توانائی اصل میں ایک ہی ہے جو کشش ثقل ہے۔ باقی دیگر توانائیاں، روشنی،آواز، گرمی، بجلی، مقناطیس وغیرہ اسی زمینی کشش کے مختلف روپ ہیں۔صوفیا تو پہلے سے یہی بات کہتے تھے کہ تخلیق کائنات کی بنیاد ہی کشش و گریز کے اصول پر ہے۔ پوری کائنات اور انسانی معاشرے میں یہی اصول چھوٹی بڑی سطح پر کار فرما ہے۔اسی بنا پر چاند، سورج، ستارے اور حتیٰ کہ کہکشائیں کشش کی بنا پر کسی کے گردمحبت سے پروانہ وار گھومتی ہیں۔
  2. Aftabsweet قلمکار

    پیغامات:
    0
    جواب: تبت کے بر ق رفتار لاما

    نہایت شاندار تھریڈ ہے
  3. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    جواب: تبت کے بر ق رفتار لاما

    شکریہ آفتاب ۔۔ القلم پر خوش آمدید ۔۔ اپنا تعارف تو کروائیں ۔

اس صفحے کی تشہیر