قلعہ اٹک بنارس

شاکرالقادری نے 'ضلع اٹک کی تاریخ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اپریل 28, 2009

  1. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    قلعہ اٹک بنارس

    گردش ایام کے آئینے میں

    اٹک خورد(اٹک قدیم) کے مقام پر دریائے سندھ کے کنارے پر واقع قلعہ اٹک بنارس ۱۵۸۱ء میں مغل شہنشاہ اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔ اکبر اعظم کو اس قلعہ کی تعمیر کا خیال اس وقت آیاجب و ہ اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (کابل کا گورنر جس نے پنجاب پر حملہ کر دیا تھا) کو شکست دینے کے بعد کابل سے واپس آ رہا تھا۔ اس وقت اکبر اعظم نے اس علاقہ کی دفاعی اہمیت کے پیش نظر قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اور ۱۵ خوردار ۲۶ سال جلوس بمطابق ۳۰/مئی ۱۵۸۱ء کو قلعہ اٹک بنارس کی بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھی۔ اس واقع کو ابوالفضل نے اکبر نامہ میں اس طرح بیان کیا ہے:
    ’’مکنون ضمیر جہان آرا ٔ آن بود کہ چون مرکب ہمایون بہ آن حدود رسد حصاری عالی عمارتی یابد۔ ودرین ولا آن جائیکہ دور بنیان گزیدہ بودند۔ پچشم حقیقت پژوہ پسندیدہ آمد۔پانزدہم خورداربود، از گشتن دو پہر و دو گھڑی بدست مقدس بنیاد نہادہ۔ بدان نام اختصاص دادند چنانچہ در اقصای مشرقی ممالک قلعی ایست کہ نام آن کٹک بنارس ۔ و بعہد اہتمام خواجہ شمس الدین خوافی(کہ درین نزدیکی از بنگالہ آمدہ بود) قرارگرفت۔ در اندک فرصتی بحسن انجام رسید۔ میان ولایت ہندوستان و کابلستان برزخ شگرف انتظام یافت و سرمایہ فرمان پذیری گردن کسان آن حدود شد۔ آرزو مندان مایہ را دستاویز روزی پدیدآمد و خواستہ داران رابضاعت اطمینان سر انجام یافت و جہان نوردان روزگاررا ایمنی روی داد‘‘
    (اکبر نامہ : جلد سوم صفحہ ۳۵۵)
    اکبر اعظم نے اس قلعہ کا نام اپنی مملکت کے مشرقی حصہ میں واقع قلعہ کٹک بناس کے نام پر اٹک بنارس رکھا۔ اٹک ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں’’ دامن کوہ‘‘ اٹک نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں ہم کتاب کے شروع میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔
    ایک غلط فہمی کا ازالہ
    ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم نے ڈسٹرکٹ بورڈ اٹک کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ترقیاتی رپورٹ ’’تعمیر اٹک ۱۹۶۳ئ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ:
    ’’ایک دفعہ ڈاکٹر جہانگیر خاں نے مجھے بتایا کہ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا،،
    ’’ڈاکٹر(جہانگیر) صاحب مغلوں کی سرحدی سیاست پر کیمبرج میں ریسرچ کرتے رہے ہیں اور ان کی رائے بڑا وزن رکھتی ہے‘‘
    معلوم نہیں کہ ڈاکٹر جہانگیر خاں صاحب نے کس بناء پر قلعہ اٹک کی تعمیر کے بارے میں یہ رائے قائم کی ورنہ اکبر نامہ کے تفصیلی بیان کے بعد تو یہ رائے محض گپ شپ بن کر رہ جاتی ہے اور پھر ڈاکٹر برق صاحب نے بھی تحقیق کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس گپ شپ کو تعمیر اٹک میں نقل کرنے کے ساتھ اس کو اس بنا پر وزنی بھی قرار دیدیا کہ کہ ’’ ڈاکٹر جہانگیر صاحب کیمبرج میں مغلوں کی سرحدی ریاستوں پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔‘‘
    قلعہ اٹک کی تعمیر کے بعض مراحل
    ۱۹۸۶ء میں مجلس نوادرات علمیہ اٹک نے خواجہ محمد زاہد اٹکی کی ایک کتاب ’’قصہ مشائخ‘‘ جس کا سال تصنیف ۱۱۴۶ہجری ہے شائع کی۔ اس کتاب کی اشاعت سے قلعہ اٹک کی تعمیر کے بعض مراحل کی تفصیل سامنے آئی ہے۔ جس کے بارے میں دعویٰ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ تفاصیل پہلی بار اس کتاب کے شائع ہونے پر سامنے آئی ہیں۔قصہ مشائخ میں قلعہ اٹک کی تعمیر کے بارے میں جو بیان ہے اس کا فارسی متن حسب ذیل ہے:
    ’’دران عصر اکبر بادشاہ درین ملک آمدہ و فکر ساختن قلعہ و آبادی شہر کردہ و بنای یک برج قلعہ درمیان دریا کردند کہ ہر چہار طرف قلعہ وشہر، غنیم عظیم است۔چنانچہ طرف شمال نہ صد ہزار نیزہ افغانان یوسف زئی سکو نت دارد و سمت غرب آن قلعہ، افغانان خٹک و طرف جنوبی افغانان بھنگی خیل و طرف مشرقی ، افغانان سرکانی و متانی و ترین و غورغشتی وغیرہ اقوام سکونت دارند۔ از راہ دور اندیشی برج قلعہ را درمیان آپ بنای می کردند۔ یعنی از سبب غنیم قلعہ بندی شود، سکنای قلعہ محتاج آب نباشند و سوای آب دریا، آب چاہ درقلعہ ممکن نیست کہ برآید بسبب کوہ۔و آن برج را در کنار دریا بنای می کردند۔ ہرچندتردد می کردند بنیاد آن برج قائم نمی ماند۔ زیرا کہ آنجادریا بہ شدت تمام جار ی ست۔ از جانب خود کارپردازان آنچہ وقوف استادگری می دانستندصرف کردند۔ آن جا برج درست کردہ نتوانستند و بدون ساختن برج کارتمام قلعہ ضائع و ابتر بود۔فلابد حقیقت بہ ارض اقدس اعلیٰ اکبر بادشاہ ہندوستان رسانند۔ حضرت ظل سبحانی فرمودند کہ بدون معاونت اولیأ اللہ قائم شدن برج دشوار نماید۔
    بعض ارکان دولت کہ واقف حقیقت شاہ صدرالدین و شاہ عیسیٰ شدہ بودند بہ عرض رساندند کہ شاہ صدرالدین و شاہ عیسیٰ دو بزرگوار در فلان دامن کوہ، بر فلان پشتہ سکونت دارند۔ حضرت ظل سبحانی فرمودند کہ آنہا را نزد من بیارید۔ آدمان بادشاہ برای طلب ایشان آمدند، شاہ صدرالدین فرمودند کہ شاہ عیسیٰ را در حضور بادشاہ ببرید کہ آنچہ مطالب عالیشان خواہد بود حق تعالی آسان خواہد کرد۔ حسب فرمودۂ شاہ صدرالدین، شاہ عیسیٰ بحضور بادشاہ رفتند۔ بادشاہ بسیار اعزاز و اکرام ایشان بجای آوردہ ایست۔بعد ازان بادشاہ گفت کہ خواستہ ام کہ شہرو قلعہ دریں نواح آباد سازم و ہرچندخواہم کہ بنیاد برج در کنار دریا قائم شود، نمی شود۔ استاد کاران می سازند، آب شستہ می برد۔ امید(دارم) کہ دعا کنید تا آن جا برج قائم گردد۔ حضرت شاہ عیسیٰ بر آب دریا ررفتہ اند و فرمودند کہ:
    ’’ ای آب دریا۔ ۔ ۔ ! جای ساختن برج بگذار کہ مسلمانان تصدیع بسیار کشیدہ اند‘‘
    و آن جا عصای خود استادہ کردہ اند۔ دریا از آن جا بر گشتہ است۔ و استاد کاران آنجا برج ساختہ اند۔ و آن وقت سن نہ صد و نود و یک ہجری بود، الحال سن یک ہزار یک صد و چہل وشش است، برج قلعہ بہ ہماں استحکام درمیان دریا ایستادہ است بلکہ از یمن دعای بزرگان آن چنان قوی و پر قوت ایستادہ است کہ گویا درین ولا ساختہ اند‘‘
    ترجمہ:
    اس زمانہ مین اکبر بادشاہ اس علاقہ میں آیا اور یہاں قلعہ اور شہر تعمیر کرنے کا ارادہ کیا اور قلعہ کے ایک برج کی بنیاد دریا کے بیچوں بیچ رکھی کیونکہ قلعہ کے چاروں طرف بے شمار دشمن ہیں شمال میں نو لاکھ یوسف زئی افغان مغرب میں خٹک افغان جنوب میں بھنگی خیل افغان اور قلعہ کے مشرق میں سرکانی ، متانی، ترین اور غور غشتی وغیرہ اقوام آباد ہیں۔ ازراہ دور اندیشی برج قلعہ کی بنیادیں دریا کے پانی سے اٹھائی گئیں تاکہ اگر دشمن کی وجہ سے قلعہ بند ہو نا پڑے تو ساکنان قلعہ کو پانی کی محتاجی نہ ہو کیونکہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے قلعہ میں سوائے دریا کے پانی کے کنویں کا پانی حاصل ہونا ممکن نہیں۔ ہر چند کوشش کی گئی لیکن برج قلعہ کی بنیاد دریا میں قائم نہ ہوئی اکبر اعظم کو اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا حضرت ظل سبحانی نے فرمایا کہ اولیاء اﷲ کی معاونت کے بغیر برج قائم ہونا مشکل ہے ۔ بعض ارکان دولت جو کہ حضرت شاہ صدرالدین اور شاہ عیسیٰ کی حقیقت حال سے واقف ہو چکے تھے انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں دو بزرگ فلاں دامن کوہ میں ایک پشتہ پر رہتے ہیں۔ حضرت ظل سبحانی نے فرمایا ان کو میرے پاس لایا جائے۔ بادشاہ کے آدمی انہیں بلانے کے لئے آئے۔ شاہ صدرالدین نے فرمایا کہ شاہ عیسیٰ کو بادشاہ کے پاس لے جائو جو مقصد ہو گا حق تعالیٰ پورا فرمائے گا ۔شاہ صدر الدین کے فرمان کے مطابق شاہ عیسیٰ بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے ۔ بادشاہ آپ کے ساتھ نہایت اعزاز و اکرام سے پیش آیا اور تمام حالات بیان کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی۔ حضرت شاہ عیسیٰ دریا کے پانی میں گئے اور فرمایا کہ ’’ اے دریا کے پانی برج بنانے کی جگہ چھوڑ دے کہ مسلمانوں نے بہت صعوبتیں اٹھائی ہیں‘‘اور وہاں اپنا عصا مبارک گاڑ دیا ۔ دریا اس جگہ سے ہٹ گیا اور کاریگروں نے برج تعمیر کیا اس وقت۹۹۱ہجری تھی اور اب ۱۱۴۶ ہجری ہے قلعہ کا برج اسی استحکام سے دریا میں موجود ہے اور بزرگوں کی دعا کی برکت سے اس طرح مضبوط اور پر قوت ہے کہ گویا حال ہی میں تعمیر کیا گیا ہو۔‘‘
    (قصۂ مشائخ از خواجہ محمد زاہد اٹکی)
    قلعہ (اٹک بنارس) کی تعمیر کی یہ تفصیل پہلی بار منظر عام پر آئی ہے جس سے اس علاقہ کی اس مخصوص جغرافیائی صورت حال کا بھی تفصیل سے علم ہوتا ہے جو قلعہ کی تعمیر کا سبب بنی۔قلعہ اٹک بنارس کی تعمیر سے یہ علاقہ صدیوں تک شمالی حملہ آوروں کی یلغار سے محفوظ ہو گیا اور ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔
    قلعہ اٹک بنارس شہنشاہ اکبر اعظم نے خواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دو سال(۱۵۸۱ء۔۱۵۸۳ئ) کے عرصہ میں تعمیر کرایا۔ خواجہ شمس الدین خوافی کے والد خواجہ علاؤالدین خوافی ایران کے شہر خواف سے آئے تھے اور اپنی ذہانت اور کارگزاری کے باعث بہت جلد اکبر بادشاہ کے مقربین بارگاہ میں شامل ہو گئے تھے خواجہ شمس الدین خوافی نے مظفر خان صوبہ دار بنگال کی ماتحتی میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ان کی بنا پر وہ اکبر کے مصاحبین خاص میں شامل ہو گئے تھے بنگال میں انہیں باغیوں نے گرفتار کر لیا تھا مگر کسی طرح جان بچا کر شہنشاہ کے پاس آگئے ۱۵۸۱ء میں شہنشاہ نے انہیں قلعہ اٹک بنارس کی تعمیر کی نگرانی پر ما مور کر دیا ۔ خواجہ شمس الدین خوافی ۱۵۸۵ء کے آخر تک (تقریباً پانچ سال) اٹک میں مقیم رہے اسی زمانہ میں انہوں نے حسن ابدال کے مقام پر اپنے لیے ایک مقبرہ بھی تعمیر کروایا تھا لیکن یہاں پر دفن ہونا انہیں نصیب نہ ہوا۔ اس مقبرہ میں حکیم ابوالفتح گیلانی اور ان کے بھائی حکیم حمام مدفون ہوئے یہ مقبرہ اب مقبرہ حکیماں کے نام سے مشہور ہے۔
    قلعہ اٹک بنارس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہی اکبر اعظم نے ہندوستان کے شہر بنارس سے بہت سے ملاح منگوا کر انہیں اٹک کے مقام پر آباد کیا اور اٹک کے مقام پر کشتیوں کا گھاٹ بنوایا ۔ اٹک کے مقام پر ان ملاحوں کو جو بنارس سے منگوائے گئے تھے جاگیریں عطا کیں جن کی اولاد اب تک وہاں آباد ہے اور جاگیر کی مالک ہے ان ملاحوں کی بستی اب بھی ’’ ملاحی ٹولہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
    (ڈسٹرکٹ گزیٹیئر اٹک ۱۹۳۰ئ)
    اکبر اعظم نے شہزادہ سلیم کو قلعہ اٹک کا قلع دار مقرر کیا انہی دنوں شہزادہ سلیم نے شراب نوشی کا آغاز کیا ۔ جس کا حال اس کی اپنی زبانی کچھ یوں ہے۔
    ’’جن دنوں والد بزرگوار کی فوج یوسف زئی افغانوں کی بغاوت و فساد کو مٹانے کے لیئے دریائے نیلاب کے کنارے قلعہ اٹک میں مقیم تھی ایک دن میں گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کھیلنے گیا ۔شکار کے دوران زیادہ بھاگ دوڑ کی وجہ سے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار ظاہر ہوئے تو شاہ قلی نامی نادرہ روزگار تو بچی نے مجھے کہا کہ اگر ایک پیالہ شراب نوش جان فرما دیں تو ساری تھکن دور ہو جائے گی۔ ۔ ۔ محمود آبدار کو حکیم علی کے گھر جا کر شراب کیف ناک لانے کا حکم دیا۔ ۔ ۔ میں نے پی تو اس کا نشہ بہت ہی اچھا لگا ۔ اس کے بعد میں نے شراب نوشی شروع کر دی اور روز بروز پینے کی مقدار میں اضافہ کرتا چلا گیا یہاں تک کہ انگوری شراب سے نشہ ہونا بند ہو گیا۔ پھر میں نے زیادہ تیز قسم کی شراب پینا شروع کر دی اس کی مقدار بھی رفتہ رفتہ بڑھ گئی‘‘
    (تزک جہانگیری ترجمہ صفحہ ۳۲۶)
    بعد میں اکبر اعظم نے قلعہ اٹک کی قلعہ داری کی ذمہ داری راجہ مان سنگھ کو سونپ دی تھی۔
    (یوسف زئی افغانوں کی تاریخ)
    دور جہانگیری
    شہنشاہ جہانگیر نے اپنے دور حکومت میں تین بار قلعہ اٹک میں وردو کیا۔ پہلی بار ۱۰۱۶ء ہجری میں کابل جاتے ہوئے۔ جس کا ذکر تزک جہانگیری میں یوں ہے’’۱۷ محرم کو میں نے دریائے نیلاب کے کنارے قیام کیا یہاں پر میرے والد بزرگوار نے ایک قلعہ بنایا تھا۔ میں نے حکم دیا کہ ولایت کابل ایک بھاری لشکر کے بوجھ کو سنبھالنے کے قابل نہیں اس لئے میرے واپس اٹک آنے تک تمام لشکر یہاں قیام کرے۔‘‘
    (تزک جہانگیریترجمہ صفحہ۹۳)
    دوسری بار شہنشاہ جہانگیر نے کابل سے واپسی پر اس قلعہ میں قیام کیا جبکہ تیسری بار ۱۶۲۶ء میں دوبارہ کابل جاتے ہوئے بھی یہاں قیام کیا۔
    مہابت خان کا قلعہ اٹک پر قبضہ
    ۱۶۲۶ء میں جب مہابت خان نے شہنشاہ جہانگیر کے خلاف بغاوت اور شہنشاہ کو گرفتار کر لیا تھا اس وقت آصف خان اور خواجہ ابوالحسن نے لشکر شاہی کے ساتھ دشمن پر حملہ کر دیالیکن راجپوتوں نے اس حملہ کو ناکام بنادیا۔ آصف خان نے یہ سوچتے ہوئے کہ وہ مہابت خان سے بچ نہیں سکے گا اپنے خدمت گزاروں سمیت قلعہ اٹک میں محصور ہو گیا اس دن مہابت خان نے آصف خان کو قید میں لے لیا اور قلعہ اپنے ملازمین کو دے دیا ۔ کچھ عرصہ تک قلعہ مہابت خان کے قبضہ میںرہا بعد میں مہابت خان شاہجانی پناہ میں آگیا تھا۔
    ( شاہ جہاں نامہ ترجمہ جلد اول ۸۱)
    شاہجہانی دور۔
    تخت نشینی کے بعد شاہجہان نے پانچ مرتبہ کابل کا سفر کیا اور ہر مرتبہ اٹک کے مقام سے ہوتا ہوا گزرا۔۱۲/اکتوبر۱۶۴۷ء کو شاہجہان کا بل سے واپسی پر قلعہ اٹک میں فروکش ہوا اس کا احوال شاہ جہان نا مہ میں کچھ اس طرح ہے۔
    ’’۲/ اکتوبر ۱۶۴۷ء کو کشتیوں کے پل سے دریائے سندھ کو عبور کر کے اٹک کے قلعے میں رونق افروز ہوئے۔ اس تاریخ پر شاہزادۂ اقبالمند دارا شکوہ اپنے فرزند یعنی سلطان سلیمان شکوہ کو ہمراہ لیے استقبال کے بطور لاہور سے آکر حاضر خدمت ہوئے حضرت نے انہیں ایک قطعۂ الماس کہ وزن میں سو رتی اور ایک لاکھ روپے قیمت کا تھا عنایت فرمایا۔ عنتر گھوڑے کی نسل کا ایک راہوار جو پندرہ ہزار روپے میں خریدا گیا تھا طلائی زین سمیت مزید عطا ہوا۔ امام قلی خان کے اتالیق شکور بے کا پوتا عبداللہ بیگ نصیب کی یاوری سے عبدالعزیز خان کی ملازمت چھوڑ کر بارگاہ والا میں حاضر ہوا۔ شاہزادہ اورنگ زیب کی سفارش سے کورنش کا شرف حاصل کیا۔ حضرت نے اسے ہزاری ذات چار سو سوار کا منصب دیکر مرصع خنجر،نقرئی زین والا گھوڑا اور پندرہ ہزار روپے عطا فرمائے۔‘‘
    (شاہ جہان نامہ جلد سوم صفحہ ۴۷۸)
    دور عالمیگری
    شاہ جہان کے بعد دور عالمگیری میں اٹک کا قلعہ دار کامل خان تھا جوکہ شمس آباد کے ایک مجذوب شاہ ربانہ بابا کا معتقد تھا۔اس نے یوسف زئی افغانوں کے ساتھ موضع ہارون کے قریب ایک خونین معرکہ لڑا اس معرکہ میں اس قدر افغان قتل ہوئے کہ اٹک کے مقام پر سروں کا مینار تعمیر کیا گیااور کئی اونٹ سروں سے لاد کر کابل روانہ کیے گئے اس معرکہ کی تفصیلات مجلس نوادرات علمیہ اٹک کی شائع کردہ کتاب’’ قصہ مشائخ ‘‘ مصنفہ خواجہ محمد زاہد اٹکی، میں موجود ہیں۔ جو کہ کتاب ہذا کے باب ’’مسلم دور کی تاریخ‘‘ میں ’’مغلوں اور یوسف زئی افغانوں کا عظیم معرکہ‘‘ کے زیر عنوان فراہم کردی گئی ہیں۔
    قلعہ اٹک درانی عمل داری میں
    ۱۷۵۲ء میں قلعہ اٹک درانی عمل داری کے قبضہ میں آگیا۔ درانی عملداری کے دوران عطا محمد خان اور اس کا بھائی جہانداد خان حکومت افغانستان کی جانب سے علی الترتیب کشمیر اور اٹک کے گورنر تھے۔ دونوں سرکشی پر مائل تھے۔
    شاہ افغانستان محمود شاہ درانی کے وزیر فتح خان نے انہیں سزا دینا چاہی۔ جہانداد خان بظاہر مطیع بنا رہا۔ فتح خان نے پنجاب کے راستہ سے کشمیر پر حملہ کیا اور رنجیت سنگھ سے مدد طلب کی اور اس کے ساتھ معاہدہ کیا کہ کشمیر کے مال غنیمت میں سے تیسرا حصہ سکھوں کو دیا جائے گا۔ چنانچہ وزیر فتح خان اور پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے درمیان ۱۸۱۳ء میں قلعہ رہتاس ضلع جہلم میں ایک معاہدہ ہوا جس کے زریعے رنجیت سنگھ نے کشمیر کی مہم سر کرنے کے لیے دیوان محکم چند کی سرکردگی میں بارہ ہزار سپاہی بطور امداد دی اور راجوری و پیر پنجال سے گزرتے وقت افغان فوج کو تمام سہولتیں پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض اسے کشمیر کے مال غنیمت سے میں سے تیسرا حصہ دیا جانا طے ہوا۔
    فروری ۱۸۱۳ء میں وزیر فتح خان نے کشمیرپر حملہ کیا۔معاہدہ کے مطابق دیوان محکم چند کے زیر کمان بارہ ہزار کی فوج بھی ہمراہ تھی۔ سکھ اور افغان فوجیں جب پیر پنجال پہنچیں تو برف باری کی وجہ سے سکھ پیش قدمی نہ کر سکے اور افغان فوجوں نے آگے بڑھ کر کشمیر پر حملہ کر دیا۔
    ایک زبردست جنگ کے بعد گورنر کشمیر عطاء محمدخان کو شکست ہوئی۔ عطاء محمدخان اور معزول شاہ کابل شاہ شجاع گرفتار کر لیے گئے۔ چونکہ سکھ فوج سے کوئی مدد حاصل نہ ہوئی تھی اس لیے اس کو مال غنیمت میں سے حصہ بھی نہ دیا گیا۔ رنجیت سنگھ نے یہی بات دل میں رکھی۔ ادھر جہانداد خان بھی بظاہر درانی حکومت کا مطیع تھا لیکن درپردہ اپنے بھائی عطامحمد کا ہمنوا تھا۔ اسے درانی حکومت کی جانب سے ایک طرح کا خوف بھی تھا کہ اس کے بھائی کی سرکوبی کے بعد ممکن ہے کہ اس کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہو۔
    قلعہ اٹک کا سودا
    اسی وجہ سے جب رنجیت سنگھ نے جہانداد خان سے خفیہ سلسلہ جنبانی شروع کیا تو اس نے ایک لاکھ روپیہ کے عوض اٹک کا قلعہ رنجیت سنگھ کے حوالہ کر دیا اور اس پر سکھ قابض ہو گئے۔
    وزیر فتح خان کی کامیابی اور اپنے بھائی عطاء محمد خان کی گرفتاری کی خبر سن کر سردار جہانداد خان پریشان ہو گیا اور اس نے سوچا کہ اس کے بھائی عطا محمد خان کے خلاف کارروائی کے بعد اب اس کی باری ہے۔چنانچہ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سلسلہ جنبانی شروع کیا اور بڑی جاگیر دینے کا وعدہ کیا تو جہانداد خان راضی ہو گیا اس نے رنجیت سنگھ کو پیغام بھیجا کہ قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لیے اپنے نمائندے بھیجے رنجیت سنگھ نے فوری طور پر فقیرعزیزالدین کو قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لیے بھیجا اور دیگر ا شخاص بھی اس علاقہ پر تسلط مضبوط بنانے کے لیے اس کے ساتھ کیے۔ منشی دیو داس، مت سنگھ بھرانیہ اور حکیم عزیزالدین سکھوں کی جانب سے اس ساز باز میں حصہ لیا اور جہانداد خان برادر عطا محمد خان کی جانب سے عبدالرحیم خان قلعہ دار سکھوں کی فوج کو قلعہ میں داخل ہونے دیا۔
    قلعہ میں داخل ہونے والی سکھ فوج کی کمان دیا سنگھ کر رہا تھاجو اپنی فوج کے ہمراہ پہلے ہی کہیں قلعہ اٹک کے نواح میں موجود تھا۔انگریز مؤ رخ مرے لکھتا ہے کہ کشمیر پر چڑھائی سے پہلے ہی رنجیت سنگھ اٹک کے حاکم سرداد جہاندادخان سے ساز باز کر رہاتھا۔رہتاس میں وزیر فتح خان سے ملاقات کے بعد لاہور روانگی سے بیشتر رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کا ایک دستہ دریائے سندھ کے آس پاس دیا سنگھ کی زیر کمان متعین کر دیا تھا۔جس نے سازش مکمل ہونے پر قلعہ میں داخل ہو کر قلعہ کا قبضہ حاصل کیا۔ رنجیت سنگھ کی فوجوں کو قلعہ اٹک میں۳۵۳۵۱۰ من غلہ ۴۳۹ من گولہ بارود ۷۰ عدد بندوقیں اور ۴۳۹ من کوہستانی نمک ملا۔اس طرح گویا سکھوں نے اہم جنگی مقام کو بہت ہی سستے داموں حاصل کر لیا۔
    رنجیت سنگھ کے دربار میں مرہٹوں کے کے پیشوا باجی رائو کا ایک نمائندہ رہتا تھا وہ دربار کے خاص خاص حالات اپنے پیشوا کو لکھ بھیجا کرتا تھا یہ خطوط فارسی میں لکھے گئے۔ڈاکٹر شیر بہادر پنی نے اپنی کتاب تاریخ ہزارہ میں ان خطوط کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ جس خط میںقلعہ اٹک کی اس فروخت کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے وہ یہ ہے۔
    ’’مورخہ ۱۱ /مارچ۱۸۱۳ء شاہی قلعہ لاہور ۔ قاصدوں کی ایک جوڑی آئی اور وہ منشی دیوی داس، سردارمت سنگھ بھرانہ اور حکیم عزیزالدین خان کے خطوط لائے۔ ان میں انہوں نے تحریر کیا تھا کہ وہ اٹک کی جانب کی جانب روانہ ہو گئے ہیں اور وہاں پہنچنے پر انہوں نے دریا کے کنارے اور قلعہ کے نیچے اپنا کیمپ لگایا ہے۔ عبدالرحیم نے جو نواب عطا محمد خان کی طرف سے اس قلعہ کا قلعدار تھا ۔ قلعہ ہمارے حوالے کردیا ہے۔ اور ان کی فوج کے ساتھ شامل ہو کر ان کے کیمپ میں آگیا ہے اور اس نے اعلیٰ سرکار کے قلعدار کو قلعہ پوری طرح قابض کروادیا ہے۔
    وزیر فتح خان کو جب معلوم ہواتو وہ بہت بگڑا اور غاصبانہ کاروائی پر بہت واویلا کیا۔ اس نے قلعہ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ جب تک کشمیر کے مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا قلعہ واپس نہیں کیا جا ئے گا۔ وزیر فتح خان کا مؤ قف یہ تھا کہ سکھوں نے فتح کشمیر کے موقعہ پر بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے،اس لیے وہ حصہ کے حق دار نہیں ہیں۔وزیر فتح خان نے جو ان دنوں کشمیر میں تھا۔ دیوان چند محکم کو طلب کیا اور کہا کہ مہاراجہ نے دین دھرم درمیان میں لاکر معاہدہ کیا تھا اور اب یہ کیا دغابازی ہے ۔ لیکن سکھوں نے قلعہ کی واپسی کو کشمیر کی جنگ میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے حصہ کی ادائیگی سے مشروط کر دیا۔
    انہی دنوں فتح خان کے وکیل گودر مل اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درمیان قلعہ اٹک کی واپسی کے لیے ملاقات بھی ہوئی مگر مہاراجہ نے انکار کر دیا۔ وزیر فتح خان نے کشمیر کا انتظام انصرام اپنے بھائی عظیم خان کے سپرد کیا اور خود مشوہ کے لیے کابل گیا اور وہاں سے فوج لے کر آیا۔ رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ فتح خان نے ایک بڑے لشکر اور توپخانے کے ساتھ قلعہ اٹک کا محاصرہ کر لیا ہے،غلہ ااور رسد کی کمی ہے،سکھ فوج قلعہ میں محصور ہو گئی ہے اور نہایت تنگی کی حالت میں ہے اور اگر مہاراجہ نے خبر نہ لی تو تمام فوج فاقوں سے مر جائے گی۔ چنانچہ اس نے فوری طور پرکنور کھڑک سنگھ اور بھیا رام سنگھ کی سرکردگی میں فوج روانہ کی۔ جس نے سرائے کالا سے آگے حسن ابدال کی سرائے شاہجہانی میں قیام کیا۔یہاں سکھ فوج پر فتح خان کی فوجوں نے حملہ کر دیا جس میں سکھ فوج کو شکست ہوگئی۔اب دیوان محکم چند رنجیت سنگھ کے حکم پر خود کمک لیکر روانہ ہوا۔ اس کی رہنمائی میں سکھ فوج سرائے کالا سے حسن ابدال کی طرف بڑھی۔فتح خان کی فوج نے حضرو میں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔دیوان محکم چند نے سرائے شاہجہانی حسن ابدال اور سرائے برھان میں فوج کا کیمپ کیا۔
    ۱۱۔جولائی ۱۸۱۳ میں قلعہ اٹک کی محصور فوج کو سامان رسد اور غلہ مہیاء کرنے کے لیے جب دیوان محکم چند سکھ سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا تو موضع سیدن ہٹیاں کے قریب سکھ اور افغان فوجوں میں مڈ بھیڑ ہو گئی۔ فتح خان کے بھائی دوست محمد خان کی فوج نے اچانک سکھوں پر حملہ کر دیا۔سکھوں کی طرف سے توپوں اور بندوقوں کے فائر کیے گئے، کافی کشت و خون ہوا۔ سکھوں کے قدم اکھڑے ہی تھے کہ افغانوں نے لوٹ مار شروع کر دی جس سے فتح شکست میں بدل گئی سکھ فوج افغانوں کا تعاقب کرتے ہوئے حضرو تک پہنچ گئی اور افغانوں کے ڈیروں کو لوٹ لیا۔افغان افواج فاقہ کشی اور گرمی کی وجہ سے بھاگ گئی جن میںسے اکثر سپاہی دریائے سندھ پار کرتے ہوئے ڈوب کر مر گئے۔ ۲۸/ جون ۱۸۱۳ء کو سکھوں نے ایک شاندار فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔ جن افغان فوجوں نے قلعہ اٹک کا محاصرہ کیا ہوا تھا جب ان کو فتح خان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو محاصرہ اٹھا کر چلی گئی اور دیوان محکم چند قلعہ اٹک میں آسانی سے داخل ہو گیا۔
    چھچھ کے میدان کی لڑائی کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ ہیوجل لکھتا ہے ۔: ۔’مسلمانوںکی طاقت ہندوستان میں گھٹ رہی تھی،اٹک کی معمولی لڑائی کے بعد آخری مسلمان فوجی دستوں کو سندھ کے پار بھگا دیا گیا۔نریندر کرشن سہنا ہوجل کے جواب میں لکھتا ہے کہ اس کی رائے بالکل گمراہ کن ہے،کسی لڑائی کی اہمیت اس میں لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد پر منحصر نہیں ہوتی۔اگر فتح خان جیت جاتا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا۔ جھنگ ااور سندھ ساگر دوآب کے مسلمان سردار یقینا ایک بار پھر کابل کی اطاعت کر لیتے اور قدرتی طور پر رنجیت سنگھ کی شکست پنجاب پر اس کے اقتدار کو کاری ضرب لگاتی۔چھچھ کے میدان میں اگر فتح خان کامیاب ہو جاتا تو یقینا ہندوستان میں اس کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ کشمیر جیسے خوشحال ملک کی آمدنی تالپور کے امیروںکا خراج، پشاور اور اٹک پر قبضہ، افغانستان کی طاقت اور سکھوں پر اس کی شاندار جیت اس کی اتنی ہمت بڑھاتی وہ احمد شاہ کی چھوٹی وراثت کو مکمل طور پردوبارہ حاصل کرنیکی کوشش کرتا۔چھچھ کی لڑائی میںافغانوںکی فتح سکھ قوم کی تاریخ میں اتنی ہی اہم ہوتی جتنی کہ شمال میں پانی پت کی تیسری لڑائی مرہٹوں کی تاریخ میں سمجھی جاتی ہے۔اس وقت پنجاب میں رنجیت سنگھ کی طاقت بہت زیادہ مضبوط نہ تھی،اس کے لیے یہ شکست تباہ کن ہی ثابت ہوتی۔
    ایس ایم لطیف ہسٹری آف پنجاب میں لکھتا ہے’’لاہور میں رنجیت سنگھ نے اس فتح کی خوشی میںعظیم الشان جشن منایا۔لاہور امرتسر اور وٹالہ میں بڑی دھوم دھام سے روشنی ہوئی۔اور دو ماہ تک لاہور میں اس فتح کی جو افغانوں پر سکھوں نے حاصل کی تھی،خوشیاں منائی جاتی رہیں۔‘‘
    کنہیا لال تاریخ پنجاب میں لکھتا ہے ’’اس فتح کے حصول کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کمال ا ور اعزاز و رتبہ بڑھ گیا۔اور کسی سرکش کو گردن اٹھانے کی نہ رہی ۔‘‘
    اس جنگ سے پہلے ، جنگ کے دوران اور بعد میں باجی رائو پیشوا کی جانب لکھے گئے اس کے ایک اہلکار کے خطوط جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے یہاں نقل کیے جاتے ہیں ان خطوط میں جنگ حضرو سے پہلے اور بعد کے کچھ حالات بھی معلوم ہوتے ہیںکی چھوٹی موٹی جھڑپوں کا بھی ذکر ہے۔
    ’’لاہور مورخہ۹/جون۱۸۱۳ء۔ کنور کھڑک سنگھ حسن ابدال سرائے میں وزیر اعظم(سردار فتح خان وزیر) کی فوجوں سے جنگ کے لیے ٹھہرا ہوا ہے وزیر اعظم کے دوہزار درانی سواروں نے کنور کھڑک سنگھ کو اٹک کیی قریب شکست دی۔‘‘

    ’’لاہور ۔مورخہ۱۵/جون۱۸۱۳ء۔ فوج سے ایک قاصد آیا اور کہا کہ اعلیٰ سرکار کی فوج سرائے کالا سے روانہ ہو گئے ہے اور حسن ابدال کے قریب سردار فتح خان کی فوج سے ۵ یا۶ کوس کے فاصلہ پر کیمپ لگایا ہے۔‘‘

    ’’لاہور۔ جولائی/ ۱۸۱۳ء۔ ایک خط جو کہ سکھ دیال سنگھ ایجنٹ رامانند ساہوکار ساکن پنڈ دادن خان نے لکھا ہے۔ بیان کرتا ہے کہ اس ماہ کی گیارہویں تاریخ کو صبح سویرے محکم چند اور دوسرے افسران اکٹھے قلعہ میں راشن پہنچانے کے لیے روانہ ہوئے۔ دوسری طرف سے دوست محمد خان برادر سردار فتح خان وزیر بمعہ اور سرداروں کے بائولی سے تقریباً ڈیڑھ کوس کے فاصلہ پر موجود تھے۔ آمادہ جنگ ہوئے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ درانیوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ اس طرف سے توپوں اور بندوقوں سے فائر کیے گئے۔ کافی جنگ اور کشت و خون کے بعد دشمنوں نے مقابلہ کی تاب نہ لا کر راہ فرار اختیار کیا اور دشمن کے بہت سے آدمی دریائے اٹک میں غرق ہو گئے۔ سردار فتح خان نے جو اپنے لشکر کے عقب میں چھپا بیٹھا تھا، دل ہار کر کشمیر کی راہ لی۔ اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے بعد کہاں بھاگ کر جائے گا۔ دیوان محکم چند، سردار دل سنگھ بھرانیہ بمعہ دوسرے سرداروں کے اس کے تعاقب میں روانہ ہو گئے ہیں۔‘‘

    ’’ایک قاصد آیا اور دیوان چند محکم کا خط لایا جس میں تحریر تھا کہ اس نے حرامیوں(مجاہدین) کے مواضعات کو جلادیا اور جو سامان ان مواضعات سے حاصل ہوا وہ قلعہ(اٹک) میں بھیج دیا گیا ہے۔‘‘

    ’’لاہور، مورخہ۲۱/جولائی ۱۸۱۳ء۔۔ ۔ ۔ قاصدوں نے آکر بتایا کہ محکم چند نے سابقہ فوجیوں کو قلعہ سے نکال کر نئے افسر اور فوج قلعہ میں مقرر کی اور خود حسن ابدال روانہ ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

    ’’لاہور، مورخہ۲۴/جولائی ۱۸۱۳ء۔ دل سنگھ بھرانیہ بمعہ اپنے ساتھیوں اور قطب الدین خان قلعہ( اٹک) میں داخل ہوا۔‘‘

    ’’لاہور، مورخہ۴/ اگست ۱۸۱۳ء۔ ایک قاصد کشمیر سے آیا اور بیان کیا کہ محمد عظیم خان وہاں ہے اور اپنی بدقسمتی پر غمگین ہے اور کشمیر کے راجائوں کے ساتھ ساز باز کر رہا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ وزیر خان اٹک پر ضرور حملہ کریگا اور اس کو فتح کریگا۔‘‘

    ’’لاہور، مورخہ۲۱/ اگست ۱۸۱۳ء۔ سردار فتح خان وزیر نے اعلیٰ سرکار کو لکھا ہے کہ وہ اٹک کا قلعہ چھوڑ دے اور ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے ورنہ وہ قلعہ پر حملہ کر دیگا۔‘‘

    ’’لاہور، مورخہ۲۲/جنوری۱۸۱۴ء۔سردار فتح خان نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وعدہ کیا کہ وہ حسب معاہدہ ملتان کا قلعہ خالی کرادے گا۔ خط پر غور کرنے کے بعد اعلیٰ سرکارنے فرمایا اگر سردار فتح خان اپنی فوج کے ذریعہ ملتان کا قلعہ خالی کرادے اور کشمیر کا سالانہ خراج گیارہ ہزار روپے ادا کرے تو وہ اٹک کا قلعہ اس کے حوالے کر دیں گے اور اس کے بعد اعلی سرکار نے فرمایا درانی قابل اعتبار نہیں ہیں۔‘‘

    مورخہ ۱۵/ دسمبر۱۸۱۴۔ بیان کیا گیا ہے اعلیٰ سرکار کے سپاہیوں نے اس سے اجازت لے کر گندگر میں ایک قلعہ بنوا لیا ہے اور اس کے ہر برج پر توپیں اس طرح نصب کیں کہ ان کا رخ قلعہ اٹک کی طرف ہے۔ ۔ ۔ ایک مخبر پیغام لایا کہ محمد عظیم خان کے آدمیوں نے قلعہ اٹک کے گھاٹ پر قبضہ کر لیا ہے اور مکھڈ کے گھاٹ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔‘‘
    مورخہ ۲۰ /دسمبر۱۸۱۴ء ایک شخص قلعہ اٹک کے ناظم امیر بیگ کا پیعام لایا ہے جس میں لکھا ہے کہ سردار فتح خان کا نمائندہ پشاور سے آیا ہے اور دریائے سندھ کے دوسری جانب سے ایک سو سواروں کے انتظار میں کھڑا ہے تا کہ سرکار کی خدمت میں پیس ہو اس نے دریائے سندھ پار کرنے کے لیے ایک کشتی طلب کی ہے۔‘‘

    ’’وزیر آباد، مورخہ ۱۹/جون۱۸۱۵ء۔ نوشہرہ میں افواہ گرم ہے کہ سردار فتح خان وزیر پشاور ہی میں ہے اور اس نے یوسف زئیوں کے پچیس ہزار آدمی جمع کیے ہیں اور ان کو قلعہ اٹک کی طرف روانہ کر دیا ہے۔‘‘

    ’’مورخہ۱۴/جولائی۱۸۱۵ء ان دنوں ایک عجیب بیماری قلعہ اٹک میں شروع ہے بہت سے سپاہی اور سکھ مرگئے افغان فوج دریا پار سے قلعہ اٹک پر گولے بر سا رہی ہے اور ادھر سے گولیاں چلائی گئیں۔‘‘

    ’’۔ ۔ ۔ تین سو مزدور، ترکھان اور راج قلعہ اٹک کے سامنے دریا سے پار برج نادرشاہ کی تعمیر میں مصروف ہیں اس برج سے گولہ قلعہ اٹک پر لگ سکتا ہے۔‘‘
    سید احمد شہید کی طرف سے قلعہ اٹک پر قبضہ کی کوشش
    سکھوں کا دور حکومت جسے پنجاب میں سکھا شاہی کہا جاتا ہے نہایت ظالمانہ اور وحشیانہ دور تھا اور یہ لفظ’’ سکھا شاہی‘‘ آج بھی ہمارے ہاں ایک محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، ظلمو بربریت کی علامت ہے۔ اس سکھا شاہی کے خلاف سید احمد شہید ؒ کی تحریک مجاہدین سرگرم جہاد تھی اور انہوں نے سکھوں کا نطقہ بند کر رکھا تھا۔ فروری یا مارچ ۱۸۲۹ء میں سید احمد شہیدؒ کے پاس قلعہ اٹک کی تسخیر کی تجویز آئی جس پر عمل کرنے کی کوشش بوجہ افشائے راز کامیاب نہ ہو سکی۔ اس واقعہ کو مولانا غلام رسول مہر صاحب نے اپنی کتاب ’’ سید احمد شہید‘‘ میں تفصیلاً لکھا ہے۔ یہاں اسی کتاب سے واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔
    ’’ اسی زمانے میں اٹک سے خیرالدین نامی ایک شخص بار بار پنجتار آیا وہ دو تین دن ٹھہرتا اور سید صاحب سے تخلیہ میں ملاقات کرتا اور واپس چلا جاتا۔ اس وقر کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی غرض و غایت کیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے اٹک کا قلعہ سید صاحبؒ کے حوالے کر دینے کی ایک سکیم سوچی تھی اور اسی سلسلہ میں تفصیلات طے کرنے آتا تھا۔‘‘
    ’’اٹک کا قلعہ دار خزانہ مل نامی ایک شخص تھا۔ خیر الدین وہاں کی معززین میں سے ایک تھا آہستہ آہستہ اس نے تمام اندرونی معاملات کی کیفیت معلوم کر لی ۔ جب اس کو یقین ہو گیا کہ قلعہ پر قبضہ کرنا مشکل نہیں تو شہر اٹک کے ان مسلمانوں سے بات کی جن کی اسلامی حمیت پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔سب نے خیرالدین کی رائے سے اتفاق کیا، لیکن کہا کہ باہر سے کمک لیے بغیر اس کا م کا سر انجام ہونا مشکل ہے۔ باہر سے سید صاحب کے سوا کون مدد دے سکتا تھا۔ جواں مرد خیرالدین نے اس خفیہ سفارت کی خدمت اپنے ذمہ لے لی۔‘‘
    ’’اٹک اس زمانے میں نہایت اہم مقام تھا اس کو قبضے میں لینے کے بعد پنجاب میں پیش قدمی کے لیے ایک موزوں مرکز مل جاتا۔ یہ بھی یقین تھا کہ اٹک لینے کے بعد ایک طرف اہل سرحد زیادہ سرگرمی سے کاروبار جہاد میں اعانت کے لیے تیار ہو جائیں گے اور دوسری طرف مسلمانان پنجاب کے حوصلے بڑھ جائیں گے اور سکھ حکومت میں تزلزل کا اچھا بندوبست ہو جائے گا۔ لیکن معاملہ ایسا نہ تھا کہ تنہا آدمی کی روایت پر بھروسہ کر لیا جائے ۔ آخری اقدام کے فیصلے کے بعد سید صاحب نے مولوی امام الدین بمبئی والے کو دو غازیوں کے ساتھ بہ تبدیل لباس روانہ کر دیا۔ دس روز میں انہوں نے پورے حالا تحقیق کیے اور پنج تا پہنچ کر خیرالدین کی ایک ایک بات کی تصدیق کر دی۔ سید صاحب نے اسی وقت پان سو روپے کی رقم خیرالدین کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ ضروری سامان اور ہٹھیار خرید لیجئے۔ سب سامان مکمل ہو جائے تو ہمیں اطلاع دیجئے اس کے بعد سید احمد شہیدؒ دورہ پر روانہ ہو گئے اور جگہ جگہ ٹھہرتے ہوئے گڑھی امان زئی پہنچے۔ وہیں خیرالدین نے خود اطلاع پہنچائی کہ تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں مسلمانان اٹک میں سے پپانسو آدمی ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں جن کے پاس ہتھیار نہیں تھے انہیں ہتھیار لے کر دیے ہیں۔ قلعے پر حملہ کے لیے سیڑھیاں اور رسے درکار تھے یہ چیزیں بھی مہیا کر لی گئی ہیں۔‘‘
    ’’میں اپنے بھائی کے علاوہ منگا خان،قادر بخش وغیرہ سے کہہ آیا ہوں کہ فلاں رات بارات کے استقبال کے بہانے دریا کے کنارے فلاں مقام پر پہنچ جائیں وہیں عازیوں کو لے آئوں گا۔‘‘ گویا تجویز یہ تھی کہ غازی باہر سے بارات کی شکل میں اٹک میں داخل ہوں اور اندر پہنچ کر مسلمانان اٹک کی مدد سے قلعہ پر قبضہ کر لیں۔ سید صاحب نے قریباً ستر چست و چالاک غازی منتخب کیے اور ارباب بہرام خان کو ان کا امیر بنا کر اٹک بھیج دیا۔‘‘
    ’’جہانگیرہ کے گھات پر پہنچے تو قادر بخش (اور اس کے ساتھی) انتظار کررہے تھے۔ عبور دریا کے لیے جالے موجود تھے۔ عین اسی حالت میں مہر بخش ۔ ۔ ۔ سوار ہوکر پہنچا اور اس نے بتایا کہ ہمارے ایک ساتھی نے راز فاش کردیا۔ مخبر نے قلعہ دار لالہ خزانہ مل کو بتایا کہ جو لوگ بارات کے استقبال کی اجازت لے گئے ہییں وہ سید صاحب کے غازیوں کو لائیں گے۔ خزانہ مل کو یقین نہ آیا۔ مخبر نے کہا کہ ان کے گھرون کی تلاسی لے لیجئے اگر وہاں سے ہتھیار ، سیڑھیاں اور رسیاں مل جائیں تو میں سچا ورنہ مجھے توپ دم کرا دیجئے۔ عین اسی وقت خادی خان(شادی خان) کا قاصد بھی پہنچ گیا اور اس نے بھی مخبر کی تصدیق کی اور کہا کہ سید صاحب کے غازی اٹک پر حملہ کرنے والے ہیں۔ خزانہ مل نے تلاشی لی اور سامان مل گیا۔ قلعدار نے لڑائی لرائی کی پوری تیاری کر لی ہے اور کئی مسلمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد غازیوں کا آگے بڑھنا بے سود تھا۔ چنانچہ وہ واپس ہو گئے۔ جو لوگ اٹک میں گرفتار ہوئے ان میں سے بعض کو موت کی سزادی گئی اور بعض کو قید کرلیا گیا۔ قاضی عبدالحلیم اثر افغانی نے اپنی کتاب روحانی رابطہ میں لکھا ہے کہ’’حراست میں لیے گئے لوگوں کو جنرل ونتورہ کی نگرانی میں ابلتے ہوئے تیل کے کڑاہوں میں ڈال کر جلا دیا گیا تا کہ باقی لوگوں کو عبرت ہو۔‘‘
    سکھوں کے دور حکومت میں ہی رنجیت سنگھ کے بیٹے پشاورا سنگھ کو سازش کے ذریعہ خواہرا سنگھ، فتح خا ٹوانہ اور چتر سنگھ اٹاری والے نے قلعہ اٹک میں پھانسی دیکر اس کی لاش دریائے سندھ میں بہادی تھی۔
    سکھ تسلط کا خاتمہ
    ۱۸۳۹ء میں جب رنجیت سنگھ کا انتقال ہوا تو اس کی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ یکے بعد دیگرے کئی سکھ حکمرانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔۱۸۴۵ء میں انگریزوں اور سکھوں کی لرائی ہوئی جس میں سکھوں کو شکست ہوئی اور ۹/ مارچ۱۸۴۶ء میں ایک معاہدہ ہوا جس کی وجہ سے پندرہ لاکھ تاوان جنگ مقرر ہوا لیک سکھ حکومت کے خزانہ میں پیسہ بھی نہ تھا۔ تاوان کی ادائیگی کے لیے کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔ اسی معاہدے کی رو سے رنجیت سنگھ کا آٹھ سالہ لڑکا دلیپ سنگھ تخت نشین ہوا اور اس کی معاونت کے لیے انگریز ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔ نیز سکھ گورنروں کی مدد کے لیے اسسٹنٹ ریزیڈنٹ اور برطانوی فوج مقرر ہوئی۔ چتھر سنگھ اتای والا ہزارہ کا گورنر تھا اور جمیس ایبٹ اس کا مشیر تھا۔جب کہ سندھ ساگر دوآب میں نواجوان جان نکلسن کو بھیجا گیا۔ دلیپ سنگھ چتر سنگھ کا ہونے والا داماد تھا۔ چتر سنگھ دربار لاہور کوانگریزوں کے اثر سے بچانا چاہتا تھا جس کی وجہ سے چتر سنگھ اور انگریزوں میں ٹٔھن گئی جس میں ایبٹ چتر سنگھ کا مزاحم ہوا ادھر پشاور سے جان نکلسن بھی راتوں رات چل کر دس اگست ۱۸۴۸ء کو اٹک پہنچ گیا۔ اور قلعہ اٹک میں داخل ہوا۔
    جس وقت یہ قلعہ میں داخل ہوا اس کے ساتھ صرف تیس پٹھان سوار تھے۔ پیادہ فوج آدھی رات کو پہنچی۔ گیارہ اگست کو نکلسن نے قلعہ اٹک کو اپنے ایک وفادار کے سپرد کیا اور خود حسن ابدال چلا گیا اور حسن ابدال میں بیٹھ کرسکھوں کے خلافمسلمان فوج تشکیل دی۔ یہ فوج زیادہ ترموضع واہ کے سردار کرم خان کھٹڑ کے مزارعین اور متوسلین پر مشتمل تھی۔
    ۲۶/ اگست کوچتر سنگھ آٹھ رجمنٹوں اور سولہ توپوں کے ہمراہ ہری پور سے چلا۔ میجر ایبٹ نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوا۔ اس ناکامی کے بعد حسن ابدال آگیا اور نکلسن سے آملا۔ یہاں یہ فیصلہ ہوا کہ ایبٹ واپس ہری پور جائے اور نکلسن اٹک۔ یکم ستمبر کو پشاور کی فوج ہربرٹ کی سرکردگی میں اٹک پہنچ گئی۔ چتر سنگھ بھی حسن ابدال پہنچ گیا ادھر راولپنڈی میں چتر سنگھ کا پیٹا عطر سنگھ فوج ترتیب دیکر اپنے والد کی مدد کے لیے تیار تھا۔ نکلسن کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ اس رسد کوکاٹنے کے لیے مارگلہ کے درہ میں پہنچ گیا اور ہربرٹ کوقلعہ اٹک میں چھوڑا۔ درۂ مارگلہ میں نکلسن سکھوں کے ہاتھوں زخمی ہو کر بھاگ گیا۔
    قلعہ اٹک امیر کابل دوست محمد خان کے قبضہ میں
    چتر سنگھ نے اس بغاوت کے وقت کابل کے امیر دوست محمد خان کوہزارہ پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس کی دعوت پر امیر دوست محمد خان ایک بری فوج کے ساتھ آیا اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد اتک کی طرف بڑھا اس نے تین ہزار فوج کے ہمراہ خیر آباد سے قلعہ اٹک پر گولے برسائے۔ امیر دوست محمد خان اور چتر سنگھ کی فوجوں نے نومبر ۱۸۴۸ء کے آخر میں ہربرٹ کو قلعہ اٹک میں گھیر لیا۔ اس وقت یہی افسر قلعہ اٹک کا انچارج تھا۔ سکھوں اور امیر کابل دوست محمد خان کی افواج نے ایک خاصے عرصہ تک قلعہ اٹک کا محاصرہ کیے رکھا۔ چونکہ خشکی کے سب راستے بند تھیاس لیے ہربرٹ کوراشن پہنچانے کے لیے تربیلہ سے میجر ایبٹ نے بذریعہ کشتی سامان پہنچانے کا انتظام کیا مگریہ کشتی بھی اتک کے دو مشہو پتھروں جلالہ کمالہ سے ٹکرائی اور غرق دریا ہوئی۔ لیفٹیننٹ ہربرٹ کے متعلق میجر ایبٹ نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ہربرٹ۲۲/ستمبر۱۸۴۸ء سے ۱۶/اکتوبر تک قلعہ میں محصور رہا، قلعہ کے سامنے سکھوں کی فوج کے دو دستے کرنل رجپال سنگھ، پرتاب سنگھ اور بدھ سنگھ کی رجمنٹیں بمع دس توپوں کے محاصرہ کیے ہوئے تھیں۔ گاہے گاہے توپ کے فائر بھی ہوتے تھے۔
    میجر ایبٹ لکھتا ہے کہ قلعہ اٹک کی دیوار ۵۲ فٹ اونچی ہے اور تراشیدہ پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ جب اسے اطلاع ملی کہ ہربرٹ کے کچھ آدمی غداری کرتے ہوئے چتر سنگھ کی فوجوں کے لیے قلعہ کا دروازہ کھول دیں گے تو اس نے لیفٹیننٹ ہربرٹ کو خط لکھا کہ وہ قلعہ کے دروازے کو دس بارہ فٹ اونچی پتھر کی دیوار بنا کر بند کردے۔جو اس نے بنا دی اور دروازہ پر قابل اعتماد گارڈ بمع توپ تعینات کیے اور اس بات کی خصوصی نگرانی کی کہ گولہ اندازغداری کرتے ہوئے غلط سمت میں گولہ نہ کرتے رہیں۔ بالآخر لیفٹیننٹ ہربرٹ مورخہ ۶/جنوری۱۸۴۹ء کو اپنے چھ سات آدمیوں سمیت جال کے ذریعہ دریا پار کرتے ہوئے قلعہ اٹک سے فرار ہو گیا ۔ امیر کابل دوست محمد خان نے سکھوں کو قلعہ اٹک سے نکال دیا اور چتر سنگھ قلعہ اٹک قلعہ اٹک کو امیر کابل کے حوالہ کر کے خود جہلم کی طرف چلا گیا اور درانی فوج نے قلعہ اٹک میں اپنا تھانہ بنایا۔
    اٹک بنارس دوبارہ انگرزوں کے قبضہ میں
    ۱۸۴۸ء میں لارڈ ڈلہوزی گورنر جنرل ہند نے سکھوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ پہلے جیلیانوالہ اور بعد میں گجرات میں سکھوں کو شکست ہوئی۔ جیلیانوالہ میں فتح کے بعد انگریزی فوج نے امیر دوست محمد خان کی فوج کا تعاقب کیا۔ افغان فوج حسن ابدال، خیرآباد ،اکوڑہ خٹک اور نوشہرہ سے ہوتے ہوئے پشاور پہنچ گئی۔ راستہ میں بعض مقامات کو نذر آتش بھی کر دیا۔ جس روز انگریزی لشکر حسن ابدال میں تھا اس روز خبر ملی کہ افغان کل دریائے سند کے کشتیوں کے پل کو جلائیں گے۔ یہ اطلاع ملتے ہی انگریزی فوج شبانہ روز میں اٹک پہنچ گئی۔ اور ۱۷/مارچ۱۸۴۹ء کو انگریزی فوج نے میجر ایبٹ کی سرکردگی میں قلعہ اٹک پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اور ۱۹۴۷ء تک اس پر انگریزوں کا قبضہ رہا۔
    ۱۹۰۱ء میں قلعہ اٹک میں ایک فوجی کے گھرایک بچہ انتھونی ایڈن پیدا ہوا جوکہ بعد میں برطانیہ کا وزیر اعظم بنا۔
    قلعہ اٹک بنارس پر سبز ہلالی پرچم
    ۱۴/اگست ۱۹۴۷ء کو ایک طویل جدوجہد کے بعد جب شاعر مشرق کا خواب شرمندٔ تعبیر ہوا۔ دنیا کے نقشہ پر ایک نئی مملکت کا وجود ابھرا توقلعہ اٹک پرپاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرانے لگا۔ اس کے بعد سے اب تک قلعہ اٹک افواج پاکستان کے زیر تصرف ہے۔
    قلعہ اٹک سیاحوں کی نظر میں
    ماونٹ سٹوارٹ الفنسٹن(Mount Stuart Elphinston)
    ۱۸/جون۱۸۰۸ء کو النفنسٹن اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خیر آباد پہنچا۔ لکھتا ہے کہ’’ قلع اٹک دریا کے کنارے پر پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ اس کی فصیلیں متوازی الاضلاع ہیں جس کا سب سے چھوٹا رخ دریا کے متوازی تقریباً سو گر لمبا ہے۔ دوسرے اضلاع اس سے دو گنا ہیں۔ دیوار کی تعمیر میں گھڑے ہوئے پتھر استعمال ہوئے ہیں۔ ایک غیر متاثر کن پہاڑ کے پس منظر میں قلعہ خوبصورت منظر پیش کرتا ہے نشیب میں واقع ہونے کی وجہ سے قلعہ کا تمام اندرونی حصہ اور دیوار کی پشت کے تین اطراف دوسرے کنارے سے نظر آتے ہیں۔ شہر بالکل خستہ حال ہے کسی وقت قابل توجہ تھا۔ ‘‘
    غالباً یہ پہلا سیاح ہے جس نے یہاں کے لوگوں کی شکل و شباہت اور لباس کے متعلق لکھا ہے وہ کہتا ہے کہ’’ صوبہ کا گورنر معزز درانی ہے جس کے خدوخال اور لباس خراسانی ہے لیکن اٹک کے لوگ درانی یا یوسف زئی دونون کے لباد اور شکل ہندوستانیوں سے ملتے ہیں کیونکہ ان قبائل کے بہت سے افراد سات پشتوں سے یہاں آباد ہیں۔ ‘‘
    اسے اٹک میں ایک کھٹڑ بھی نظر آیا۔ اس کا الفنسٹن نے خاص طور پر اس لیے ذکر کیا کہ وہ اپنے خدو خال اور لباس کی وجہ سے بالکل منفرد تھا وہ لکھتا ہے کہ اس شخص کا تعلق کھٹڑوی قبیلہ سے ہے یہ ایک ہندوستانی قبیلہ ہے۔ یہ لوگ سب کے سب اٹک سے جنوب مشرق کے دشوار گزار پہاڑوں میں رہتے ہیں اس کا رنگ بہت کالا تھا چہرے پر ڈاڑھی تھی۔ اس کی شکل سے کرختگی کا اظہار بالکل نہیں ہوتا تھابلکہ کچھ شرمیلا پن جھلک رہا تھا۔ سر پر ایک چھوٹی سی پگڑی بڑے عجیب انداز سے بندھی ہوئی تھی۔ اس کے کپڑے میلے تھے۔ اور اپنی ڈاڑھی کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھا تھا۔
    ولیم مور کرافٹ(William Moor Croft)
    ۲۹/ مارچ ۱۸۲۳ء کو ولیم مور کرافٹ بخارا جاتے ہوئے بیگم سرائے میں ٹھہرا۔ اس کے پاس قلعہ میں داخلہ کے لیے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا حکم نامہ تھا۔ لیکن اسے قلعہ کے صرف محدود حصوں کو دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ وہ سرائے سے قلعہ کے شمالی دروازہ تک جس راستہ سے گیا اس کی اس نے بہت تعریف کی۔ وہ قلعہ میں ایک چھجہ دار چھوٹے سے صحن میں داخل ہوا جس کی لمبائی چوبیس گز تھی۔ اس جگہ قلعہ کے افغان گورنر جہان خان نے والی افغانستان شاہ شجاع کو قید میں رکھا تھا۔ وہ اس سے نکل کر ایک اور دروازہ کے ذریعہ بازار میں داخل ہوا۔ اسے بازار میں کریانہ کی دکانیں زیادہ نظر آئیں۔ مور کرافٹ بازار کی لمبائی چار سو قدم بتاتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ جنوبی دروازہ پہاڑی کے ساتھ کشتی گھاٹ کے عین اوپر کھلتا ہے۔ قلعہ کے دروازے بہت بڑے اور کشادہ ہیں۔ بازار کا رخ دریا کے متوازی ہے۔ بازار اور دریا کے درمیان رہائشی مکانات ہیں۔ قلعہ کے جنوب مغربی زاویہ پر لب دریا ایک برج ہے۔‘‘
    الیگزینڈر برنس(Alexe Burnes)
    ۱۷/ مارچ ۱۸۳۱ء کو برنس اٹک ایسے وقت پہنچا جب تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے قلعہ اٹک میں رنجیت سنگھ کے سپاہیوں نے بغاوت کی ہوئی تھی۔ اس لیے برنس قلعہ کے اندر نہ جا سکا۔ اس کے خیال میں قلعہ زیادہ محفوظ نہیں ہے۔ اس کی آبادی دو ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔‘‘
    عیسائی مبلغ جوزف وولف(Dr. Joseph Wolff)
    معروف عیسائی مبلغ ڈاکٹر جوزف وولف ایک جرمن یہودی ربی کا بیٹا تھا جس نے عیسائیت قبول کر کے برطانوی شہریت حاصل کر لی۔ اس نے عیسائیت کے پرچار کے لیے مشرق کا سفر اختیار کیا۔ مشہد(ایران) کے قریب ترکمن داکوئوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے اس کا کل اثاثہ لوٹ لیا، اس کے جسم سے کپڑے بھی اتروا لیے اور گھوڑے کی دم سے باندھ کر چابک سے مرمت کرتے رہے۔ اس ابتلا میں اس کے دو ایرانی ملازم بھی اس کے ساتھ تھے۔ انہیں غلاموں کی منڈی میں فروخت کرنے کے لیے لایا گیا مگر گورنر خراسان عباس مرزا جو ایران کا ولی عہد بھی تھا، نے ان تینوں کو ڈاکوئوں سے چھڑا لیا۔
    یہ شخص بدقت تمام بخارا پہنچا، وہاں سے جب کابل کے لیے روانہ ہوا تو بلج کے پار چند کٹر قسم کے ملائوں نے اسے پکڑ لیا اور اسے کلمہ طیبہ پڑھنے پر اصرار کرتے رہے لیکن تمام جبرو تشدد کے باوجود اس نے کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا تو انہوں نے اسے اور اس کے ہمراہیون کو برہنہ کرکے آگے روانہ کر دیا۔
    ڈاکٹر جوزف وولف کابل اور پشاور سے ہوتا ہوا ۱۸۲۳ء میں اٹک پہنچا تو اس کا استقبال بطور شاہی مہمان کے کیا گیا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج نے ۲۱توپوں کی سلامی دی اس کی خدمت میں روپوں کی تھیلی اور مٹھائی کے دونے پیش کئے گئے۔
    بیرن چارلس ہوگل(Baron Charles Hugel)
    بیرن چارلس ہوگل ریگنز برگ(بویریا)میں پیدا ہوا تھا وہ پہلے آسٹریلیا کی فوج میں ملازم ہوا اور فوجی ملازمت کے بعد تقریباً دس برس تک اس کو آسٹریلیا کی سیاست میں اہم مقام حاصل رہا۔ جب وہ کشمیر کی سیاحت کے لیے نکلا تو اسے ایسٹ انڈیا کمپنی اور مہا راجہ رنجیب سنگھ نے خاص مراعات سے نوازا ۔ وہ کشمیر سے بروز ہفتہ ۲۶ / دسمبر ۱۸۳۰ء کو دوپہر سے پہلے اٹک پہنچا جہاں پر اس کا استقبال قلعہ کے دروازہ پر کشمیرا سنگھ گورنر کے ضعیف العمر دیوان، نے کیا یہ شخص دہلی کا ایک برہمن تھا ، وہ ہاتھی پر سوار تھا ، اس نے مہا راجہ کی طرف سے روپوں کی ایک تھیلی اور اپنی طرف سے ایک شاخ پر لگا ہوا شہد کی مکھیوں کا چھتہ پیش کیا ۔ چارلس ہیوگل نے دیوان سے قلعہ کو دیکھنے کی اجازت چاہی ، دیوان مذکور نے بڑی فراخ دلی سے اسے قلع کی سیر کرانے پیشکش کی لیکن تنگی وقت کی بنا ء پر وہ اس پیشکش سے پوری طرح استفادہ نہ کر سکا ۔
    وہ کہتا ہے یہ قلعہ پہاڑ کی ڈھلوان پر بنا ہوا ہے یہ بہت کشادہ ہے اس کی شکل متوازی الاضلاع یا کثیرالاضلاع سے مشابہ ہے ۔ اسکی زمین نہایت نا ہموار ہے بعض جگہوں پر گھٹ کر چوکور کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس کا ایک پہلو دریا کے ساتھ ساتھ شمالاً جنوباً پھیلا ہوا ہے اس کا بڑا دروازہ شمال کی جانب ہے اس کی فصیلیں بلند اور مضبوط ہیں جن پر کنگرے بنے ہوئے ہیں لیکن تعمیری کام میں کوئی شان نہیں ہے ۔
    اندرونی قلعہ کے تہائی حصہ کو قابل رہائش بنایا گیا ہے جس میں چار ہزار افراد کے رہنے کی گنجائش ہے اور اس میں ایک بازار بھی ہے۔ اس نے اس قلعہ کے آبی ذخیرے کی بڑی تعریف کی ہے اس کی گہرائی چالیس سے پچاس فٹ ہو گی جس میں پانی دریا سے آتا ہے۔ دریا کی جانب قلعہ کی فصیل سیلابی سطح آب سے صرف آٹھ فٹ بلند ہے لیکن سردیوں میں جب پانی کی سطح گر جاتی ہے تو فصیل پانی کی سطح سے اٹھا ون فٹ تک بلند ہوتی ہے۔
    وہ لکھتا ہے کہ مسلمانو ںکے قلعوں میں توپیں بڑی خوبصورت ہوتی ہیں اس لیے اس نے ان کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اسے وہ توپیں دکھائی گئیں۔ وہ انکے متعلق لکھتا ہے کہ فی الوقت جو توپیں نصب ہیں وہ پیتل کی بنی ہوئی ہیں اور لاہور میں ڈھالی گئی ہیںاور میرا قیاس ہے کہ یہ فرانسیسی سولہ پونڈر کے برابر ہیں لیکن ان کی ساخت اور ان گاڑیوں کی بناوٹ جن پر انہیں رکھا گیا ہے بہت خوبصورت ہے۔ ان توپوں کو سایہ میں رکھا جاتا ہے کیونکہ سورج کی شدید گرمی میں لکڑی کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
    اس نے قلعہ کے بازار کی بھی سیر کی وہ لکھتا ہے کہ ’’بازار میں لوگوں اور مویشیوں کی بھیڑ تھی، اونٹ خوفزدہ تھے، گدھے دو لتیاں جھاڑ رہے تھے، گھوڑے ہنہنا رہے تھے اور یہ سب کچھ ایسی جگہ ہو رہا تھا جہاں دکانوں کے درمیان میں صرف تین آدمی شانہ بشانہ چل سکتے تھے۔ دیوان صاحب کے ہاتھی کی صورت دیکھتے ہی جانوروں میں بھگدڑ مچ گئی اس افرا تفری میں سوداگروں کا جو سامان تختوں پر قرینے سے سجا ہوا تھا تہہ و بالا ہو گیا ۔ اٹک کے بازار میں پشاور کابل اور ایران کی مصنوعات کا نہایت عمدہ ذخیرہ ہے اور ہندوستان کی بنی ہوئی اشیاء بہ افراط مل جاتی ہیں۔
    لیفٹیننٹ ووڈ(Lt. Wood)
    ۴/ اگست ۱۸۳۷ء کو اٹک پہنچا اس نے اٹک میں ایک روز قیام کیا۔ وہ دریائے سندھ کے مطالعاتی مشن کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر کا آغاز ۲۶/ نومبر ۱۸۳۶ ء کو بمبئی سے کیا اور ۲۱/ جولائی ۱۸۳۷ء کو مکھڈ پہنچا چونکہ اس موسم میں دریا کا پانی چڑھا ہوا ہوتا ہے اور پانی بہت تیز ہوتا ہے اس لیے کالا باغ سے اٹک تک دریائی سفر معطل ہو جاتا ہے لیکن ووڈ نے بڑی مشکل سے۳۷ ملاحوں کو مکھڈ تک سفر پر آمادہ کر لیا۔ وہاں سے اٹک تک کا سفر خشکی کے راستے سے طے کیا۔ اس نے اٹک میں قیام کے حالات تحریر نہیں کیے۔ وہ ہی اس نے قلعہ اٹک اور اٹک شہر اور مضافات کے متعلق کچھ لکھا۔ جبکہ اس نے دریائے سندھ کے وہاں سے مکھڈ تک ساحلی سرزمین ، آب و ہوا، پیداوار،صنعت، رسم و رواج، عادات و اطور کے متعلق تفصیل سے تحریر کیا ہے۔
    سر جان لاگن(Sir. Jhon Login)
    سر جان لاگن، رنجیت سنگھ کے سب سے چھوٹے بیٹے اور وارث تخت ، مہاراجہ دلیپ سنگھ کے اتالیق تھے۔ وہ افغانستان سے واپسی پر ۱۸۴۰ء میں اٹک سے گزرے۔ انہوں نے اٹک کے قرب و جوار میں قیام کیا لیکن قلعہ اور شہر اٹک کا ذکر نہیں کیا۔
    سپاہی واٹر فیلڈ کی سرگزشت
    ایک انگریز سپاہی واٹر فیلڈ(Water Field) نے ۱۸۴۲ء سے۱۸۵۷ء تک اپنی یادداشت کو تاریخ وار قلمبند کیا وہ اپنے فرائض منصبی کے دوراں۲۹/دسمبر ۱۸۵۱ء کو سنگ جانی پہنچا۔ ۳۰/ دسمبر کو واہ، یکم جنوری کو حسن ابدال اور برہان سے ہوتا ہوا دو جنوری کو شمس آباد آیا۔ پھر دس میل کا فاصلہ طے کر کے اٹک پہنچا۔ وہ لکھتا ہے کہ اٹک کا راستہ نسبتاً بہتر ہے۔ لیکن دریائے سندھ کے کنارے دیڑھ میل کے ٹکڑے پر ریت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے اس حصہ میں بیل گاڑیوں کو ہانکنے میں بڑی دقت پیش آتا ہے۔ اٹک کا قلعہ ایک سلسلہ کوہ کے نشیب میں بنا ہوا ہے۔ یہ کوئی مضبوط قلعہ نہیں صرف قصبہ کے گرد ایک دیوار ہے۔ قلعہ کے اندر اشیاء سے پر ایک بڑا بازار ہے۔ دریائے سندھ اس مقام پر ایک سو گز وسیع ہے لیکن بہت گہرا اور تیز رفتار ہے۔ دائیں ہاتھ پر پانی سے چلنے والا آرا مشین ہے یہاں دو یا تین بنگلے ہیں۔
    گزشتہ اوراق میں یورپین سیاحوں کے مشاہدات و تاثرات اجمالاّ پیش کیے گئے۔ اب برصغیر کے چند اصحاب کی تحریروں کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے۔
    شیخ رحمت علی
    شیخ رحمت علی۱۷۹۷ء میں درانی عہد حکومت میں اٹک آئے انہیں ریزیڈنٹ لکھنوئو،جے لمسڈنJ. Lumsden نے دہلی سے کابل بھیجا تھا وہ حسن ابدال سے سرائے میران،سرائے ڈنگراںاور شمس آباد سے ہوتے ہوئے اٹک پہنچے۔ آجکل اولالذکر دو مقامات موجود نہیں ہیں یا ان کے نام تبدیل ہو چکے ہیں، اب شمس آباد بھی شاہراہ پر واقع نہیں ہے۔
    وہ کہتے کہ سمش آباد سے اٹک کا فاصلہ دس میل ہے۔ اٹک دریائے سندھ کے کنارے پہاڑ پر آباد ہے۔ اس کے بائیں ہاتھ کی زمین دلدلی ہے۔ اٹک میں تقریباً دو سو گھر ہیں لیکن مضافات میں آبادی بہت کم ہے۔ قلعہ پر خٹک افغان قابض ہیں۔
    نبی بخش بخاری الحیدری
    اردو زبان کے قدیم ترین سفر نامہ میں اٹک کا بھی ذکر ہے۔ یہ سفر نامہ سید فداحسین عرف نبی بخش بخاری الحیدری نے تحریر کیا ہے۔ وہ انگریز فوج میںجمعدار(نائب صوبیدار) تھے انگریزوں کے ساتھ ایک فوجی مہم میں افغانستاں گئے۔ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز پچیس شعبان ۱۲۰۰ہجری(تین نومبر۱۸۳۹ئ) کو شاہجہاں آباد سے کیا اور ۱۲/نومبر ۱۸۸۴ء میں کابل سے واپس روانہ ہوئے۔ خیبر اور پشاور سے ہوتے ہوئے خیر آباد پہنچے۔ آپ لکھتے ہیں’’ خیر آباد جو دریائے سندھ کے کنارے ہے۔ اٹک کا قلعہ دریا کے کنارے بہت خوب اور محکم جنگی اسباب سے آراستہ سنگ سرخ سے تعمیر کیا گیا ہے۔ شہر بہت آباد ہے۔ رعیت مالدار۔ا ن دونوں قلعہ اور شہر کی خندق دریائے سندھ ہے۔‘‘
    حکیم محمد یوسف
    حکیم محمد یوسف حضرو تحصیل اٹک کے رہنے والے تھے۔ جامعہ الازہر(مصر) کے فاضل اور مستند طبیب تھے۔ آپ کا مطب کلکتہ میں تھا آپ جنرل کونسل اینڈ سٹیٹ فیکلٹی آف یونانی میڈیسنز بنگال کے ممبر تھے اور متعدد طبی کتب کے مصنف تھے۔
    آپ نے ۱۹۴۴ء میں سوات کی سیر کے لئے رخت سفر باندھا۔ ایک سیاح کی حیثیت سے سفر میں جو کچھ دیکھا جو واقعات پیش آئے بہت دلنشین انداز میں ’’سیرسوات‘‘ کے نام سے شائع کر دی ۔اس کا ابتدائی حصہ جو حضرو سے اٹک تک کے سفر پر مشتمل ہے نقل کیا جارہا ہے۔
    ’’۸/جون۱۹۴۴ء روز پنجشنبہ کی صبح ، تاریک شب کی پیشانی پر صبح تقدس کی ملکوتی روشنی کی مدھم شعاع نمودار ہوئی ، کائنات پر صبح صادق بتدریج مسلط ہوئی ،روشنی رفتہ رفتہ تیز ہونے لگی اور سیاہی کا گہرا رنگ آہستہ آہستہ ہلکا پڑتا گیا۔ ۔ ۔ کرہ ارض جگمگا اٹھا طیور چہچہانے لگے ،سبزہ خوابیدہ نے انگڑائی لی کلیاں مسکرا پڑیں، ہر طرف انوار ہونے لگی، برکتیں نازل ہوئی اور مساجد سے صدائے اﷲ اکبر، دیر سے ہنگامہ نا قوس بلند ہوا اور دنیا ایک مرتبہ پھر زندگی کی سانسیں لینے لگی۔ہم حوائج ضروری سے فارغ ہوئے خدا وند ذوالجلال والاکرم کے حضور میں سر نیاز خم کیا ، دنیا کے لیے امن و امان کی التجا کی ۔ اس کے بعد ہمارے بھائی آزاد خان تانگہ لے کر آئے اور ہم نے بسم اﷲ کر کے تانگہ پر قدم رکھا اور منزل مقصود کی طرف روانہ ہو گئے۔
    جون کا مہینہ پنجاب، حضرو اور اطراف سرحد کے لیے ہمیشہ سے بیحد صبر آز می ثابت ہو ہے،آفتاب کی تیزی کے ساتھ لو بھی تیز چلنے لگتی ہے اور اکثر راتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جب نصف حصہ شب تک لو چلتی رہتی ہے لیکن آج فضا کچھ اپنی چیرہ دستیوں سے تھک کر مسافران نو پر مہربان تھی اس لیے صبح روانگی کے وقت اطراف حضرو میں کسی قدر کیف آفریں خنکی محسوس ہو رہی تھی اور ویسے بھی چونکہ حضرو کے واروں طرف کنوؤں کے پانی سے زمین پر آبپاشی کی جاتی ہے اس لیے ہواؤں کی گرمی قدرتاً کم ہو جاتی ہے لیکن یہ کیفیت صرف اسی رقبہ تا محدود ہے جب مسافر ،حدود حضرو سے باہر ہوتا ہے اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہو کا ہر ایک جھونکا اس امر پر آمادہ ہے کہ قدرت کے لگائے ہوئے باغ کے ہر شجر کو جھلس دے۔
    جب ہم لوگ ہٹیاں پہنچ کر جرنیلی سڑک پر اٹک کی طرف روانہ ہوئے تو راستہ میں ہوا کا ہر جھونکا رگوں کے خون کو جھلس دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ۔ ۔ حضرو سے اٹک تک ۱۶ میل کا سفر پانچ گھنٹہ میں طے کیا گیا ۔ایک طرف سربفلک پہاڑ ، دامن کوہ میں بلندی پر جاتی ہوئی کشادہ سڑک اور اس کے داہنی سمت دریائے سندھ کی روانی ۔ ۔ ۔ دریائے سندھ کے اس پار شمال کی طرف سے آتا ہو ا دریائے کابل جب دریائے سندھ میں گرتا ہے تو یہ دونوں دریا لا انتہا قوت کے ساتھ آپس میں ملتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں اس اتحاد و اتفاق سے دلبرداشتہ ہیں جس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ دونوں دریا ئوں کے پانی میں ایک حدفاصل ۔ ۔ ۔ اپنی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے آخر کا اتفاق کے فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے دونوں دریا آپس میں شیر و شکر کی طرح مل جاتے ہیں۔ ۔ ۔
    دریائے اٹک کے مشرقی کنارہ پر آپ کو اٹک کا قلعہ اس طرح نظر آئے گا جیسے ایک زریںطشت میں انواع و اقسام کی نعمتیں چنی ہوں ۔ قلع کی ہر عمارت اور اس کا ہر زاویہ آپ کی نگاہ کے سامنے ہو گا اور آپ متعجب ہوں گے کہ اس علاقہ میں اتنے اہم مقام پر اس قدر چھوٹا سا قلعہ ، لیکن اگر آپ کو قلعہ کے اندر جانے یا اس کے چاروں طرف پھرنے کا اتفاق ہو تو اس کی عظمت آپ کی سمجھ اور فہم سے بہت بالا ہو گی ۔ قلعہ اٹک ازمنہ قدیم کہ فن انجینئری کی ایک ایسی لاثانی تمثیل ہے جس کا جواب اس وقت تک نہیں ہو سکا ۔‘‘
    ابو سعید قریشی
    حکیم حاجی محمد یوسف حضروی کے بر عکس مشہور ادیب ابو سعید قریشی،بڑی عجلت میں اٹک سے گزر جاتے ہیں۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ تو آئیے راولپنڈی چلیں، لیکن اٹک میں ستون کیسے نظر آرہے ہیں ؟ کوئی کہ رہا ہے کہ مغلوں کے عہد میں یہاں پل ہوا کرتا تھا اور یہ پتھر کیسے ہیں ؟ یہ قلعہ ہے ۔! مگر ہمیں رکنے کی مہلت نہیں، ہمارے سامنے کئی صدیوں کی مسافت پڑی ہے۔
    وہ محض ایک مسافر تھے اس لیے ان چیزوں پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی اور بس۔ اگر وہ مورخ ہوتے تو ان ستونوں ،پتھروں اور قلعہ کو بنظر غائیر دیکھتے اور بھر بتاتے کہ یہ محض ستون پتھر اور قلعہ نہیں ہے یہ تو انسانی تہذیب و تاریخ کا ایک مکمل باب ہے ۔ اقوام وملل کی عروج و زوال کے زندہ داستان ہے۔
    ///
    اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتب اور مضامین سے استادہ کیا گیا ہے (مرتب)
    ۱۔ اکبر نامہ از علامہ ابوالفضل
    ۲۔ تاریخ ہزارہ از ڈاکٹر شیر بہادر پنی
    ۳۔ دربار اکبری مولانا محمد حسین آزاد
    ۴۔ مغلیہ دور حکومت
    ۵۔ سید احمد شہید از مولانا غلام رسول مہر
    ۶۔ شاجہان نامہ
    ۷۔ تذکرہ رؤسائے پنجاب
    ۸۔ تزک جہانگیری
    ۹۔ قصۂ مشائخ از خواجہ محمد زاہد اٹکی
    ۱۰تعمیر اٹک۱۹۶۳ئ(ضلع کونسل)
    ۱۱تاریخ وادی چھچھ از سکندر خان
    ۱۲تاریخ حسن ابدال منظور الحق صدیقی
    ۱۳ڈسٹرکٹ گزیٹیئر اٹک ۱۹۳۰ء
    ۱۴ڈسٹرکٹ گزیٹیئر پشاور
    ۱۵ون تھائوزنڈ ایئر آف پاکستان
    ۱۶اے جنرل رپورٹ آف یوسف زئی افغان
    ۱۷دائرۃ المعارف اسلامیہ
    ۱۸تزک بابری
    ۱۹دامن اباسین از سکندر خان
    ۲۰رنجیت سنگھ مصنف نریندر کرشن سہنا
    ۲۱تاریخ پنجاب مصنف کنہیا لال ہندی
    ۲۲تاریخ پنجاب مرتبہ کلب علی خان فائق
    ۲۳تاریخ وادی چھچھ سکندر خان
    ۲۴تاریخ پنجاب از سید محمد لطیف
    ۲۵عمدہ التواریخ
    ۲۶قلعہ اٹک، سیاحوں کی نظر میں از آغا عبدالغفور( مطبوعہ اٹک نامہ اٹک)
    ۲۷ضلع اٹک پر سکھوں کا قبضہ: از نور محمد نظامی (قلمی)
    ۲۸ٹیکسلا طلوع اسلام کے بعد، راجہ نور محمد نظامی (قلمی)
    سیدجہانگیرعلی بخاری نے اسے پسند کیا۔
  2. نوید فخر قلمکار

    پیغامات:
    0
    جواب: قلعہ اٹک بنارس

    شاکر بھائی اجازت ہو تو میں اس مراسلے سے کچھ اقتباسات اپنی کتاب ( جو کہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے ) کے لئے لے سکتا ہوں
  3. شاکرالقادری منتظم اعلی

    پیغامات:
    412
    جواب: قلعہ اٹک بنارس

    بصد شوق جناب

    لیکن حوالہ دینا نہ بھولیے گا
  4. گلنور قلمکار

    پیغامات:
    156
    جزاک اللہ ---

اس صفحے کی تشہیر