قلعہ بالاحصار

راجہ صاحب نے 'فن تعمیر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جنوری 27, 2011

  1. راجہ صاحب منتظم

    پیغامات:
    57
    [IMG]

    قلعہ بالاحصار پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے۔ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر۔ قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی بانوے فٹ ہے۔ اس کی دیواریں سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی پچاس فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ پندرہ سو ایکڑ پر محیط ہے۔ جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکٹ بنتا ہے۔ ایک پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی قلعہ کے اندر جاتی ہے قلعہ کے احاطے میں دو مزارات ہیں اس میں سفید گنبد والا مزار حافظ مستان شاہ کا ہے جو قلعہ کے اندرونی دیوار کے جنوب مشرق کونے میں واقع ہے۔ مزار کے قریب ہی ایک سو بیس فٹ گہرا ایک پرانا کنراں بھی موجود ہے۔ دوسری زیارت قلعہ کے شمالی مغربی کونے پر سید سبزپیر شاہ بخاری کی ہے۔ ان مزارات پر ہر جمعرات کو زائرین کثرت سے آتے ہیں۔
    پشاور کا شہر جنوبی ایشیا میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہندوستان کا گیٹ وے تھا اور ہر نئے آنے والے حملہ آوروں کا پہلا پڑاؤ تھا اس لئے ہر حملہ آور نے اس قلعہ کو مسمار اور ہر مرتبہ یہ ازسرنوتعمیر ہوا ہو گا۔ اس قلعہ کا واحد درازہ ہندوستان کے راستے کے رخ پر ہے۔ 630ء میں جب چینی سیاہ ہیجون سانگ نے پشاور کا دورہ کیا تو اس نے اسی جگہ شاہی رہائش گاہ کے متعلق بات کی وہ چینی زبان کے لفظ گن سنگ کو تعریفی کلمات کیلئے استعمال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ قلعے کی بلند بالا دیواروں والا قصہ شاہی رہائشگاہ سب سے اہم اور خوبصورت مقام ہے۔ ہیون سانگ شہر کے علیحدہ حصے کا بھی ذکر کرتا ہے جو قلعہ بند نہیں تھا لیکن حصار شہر کے مرکز میں تھا جس کی حفاظت کیلئے شہر کے گرد خندق بنی ہوئی تھی۔ دریائے باڑہ کی گزرگاہ نے ایک اونچی جگہ کو گھیرے ہوئے تھا۔ جس میں بالاحصار اور اندر شہر واقع تھا۔ بالاحصار ایک بلند ٹیلے پر اب بھی موجود ہے جو پہاڑی مقام ہرگز نہیں بلکہ اس کی باقاعدگی سے اونچائی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ابتداء میں شاہی رہائش گاہ قلعے کے زیریں حصہ میں تھی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قلعے کے چبوترے کو بند کرنا شروع کیا گیا ہے۔ نئی تعمیر پرانی تعمیر کے اوپر شروع کی جاتی رہی۔
    اس طرح قلعہ کی بلندی میں اضافہ ہوتا گیا ان دنوں اپنے دو شہر دریا باڑہ کی شاخوں کے درمیان آباد تھا اس دریا کا شمالی حصہ بالاحصار کی بنیادوں کو چیرتا ہو گا۔ جب غزنوی کے امیر سبکتگین نے 988 میں پشاور کو فتح کیا تو اس دس ہزار گھوڑ سواروں کے ساتھ یہاں پڑاؤ کیا۔ سبکتگین اور اس کے گریژن نے یقیناً قلعہ میں قیام کیا ہو گا۔ سلطان محمود غزنوی نے 1001سے 1008ء تک پشاور کے ہندو راجاؤں جے پال اور آنند پال کو شکست دی ان راجاؤں کی فوجوں نے بھی بالاحصار کا ذکر کیا ہے۔
    وہ (باگرام) پشاور کے قریب اپنی فوجی کے اترنے اور شکار کے لئے روانگی کا ذکر کرتا ہے جب مغل بادشاہ ہمایوں نے افغان بادشاہ شیرشاہ سوری سے شکست کھائی تو افغانوں نے قلعہ بالاحصار کو تباہ کیا جب ہمایوں نے شاہ ایران کی مدد سے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کیا تو اس نے کابل سے واپسی پر پاور میں قیام کیا اور قلعہ بالاحصار کو دوبارہ تعمیر کیا۔
    اس نے قلعہ میں ایک بڑا فوجی دستہ تعینات کیا اور ایک ایک جرنیل سکندر خان کو قلعہ کا نگران مقرر کیا۔ پہلی مرتبہ قلعہ میں توپیں نصب کی گئیں۔ طبقات اکبری کے مصنف نظام الدین کے مطابق 1585ء میں قلعہ بالاحصار آتشزدگی سے تباہ ہو گیا۔ جس میں ایک ہزار اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت بھی ضائع ہو گیا۔
    نادر شاہ درانی نے جب درہ خیبر کے راستے سے ہندوستان پر حملہ کیا تو سب سے پہلے اس نے …… وادی مغلوں سے چھین لی۔ نادر شاہ نے پشاور میں اپنا گورنر مقرر کیا جس نے قلعہ بالاحصار میں رہائش اختیار کی۔ احمد شاہ ابدالی نے بھی وادی پشاور مغلوں سے چھین لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور شاہ درانی نے پشاور کو اپنا سرمائی دارالخلافہ بنا لیا۔ اس نے قلعہ بالاحصار میں رہائش کے لئے محلات تعمیر کرائے اور اپنے حفاظتی دستے کے لئے ایرانی اور تاجک سپاہی بھرتی کئے جب 1979ء میں ارباب فیض اللہ خان نے قلعہ بالاحصار پر یلغار کی تو اس حفاظتی دستے نے تیمور شاہ کی حفاظت کی 1793ء میں تیمور شاہ کی وفات کے بعد شاہ زمان سریہ آر اے سلطنت قائم ہوا اس دور میں سکھ پنجاب پر قابض ہو گئے۔ 1834 میں سکھوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا۔ پہلے تو سکھوں نے قلعہ بالاحصار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جلد انہیں اپنی غلطی کا احساس پیدا ہوا۔ ہری سنگھ اور سردار کھڑک سنگھ نے اس قلعے کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ تعمیر کیا اور اس قلعے کا نام سمیر گڑھ رکھا۔
    سکھوؤں کے زوال کے بعد 1849ء میں پنجاب اور صوبہ سرحد پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ اس وقت قلعہ بالاحصار کی دیواریں کچی اینٹوں اور گارے سے رکھی گئی۔ انگریزوں نے ان دیواروں کو گرا کر پختہ اینٹوں سے قلعے کی دیواریں تعمیر کیں اور قلعہ کے اندر فوجیوں کیلئے بیرکیں بنائیں اس وقت برطانوی گیریژن قلعہ کے اندر تھا۔ قیام پاکستان کے وقت برطانوی ہند کی فوج کا ایک دستہ قلعہ بالاحصار میں مقیم تھا۔
    دسمبر 1948ء میں قلعہ بالاحصار میں فرانٹیر کور کا ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا ہے جو اب تک قائم ہے۔
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا۔
  2. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    جواب: قلعہ بالاحصار

    کیا مطلب آپ پشاور گئے تھے۔بتایا نہیں۔
  3. راجہ صاحب منتظم

    پیغامات:
    57
    جواب: قلعہ بالاحصار

    مضمون لکھنے کے لئے کیا پشاور جانا ضروری تھا

    :p
  4. بےلگام قلمکار

    پیغامات:
    46
    جانا لزا می ہے پشاور

اس صفحے کی تشہیر