ڈولفن ایکدوسرے کو نام سے پکارتی ہیں

تانیہ نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، جولائی 29, 2013

  1. تانیہ قلمکار

    پیغامات:
    464
    [IMG]
    سائنسدانوں کی ایک تحقیق کی مطابق ڈولفن مچھلیاں ایک دوسرے کو ’نام‘ سے پکارتی ہیں۔
    محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بچے پیدا کرنے والی مچھلی کی یہ نسل ایک دوسرے کی شناخت کے لیے مخصوص سیٹی کا استعمال کرتی ہیں۔


    سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے مطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب کسی ڈولفن کو اپنے لیے دی جانے والی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ اس کا جواب دیتی ہیں۔
    یہ تحقیق ’پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
    یونیورسٹی کے سمندری ممالیہ ریسرچ کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر ونسنٹ جینک نے کہا: ’ڈولفنز ساحل سے دور کسی نشان کے بغیر سہ رخی ماحول میں رہتی ہیں اور ایسے میں انہیں ایک گروپ کی شکل میں ایک ساتھ رہنا ہوتا ہے۔‘
    ’یہ جاندار ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے انتہائي مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔‘
    [IMG]
    "اکثر و بیشتر وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتی ہیں اور پانی کے اندر قوت شامہ کا بھی استعمال نہیں ہو سکتا جو کہ میملز میں پہچاننے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ رہنا بھی پسند نہیں کرتے اس لیے ان کے پاس لوٹ کے آنے کی کوئی جگہ بھی نہیں ہوتی"



    بہت پہلے سے یہ شک کیا جا رہا تھا کہ ڈولفن مخصوص قسم کی سیٹی کا استعمال کرتی ہیں جس طرح انسان ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے کی جانے والی تحقیق میں یہ پایا گيا تھا کہ ڈولفنز اس طرح کی مخصوص آوازوں کا کثرت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنے گروپ کی دوسری ڈولفن کو ان آوازوں کو پہچاننا اور ان کی نقل کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔
    لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان سگنلز کو ’نام‘ کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں پہلی بار تحقیق کی گئی ہے۔
    اس کی جانچ کے لیے محققین نے ڈولفن کے بوتل جیسی ناک والے ایک گروپ کی آوازوں اور ان کی مخصوص آوازوں کو ریکارڈ کیا اس کے بعد انہوں نے سمندر میں سپیکرز کے ذریعے ان آوازوں کو بجایا۔
    ڈاکٹر جینک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’ایک گروپ کی مخصوص آواز کو ہم لوگوں نے بجایا، ہم لوگوں نے اس کے آس پاس دوسرے جانداروں کی سیٹیاں بھی بجائیں جنہیں انھوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘
    تحقیق کرنے والوں نے یہ پایا کہ ہر ایک ڈولفن نے صرف اپنی ہی آواز پر ہی رد عمل ظاہر کیا اور جواب میں سیٹی بجائی۔
    ٹیم کا کہنا ہے کہ جس طرح انسان اپنے نام سن کر ردعمل ظاہر کرتے ہیں اسی قسم کا تاثر ڈولفن نے اپنی مخصوص آواز سن کر دیا جیسے وہ سیٹی اس کا نام ہو۔
    ڈاکٹر جینک کا خیال ہے کہ ان مچھلیوں کو سمندر کی ایک وسیع دنیا میں ایک ساتھ رہنے کے لیے اس کی ضرروت محسوس ہوئی ہوگی اور اس طرح سے یہ نظام معرض وجود میں آيا ہوگا۔
    انھوں نے کہا: ’اکثر و بیشتر وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتی ہیں اور پانی کے اندر قوت شامہ کا بھی استعمال نہیں ہو سکتا جو کہ میملز میں پہچاننے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ رہنا بھی پسند نہیں کرتے اس لیے ان کے پاس لوٹ کے آنے کی کوئی جگہ بھی نہیں ہوتی۔‘

    محققین کا کہنا ہے کہ کسی ممالیہ جانور میں یہ بات پہلی بار دیکھی گئی ہے کہ وہ مخصوص آوازوں کا استعمال شناخت کے طور پر کرتے ہیں البتہ دوسرے جاندار جیسے طوطے بھی مخصوص گروہ کے لیے علیحدہ آواز کا استعمال کرتے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر