ٹوٹ بٹوٹ (مکمل کتاب) از صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم

فرخ منظور نے 'گوشہءِ اطفال' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اپریل 1, 2013

  1. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے

    ٹوٹ بٹوٹ کے دو مُرغے تھے
    دونوں تھے ہُشیار

    اِک مُرغے کا نام تھا گیٹو
    اِک کا نام گِٹار

    اِک مُرغے کی دُم تھی کالی
    اِک مُرغے کی لال

    اِک مُرغے کی چونچ نرالی
    اِک مُرغے کی چال

    اِک پہنے پتلُون اور نیکر
    اِک پہنے شلوار

    اِک پہنے انگریزی ٹوپی
    اِک پہنے دستار

    اِک کھاتا تھا کیک اور بِسکٹ
    اِک کھاتا تھا نان

    اِک چباتا لونگ سپاری
    ایک چباتا پان

    دونوں اِک دن شہر کو نِکلے
    لے کر آنے چار

    پہلے سبزی منڈی پہنچے
    پھر لنڈے بازار

    اِک ہوٹل میں انڈے کھائے
    اِک ہوٹل میں پائے

    اِک ہوٹل میں سوڈا واٹر
    اِک ہوٹل میں چائے

    پیٹ میں جُوں ہی روٹی اُتری
    مُرغے ہوش میں آئے

    دونوں اُچھلے، ناچے، کُودے
    دونوں جوش میں آئے

    اِک بولا میں باز بہادُر
    تُو ہے نِرا بٹیر

    اِک بولا میں لگڑ بگھیلا
    اِک بولا میں شیر

    دونوں میں پھر ہُوئی لڑائی
    ٹھی ٹھی ٹُھوں ٹُھوں ٹھاہ

    دونوں نے کی ہاتھا پائی
    ہی ہی ہُوں ہُوں ہاہ

    اِک مُرغے نے سِیخ اُٹھائی
    اِک مُرغے نے ڈانگ

    اِک کے دونوں پنجے ٹُوٹے
    اِک کی ٹُوٹی ٹانگ

    تھانے دار نے ہنٹر مارا
    چِیخے چُوں چُوں چُوں

    ٹوٹ بٹوٹ نے گلے لگایا
    بولے کُکڑوں کُوں
  2. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار


    اِس موٹر کی شان نرالی
    دو سیٹوں، دو پہیوں والی
    تین انجن اور ہارن چار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    ساتھ ہوا کے اڑتی جائے
    دائیں بائیں مڑتی جائے
    بڑی ہی سیانی بڑی ہُشیار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    اِس موٹر کا اللہ بیلی
    کوئی نہ ہو تو پھرے اکیلی
    گھومے گلی گلی بازار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    کوئی کہے یہ سائیکل ہے
    کوئی کہے یہ ٹرائیسکل ہے
    کوئی کہے یہ موٹرکار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    جیسے چاہو اَسے چلاؤ
    جو بھی چاہو اسے بنا لو
    بمبو کاٹ کا بمبو کاٹ ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    رنگت اِس کی کالی کالی
    صورت اِس کی بھولی بھالی
    قیمت اِس کی ساٹھ ہزار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    ٹوٹ بٹوٹ کلینر اس کا
    ٹوٹ بٹوٹ ڈرائیور اس کا
    وہی ہے گاڑی وہی سوار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    اِک موٹر، اِک ٹوٹ بٹوٹ
    دونوں برابر کی ہیں چوٹ
    ایک سواری ایک سوار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار

    یوں تو ہر دم چُپ رہتی ہے
    ہارن بجے تو یوں کہتی ہے
    دیکھو میں ہوں موٹر کار
    ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار
  3. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ نے بین بجائی

    چوہے شور مچاتے آئے
    مینڈک بھی ٹرّاتے آئے
    ٹوٹ بٹوٹ نے بین بجائی

    کوّا، کوئل، مینا، مور
    تیتر، تلیر، چیل، چکور
    سب نے مل کر دھوم مچائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے بین بجائی

    اپنے اور پڑوسی ناچے
    کنچڑے، مالی، گھوسی ناچے
    ناچے درزی، دھوبی نائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے بین بجائی
  4. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا

    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ انڈے ہیں
    یہ انڈے گھر میں رکھے ہیں
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ چوہا ہے
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ بلّی ہے
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ لڑکی ہے
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ بڑھیا ہے
    بڑھیا کی لڑکی کالی تھی
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ کٹیا ہے
    کٹیا میں بڑھیا سوتی تھی
    بڑھیا کی لڑکی کالی تھی
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ جنگل ہے
    جنگل میں کٹیا ہوتی تھی
    کٹیا میں بڑھیا سوتی تھی
    بڑھیا کی لڑکی کالی تھی
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ گاؤں ہے
    گاؤں کے باہر جنگل ہے
    جنگل میں کٹیا ہوتی تھی
    کٹیا میں بڑھیا سوتی تھی
    بڑھیا کی لڑکی کالی تھی
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے

    یہ منّا ہے
    منّے کا گاؤں ننگل ہے
    گاؤں کے باہر جنگل ہے
    جنگل میں کٹیا ہوتی تھی
    کٹیا میں بڑھیا سوتی تھی
    بڑھیا کی لڑکی کالی تھی
    لڑکی نے بلّی پالی تھی
    بلّی نے چوہا مارا تھا
    چوہے نے انڈے چکّھےتھے
    یہ انڈے گھر میں رکھے تھے
    اس گھر کے باہر جنگلا ہے
    یہ ٹوٹ بٹوٹ کا بنگلا ہے
  5. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    خالہ اُس کی لکڑی لائی
    پھوپھی لائی دیا سلائی
    امی جان نے آگ جلائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    دیگچی، چمچہ، نوکر لائے
    بھائی چاول شکّر لائے
    بہنیں لائیں دودھ ملائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    ابا نے دی ایک اکنی
    خالو نے دی ڈیڑھ دونیّ
    ٹوٹ بٹوٹ نے آدھی پائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    جوں ہی دسترخوان لگایا
    گاؤں کا گاؤں دوڑا آیا
    ساری خلقت دوڑی آئی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    مینڈک بھی ٹرّاتے آئے
    چوہے شور مچاتے آئے
    بلّی گانا گاتی آئی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    کوّے آئے کیں کیں کرتے
    طوطے آئے ٹیں ٹیں کرتے
    بُلبل چونچ ہلاتی آئی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    دھوبی، کنجڑا، نائی آیا
    پنساری، حلوائی آیا
    سب نے آکر دھوم مچائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی

    گاؤں بھر میں ہوئی لڑائی
    کھیر کسی کے ہاتھ نہ آئی
    میرے اللہ تری دہائی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی
  6. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ گیا بازار

    ٹوٹ بٹوٹ گیا بازار
    لے کر آیا مرغے چار

    ہر مرغے کی اِک اِک مرغی
    ہر مرغی کے انڈے چار

    ہر انڈے میں دو دو چوزے
    ہر چوزے کی چونچیں آٹھ

    ہر اِک چونچ میں چھ چھ لڈّو
    ہر لڈّو کے دانے ساٹھ

    کتنے دانے بن گئے یار
    جلدی جلدی کرو شمار
  7. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کا طوطا

    ٹوٹ بٹوٹ کا اِک طوطا ہے
    عمر ہے اُس کی ہفتے آٹھ
    میاں مٹھّو نام ہے اُس کا
    سب کہتے ہیں میاں ماٹھ
    واہ میاں مِٹھّو تیرے ٹھاٹھ

    جو کچھ اس کے سامنے آئے
    منہ میں ڈالے اور چبائے
    چونچ تو اس کی ایک ہے لیکن
    دانت ہیں اس کے پورے ساٹھ
    واہ میاں مِٹھّو تیرے ٹھاٹھ

    بائیسکل، بس، موٹر، لاری
    ہر اِک شے کی کرے سواری
    یکّا، ریہڑا، بمبو کاٹھ
    واہ میاں مِٹھّو تیرے ٹھاٹھ

    رات کو کھائے میٹھی چُوری
    دن کو کھائے حلوا پوری
    صبح کو کھائے اسّی لڈّو
    شام کو کھائے انڈے ساٹھ
    واہ میاں مِٹھّو تیرے ٹھاٹھ

    پیٹ ہے اس کا اتنا موٹا
    جیسے دیووں کا ہو لوٹا
    ٹانگیں اُس کی اتنی لمبی
    جیسے قطب صاحب کی لاٹھ
    واہ میاں مِٹھّو تیرے ٹھاٹھ
  8. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کے بھائی

    ایک بڑا ہے اِک چھوٹا ہے
    اِک دبلا ہے اِک موٹا ہے

    دو کہتے ہیں اُس کو بھیّا
    دو کہتے ہیں اُس کو بھائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    دو ہنستے ہیں دو روتے ہیں
    دو جاگیں تو دو سوتے ہیں

    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا بھائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    لمبے لمبے بال ہیں اُن کے
    گورے گورے گال ہیں اُن کے
    آنکھیں اُن کی کالی کالی
    صورت اُن کی بھولی بھالی
    کوئی کہے یہ دو بہنیں ہیں
    کوئی کہے یہ دو ہیں بھائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    ٹوٹ بٹوٹ کی نانی بولی
    خالہ اور ممانی بولی
    بولی امّی، پھوپھی، تائی
    ہم سب کا ہے اِک اِک بھائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    اک بھائی لنگوٹی پہنے
    دوسرا نکّر چھوٹی پہنے
    تیسرا پہنے لمبا کرتا
    چوتھا پہنے سوٹ اور ٹائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    اک کھاتا ہے حلوا پوُری
    اک کھاتا ہے گھی کی چُوری
    اک کھاتا ہے گرم پکوڑے
    اک کھاتا ہے برف ملائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی

    بیٹھے ہوں تو شور مچائیں
    اُٹھ بیٹھیں تو ناچیں گائیں
    بھوکے ہوں تو چیخیں ماریں
    پیٹ بھرے تو کریں لڑائی
    ٹوٹ بٹوٹ کی شامت آئی
    ٹوٹ بٹوٹ کے چار ہیں بھائی
  9. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے

    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں

    یہ جتنے چوہے دیکھتے ہو
    کچھ گاؤں کے ہیں کچھ جنگل کے
    کچھ رہنے والے جہلم کے
    کچھ باسی کتّھو ننگل کے
    کچھ لڈّن کچھ ممدوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں

    ہم شاہی نسل کے چوہے ہیں
    یہ تخت اور تاج ہمارا ہے
    ہر گاؤں میں اپنی شاہی ہے
    ہر شہر میں راج ہمارا ہے
    ہم راجے شاہی کوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں

    ہم بڑے ہی کام کے چوہے ہیں
    یہ شیر میاں کس کام کا ہے
    ہم اصلی شیر بہادر ہیں
    یہ شیر بہادر نام کا ہے
    ہم فوجی شاہی کوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں

    تُم جانتے ہو یہ بی مانو
    کیوں میاؤں میاؤں کرتی ہے
    یہ بلّی ہم سے دبتی ہے
    یہ بلّی ہم سے ڈرتی ہے
    ہم بلّے باگڑ بوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں

    یوں ظاہر میں کمزور ہیں ہم
    پر جب بھی موج میں آتے ہیں
    یہ کتّے گیدڑ چیز ہیں کیا
    ہم شیر کو بھی کھا جاتے ہیں

    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں
    ہم چوہے ٹوٹ بٹوٹ کے ہیں
  10. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کی بکری

    ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالی
    دُبلی پتلی ٹانگوں والی

    دن اور رات مٹھائی کھائے
    مکّھن، دودھ، ملائی کھائے

    حلوہ، ربڑی، دہی، پنیر
    یخنی، دلیا، کھچڑی، کھیر

    جو کچھ آئے چٹ کر جائے
    پھر بھی اس کو ہوش نہ آئے

    اِک دن کی تم سنو کہانی
    بکری کو یاد آئی نانی

    کتنا ہی سمجھایا اس کو
    پھسلایا، بہلایا اُس کو

    وہ تھی اپنے من کی رانی
    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ مانی

    جنگل کو چل پڑی اکیلی
    بکری تیرا اللہ بیلی

    مَیں مَیں مَیں کرتی تھی وہ
    جی میں لیکن ڈرتی تھی وہ

    یا اللہ کوئی شیر نہ آئے
    یوں ہی مجھ کو کھا نہ جائے

    وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا
    رستے میں اِک شیر کا گھر تھا

    مَیں مَیں سن کر باہر آیا
    بکری دیکھ کے جی للچایا

    شیر کو دیکھ کے ڈر گئی بکری
    ڈر گئی کیا، بس مر گئی بکری

    بولی ’’دبلی بکری ہوں میں
    دیکھ تو مجھ میں جان نہیں ہے

    کیا تُو مجھ کو کھا جائے گا؟
    یہ تو شیر کی شان نہیں ہے

    نانی کے گھر جاؤں گی میں
    موٹی ہو کر آؤں گی میں

    پھر اُس وقت مجھے تم کھانا
    جیسے چاہو، مزے اڑانا‘‘

    شیر پکارا ’’جاؤ جاؤ
    جلدی موٹی ہو کر آؤ‘‘

    بکری نانی کے گھر آئی
    ساری اُس کو بات بتائی

    نانی بولی ’’واری جاؤں
    جو تم چاہو وہی کھلاؤں

    چارہ کھاؤ، گھاس بھی کھاؤ
    دال بھی کھاؤ، ماس بھی کھاؤ‘‘

    دو دن میں بن ٹھن گئی بکری
    پھول کے کُپّا بن گئی بکری

    نانی نے اک ڈھول بنایا
    ڈھول میں بکری کو بٹھلایا

    بولی ’‘سُن مرے گول مگول
    چلتا جا اور منہ نہ کھول‘‘

    شیر نے ڈھول کو آتے دیکھا
    تیزی سے بل کھاتے دیکھا

    گرج کے بولا ’’ڈھول رے ڈھول
    کہاں چلا ہے جلدی بول؟

    کہاں گئی ہے میری بکری؟‘‘
    بولا ’’یہ ہے تیری بکری‘‘

    بکری کی آواز جو آئی
    شیر پکارا ہیں ہیں ہیں

    یہ کہ کر اِک پنجہ مارا
    بکری بولی مَیں مَیں مَیں

    ٹوٹ بٹوٹ کا طوطا بولا
    ٹوٹ بٹوٹ کی ٹیَں ٹیَں ٹیَں
  11. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کا نانا


    اِس دنیا میں اک گاؤں ہے
    اس گاؤں کا نام گڑاؤں ہے
    اس گاؤں کا راجا رانا ہے
    جو ٹوٹ بٹوٹ کا نانا ہے

    اس گاؤں میں جتنے رہتے ہیں
    وہ سب کے سب یہ کہتے ہیں
    یہ گاؤں بڑا پرانا ہے
    یاں ٹوٹ بٹوٹ کا نانا ہے

    اس گاؤں کے لوگ نرالے ہیں
    سب دو دو آنکھوں والے ہیں
    بس ایک ہی اُن میں کانا ہے
    وہ ٹوٹ بٹوٹ کا نانا ہے

    اس گاؤں میں جو بھی آتا ہے
    فوراً احمق بن جاتا ہے
    بس ان میں ایک ہی سیانا ہے
    وہ ٹوٹ بٹوٹ کا نانا ہے

    یاں جتنے بھی ہمسائے ہیں
    سب دادے، چاچے، تائے ہیں
    یاں ایک اکیلا نانا ہے
    وہ ٹوٹ بٹوٹ کا نانا ہے
  12. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار


    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    ٹوٹ بٹوٹ کی دو بہنیں ہیں
    ہر اک بہن بڑی ہُشیار
    ہر اِک کے ہے پاس اِک چوہا
    ٹوٹ بٹوٹ کے پاس ہیں چار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    اِک پہنے ہے اچکن کالی
    اِک پہنے بنیان ہی خالی
    اِک پھرتا ہے ننگے پاؤں
    اِک کے سر پر ہے دستار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    اِک چوہے کی گردن موٹی
    اِک چوہے کی دُم ہے چھوٹی
    اِک چوہے کی آنکھیں چار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    اِک کھاتا ہے گوشت کی بوٹی
    اِک کھاتا ہے سوکھی روٹی
    اِک کھاتا ہے میٹھا چُورن
    اِک کھاتا ہے پھیکا اچار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    دو چوہے شیطان بہت ہیں
    دو چوہے نادان بہت ہیں
    دو ہنستے ہیں، دو روتے ہیں
    دو تن درست ہیں، دو بیمار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    جیتے ہیں نہ مرتے ہیں وہ
    چُوں چُوں، چُوں چُوں کرتے ہیں وہ
    کوئی بھی ان کو کام نہیں ہے
    دن بھر پھرتے ہیں بے کار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار

    یُوں تو ہر دم خوشی سے کھیلیں
    اُچھلیں، کُودیں، کریں کُلیلیں
    لیکن جب بھی مل کر بیٹھیں
    کرتے ہیں سب چیخ پُکار
    ٹوٹ بٹوٹ کرے کیا یار
    ٹوٹ بٹوٹ کے چوہے چار
  13. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کی آپا


    اِک ننھی منّی لڑکی ہے
    وہ اپنے گھر میں رہتی ہے
    گھر والے اس سے ڈرتے ہیں
    وہ ہر اک سے یہ کہتی ہے
    سُن لو میں بے بی پاپا ہوں
    میں ٹوٹ بٹوٹ کی آپا ہوں

    ظاہر میں ’’آکا باکا‘‘ ہے
    لیکن وہ بڑی لڑاکا ہے
    کچھ کہو تو فوراً لڑتی ہے
    لڑتی ہے اور رو پڑتی ہے
    یہ کہہ کر شور مچاتی ہے
    سُن لو میں بے بی پاپا ہوں
    میں ٹوٹ بٹوٹ کی آپا ہوں

    اُس کی ہر بات انوکھی ہے
    اُس کے سب ڈھنگ نرالے ہیں
    بلّی بھی اُس نے پالی ہے
    چوہے بھی اُس نے پالے ہیں
    جب آپس میں وہ لڑتے ہیں
    یہ کہہ کر انہیں ڈراتی ہے
    سُن لو میں بے بی پاپا ہوں
    میں ٹوٹ بٹوٹ کی آپا ہوں
    ٭٭٭

  14. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ کے مہمان

    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان
    اِک چوہا تھا بھولا بھالا، اِک چوہا شیطان
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان

    ٹوٹ بٹوٹ نے ہاتھ ملایا، جھُک کر کیا سلام
    پھر بولا ’’یہ گھر ہے تمہارا، سمجھو مجھے غلام
    جو کچھ چاہو منہ سے مانگو، حاضر ہے یہ جان‘‘
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان

    ٹوٹ بٹوٹ کی باتیں سن کر پہلے وہ گھبرائے
    کچھ کچھ اُن کا جی للچایا، کچھ کچھ وہ شرمائے
    کیا مانگیں اور کیا نہ مانگیں، دِل میں تھے حیران
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان

    دونوں تھے دو دن کے بھوکے، مرتے کیا نہ کرتے
    دونوں نے آخر منہ کھولا، بولے ڈرتے ڈرتے
    ہم کھائیں گے پہلے چٹنی، پھر کھائیں گے پان
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان

    چٹنی میں تھا مِرچ مسالا، دینے لگے دہائی
    پان میں چُونا تیز لگا تھا، فوراً ہچکی آئی
    سی سی سی سی، سُو سُو سُو سُو، کھو کھو کھو کھو کھان
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان

    چوہوں کی حالت نہ پوچھو، ڈر کر بھاگے چوہے
    پیچھے پیچھے ٹوٹ بٹوٹ تھا، آگے آگے چوہے
    اب کیسی مہمانی یارو، اب کیسا مہمان
    ٹوٹ بٹوٹ کے گھر میں آئے دو چوہے مہمان
    ٭٭٭

  15. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    چھوٹی سی ایک کہانی


    چھوٹی سی ایک کہانی ہے
    لیکن وہ بڑی پرانی ہے

    ملتان کے پاس اِک بستی تھی
    بستی میں خلقت بستی تھی

    اس بستی میں جو رہتے تھے
    سب اس کو نگری کہتے تھے

    اس نگری میں سب نائی تھے
    سب ٹوٹ بٹوٹ کے بھائی تھے

    کوئی کہیں کا رہنے والا ہو
    کوئی گورا ہو یا کالا ہو

    وہ لمبے ہوں یا چھوٹے ہوں
    وہ دبلے ہوں یا موٹے ہوں

    یاں جتنے لوگ بھی آتے تھے
    یہ نائی انہیں ڈراتے تھے

    ہم اس بستی کے نائی ہیں
    ہم ٹوٹ بٹوٹ کے بھائی ہیں

    اس نگری کا اک راجا تھا
    راجے کا نام سماجا تھا

    سب نائی اُس کے پاس گئے
    اور جا کر اُس سے کہنے لگے

    یا سر کے بال کٹا لو تم
    یا ڈاڑھی مونچھ منڈا لو تُم

    یہ بات سنی جب راجے نے
    نگری کے مور سماجے نے

    سنتے ہی راجا بول اٹھا
    وہ سوُر سماجا بول اٹھا

    تُم ٹوٹ بٹوٹ کے بھائی ہو
    میں راجا ہوں، تم نائی ہو

    میں سب کی صفائی کر دوں گا
    میں ختم یہ نائی کر دوں گا

    یہ سن کر سارے بھاگ گئے
    سب ڈر کے مارے بھاگ گئے

    اب شہر میں خالی راجا ہے
    راجے کا نام اب تاجا ہے
    ٭٭٭

  16. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے

    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ پوچھو
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے

    شہر میں جتنے لوگ ہیں رہتے
    سب اس کو پہچانتے ہیں
    بوڑھے بچے، ننھّے منّے
    سارے اُس کو جانتے ہیں
    کون ہے جو اس کو نہ جانے
    سب کا دیکھا بھالا ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ پوچھو
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے

    ٹوٹ بٹوٹ کی بہنیں کالی
    ابّا، امّی، نانی، کالے
    چچا بھی کالا، چچی بھی کالی
    ماموں اور ممانی کالے
    گھر والے تو کالے ہی تھے
    ہمسایہ بھی کالا ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ پوچھو
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے

    ٹوٹ بٹوٹ شریر ہے اتنا
    شیطانوں کا کاکا ہے
    جس سے پوچھو یہی کہے گا
    توبہ بڑا لڑاکا ہے
    یوں تو دیکھو سیدھا سادہ
    بالکل بھولا بھالا ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ پوچھو
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے

    ٹوٹ بٹوٹ کی اِک بلّی ہے
    وہ بھی ویسی موٹی ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی طرح سے وہ بھی
    بالکل ٹوٹ بٹوٹی ہے
    شہر میں جتنے بھی چوہے ہیں
    سب کو اُس نے پالا ہے
    ٹوٹ بٹوٹ کی بات نہ پوچھو
    ٹوٹ بٹوٹ نرالا ہے
    ٭٭٭

  17. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی


    کچھ ہمجولی کچھ ہمسائے
    کچھ اپنے کچھ لوگ پرائے
    ٹوٹ بٹوٹ کو ملنے آئے
    ٹوٹ بٹوٹ کی بولی دادی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی

    اب نہ وہ شوخی اب نہ وہ شیخی
    اب نہ وہ اُس کی دھینگا مشتی
    ختم ہوئی سب ہا ہا ہی ہی
    ختم ہوئی ساری آزادی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی

    اب نہ وہ رونق ہے نہ وہ میلا
    دن بھر گھر میں رہے اکیلا
    بیوی لے گئی پیسا دھیلا
    میرے اللہ یہ بربادی
    ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی
    ٭٭٭

  18. فرخ منظور مدیر خاص

    پیغامات:
    523
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    آج چپ چاپ سب کھڑے ہو جاؤ
    شان سے آ رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    آج کوئی نہ اور بات کرو
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    ساتھ اپنے وہ لے کے آیا ہے
    ایک لمبی قطار چوہوں کی
    پانچ دس بیس کی قطار نہیں
    پُورے اسّی ہزار چوہوں کی
    شان سے آ رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    ساتھ اس کے ہے ایک لومڑی بھی
    لومڑی کے ہیں ساتھ بندر تین
    لومڑی تو بچا رہی ہے ڈھول
    اور بندر بجا رہے ہیں بین
    اور خود گا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    ایک نوکر اٹھائے ہے کاپی
    ایک نوکر لیے ہوئے ہے کتاب
    ایک جھک کر کہے حضور، حضور
    ایک اُٹھ کر کہے جناب، جناب
    ٹھاٹھ دکھلا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    گھر میں تو اُس کے کھانے پینے کو
    دودھ، مکھّن، ملائی ہوتی ہے
    مدرسے کا نہ حال پوچھیے گا
    جب بھی دیکھو پٹائی ہوتی ہے
    جوتیاں کھا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

    اِک الف بے بھی اُس کو یاد نہیں
    قاعدہ سُن لو اُس سے پڑھوا کر
    گھر سے باہر نکل تو آیا ہے
    کیا کرے گا وہ مدرسے جا کر
    دل میں گھبرا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
    ٭٭٭

اس صفحے کی تشہیر