ہمارا خاندان از طیب امین قیصرانی

راجہ صاحب نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، مئی 14, 2013

  1. راجہ صاحب منتظم

    پیغامات:
    57
    76۔۔ یہ چھہتر ہے، عام سا ہندسہ مگر ہمارے لیے قدرے خاص ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ہندسہ ہمارے ننھیا ل کے کل افراد کی تعدادکو ظاہر کرتا ہے۔گھبرائیے نہیں،ہم اپنے خاندان کا تعارف کیے دیتے ہیں

    ایک نانا جان اور ایک ہی نانی جان۔ ۔ ۔ آ ٹھ خالائیں،ایک ماموں،سب بہنوں سے چھوٹا۔ ۔ ۔آٹھ خالاؤں کے 43 بچے،تئیس لڑکے،انیس لڑکیاں۔ ۔ ۔ ہمارے کزنز کے بچوں کی تعداد بائیس ہے۔۔آپ کیلکولیٹر لے کے حساب کر سکتے ہیں،بالکل سیدھا سا حساب ہے مگر یہ اعداد وشمار تحریر لکھنے کے وقت تک ہی درست قرار دیے جا سکتے ہیں۔چھپنے کے وقت تک "کچھ"بھی ہو سکتا ہے۔

    ایک قسمت کے مارے دوست نے یونہی اچانک ایک دن ہم سے ہمارے کزنز کی تعداد پوچھ لی۔ہم نے کاغذ ،قلم اور کیلکولیٹر سنبھالا اور آدھے گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد یہ اعدادوشمار اس کے سامنے رکھے تو وہ بےچارہ دھک سے رہ گیا۔اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،چند ثانیے سکتے کے علم میں ہمیں تکتے رہنے کے بعد کچھ بولا بھی تو محض اتنا۔:

    "اتنے عرصہ میں خاندانی منصوبہ بندی والے کہاں تھے؟"

    اور آج کل جب ہمیں ملتا ہے تو مسکراتے ہوئے پوچھتا ہے

    "ہاں بھئی! کیا' صورتحال' ہے آج کل؟"

    یا پھر ہم سے "سکور" کی بابت دریافت کرتا ہے اور پھر جواب سنے بغیر بھاگ جاتاہے۔

    خاندانی منصوبہ بندی والوں سے یاد آیا ،گزشتہ دنوںاسی محکمے سے ایک صاحب تشریف لاۓ۔ہاتھوں میں ایک بھاری بھرکم رجسٹر تھامے ہوۓ تھے۔لکھنے لکھانے سے متعلق کوئی بھی چیز ہو،ہمیں اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے ۔سو رہ نہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ یہ رجسٹر کس سلسلے میں ہے۔وہ صاحب شاید کریلے کے سالن سے ناشتہ کر کے آۓ تھے سو اسی لہجے میں جھنجھلا کر بولے؛

    "آپ کے 'چھوٹے سے ؛خاندان کے افراد کے اندراج کے لیے"

    لفظ 'چھوٹے سے 'پہ کافی زور دیا گیا تھا،ہمارا حلق تک کڑوا ہو گیا مگر پانی کے گھونٹ پی کے رہ گئے۔ادھر وہ صاحب کہ رہے تھے:

    "واپس جا کر اپنے آفیسرزکو ایک مشورہ تو ضرور دوں گا کہ یا تو ہم اپنا ہیڈ آفس یہاں رکھ لیں یاپھر کم از کم ایک برانچ تو ضرور بنانی پڑے گی۔روز روز کا آنا جانا مشکل ہوتا ہے۔"

    وہ اور بھی بہت کچھ کہ رہے تھے مگر ہم سے اور کچھ سنا نہ گیا۔

    کثرت نواسہ و نواسی نے نانا جان کو اس موڑ پہ لا کھڑا کیا ہے کہ سلام کرو تو کہتے ہیں:
    "کون سے ہو؟"

    یہ تو خیر قابل برداشت ہے مگر الجھن تب سوا سیر ہو جاتی ہے جب وہ اپنی بیٹیوں میں سے کسی ایک کو بلانا چاہیں تو نام دوسری کا لیتے ہیں اور حاضر تیسری بیٹی ہو جاتی ہے کیوں کہ اسے پتا ہے کہ ابا جان ہمارے نام اب بھول چکے ہیں ، شاید مجھے بلا رہے ہوں ۔

    غضب تو عید والے دن ہوتا ہے جب خاندان بھر کے افراد نانا جان کی حویلی میں جمع ہوتے ہیں ۔تین کنال کا گھر اتنا تنگ پڑ جاتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔شاید نانا جان کو خاندان کی متوقع ضخامت کا اندازہ ہوگا اسی لیے تین کنال کا گھر بنوایا۔ہم تو اسے ان کی دور اندیشی سے تعبیر کرتے ہیں

    نانی جان کی اس قسم کی صدائیں اکثر آ رہی ہوتی ہیں
    "یہ کس کا بیٹا ہے۔۔سلمیٰ۔۔۔سائرہ۔۔فرحت۔۔یہ تمہارا بیٹا ہے؟ نہیں۔۔۔تو پتا نہیں کس کا ہے؟"
    ایک وقت کے کھانے کے لیے دو تین دیگیں پکوائی جاتی ہیں مگر پھر بھی اس قسم کی آوازیں اکثر سننے کو ملتی ہیں:
    "یار! آج کھانا نہیں دیکھا۔۔تم نے دیکھا؟"
    "کچھ کھانے کو ملے گا؟ صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔!"

    اور یہ صدائیں یقینا" صدا بصحرا ثابت ہوتی ہیں گویا نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند۔۔ !

    گزشتہ دنوں ماموں کے رشتہ کے لیے لڑکیاں دیکھنے کا کام شروع ہوا۔آٹھوں بہنوں کی اپنی اپنی جگہ یہ خواہش تھی کہ لڑکی اس کی پسند سے ہو۔ایک کو پسند آتی تو دوسری انکار کر دیتی اور اگر تین کو اچھی لگتی تو چوتھی کو اس کے ناخنوں میں کوئی نقص نظر آ جاتا۔ایک دفعہ تو یوں بھی ہوا کہ آٹھوں بہنوں کی مشترکہ پسند کو نانی نے نا پسندیدگی کی سند مرحمت فرما دی مگر بہرحال ماموں نے اپنا ایگزیکٹو آرڈر کا استعمال کرتے ہوۓ نانی جان کو قائل کر لیا۔چوں کہ 65 بچوں اور آٹھ بہنوں کے اکلوتے ماموں کی شادی تھی سو سارا خاندان شادی میں شرکت کے لیے تیار ہو گیا،ٹکٹوں کے حصول کے لیے جب اسٹیشن ماسٹر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ کہ کر ہمیں ٹکٹیں دینے سے انکار کر دیا کہ ہمارے ہاں مسافر سفر کرتے ہیں،گاؤں کی نقل مکانی نہیں ہوتی۔تنگ آ کر ایک ٹرانسپورٹر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے تین بسیں بھیج دیں جن میں ہم بمشکل سما سکے۔
    اسی حوالے سے ایک واقعہ یوں بھی ہے کہ ماموں جان ایک انٹرویو دینے کی لیے دفتر پہنچے۔دوران انٹرویو ماموں نے انہیں بتایا کہ میری آٹھ بہنیں مجھ سے بڑی ہیں اور سب شادی شدہ ہیں۔فورا" سوال آیا

    "اپنی بہنوں کے بچوں کے نام،ان ک خاوندوں کے نام اور ان کے کام تفصیل سے بتائیں۔ہاں مگر ترتیب کا خاص خیال رہے۔"

    ہمیں صحیح اندازہ تو نہیں کہ ماموں کی کیا حالت ہوئی تھی مگر اتنا پتا ہے کہ دسمبر میں انہیں پسینہ ضرور آ گیا تھا۔۔!!

    نوٹ: یہ تحریر ڈیڑھ سال پہلے کی ہے۔محدود اندازے کے مطابق یہ تعداد اب 85 ہے۔واللہ واعلم!
  2. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    راجہ جی! یہ تحریر کس کی ہے؟
  3. راجہ صاحب منتظم

    پیغامات:
    57
    موضوع میں نام لکھا تو ہے " طیب امین قیصرانی "
  4. حسن نظامی منتظم

    پیغامات:
    1,192
    جی بالکل دیکھ لیا۔:(

اس صفحے کی تشہیر