شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو آج ہم سے بچھڑے 12 برس ہوگئے

تانیہ نے 'ادبی شخصیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جولائی 11, 2013

  1. تانیہ قلمکار

    پیغامات:
    464
    [IMG]


    منفرد لب ولہجے کے شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو آج ہم سے جدا ہوئے بارہ برس ہوگئے۔
    سادہ، پُر تاثیر انداز کے حامل لازوال اشعار کے خالق قتيل شفائی چوبيس دسمبر انيس سو انيس میں ہری پور ميں پيدا ہوئے۔ کم عمری ميں ہی گھر کی ذمہ داريوں نے زندگی کے تلخ حقيقتوں سے سے آشنا کردیا۔ تخليقی صلاحيتوں کو تجربات کی حدت ملی تو کندن بن کر نکلے اور اردو ادب کو ایسی معروف و معرکتہ الارا حمد، نعت، غزل اور گیتوں سے نوازا۔
    ابتدا میں انکی لکھی نظميں اور غزليں ادبی پرچوں کی زينت بنیں۔ انيس سو سينتاليس ميں پاکستان کی پہلی فلم 'تيری ياد' کے لئے شاعری کی اور پھر قتیل شفائی کے نغمات کو گانا گلوکاروں نے اپنا اعزاز سمجھنا شروع کردیا ۔ ان کے لکھے فلمی گیت کا میابی کی ضمانت سمجھے جانے لگے فن سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
    انڈیا کی فلمی صنعت نے بھی قتیل کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا۔ اپنے فلمی سفر میں انہوں نے تقریباً ڈھائی ہزار نغمات لکھے۔ قتيل شفائی کو جديد اردوغزل کے نمائندہ شعراء ميں شمار کیا جاتا منفرد انداز بیاں کے مالک قتيل شفائی کی صلاحیتوں سے ادب و فن کے دلدادہ ابھی پوری طرح فیض یا ب بھی نہ ہو ئے تھے کہ گیا رہ جو لا ئی دو ہزار ایک کو دار فا نی سے کوچ کر گئے۔
    بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
    اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘
    کم عمری میں ہی والد کا سایہ سرسے اُٹھ گیا اور آپ کو مجبوراً تعلیم کو خیرباد کہہ کر زندگی کی گاڑی کو کھینچنا پڑا۔ چھوٹی عمرہی میں کھیلوں کے سامان کی دکان بنائی۔ جب کاروبار چل نکلا تو آپ نے راولپنڈی آنے کا سوچا جہاں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں نوکری شروع کی اور 60روپے ماہانہ کمانے لگے۔قتیل شفائی 11جولائی ، 2001ء کو اِس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
    ’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا
    ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘
    ۔۔۔
    ’اے دِل کسی کی یاد میں
    ہوتا ہے بے قرار کیوں‘
    سنہ 1946میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔
    ’آ میرے پیار کی خوشبو
    منزل پہ تجھے پہنچائے
    آ میرے پیار کی خوشبو‘
    ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔
    آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
    ’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘
    نغمہ نگار کے طور پر اُنھوں نے کئی ایوارڈ جیتے۔
    قتیل شفائی نے جگ جیت چِترا اور غلام علی کے ساتھ کئی البمز پر کام کیا۔
    اُنھیں سنہ 1994میں ’پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ، قتیل شفائی نے آدم جی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، اباسین آرٹ کونسل ایوارڈ اور امیر خسرو ایوارڈ بھی حاصل کیے۔
    آپ کی شاعری کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
    قتیل شفائی نے اپنی مادری زبان ہندکو میں ایک فلم بھی پروڈیوس کی، جو ہندکو کی پہلی فلم تھی، جِس کا نام تھا ’قصہ خوانی‘، جو 1980ء میں رلیز ہوئی۔
    لاہور میں جہاں آپ کا قیام تھا اُس سڑک کو قتیل شفائی اسٹریٹ اور ہری پور میں جہاں وہ رہتے تھے محلہ قتیل شفائی کہا جاتا ہے۔
    پاکستان اور بھارت کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں اُن کی شاعری کوشامل کیا گیا ہے۔
    فرخ منظور نے اسے پسند کیا۔

اس صفحے کی تشہیر