غزل گائیکی انجم شیرازی کی کتاب کا تعارف

حسن نظامی نے 'فن موسیقی اور موسیقار' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جولائی 4, 2013

  1. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    [IMG]
    نام کتاب: غزل گائیکی
    مصنف: انجم شیرازی
    صفحات: 288
    قیمت: 450 روپے
    ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور
    اردو میں موسیقی پر کتابیں انتہائی کم ہیں اور ان میں ایسی کتابیں تو اور بھی کم ہیں جن سے ایک ایسا عام آدمی بھی فائدہ حاصل کر سکے جو کچھ جانے بغیر، موسیقی سنتا اور لطف اٹھاتا ہے۔
    شاید اس کی وجہ ایسی کتابوں کے لکھنے والوں کا عطائی ہونا ہے۔ یعنی موسیقی انھیں وراثت نہیں ہوئی۔ انھوں ذاتی تگ و دو اور میراثیوں کی قربت، عنایت اور عطا سے موسیقی سیکھی اور معلومات جمع کیں۔ اس لیے بعید نہیں کہ وہ اس پر لکھتے ہوئے اُس دقت کو اپنے اسلوب کا حصہ بننے سے روک نہ پاتے ہوں جو انھیں اس علم کو سیکھنے میں پیش آئی ہو یا نفسیاتی طور پر خود کو اپنے اساتذہ کی جگہ رکھ کر ان کی زبان بولنے لگتے ہوں۔
    یہ محض میرا قیاس ہے، لیکن میں نے موسیقی کے بارے میں جو دو ایک کتابیں دیکھی ہیں اور مختلف رسالوں میں گاہے ماہے جو مضامین دیکھے ہیں یہ تاثر انھی سی پیدا ہوا ہے۔
    شاید کوئی دو سال پہلے کی بات ہے محترم عقیل عباس جعفری نے موسیقی کے بارے میں شاہد احمد دہلوی کے مٰضامین کو اکٹھا کر کے ’مضامینِ موسیقی‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔ اس لیے میں نے انھی سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں تو اردو میں موسیقی پر تیس پینتیس کے لگ بھی کتابیں ہوں گی لیکن ان وہ کتابیں بھی شامل ہیں جو موسیقاروں اور گانے والوں اور والیوں کے بارے میں ہیں۔ صرف موسیقی کے فن کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیس ہوں گی۔
    ان بیس میں ’مضامین موسیقی‘ کے علاوہ زیڈ اے بخاری کی ’راگ دریا‘ اردو میں لکھی جانے والی اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔
    [IMG]
    اس کے علاوہ استاد بدرالزماں کے بارے پڑھا تھا کہ ان کی کوئی دس سے زیادہ کتابیں موسیقی پر آ چکی ہیں لیکن بد قسمتی سے مجھے ان میں سے کوئی بھی کتاب دیکھنے کو موقع نہیں ملا۔ ان کی ایک کتاب صدائے موسیقی کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ میں اس بارے میں کوئی پانچ چھ ہفتے قبل کسی اخبار میں کوئی تحریر پڑھی تھی۔ اب یہی بات یاد رہ گئی ہے کہ ان کی کتاب عام اور خاص دونوں طرح کے لوگوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔
    انجم شیرازی کی کتاب صرف غزل گائیکی اور گانے والوں / والیوں تک محدود ہے۔ اس کے آخر جن ماخذات و کتابیات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں استاد اختر علی خاں و استاد ذاکر علی خاں کی ’نورنگِ موسیقی‘، چوہدری ظہور کی ’جہانِ فن‘، محمد نواب علی خان کی ’معارف النغمات‘ اور خود انجم شیرازی کی ’مبادیاتِ موسیقی‘ سمیت کل چار کتابیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ رسائل نے بھی موسیقی نمبر شائع کیے جن میں ’آج کل‘ کا موسیقی نمبر اہم تصور کیا جاتا ہے۔
    اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اردو میں اس موضوع پر کام کرتے ہوئے کیسی کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
    موسیقی کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے اور اب کئی ادارے بھی بن گئے ہیں جن میں کلاسیکی موسیقی کی تربیت دی جاتی۔ خود انجم شیرازی کا کہنا ہے کہ انھوں نے 1979 میں رضا کاظم کے قائم کردہ ادارۂ موسیقی میں پہلے استاد غلام حسن شگن اور پھر استاد لطافت حسین خاں سے تعلیم حاصل کی۔
    انجم شیرازی نے اس کتاب میں غزل گائیکی کا بہت مناسب تعارف کرایا ہے۔ غزل کا گائیکی کا گائیکی کی دوسری ہئیتوں سے فرق واضح کیا ہے۔ غزل گائیکی کے مختلف انگ: ٹھمری، خیال، کافی، گیت، قوالی، مجرائی اور لوک کی وضاحت کی ہے۔
    اس کے بعد وہ غزل گائیکی کی تاریخ بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ 1902 میں ریکارڈنگ شروع ہوئی تو سب سے پہلے گوہر جان کی آواز میں ریکاڈنگ کی گئی، اس سلسلے میں کچھ حلقے ساشی مکھی اور فینی بالا کے نام بھی لیتے ہیں۔
    انجم شیرازی نے گائیکی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور گوہر جان اور ان کی پہلی غزل ’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘ سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں عنایت بائی، برکت علی، کے ایل سہگل، ماسٹر مدن، کملا جھریا، جوتیکا رائے، مختار بیگم، ملکہ پکھراج، اختری بائی فیض آبادی (بیگم اختر)، مجدد نیازی، سی ایچ آتما، شمشاد بائی، نیلم بائی، خان مستانہ، زہرہ بائی، کانن دیوی، سریندر شانتا آپٹے، جہاں آرا کجن، پنکھج ملک، امیر بائی، خورشید بانو، وڈیا ناتھ سیٹھ، سریندر کور، راج کماری، طلعت محمود، نورجہاں، زاہدہ پروین، محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوشلے، کشور کمار، مبارک بیگم، منور سلطانہ، سلیم رضا، منیر حسین اور نسیم بیگم شامل ہیں۔
    دوسرا دور مہدی حسن سے شروع ہوتا ہے اور اس میں وہ فریدہ خانم، اقبال بانو، غلام علی، پرویز مہدی، امانت علی خان، اعجاز حسین حضروری، حسین بخش گلو، شوکت علی، رونا لیلیٰ، حبیب ولی محمد، ناہید اختر، نیّرہ نور، اعجاز قیصر، بلقیس خانم، تصور خانم، طاہرہ سید، استاد ظفر علی خاں، منی بیگم، عابدہ پروین، شاہدہ پروین، سلامت علی و عذرا سلامت، غلام عباس، فدا حسین، مسعود ملک، حامد علی خاں، اسد امانت علی خاں، امتیاز علی خاں و ریاض علی خاں، استاد رئیس خاں اور ٹینا ثالی شامل ہیں۔
    جب کہ تیسرے دور میں جگجیت سنگھ، چترا سنگھ، انوپ جلوٹا، بھوپندر سنگھ، متالی سنگھ، پنکھج ادھاس، سریش واڈیکر، چھایا گنگولی، طلعت عزیز، چندن داس، ہری ہرن، استاد احمد حسین، استاد محمد حسین، مدھو رانی، راجندر مہتہ، نینا مہتہ، اشوک کھوسلہ، راج نتن، سمن یادیو، نصرت فتح علی، گلبہار بانو اور خلیل حیدر شامل ہیں۔
    واضح رہے کہ انجم غزل کے ان مختلف ادوار کو ریکارڈنگ کے آغاز سے شروع کرتے ہیں۔ ورنہ تو غزل یقینًا درباروں اور کوٹھوں پر ہی نہیں بازاروں میں بھی پہلے سے موجود تھی لیکن یہ تاریخ غالبًا محفوظ نہیں ہے۔
    ان تمام گلوکاروں اور ان کے انداز کا مناسب تعارف بھی دیا گیا ہے اور کئی جگہ ان کی گائی ہوئی مشہور غزلوں کے بارے میں راگوں اور مسیقاروں کی تفصیل بھی ہے۔ کتاب کی طباعت اور پیشکش عمدہ ہے اور غزل سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی دلچسپی کی حامل ہے۔
    از ’’کتابی چہرہ‘‘
    www.facebook.com/asenroy

اس صفحے کی تشہیر